سورۃ التکویر کے دوسرے حصے میں بحث قیامت کے کائناتی مناظر سے آگے بڑھ کر براہِ راست انسان کی جواب دہی تک پہنچتی ہے۔
مضمون میں یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ انسان نے اللہ کی عطا کردہ عقل، طاقت، وسائل اور دوسری مخلوقات کے ساتھ کیا سلوک کیا۔
وحشی جانوروں کے اجتماع، سمندروں کے بھڑک اٹھنے، روح اور جسم کے دوبارہ ملاپ اور زندہ درگور بچی سے سوال جیسے مناظر اس حقیقت کو نمایاں کرتے ہیں کہ یومِ حساب میں کوئی ظلم، زیادتی یا ذمہ داری چھپی نہیں رہے گی۔
اسی روح کو حشر کے دن نیا قالب عطا کیا جائے گا اور جس مقام پر وہ کھڑا ہوگا، وہاں کی آب و ہوا، ماحول اور فضا نئے قالب کی بقا و استحکام کے ضامن ہوں گے۔
وہ اِس قابل ہوگا کہ اُس سے پوچھے جانے والے سوالات کو سمجھ سکے اور اِن کے جواب دے سکے۔
پھر سورۂ تکویر کا اگلا منظر انسان کو مزید جھنجوڑ دیتا ہے:
’اور جب زندہ درگور لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ کس جرم میں وہ قتل کی گئی؟‘
کس قدر چونکا دینے والی بات ہے۔
رب تعالیٰ کی کتاب ایک آفاقی کتاب ہے، کسی مخصوص دور کے لئے نہیں، کسی مخصوص علاقے کے لئے نہیں، کسی مخصوص قوم کے لئے نہیں بلکہ ہر دور، ہر علاقہ اور ہر قوم کے لئے یکساں اور مکمل طور پر کتابِ ہدایت ہے۔