براہ راست نشریات

قیامت کے دن کون دے گا جواب؟ سورۃ التکویر میں جواب دہی کا منظر

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Human Accountability
Picture of عزیز بلگامی

عزیز بلگامی

بنگلور

سورۃ التکویر کے دوسرے حصے میں بحث قیامت کے کائناتی مناظر سے آگے بڑھ کر براہِ راست انسان کی جواب دہی تک پہنچتی ہے۔
مضمون میں یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ انسان نے اللہ کی عطا کردہ عقل، طاقت، وسائل اور دوسری مخلوقات کے ساتھ کیا سلوک کیا۔
وحشی جانوروں کے اجتماع، سمندروں کے بھڑک اٹھنے، روح اور جسم کے دوبارہ ملاپ اور زندہ درگور بچی سے سوال جیسے مناظر اس حقیقت کو نمایاں کرتے ہیں کہ یومِ حساب میں کوئی ظلم، زیادتی یا ذمہ داری چھپی نہیں رہے گی۔

2/3

انسانوں کے نام اللہ کا یہ اعلان ہوگا کہ آسمان اور زمین میں ہماری اور صرف ہماری ہی حکومت کی کارفرمائی ہے۔ 

آج کا دن تو وہ ہے جب تمہیں ہمارے سامنے کھڑے ہونا ہے، آج تمہیں اپنی زندگی کا حساب دینا ہے، تمہیں بتانا ہے کہ تم نے ہماری تخلیق کردہ اِس خوبصورت زمین پر کیا کچھ کیا۔

مزید پڑھیں

تم کو بتانا ہوگا کہ زمین پر موجود ہماری نعمتوں کا تم نے ذمہ دارانہ استعمال کیا یا اِن کی بے قدری کی۔ 

یعنی یہ کہ ہم نے تمہیں جو عقل، قوتِ فہم اور طاقتِ جسمانی عطا کی

 تھی، ان کے استعمالِ بے جا یا بجا کا مکمل حساب دینا ہوگا۔

اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی سے پہلو تہی یا کوئی لغزش جرمانہ طلب کرے گی، تمہاری ہر خطا ہرجانہ کی مستحق ہوگی۔

⚖️ یومِ حساب — انسان سے کیا پوچھا جائے گا؟

مضمون انسان کو یاد دلاتا ہے کہ عقل، جسمانی طاقت، اختیار، مال اور دنیاوی وسائل سب اللہ کی عطا ہیں۔

اصل سوال یہ ہوگا کہ انسان نے ان نعمتوں کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کیا یا ان کے ذریعے دوسروں پر ظلم اور زیادتی کی۔

آج کے دن دیکھ لو کہ اُن وحشی جانوروں کو بھی ہم نے جمع کرکے حاضر کردیا ہے جو گواہی دیں گے کہ تم نے کس طرح اپنے مفادات کی خاطر یا اپنے شوق کی تکمیل کے لئے اِن وحشی جانوروں کی پرسکون دنیا برباد کی تھی اور ہمارے بنائے ہوئے جنگلات کے ماحول کو بگاڑنے کا کام کیا تھا اور اِن کے آزاد ماحول میں مداخلت کرکے اِن کی زندگی سے کھیلا تھا۔

ہماری کسی مخلوق پر تمہارے ظلم کی کوئی داستان چھپ نہ سکے گی اور مظلوم سے دادرسی اس دن ہماری منصفی کا تقاضا ہوگا، اِس لئے کہ ہم ہی خالقِ کائنات ہیں، ہم ہی آج منصفِ اعلیٰ ہیں، ہم ہی احکم الحاکمین ہیں۔

🐾 مخلوقات کے حقوق بھی حساب میں

وحشی جانوروں کے اجتماع کو مضمون صرف خوف کی علامت نہیں سمجھتا بلکہ اسے انسان اور دوسری مخلوقات کے تعلق سے بھی جوڑتا ہے۔

