محمد مبشر انوار
سینئر تجزیہ نگار
پاکستان میں عدلیہ، انتظامیہ اور سیاست کے درمیان بڑھتی کشمکش نے قانون کی بالادستی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔
عمران خان کے علاج اور سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل درآمد کے معاملے کو مصنف ریاستی اداروں کی کمزوری، دوہرے معیار اور بنیادی انسانی حقوق کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔
وطنِ عزیز کی حالت اس وقت ایک عجیب صورت اختیار کر چکی ہے، جہاں قانون کی عملداری کے نام پر ذاتی بغض و عناد کی تسکین کے ساتھ ساتھ اپنی اپنی انا کو تقویت پہنچائی جا رہی ہے، جبکہ قانون مکڑی کا وہ جالا بن چکا ہے جسے طاقتور اور اشرافیہ روندتے ہوئے نکل جاتے ہیں اور کمزور اسی میں پھنس کر رہ جاتا ہے۔
عدلیہ کی حالت اس وقت سب سے زیادہ پتلی دکھائی دیتی ہے۔
کسی بھی معاشرے میں قانون کی عملداری کے حوالے سے عدلیہ وہ واحد ادارہ تصور ہوتی ہے جو مظلوم کی دادرسی کرتی ہے، جبکہ انتظامیہ پر ہر صورت لازم ہوتا ہے کہ عدلیہ کے احکامات کی من و عن تعمیل کرے۔
لیکن بدقسمتی سے پاکستانی عدلیہ کی آزادی اور طاقت، دونوں سلب کی جا چکی ہیں اور عدلیہ میں اتنی سکت دکھائی نہیں دیتی کہ وہ اپنے دیئے گئے فیصلوں پر کماحقہ عمل درآمد کروا سکے۔
◆ OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTملک ایسے نہیں چلتے — اہم نکات ⌄
- ✓قانون کی بالادستی — مضمون کا مرکزی مؤقف یہ ہے کہ قانون کی یکساں عملداری کے بغیر ریاستی اداروں پر عوام کا اعتماد کمزور ہوتا ہے۔
- ✓عدلیہ کی حیثیت — مصنف کے مطابق عدلیہ مظلوم کی آخری پناہ اور انتظامیہ کو قانون کے دائرے میں رکھنے والا بنیادی ادارہ ہے۔
- ✓عالمی درجہ بندی — ورلڈ جسٹس پراجیکٹ کے 2025 انڈیکس میں پاکستان مجموعی طور پر 143 ممالک میں 130ویں نمبر پر ہے۔
- ✓عمران خان کا معاملہ — مضمون عمران خان کے علاج، عدالتی احکامات اور ان پر عمل درآمد کے تنازع کو بنیادی انسانی حقوق کے زاویے سے دیکھتا ہے۔
- ✓ریاستی اداروں کا تعلق — مصنف خبردار کرتے ہیں کہ اگر عدالتی احکامات متنازع یا غیر مؤثر ہو جائیں تو ادارہ جاتی توازن متاثر ہوتا ہے۔
- ✓مرکزی نتیجہ — ریاست شخصیات سے نہیں بلکہ مضبوط اداروں، مساوی قانون، عدالتی احترام اور بنیادی حقوق کے تحفظ سے چلتی ہے۔
مزید پڑھیں
انتظامیہ، جس پر عدلیہ کے فیصلوں پر عمل درآمد کروانا لازم ہے، اگر انہی فیصلوں کو تسلیم کرنے یا ان پر عمل درآمد کروانے میں حیلے بہانے اور تاویلیں تلاش کرنے لگے، اور مقننہ کے ساتھ مل کر عدلیہ کے فیصلوں کے خلاف قانون سازی شروع کر دے۔
تو ایسے معاشرے میں نہ صرف ناانصافی بڑھتی ہے بلکہ عوام کا اعتماد بھی عدلیہ سے اٹھنے لگتا ہے۔
