2026 کی پہلی سہ ماہی میں سعودی عرب میں ایک کروڑ 52 لاکھ سے زیادہ افراد نے عمرہ ادا کیا۔
مجموعی تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً وہی رہی، مگر اندرونِ ملک معتمرین میں 7 لاکھ 65 ہزار کا اضافہ جبکہ بیرونِ ملک سے آنے والوں میں 7 لاکھ 54 ہزار سے زیادہ کی کمی ریکارڈ ہوئی۔
سعودی عرب میں 2026 کی پہلی سہ ماہی کے دوران ایک کروڑ 52 لاکھ سے زیادہ افراد نے عمرہ ادا کیا۔
مگر اصل کہانی مجموعی تعداد سے زیادہ اس تبدیلی میں ہے جو اندرونِ سعودی عرب اور بیرونِ ملک سے آنے والے معتمرین کے تناسب میں سامنے آئی۔
اعداد و شمار کے مطابق ابتدائی 3 ماہ میں مجموعی طور پر ایک کروڑ 52 لاکھ 33 ہزار 767 افراد نے عمرہ کیا۔
ان میں 94 لاکھ 64 ہزار 496 افراد سعودی عرب کے اندر سے جبکہ 57 لاکھ 69 ہزار 271 افراد بیرونِ ملک سے آئے۔
مردوں کی شرح 59.4 فیصد اور خواتین کی 40.6 فیصد رہی، جبکہ سعودی شہری مجموعی معتمرین کا 28.9 فیصد تھے۔
مزید پڑھیں
اصل تبدیلی کہاں آئی؟
2025 کی پہلی سہ ماہی میں عمرہ کرنے والوں کی مجموعی تعداد 1 کروڑ 52 لاکھ 22 ہزار 497 تھی۔
یوں ایک سال میں اضافہ صرف تقریباً 11 ہزار افراد، یعنی 0.07 فیصد رہا۔
مجموعی تعداد تقریباً مستحکم رہی، مگر اس کے اندر بڑی تبدیلی ہوئی۔
اندرونِ سعودی عرب عمرہ کرنے والوں کی تعداد 2025 میں 86 لاکھ 98 ہزار 867 تھی، جو 2026 میں بڑھ کر 94 لاکھ 64 ہزار 496 ہوگئی۔
یعنی تقریباً 7 لاکھ 65 ہزار افراد یا 8.8 فیصد اضافہ ہوا۔
01OVERSEAS POST | URDU PACKAGEاہم اعداد⌄
اس کے برعکس بیرونِ ملک سے آنے والے معتمرین کی تعداد 65 لاکھ 23 ہزار 630 سے کم ہوکر 57 لاکھ 69 ہزار 271 رہ گئی۔
یہ 7 لاکھ 54 ہزار سے زیادہ افراد یا تقریباً 11.6 فیصد کمی ہے۔
یوں بیرونی معتمرین میں کمی کے باوجود اندرونِ ملک عمرہ کرنے والوں کی بڑھتی تعداد نے تقریباً پورا خلا پُر کردیا اور مجموعی تعداد ایک کروڑ 52 لاکھ کے قریب برقرار رہی۔
سعودی شہریوں کا حصہ بڑھا
2025 کی پہلی سہ ماہی میں سعودی شہری مجموعی معتمرین کا 24 فیصد تھے، جبکہ 2026 میں ان کا حصہ 28.9 فیصد ہوگیا۔
43 لاکھ سے زیادہ سعودی شہریوں نے عمرہ ادا کیا۔
اندرونِ ملک معتمرین میں تقریباً 46.5 فیصد سعودی شہری اور 53.5 فیصد مقیم غیر ملکی تھے۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ مقامی طلب میں مملکت کے غیر ملکی رہائشی بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
02OVERSEAS POST | URDU PACKAGEایک سال میں اصل تبدیلی⌄
2025 کی پہلی سہ ماہی میں 1 کروڑ 52 لاکھ 22 ہزار 497 افراد نے عمرہ کیا تھا۔ 2026 میں یہ تعداد 1 کروڑ 52 لاکھ 33 ہزار 767 ہوگئی۔
مکہ پہلے، ریاض دوسرے نمبر پر
رہائشی علاقوں کے لحاظ سے مکہ مکرمہ ریجن پہلے نمبر پر رہا، جہاں سے 40 لاکھ سے زیادہ افراد نے عمرہ کیا، جو اندرونِ ملک معتمرین کا تقریباً 43 فیصد ہے۔
