براہ راست نشریات

خاندانی نظم سے دفاع تک.. پاکستان کا عسکری نظام دنیا سے مختلف؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
پاکستان ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026
Picture of محمد محسن اقبال

محمد محسن اقبال

اسلام آباد

دنیا بھر میں جدید جنگ کے تقاضوں نے تینوں افواج کے درمیان مشترکہ کمان اور بہتر رابطے کی ضرورت بڑھا دی ہے۔ پاکستان نے بھی نئے دفاعی قانونی ڈھانچے کے ذریعے چیف آف ڈیفنس فورسز اور مرکزی ڈیفنس فورسز ہیڈکوارٹر کا نظام قائم کیا ہے، لیکن اختیارات کی وسعت پاکستانی ماڈل کو کئی عالمی نظاموں سے منفرد بناتی ہے۔

OVERSEAS POST | چراغِ طور

انسان کی تخلیق کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اس کی فطرت میں خاندان کے نظم و نسق کا ایک ایسا انتظام ودیعت فرما دیا تھا، جس کے ذریعے وہ اپنے عہد کی ضروریات کے مطابق زندگی کا سفر جاری رکھ سکے۔ 

وقت گزرتا گیا تو یہ دائرۂ کار وسیع ہوتا چلا گیا اور خاندان کا نظم آگے بڑھتے بڑھتے بالآخر ریاست کی دہلیز تک پہنچ گیا۔

موجودہ خاندانی نظام میں، جب تک دادا حیات ہوں، انہیں خاندان کا سربراہ تسلیم کیا جاتا ہے اور گھر کے اہم معاملات میں ان کی اجازت اور رضامندی کو بنیادی حیثیت حاصل رہتی ہے۔ 

تاہم روزمرہ امور کی عملی انجام دہی کے لیے وہ خاندان کے مختلف افراد کو بعض ذمہ داریاں اور اختیارات سونپ دیتے ہیں، تاکہ ہر شخص اپنے سپرد کئے گئے کام کے لیے جواب دہ ہو۔ 

یوں اختیار، ذمہ داری اور جواب دہی کے امتزاج سے ایک ایسا نظم وجود میں آتا ہے جس کے ذریعے خاندان اپنے معاملات چلاتا ہے۔

01
اہم نکات
پاکستان کے نئے عسکری نظام میں کیا بدلا؟
  • چیف آف ڈیفنس فورسز کے تحت مشترکہ عسکری نظام تشکیل دیا گیا۔
  • ڈیفنس فورسز ہیڈکوارٹرز تینوں افواج کے رابطے کا مرکزی مقام ہوگا۔
  • چیف آف ڈیفنس فورسز قومی سلامتی کے امور میں وزیراعظم کے بنیادی عسکری مشیر ہوں گے۔
  • مشترکہ آپریشنز، تربیت، جنگی تیاری اور بین السروسز تعاون پر زور دیا گیا ہے۔
  • پاکستانی ماڈل اختیارات کے ارتکاز کے باعث کئی عالمی ماڈلز سے مختلف ہے۔

مزید پڑھیں

جب یہی نظم و نسق وسیع ہو کر ریاست کے انتظام تک پہنچا تو مختلف ادوار کے تجربات اور بدلتے ہوئے حالات کی روشنی میں انتظامی ڈھانچے تشکیل پاتے گئے اور ریاستی امور بھی انہی تقاضوں کے مطابق چلائے جانے لگے۔ 

موجودہ دور میں دفاع اور سلامتی کے تصورات میں تیزی سے آنے والی تبدیلیوں نے ریاستوں کو اپنے عسکری انتظام میں بھی نئی صورتیں اختیار

 کرنے پر مجبور کیا ہے۔

اسی پس منظر میں پاکستان ڈیفنس فورسز ترمیمی بل 2026 پارلیمان سے منظور کیا گیا، تاکہ ریاست کے دفاعی امور اپنے متعلقہ دائرۂ اختیار میں زیادہ مربوط اور پیشہ ورانہ انداز سے انجام پاتے رہیں۔

اس قانون کے ذریعے ستائیسویں آئینی ترمیم کی بعض دفعات کو عملی شکل دی گئی ہے۔ 

اس کے تحت چیف آف ڈیفنس فورسز کے زیرِ قیادت ڈیفنس فورسز ہیڈکوارٹرز قائم کیا گیا ہے، جبکہ چیف آف ڈیفنس فورسز کا منصب بیک وقت چیف آف آرمی اسٹاف بھی سنبھالتا ہے۔ اسے مسلح افواج کے مرکزی ہیڈکوارٹر کی حیثیت حاصل ہوگی۔