جنگلات، جانوروں اور قدرتی ماحول کے ساتھ انسان نے کیا سلوک کیا، یہ بھی ذمہ داری کے بڑے سوالات میں شامل ہے۔

ہم ان وحشی جانوروں کی بھی دادرسی کریں گے جو اِس وقت بلا لحاظِ ضرر رسانی یہاں جمع ہیں۔ اِن کا اور ان جیسی دیگر ستم رسیدہ مخلوقات کا ہرجانہ دلوانا یوم الدین کا اہم حصہ ہوگا۔

پھر آج کے دن ہم یہ بھی جائزہ لیں گے کہ ہم نے جن جانوروں کو تمہاری غذا کے لئے تجویز کر رکھا تھا، ان کے ذبح کے وقت تم نے کن کا نام لیا تھا، نام لیا بھی تھا یا نہیں۔

اگر تم نے ہمارے نام کے علاوہ کسی اور کا نام لیا تھا تو تمہیں جواب دینا ہوگا کہ جن جانوروں کے خالق ہم تھے، تمہیں یہ جرأت کیسے ہوئی کہ تم نے کسی اور کا نام لے کر اِنہیں ذبح کیا اور اِس ذبیحے کو حلال جانا۔ 

حق تو یہ تھا کہ اِن پر ہمارا نام لیا جاتا اور انہیں واقعتاً حلال کیا جاتا۔

جہاں تک یہ بات کہ ’اور جب سمندر بھڑکا دیئے جائیں گے‘ تو یہ الفاظ

 ہی ایسے ہیں کہ سننے والا خوف زدہ ہو جائے۔

ہمیں چاہئے کہ تباہ کاریوں کے اِس منظر کے رونما ہونے سے پہلے ہم اپنا رخ اور اپنی صفوں کو درست کرلیں۔ 

اپنے آپ کو اُس دن کی سختی سے بچانے کی ہمیں بہر صورت فکر کرنی ہوگی، اپنے رب کی طاقت و حشمت کا اعتراف کرنا ہوگا۔

🌊 جب سمندر بھڑک اٹھیں گے

سورۃ التکویر میں سمندروں کے بھڑکائے جانے کا ذکر موجودہ قدرتی نظام کے مکمل الٹ جانے کی ایک طاقتور علامت ہے۔

مضمون اسے انسان کے لیے تنبیہ قرار دیتا ہے کہ وہ وقت آنے سے پہلے اپنی سمت، اپنے اعمال اور اپنی ترجیحات درست کرلے۔

اس کی جانب سے بھیجی جانے والی چھوٹی چھوٹی سونامیوں کو تو ہم دیکھ ہی چکے ہیں اور اب بھی دیکھ رہے ہیں، تو اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ سمندر کے بھڑکائے جانے کی کیفیت کس قدر دل دہلا دینے والی ہوگی۔

اللہ تبارک و تعالیٰ کا درجِ ذیل اعلان قابل غور ہے:

’اور جب ہر نفس کی جوڑی بنا دی جائے گی۔‘

بظاہر انسان دو چیزوں کا مجموعہ دکھائی دیتا ہے۔ 

ایک تو اس کا بدن ہے جسے رب تعالیٰ نے مٹی کے اجزاء سے بنایا ہے اور دوسری اس کی روح، جو ظاہر ہے کہ عرشِ الٰہی سے آئی ہوئی ہے، لیکن سچی بات تو یہ ہے کہ روح کی حقیقت سے ہمیں آگاہ نہیں کیا گیا۔

🕊️ روح کی حقیقت کیا ہے؟

مضمون سورۃ بنی اسرائیل کی آیت 85 کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کرتا ہے کہ روح کی مکمل حقیقت انسان کے علم سے باہر ہے۔