ریاض 20 لاکھ سے زیادہ معتمرین اور 21.4 فیصد حصے کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔
اندرونِ ملک 75.4 فیصد افراد نے اپنے خاندان کے ساتھ عمرہ کیا، 17.2 فیصد نے انفرادی طور پر جبکہ 7.4 فیصد نے دوستوں کے ساتھ سفر کیا۔
یہ رجحان مقامی عمرہ کے خاندانی سفر ہونے کو ظاہر کرتا ہے، جس کا اثر ہوٹلوں، ٹرانسپورٹ اور دیگر خدمات پر پڑتا ہے۔
فضائی سفر کا غلبہ
بیرونِ ملک سے آنے والے معتمرین میں 86 فیصد فضائی راستے سے سعودی عرب پہنچے، 13.6 فیصد زمینی اور 0.4 فیصد سمندری راستے سے آئے۔
2025 میں فضائی راستے کا حصہ تقریباً 82.2 فیصد تھا۔
یہ تبدیلی سعودی ایئرپورٹس، ایئرلائنز اور جدہ، مکہ و مدینہ کے درمیان ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کے لیے اہم ہے۔
بیرونی معتمرین دوبارہ بڑھتے ہیں تو دباؤ انہی شعبوں پر بڑھے گا۔
03OVERSEAS POST | URDU PACKAGEاندرونِ ملک اضافہ، بیرونِ ملک کمی⌄
اندرونِ ملک معتمرین میں تقریباً 7 لاکھ 65 ہزار کا اضافہ ہوا، جبکہ بیرونِ ملک سے آنے والوں میں 7 لاکھ 54 ہزار سے زیادہ کی کمی ریکارڈ ہوئی۔
جنوری اور فروری کی مختلف تصویر
بیرونِ ملک سے آنے والوں کے لیے جنوری 2026 سب سے مصروف مہینہ رہا، جب 22 لاکھ سے زیادہ افراد نے عمرہ کیا، جو بیرونی معتمرین کا 38.8 فیصد تھا۔
اس کے برعکس اندرونِ سعودی عرب سب سے زیادہ عمرہ فروری میں ہوا، جب 45 لاکھ سے زیادہ افراد نے عمرہ ادا کیا، یعنی اندرونِ ملک معتمرین کا 48.2 فیصد۔
عمر کے اعتبار سے بیرونی معتمرین میں 55 سے 64 سال کی عمر والے افراد سب سے زیادہ تھے، جبکہ اندرونِ ملک 25 سے 34 سال کا گروپ سب سے بڑا رہا۔
مدینہ منورہ بھی مرکز میں
2026 کی پہلی سہ ماہی میں بیرونِ ملک سے 37 لاکھ سے زیادہ اور اندرونِ سعودی عرب سے 19 لاکھ سے زیادہ زائرین مدینہ منورہ پہنچے۔
تاہم 2025 کے مقابلے میں بیرونی زائرین کی تعداد میں کمی دیکھی گئی۔
04OVERSEAS POST | URDU PACKAGEکس نے بیرونی کمی پوری کی؟⌄
بیرونِ ملک سے آنے والے معتمرین کی تعداد کم ہونے کے باوجود مجموعی تعداد تقریباً برقرار رہی۔ وجہ یہ ہے کہ اندرونِ سعودی عرب عمرہ کرنے والوں میں ہونے والے اضافے نے بیرونی کمی کو تقریباً مکمل طور پر پورا کردیا۔
اصل نتیجہ کیا ہے؟
1 کروڑ 52 لاکھ عمرہ زائرین کا مجموعی عدد استحکام دکھاتا ہے، لیکن اندرونی تصویر بدل چکی ہے۔ بیرونِ ملک معتمرین میں 7 لاکھ 50 ہزار سے زیادہ کمی ہوئی، جبکہ اندرونِ سعودی عرب معتمرین میں تقریباً اتنا ہی اضافہ ہوا۔
یہ رجحان صرف مذہبی اعدادوشمار تک محدود نہیں۔ اس کا تعلق ہوٹلنگ، ٹرانسپورٹ، فضائی سفر، ریٹیل اور مکہ و مدینہ میں جاری ترقیاتی منصوبوں سے بھی ہے۔
آنے والے مہینوں میں اصل سوال یہ ہوگا کہ کیا بیرونِ ملک معتمرین دوبارہ بڑھیں گے، یا اندرونِ سعودی عرب کی طلب عمرہ کی مجموعی نمو کا بنیادی محرک بنے گی؟