02
فیکٹ باکس
نئے دفاعی نظام کے چار بنیادی ستون
مرکزی منصبچیف آف ڈیفنس فورسز
مرکزی مرکزڈیفنس فورسز ہیڈکوارٹرز
بنیادی کردارمشترکہ کمان اور عسکری مشاورت
اہم مقصدتینوں افواج میں انضمام اور ہم آہنگی

چیف آف ڈیفنس فورسز کو قومی سلامتی، دفاع اور مسلح افواج سے متعلق امور میں وزیراعظم کا بنیادی عسکری مشیر مقرر کیا گیا ہے۔ 

وہ مسلح افواج کی عملی کمان اور کنٹرول سنبھالیں گے، تاہم وفاقی حکومت کے سامنے جواب دہ رہیں گے۔ انہیں مختلف دفاعی شعبوں کے باہمی انضمام، آپریشنل ہم آہنگی، مشترکہ کارروائیوں، تینوں افواج کے درمیان رابطے اور تعاون، تنظیم، تربیت، انتظام، جنگی تیاری اور دیگر متعلقہ امور کے وسیع اختیارات بھی حاصل ہوں گے۔

اسی طرح افرادی قوت سے متعلق اہم اختیارات بھی انہیں تفویض کئے گئے ہیں۔ 

وہ مسلح افواج کے قوانین کے تابع اہلکاروں کو ریٹائر، فارغ یا ملازمت سے سبکدوش کر سکتے ہیں، استعفیٰ منظور یا مسترد کر سکتے ہیں، کسی اہلکار کو ملازمت میں برقرار رکھ سکتے ہیں یا عمر اور مدتِ ملازمت کی مقررہ حدود میں نرمی کر سکتے ہیں۔ 

البتہ آرٹیکل 243 کے تحت مقرر ہونے والے سروس چیفس اس اختیار سے مستثنیٰ ہوں گے۔

نیشنل کمانڈ اتھارٹی سے متعلق ترامیم کے ذریعے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے سابق منصب کی جگہ چیف آف ڈیفنس فورسز کا منصب متعارف کرایا گیا ہے۔ ان اقدامات کو 27 نومبر 2025 سے مؤثر قرار دیا گیا ہے۔

03
بڑی تبدیلی
ایک ہی افسر کے پاس دو اہم ذمہ داریاں
پاکستانی ماڈل کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کا منصب چیف آف آرمی اسٹاف کے ساتھ منسلک ہے۔ یہی انتظام پاکستان کو ان ممالک سے مختلف بناتا ہے جہاں مشترکہ عسکری سربراہ کو کسی ایک سروس کی روزمرہ کمان سے الگ رکھا جاتا ہے۔

عالمی رجحان

یہ دفعات عالمی سطح پر ابھرتے ہوئے اس رجحان سے کسی حد تک ہم آہنگ ہیں جس کے تحت مشترکہ عسکری کمان اور ایک اعلیٰ سطحی عسکری مشیر کا نظام قائم کیا جا رہا ہے۔ 

دنیا کے متعدد ممالک نے چیف آف ڈیفنس اسٹاف، چیف آف دی ڈیفنس فورس، چیئرمین جوائنٹ چیفس اور اسی نوعیت کے عہدے قائم کئے ہیں، تاکہ تینوں افواج کے درمیان باہمی ربط و تعاون کو فروغ دیا جا سکے، ادارہ جاتی تقسیم کم ہو اور عسکری معاملات میں ایک مرکزی مقام سے مشاورت فراہم کی جا سکے۔

جدید جنگ محض بری، بحری یا فضائی محاذ تک محدود نہیں رہی۔ 

سائبر سکیورٹی، خلائی ٹیکنالوجی، ڈرونز، مصنوعی ذہانت، میزائل دفاع اور الیکٹرانک وارفیئر نے جنگ کے تصور کو کثیرالجہتی بنا دیا ہے۔ 

اسی لیے جدید دفاعی نظاموں میں مختلف سروسز کے درمیان موثر انضمام کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔

04
عالمی رجحان
دنیا مشترکہ عسکری کمان کی طرف کیوں بڑھ رہی ہے؟
جدید جنگ اب صرف بری، بحری اور فضائی محاذ تک محدود نہیں۔ سائبر، خلائی ٹیکنالوجی، ڈرونز، میزائل دفاع اور الیکٹرانک وارفیئر نے افواج کے درمیان تیز رفتار رابطے اور مشترکہ فیصلہ سازی کی ضرورت بڑھا دی ہے۔

امریکی ماڈل

امریکہ میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف اعلیٰ ترین رینک رکھنے والے افسر اور صدر، نیشنل سکیورٹی کونسل اور سیکریٹری دفاع کے بنیادی عسکری مشیر ہیں۔ 

تاہم گولڈ واٹر نکولز اصلاحات اور ٹائٹل 10 کی قانونی دفعات کے تحت انہیں مسلح افواج یا دیگر جوائنٹ چیفس پر براہِ راست آپریشنل کمان حاصل نہیں۔

کمان کا سلسلہ صدر سے سیکریٹری دفاع اور پھر متعلقہ جنگی کمانڈروں تک جاتا ہے۔ 

چیئرمین جوائنٹ چیفس کا کردار بنیادی طور پر مشاورتی نوعیت کا ہے، جس میں عسکری مشاورت، منصوبہ بندی، مشترکہ عسکری نظریے کی تشکیل اور مختلف افواج کے درمیان رابطہ کاری شامل ہیں۔

اس نظام کا بنیادی مقصد سویلین بالادستی برقرار رکھتے ہوئے آپریشنل سطح پر مختلف افواج کو مناسب ادارہ جاتی خودمختاری فراہم کرنا ہے۔

05
امریکی ماڈل
مشیر اعلیٰ، مگر براہِ راست آپریشنل کمان نہیں
امریکہ میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف صدر اور سیکریٹری دفاع کے اعلیٰ عسکری مشیر ہیں، لیکن براہِ راست آپریشنل کمان ان کے پاس نہیں۔ عملی کمان صدر سے سیکریٹری دفاع اور پھر جنگی کمانڈروں تک جاتی ہے۔

بھارتی ماڈل

بھارت میں چیف آف ڈیفنس اسٹاف تینوں افواج سے متعلق امور میں وزیر دفاع کے بنیادی عسکری مشیر، چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے مستقل چیئرمین، محکمہ عسکری امور کے سربراہ اور نیوکلیئر کمانڈ اتھارٹی کے عسکری مشیر کے طور پر کام کرتے ہیں۔

ان کی ذمہ داریوں میں مشترکہ آپریشنز، رسد، تربیت، دفاعی خریداری کی ترجیحات اور تھیٹر کمانڈز کی تشکیل میں ہم آہنگی پیدا کرنا شامل ہے۔ تاہم وہ سروس چیفس پر براہِ راست آپریشنل کمان نہیں رکھتے، کیونکہ ہر سروس چیف اپنی متعلقہ فوج کی کمان برقرار رکھتا ہے۔

اس منصب کا بنیادی مقصد تینوں افواج کے درمیان انضمام اور اشتراک کو بڑھانا ہے، نہ کہ آپریشنل معاملات میں کسی ایک سروس کو دوسری پر فوقیت دینا۔

برطانوی ماڈل

برطانیہ میں چیف آف دی ڈیفنس اسٹاف مسلح افواج کے پیشہ ورانہ سربراہ اور وزیراعظم و سیکریٹری آف اسٹیٹ فار ڈیفنس کے بنیادی عسکری مشیر ہیں۔ 

تاریخی طور پر اس منصب کا مرکز مشاورت اور عسکری حکمتِ عملی رہا ہے، تاہم حالیہ اصلاحات نے اس کے اختیارات کو مزید تقویت دی ہے۔

06
بھارتی ماڈل
انضمام زیادہ، براہِ راست کمان محدود
بھارت میں چیف آف ڈیفنس اسٹاف تینوں افواج کے درمیان منصوبہ بندی، تربیت، دفاعی خریداری اور مشترکہ آپریشنز کو مربوط کرتے ہیں، لیکن ہر سروس چیف اپنی متعلقہ فوج کی کمان برقرار رکھتا ہے۔

اب چیف سروس چیفس کی کمان کرتے ہیں اور ایک ملٹری اسٹریٹیجک ہیڈکوارٹر کی سربراہی بھی کرتے ہیں، جو عسکری قوت کی تشکیل، جنگی منصوبہ بندی اور مربوط فوجی قوت کی تیاری جیسے امور کا ذمہ دار ہے۔ 

اس کے باوجود یہ منصب مضبوط وزارتی اور سویلین نگرانی کے تحت کام کرتا ہے اور ڈیفنس کونسل اس نظام میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔

دولتِ مشترکہ کے دیگر ماڈلز

کینیڈا، آسٹریلیا اور دولتِ مشترکہ کے بعض دیگر ممالک میں بھی عموماً چیف آف دی ڈیفنس اسٹاف یا چیف آف دی ڈیفنس فورس کو مسلح افواج پر کمان کے اختیارات حاصل ہوتے ہیں، تاہم یہ اختیارات حکومت یا متعلقہ وزیر کی ہدایات اور بالآخر سویلین یا آئینی بالادستی کے تابع رہتے ہیں۔

ان نظاموں میں آپریشنز اور انتظامی امور دونوں کے لیے متحدہ کمان پر زور دیا جاتا ہے، جبکہ پارلیمانی نگرانی کو بھی بنیادی اہمیت حاصل رہتی ہے۔

07
برطانوی ماڈل
مضبوط مشترکہ قیادت، مگر سویلین نگرانی برقرار
برطانیہ میں چیف آف دی ڈیفنس اسٹاف کا کردار حالیہ اصلاحات کے بعد زیادہ مضبوط ہوا ہے۔ اس کے باوجود عسکری قیادت وزارتی، قانونی اور سویلین نگرانی کے واضح نظام کے تحت کام کرتی ہے۔

یوں عالمی منظرنامہ اس امر کی طرف بڑھتا دکھائی دیتا ہے کہ جدید جنگی تقاضوں کے پیش نظر بہتر باہمی انضمام، مؤثر مشاورت اور مربوط فیصلہ سازی کے لیے ایک اعلیٰ سطحی مشترکہ عسکری منصب ناگزیر ہوتا جا رہا ہے۔

پاکستان کا نیا قانونی انتظام بھی مشترکہ عسکری نظام، مرکزی ہیڈکوارٹر، مختلف دفاعی شعبوں کے باہمی رابطے اور ایک مرکزی عسکری مشاورتی کردار جیسے مقاصد کو آگے بڑھاتا ہے اور اس اعتبار سے اسے عالمی رجحانات سے ہم آہنگ قرار دیا جا سکتا ہے۔

پاکستانی ماڈل کی انفرادیت

تاہم پاکستانی ماڈل چند اہم پہلوؤں سے منفرد بھی ہے۔ 

چیف آف ڈیفنس فورسز کا منصب بیک وقت حاضر سروس چیف آف آرمی اسٹاف کے پاس ہونا نسبتاً غیر معمولی انتظام ہے۔

بیشتر ممالک میں یا تو ایک علیحدہ افسر کو مشترکہ افواج کی قیادت یا مشاورت کا منصب دیا جاتا ہے، جس کا تعلق مختلف سروسز سے باری باری ہو سکتا ہے، یا مشترکہ عسکری سربراہ کو کسی ایک سروس کی روزمرہ کمان سے الگ رکھا جاتا ہے۔

08
پاکستانی ماڈل
اختیارات کا ارتکاز اسے منفرد کیوں بناتا ہے؟
پاکستان میں مشترکہ عسکری قیادت، آپریشنل کمان اور بعض اہم انتظامی و افرادی اختیارات ایک مرکزی منصب کے گرد جمع ہوتے ہیں۔ اسی لیے پاکستانی نظام امریکی اور بھارتی مشاورتی ماڈلز سے زیادہ مرکزی نوعیت کا دکھائی دیتا ہے۔

پاکستان میں دونوں ذمہ داریوں کا یکجا ہونا ایک ایسا مرکزی عسکری نقطۂ اختیار تشکیل دیتا ہے جو امریکہ اور بھارت کے زیادہ مشاورتی ماڈلز اور دیگر کئی ممالک کے نسبتاً متوازن سروس اسٹرکچر سے مختلف دکھائی دیتا ہے۔

مزید برآں، تمام سروسز پر براہِ راست آپریشنل کمان و کنٹرول کے ساتھ ریٹائرمنٹ، سبکدوشی، ملازمت میں برقرار رکھنے اور مدتِ ملازمت یا عمر کی حدود میں تبدیلی جیسے وسیع افرادی اختیارات کا ایک ہی منصب میں مرتکز ہونا امریکی اور بھارتی نظاموں کے مقابلے میں کہیں زیادہ وسیع دائرۂ اختیار کی عکاسی کرتا ہے۔

یہ ماڈل دولتِ مشترکہ کے نسبتاً مضبوط کمانڈ نظاموں اور برطانیہ کی حالیہ اصلاحات سے کسی حد تک قربت ضرور رکھتا ہے، تاہم افرادی قوت سے متعلق اختیارات کی وسعت اسے ایک غیر معمولی طور پر جامع انتظام بنا دیتی ہے۔

09
یہ کیوں اہم ہے؟
اصل امتحان کمان نہیں، اختیار اور احتساب کا توازن ہے
جدید جنگی حالات میں تیز فیصلہ سازی اور تینوں افواج کے درمیان مضبوط رابطہ ضروری ہے، لیکن جمہوری ریاست میں پارلیمانی نگرانی، سویلین بالادستی اور قانونی جواب دہی بھی اتنی ہی اہم ہیں۔

اختیار اور احتساب کا توازن

سویلین اور عسکری توازن کے تناظر میں دیکھا جائے تو جمہوری نظام عموماً ایسے مناصب کو مضبوط سویلین بالادستی، پارلیمانی نگرانی اور واضح قانونی حدود کے تابع رکھتے ہیں، تاکہ کوئی ایک عسکری منصب تقرریوں، پالیسی یا آپریشنل معاملات پر غیر معمولی غلبہ حاصل نہ کر سکے۔

پاکستان کے آئینی اور قانونی ڈھانچے میں چیف آف ڈیفنس فورسز کو مسلح افواج کی کمان کے حوالے سے خاصے وسیع قانونی اختیارات دیے گئے ہیں، تاہم وفاقی حکومت کو قواعد وضع کرنے اور ریاستی پالیسی کی سمت متعین کرنے کا اختیار بدستور حاصل ہے۔

اصل سوال محض یہ نہیں کہ اختیار کس کے پاس ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس اختیار کے استعمال کے لیے احتساب، نگرانی اور ادارہ جاتی توازن کا نظام کتنا مؤثر ہے۔

10
ایک منٹ میں کہانی
پاکستان نے عالمی ماڈل اپنایا، مگر اپنی الگ صورت کے ساتھ
دنیا کی افواج جدید جنگ کے تقاضوں کے باعث مشترکہ عسکری قیادت کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ پاکستان نے بھی اسی سمت قدم اٹھایا ہے، مگر چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف کی ذمہ داریوں کے امتزاج اور وسیع اختیارات نے پاکستانی نظام کو کئی دوسرے ممالک سے مختلف بنا دیا ہے۔ اصل کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ مؤثر کمان اور ادارہ جاتی احتساب کے درمیان توازن کس طرح برقرار رکھا جاتا ہے۔

مختصراً، نیا قانون مشترکہ عسکری کمان کے قیام، اعلیٰ سطحی مربوط و مشاورتی منصب اور جدید جنگی تقاضوں کے مطابق فیصلہ سازی کو مؤثر بنانے کے ان مقاصد کو آگے بڑھاتا ہے جنہیں دنیا کے متعدد ممالک پہلے ہی مختلف صورتوں میں اپنا چکے ہیں۔

تاہم ایک ہی وقت میں چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف کی ذمہ داریوں کا امتزاج، اور اس منصب میں وسیع آپریشنل و افرادی اختیارات کا ارتکاز، اسے دیگر کئی عالمی ماڈلز سے نمایاں طور پر مختلف بھی بنا دیتا ہے۔

آخرکار اس انتظام کی موزونیت کا فیصلہ ان ترجیحات کی بنیاد پر ہوگا جنہیں ریاست مقدم رکھتی ہے۔ ایک طرف تینوں افواج کے درمیان زیادہ مضبوط اشتراک، تیز تر فیصلہ سازی اور جدید جنگی تقاضوں سے ہم آہنگ مربوط کمان کی ضرورت ہے، جبکہ دوسری جانب ادارہ جاتی توازن، تمام سروسز کی مناسب حیثیت اور مضبوط سویلین و پارلیمانی نگرانی بھی اتنی ہی اہم ہے۔

ریاستی نظم کی اصل آزمائش یہی ہے کہ اختیار اور احتساب، کمان اور توازن، قوت اور ذمہ داری ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح ہم آہنگ رہیں کہ قومی دفاع مضبوط بھی ہو اور جمہوری و ریاستی اداروں کی بنیاد بھی مستحکم رہے۔

آپ بھی لکھیں
آپ کی تحریر شائع کر کے ہمیں خوشی ہوگی
✍️
📄