عوام کا اعتماد اگر اداروں، بالخصوص عدلیہ، سے اٹھ جائے تو یہ بات طے سمجھی جاتی ہے کہ ایسے معاشروں میں انارکی پھیلنے کا اندیشہ انتہائی بڑھ جاتا ہے۔
دیگر محکمے یا ادارے اگر بدنظمی یا غیر قانونی حرکت کے مرتکب ہوں، تب بھی بہرحال عدلیہ ہی وہ ادارہ ہوتی ہے جو انہیں نکیل ڈالنے کی طاقت رکھتی ہے۔
بدقسمتی سے اگر عدلیہ کے احکامات کو ہوا میں اڑا دینے کا تصور عام ہو جائے تو محکمے بے لگام ہو جاتے ہیں اور پھر عوام اپنے حقوق کے لئے خود میدان میں اترتے ہیں۔
ایسی صورت میں کوئی بھی ریاستی ادارہ یا محکمہ اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔
پاکستانی عدلیہ کی حالت اس وقت تاریخ کی کمزور ترین سطحوں میں شمار کی جا رہی ہے اور اس کا ایک حوالہ عالمی درجہ بندی سے بھی دیا جاتا ہے۔
ورلڈ جسٹس پراجیکٹ کی 2025 کی رینکنگ کے مطابق 143 ممالک میں پاکستان 130ویں نمبر پر ہے، جبکہ اس کے بعد آنے والے ممالک میں زیادہ تر افریقی ریاستیں شامل ہیں۔
اسی فہرست میں مصر 135ویں نمبر پر موجود ہے۔
i OVERSEAS POST | FACT BOXمضمون: فیکٹ باکس ⌄
- مصنف
- محمد مبشر انوار
- موضوع
- قانون کی بالادستی اور عدلیہ
- WJP 2025
- پاکستان: 130/143
- بنیادی عدالتی معاملہ
- عمران خان کے علاج سے متعلق سپریم کورٹ کا حکم
- عدالتی حکم کی تاریخ
- 18 اگست 2026
- مقررہ نجی ہسپتال
- شفا انٹرنیشنل، اسلام آباد
- مرکزی سوال
- کیا عدالتی احکامات پر یکساں اور مؤثر عمل درآمد ہو رہا ہے؟
- مضمون کی نوعیت
- تجزیاتی / رائے
مصر کا حوالہ اس لئے اہم ہے کہ پاکستان میں عمران خان کی قید کے حوالے سے جس مماثلت کا ذکر تواتر سے کیا جا رہا ہے، اس میں مصر کے سابق صدر محمد مرسی کا نام بھی سامنے آتا ہے۔ محمد مرسی دورانِ حراست وفات پا گئے تھے، جبکہ عمران خان خود اور ان کے اہل خانہ کی جانب سے بھی یہ خدشات ظاہر کئے جاتے رہے ہیں کہ انہیں بھی سیاسی منظرنامے سے ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اپنی کئی تحریروں میں اس امر کا ذکر کر چکا ہوں اور متعدد ماہرینِ قانون بھی یہ رائے دیتے رہے ہیں کہ عمران خان کے خلاف قائم مقدمات کی نوعیت ایسی نہیں کہ انہیں جیل میں اس قدر سخت حالات کا سامنا کرنا پڑے۔
ان ماہرین کا دعویٰ ہے کہ اگر عدالتیں واقعتاً آزاد ہوں اور ان پر کسی قسم کا دباؤ نہ ہو تو ان میں سے کئی مقدمات زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتے اور ججز کے پاس بریت کے علاوہ دوسرا فیصلہ لکھنے کی گنجائش محدود رہ جائے گی۔
تاہم صد افسوس کہ اس دعوے کی حقیقت اسی وقت واضح ہو سکتی ہے جب ہر کیس بروقت عدالت میں لگے، عمران خان کے وکلاء کو مکمل طور پر سنا جائے اور فیصلہ خالصتاً میرٹ پر ہو۔ تب تک ماہرینِ قانون کی یہ رائے ایک دعویٰ ہی رہے گی۔
ہمارے عدالتی نظام کی موجودہ کیفیت بھی کسی حد تک ایک اوپن سیکرٹ بن چکی ہے، جہاں بعض اوقات جج یا بنچ کی تشکیل دیکھ کر ہی ممکنہ فیصلے کے بارے میں قیاس آرائیاں شروع ہو جاتی ہیں۔
◎ OVERSEAS POST | ANALYSISیہ معاملہ کیوں اہم ہے؟ ⌄
یہ بحث صرف ایک سیاسی رہنما کے علاج تک محدود نہیں؛ اس کے تین بڑے ادارہ جاتی پہلو ہیں:
اس وقت بھی عمران خان کے حوالے سے مقدمات کی سماعت سپریم کورٹ میں جاری ہے۔
یہ مقدمات بتدریج نچلی عدالتوں سے ہوتے ہوئے یہاں تک پہنچے ہیں اور اس سارے عرصے میں عدالتی کارروائیوں کے دوران عمران خان بدستور اسیر رہے ہیں۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ماضی میں ایسے ہائی پروفائل مقدمات میں عدالتوں کی جانب سے حکومت سے زیرِ حراست سیاسی رہنماؤں کی زندگی اور صحت کی ضمانت طلب کی جاتی رہی ہے، جبکہ عمران خان کے معاملے میں ان کی جماعت کے قائدین سے ہسپتال کے باہر احتجاج نہ کرنے یا پارٹی کارکنوں اور عوام کا اجتماع روکنے کی ضمانت مانگے جانے کی بحث سامنے آئی۔
یہ ایک افسوسناک صورت حال ہے کہ ایک جیسے نوعیت کے معاملات میں مختلف سیاسی رہنماؤں کے لئے معیار مختلف دکھائی دیں۔
ایک سیاسی رہنما کو دورانِ اسیری ملاقاتوں، سیاسی گفتگو اور ذاتی معالج تک رسائی کی سہولت حاصل ہو، جبکہ دوسرے سیاسی رہنما کے علاج معالجے کو اس کی سیاسی سرگرمیوں یا کارکنوں کے ممکنہ ردِعمل سے مشروط کیا جائے تو سوالات پیدا ہونا فطری ہے۔
✓? OVERSEAS POST | VERIFIEDکیا مصدقہ ہے، کیا رائے یا دعویٰ؟ ⌄
مصدقہ معلومات
- WJP Rule of Law Index 2025 میں پاکستان کی مجموعی عالمی رینکنگ 130/143 ہے۔
- 18 اگست 2026 کو سپریم کورٹ نے عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے سے متعلق حکم جاری کیا۔
- عدالتی حکم میں طبی بورڈ اور عمران خان کے ذاتی معالج کی شمولیت سے متعلق ہدایات رپورٹ ہوئیں۔
- حکومت کی جانب سے عدالتی حکم پر نظرثانی یا تبدیلی کی درخواست دینے کی کارروائی بھی رپورٹ ہوئی۔
رائے / ادارتی احتیاط
- یہ کہنا کہ تمام مقدمات چند گھنٹوں میں ختم ہو جائیں گے، ماہرین یا مصنف کی رائے کے طور پر ہی پیش کیا جائے۔
- محمد مرسی اور عمران خان کے حالات کو یکساں قرار دینا سیاسی تشبیہ ہے، ثابت شدہ قانونی حقیقت نہیں۔
- حکومت یا دیگر اداروں کی نیت کے بارے میں قطعی دعوے ثبوت کے بغیر خبر کے طور پر نہ لکھے جائیں۔
- ہسپتال منتقلی اور بعد کے طبی معائنے کی تفصیلات مختلف رپورٹس میں مختلف انداز سے بیان ہوئیں؛ لہٰذا ہر جزئیہ واضح نسبت کے ساتھ لکھا جائے۔
اہم احتیاط: یہ ایک رائے/تجزیاتی مضمون ہے۔ مصنف کے سیاسی استدلال، قانونی رائے اور مصدقہ واقعات کو خبر میں ایک ہی سطح پر پیش نہ کیا جائے۔
18 اگست کو، ’کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے‘ کے مصداق، سپریم کورٹ کے 3 رکنی بنچ نے طبی رپورٹس کی سمری دیکھتے ہوئے حکومت کو حکم دیا کہ عمران خان کو دو دن کے اندر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے۔
عدالت نے عبوری حکم میں یہ بھی کہا کہ ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے جس میں ان امراض کے ماہرین شامل ہوں جن کا ذکر عمران خان کی طبی رپورٹس میں کیا گیا تھا۔
اس بورڈ میں شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے ڈاکٹروں کے علاوہ عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان اور ان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کو بھی شامل کرنے کی ہدایت کی گئی، جبکہ مقدمے کی سماعت 16 ستمبر تک ملتوی کر دی گئی۔
اصولی طور پر ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ حکومت بغیر کسی رد و کد کے سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد کرتی، لیکن ایک طرف حکومتی رہنماؤں کی جانب سے فیصلے کا خیرمقدم کیا گیا تو دوسری جانب بعض وزراء نے اس پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے نظرثانی درخواست دائر کرنے کا عندیہ دیا۔
19 اگست کو نظرثانی کی درخواست دائر بھی کی گئی، مگر اسی دوران میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہو گئی۔
تحریک انصاف کے قائدین نے فیصلے کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی حکم کے مطابق عمران خان کو 16 ستمبر تک ہسپتال میں رکھا جائے گا۔
حکومت کی نظرثانی درخواست میں بھی ایسی عبارت موجود ہونے کی بات سامنے آئی، جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ حکومت خود اگلی سماعت تک عمران خان کے ہسپتال میں رہنے کی تشریح کو قبول کر رہی ہے۔
1′ OVERSEAS POST | QUICK READایک منٹ میں پوری کہانی ⌄
محمد مبشر انوار کے مضمون کا بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر عدلیہ اپنے فیصلوں پر مؤثر عمل درآمد نہ کروا سکے تو قانون کی بالادستی اور عوامی اعتماد کا کیا بنے گا؟
مصنف اس بحث کو عمران خان کے علاج سے متعلق سپریم کورٹ کے 18 اگست کے حکم کے تناظر میں آگے بڑھاتے ہیں اور اسے صرف سیاسی تنازع نہیں بلکہ عدالتی اختیار اور بنیادی انسانی حقوق کا مسئلہ قرار دیتے ہیں۔
مضمون کا اختتامی استدلال واضح ہے: مضبوط ریاست کے لیے شخصیات نہیں بلکہ مضبوط ادارے، مساوی قانون، عدالتی فیصلوں کا احترام اور شہری حقوق کا تحفظ ضروری ہے — اسی لیے عنوان ہے: «ملک ایسے نہیں چلتے!!»
اس بحث کے بعد بظاہر حکومت کو اپنی درخواست میں موجود اس نکتے کی حساسیت کا احساس ہوا۔ اگر یہی مؤقف برقرار رہتا تو نظرثانی درخواست کی سماعت کے دوران عمران خان کے ستمبر تک ہسپتال میں رہنے کی تشریح مزید مضبوط ہو سکتی تھی، جو حکومت کے لئے قابلِ قبول دکھائی نہیں دیتی تھی۔
خبروں کے مطابق درخواست کو ڈائری نمبر ملنے کے باوجود اعتراضات کے بعد واپس لیا گیا اور 20 اگست کو ایک نئی درخواست دائر کر دی گئی۔
دوسری جانب سپریم کورٹ کی جانب سے دی گئی دو دن کی مہلت کے آخری لمحات میں اڈیالہ جیل سے دو قافلے نکلے۔
ایک قافلہ عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان کو لے کر شفا انٹرنیشنل ہسپتال پہنچا، جبکہ دوسرے میں عمران خان اور ڈاکٹر عظمیٰ خان کو رات کے وقت پمز ہسپتال لے جایا گیا۔
وفاقی وزیر عطا تارڑ نے اپنے ایکس پیغام میں اس کی تصدیق کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ تحریک انصاف کے کارکنوں کی موجودگی کے باعث عمران خان کو شفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز لے جایا گیا، البتہ ان کا معائنہ کرنے والے ڈاکٹروں میں شفا انٹرنیشنل کے ڈاکٹر بھی شامل تھے۔
اس تمام صورت حال میں بنیادی سوال یہی ہے کہ جب سپریم کورٹ نے واضح طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا تو پھر عمران خان کو وہاں منتقل کرنے کے بجائے پمز لے جانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
مزید یہ کہ انہیں ہسپتال میں داخل رکھنے کے بجائے طبی معائنے کے بعد دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔
↻ OVERSEAS POST | TIMELINEاہم واقعات — مختصر ٹائم لائن ⌄
حکومت کی جانب سے دائر نظرثانی درخواست میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ عدالت عظمیٰ نے حکم دیتے ہوئے جیل رولز کو نظرانداز کیا اور اسلام آباد کے چیف کمشنر کو فریق نہیں بنایا گیا۔ درخواست بھی چیف کمشنر کی جانب سے دائر کی گئی۔
تاہم ناقدین کے نزدیک اس تمام قانونی پیچیدگی کا نتیجہ یہی نکل رہا ہے کہ عمران خان کو دستیاب قانونی اور طبی سہولت کے راستے مزید مشکل ہوتے جا رہے ہیں۔ معاملہ صرف سیاسی اختلاف کا نہیں بلکہ ایک زیرِ حراست شخص کے بنیادی انسانی حقوق کا بھی ہے۔
حکومت، حکمران اور انتظامیہ عوام کو انصاف اور بنیادی انسانی حقوق فراہم کرنے کے ضامن ہوتے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ جب ضامن ہی اپنے فرائض سے انحراف کرنے لگیں تو عوام کس دروازے پر جائیں؟
یہ امر بھی بہرحال قابلِ غور ہے کہ موجودہ حکمرانوں کو اقتدار میں لانے والوں کے حوالے سے جو سیاسی تاثر موجود ہے، اس کے مطابق وہ اپنی پوری کوشش کر چکے ہیں کہ حکومت کسی نہ کسی طرح اپنے معاملات سنبھال لے۔
لیکن حکمرانوں کے کردہ و ناکردہ اعمال کی سیاسی قیمت بالآخر انہی قوتوں کو بھی ادا کرنا پڑتی ہے جنہیں ان کے اقتدار کا ذمہ دار تصور کیا جاتا ہے۔
⚖ OVERSEAS POST | INSTITUTIONSریاستی توازن کہاں بنتا ہے؟ ⌄
شاید اسی لئے وہ کچھ عرصے کے لئے منظر سے پیچھے ہٹے دکھائی دے رہے ہیں۔
یہ محض ایک مفروضہ بھی ہو سکتا ہے اور کسی حد تک حقیقت بھی، لیکن ایک بات بہرحال یقینی ہے کہ ریاستی اداروں کے درمیان کشمکش، عدالتی احکامات پر تنازعات، سیاسی انتقام کے الزامات اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے بارے میں بڑھتے سوالات کسی بھی ریاست کے لئے معمولی معاملات نہیں ہوتے۔
ملک اداروں کی مضبوطی، قانون کی یکساں عملداری، عدالتی فیصلوں کے احترام اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ سے چلتے ہیں۔
ایسے رویوں سے ملک نہیں چلا کرتے!!