قرآنی مفہوم: روح اللہ کے حکم سے ہے اور انسان کو علم میں سے بہت تھوڑا دیا گیا ہے۔

چاہے سائنس کتنی ہی ترقی کیوں نہ کرلے، روح کے بارے میں کوئی زیادہ معلومات حاصل نہیں کر پائے گی۔ صدیاں گزر گئیں، روح کے بارے میں ہماری معلومات میں کوئی اضافہ نہیں ہوسکا، اس لئے کہ رب تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ارشاد فرمایا ہے:

’اور اے نبیﷺ! یہ انسان آپ سے روح کے بارے میں استفسار کرتے ہیں، آپ کہہ دیں کہ روح میرے رب کے حکم سے ہے اور علم میں سے بجز قلیل سی معلومات کے، تم کچھ زیادہ تفصیل سے نوازے نہیں گئے ہو۔‘ (بنی اسرائیل 85)

ہم جانتے ہیں کہ انسان کی جب موت واقع ہوتی ہے تو اس کا بدن زمین پر ہی رہ جاتا ہے اور بدن کے اندر موجود روح ایک محفوظ مقام کی سمت پرواز کر جاتی ہے۔

اُس روز
حقیقی پناہ
صرف اللہ کے
حضور ہوگی

اسی روح کو حشر کے دن نیا قالب عطا کیا جائے گا اور جس مقام پر وہ کھڑا ہوگا، وہاں کی آب و ہوا، ماحول اور فضا نئے قالب کی بقا و استحکام کے ضامن ہوں گے۔
وہ اِس قابل ہوگا کہ اُس سے پوچھے جانے والے سوالات کو سمجھ سکے اور اِن کے جواب دے سکے۔
پھر سورۂ تکویر کا اگلا منظر انسان کو مزید جھنجوڑ دیتا ہے:
’اور جب زندہ درگور لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ کس جرم میں وہ قتل کی گئی؟‘
کس قدر چونکا دینے والی بات ہے۔
رب تعالیٰ کی کتاب ایک آفاقی کتاب ہے، کسی مخصوص دور کے لئے نہیں، کسی مخصوص علاقے کے لئے نہیں، کسی مخصوص قوم کے لئے نہیں بلکہ ہر دور، ہر علاقہ اور ہر قوم کے لئے یکساں اور مکمل طور پر کتابِ ہدایت ہے۔

💡 اصل نتیجہ — اختیار نہیں، امانت

انسان کو دی گئی طاقت، مال، عقل اور اختیار مستقل ملکیت نہیں بلکہ ایک امانت ہیں۔

یومِ حساب کا تصور انسان کو یاد دلاتا ہے کہ اصل کامیابی طاقت جمع کرنے میں نہیں بلکہ اسے انصاف اور ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرنے میں ہے۔

مرکزی سبق: ہر نعمت کے ساتھ جواب دہی جڑی ہے۔

جس دور سے ہم گزر رہے ہیں یہ عرب کا وہ دور نہیں جب بیٹیوں کو زندہ دفن کیا جاتا تھا تاکہ بیٹی سے وابستہ اخلاقی و معاشرتی ذمہ داریوں سے چھٹی حاصل کرلی جائے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اِس ذہنیت اور جرم کا اختتام آج بھی نہیں ہوا۔
آج لڑکیوں کو بھلے ہی زندہ درگور نہ کیا جاتا ہو مگر لڑکیوں کو آج بھی بے قصور مارا جاتا ہے۔

جاری ہے

❓ یہ حصہ کیوں اہم ہے؟

یہ حصہ قیامت کو محض ایک خوفناک مستقبل کے واقعے کے طور پر نہیں بلکہ موجودہ زندگی کی اخلاقی ذمہ داری سے جوڑتا ہے۔

اگر ہر عمل، ہر اختیار اور ہر ظلم کا حساب ہونا ہے تو انسان کو آج ہی اپنے رویے، فیصلوں اور ترجیحات پر نظرثانی کرنی چاہئے۔

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے