براہ راست نشریات

عالمی امن چند طاقتوں کے ہاتھ میں، سلامتی کونسل کب بدلے گی؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
UN Security Council Reform
Picture of محمد محسن اقبال

محمد محسن اقبال

اسلام آباد

سلامتی کونسل میں اصلاحات کی بحث ایک بار پھر عالمی نمائندگی، ویٹو اور مستقل رکنیت کے بنیادی سوالات کو سامنے لاتی ہے۔
مضمون میں مستقل نشستوں کے اضافے کے ممکنہ نقصانات، بھارت اور جرمنی کے دعووں، علاقائی عدم توازن اور پاکستان کی حمایت یافتہ یونائٹنگ فار کنسنسس تجویز کا جائزہ لیا گیا ہے، جو منتخب ارکان کی تعداد بڑھانے اور زیادہ ممالک کو فیصلہ سازی میں شریک کرنے کی حمایت کرتی ہے۔

OVERSEAS POST | چراغِ طور

1945ء میں اقوامِ متحدہ کا قیام ایسے وقت میں عمل میں آیا جب لیگ آف نیشنز دنیا میں امن قائم رکھنے اور اس کے تحفظ میں ناکام ہو چکی تھی۔ 

دوسری جنگِ عظیم کے بعد پیدا ہونے والی عالمی صورتِ حال کو سامنے رکھتے ہوئے سلامتی کونسل کی تشکیل کی گئی، جس میں 5 بڑی طاقتوں کو مستقل رکنیت کے ساتھ ویٹو کا اختیار دیا گیا، جبکہ چند نشستیں غیر مستقل ارکان کے لیے مختص کی گئیں۔

اس بنیادی ڈھانچے میں 1965ء کے بعد کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی، سوائے اس کے کہ غیر مستقل ارکان کی تعداد چھ سے بڑھا کر دس کر دی گئی۔ 

ویٹو کے اختیار کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ بڑی طاقتوں کو عالمی نظام کے اندر رکھا جائے اور ان کے درمیان براہِ راست تصادم کے امکانات کو کم کیا جا سکے۔ 

OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTسلامتی کونسل اصلاحات — اہم نکات
  • اقوامِ متحدہ کے 193 رکن ممالک ہیں، مگر سلامتی کونسل صرف 15 ارکان پر مشتمل ہے۔
  • کونسل میں پانچ مستقل اور دس منتخب غیر مستقل ارکان شامل ہیں۔
  • سلامتی کونسل کی اصلاحات میں رکنیت، ویٹو، علاقائی نمائندگی، حجم اور طریقۂ کار بنیادی موضوعات ہیں۔
  • !مستقل نشستیں بڑھانے کے ناقدین کے مطابق اس سے نئے مستقل مراعات یافتہ مراکز پیدا ہوسکتے ہیں۔
  • پاکستان یونائٹنگ فار کنسنسس کے تحت زیادہ نمائندہ، جواب دہ اور منتخب رکنیت پر مبنی اصلاحات کی حمایت کرتا ہے۔
  • اصل سوال یہ ہے کہ اصلاحات سے نمائندگی بڑھے یا مستقل طاقت کے نئے مراکز وجود میں آئیں۔
overseaspost.net

تاہم 8 دہائیاں گزرنے کے باوجود یہ عالمی ادارہ آج بھی بڑی حد تک 1945ء کے عالمی نقشے کی چھاپ لیے ہوئے ہے، حالاں کہ اقوامِ متحدہ کے رکن ممالک کی تعداد اب 193 ہو چکی ہے اور دنیا کی آبادی 8 ارب سے تجاوز کر چکی ہے۔

اس تناظر میں سلامتی کونسل کی موجودہ ساخت اس عالمی برادری کی حقیقی عکاسی نہیں کرتی جس کی خدمت اور تحفظ کا فریضہ اسے سونپا گیا ہے۔

مزید پڑھیں

2008ء میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے سلامتی کونسل میں اصلاحات کے جائزے کے لیے بین الحکومتی مذاکرات کا آغاز کیا۔ 

ان مذاکرات میں بنیادی طور پر 5 باہم مربوط امور زیرِ بحث رہے: 

رکنیت کی اقسام، ویٹو کا اختیار، علاقائی نمائندگی، کونسل کا حجم اور اس کے طریقۂ کار۔

آج بھی افریقہ سلامتی کونسل میں مستقل نشست سے محروم ہے۔ 

لاطینی امریکا، جنوبی ایشیا اور مسلم دنیا کے وسیع حصوں کو بھی ان کی آبادی، سیاسی اہمیت اور عالمی کردار کے تناسب سے نمائندگی حاصل نہیں۔ 

اسی لیے موجودہ بندوبست کو بہت سے حلقے نوآبادیاتی دور کی باقیات قرار دیتے ہیں، جہاں عالمی فیصلہ سازی کی اصل قوت چند ریاستوں کے ہاتھوں میں مرتکز ہے۔

i OVERSEAS POST | FACT BOXسلامتی کونسل: فیکٹ باکس
اقوامِ متحدہ کے رکن ممالک
193
سلامتی کونسل کے کل ارکان
15
مستقل ارکان
5
منتخب غیر مستقل ارکان
10
غیر مستقل ارکان کی مدت
2 سال
کونسل کی توسیع
11 سے 15 ارکان
اصلاحاتی مذاکرات
بین الحکومتی مذاکرات (IGN) میں رکنیت، ویٹو، علاقائی نمائندگی، حجم اور طریقۂ کار زیرِ بحث ہیں۔
پاکستان کا بنیادی مؤقف
زیادہ نمائندہ، جمہوری، شفاف اور جواب دہ کونسل—نئے مستقل مراعات یافتہ مراکز کے بغیر۔
overseaspost.net

یہ مؤقف بھی تیزی سے مضبوط ہوا ہے کہ اگر سلامتی کونسل کو اپنی ساکھ، نمائندگی اور مؤثریت دوبارہ حاصل کرنی ہے تو ابھرتی ہوئی طاقتوں اور اہم علاقائی ممالک کو عالمی فیصلہ سازی میں زیادہ مؤثر کردار دینا ہوگا۔ 

ان ممالک میں پاکستان، برازیل، مصر، جنوبی افریقہ، نائیجیریا، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب، میکسیکو اور بھارت جیسے ممالک شامل ہیں۔

تاہم سلامتی کونسل میں اصلاحات کا معاملہ ایک ایسی پیچیدہ گرہ بن چکا ہے جسے کھولنا آسان دکھائی نہیں دیتا۔

گروپ آف فور اپنے لیے مستقل نشستوں کے ساتھ افریقہ کے لیے بھی دو مستقل نشستوں کا مطالبہ کرتا ہے۔ 

افریقی گروپ دو مستقل نشستوں کا خواہاں ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ اگر ویٹو کا اختیار برقرار رہتا ہے تو نئے افریقی مستقل ارکان کو بھی یہی حق حاصل ہونا چاہئے۔ 

دوسری جانب فرانس اور میکسیکو کی جانب سے یہ تجویز سامنے آئی ہے کہ مستقل ارکان اجتماعی مظالم اور انسانیت کے خلاف بڑے پیمانے پر ہونے والے جرائم کے معاملات میں رضاکارانہ طور پر ویٹو کے استعمال سے گریز کریں۔

OVERSEAS POST | ANALYSISسلامتی کونسل کی اصلاح کیوں اہم ہے؟

یہ بحث صرف چند نئی نشستوں کی نہیں، بلکہ عالمی امن کے فیصلوں میں نمائندگی، جواب دہی اور مؤثریت کے توازن کی ہے۔

نمائندگیافریقہ، لاطینی امریکا، ایشیا اور مسلم دنیا کے وسیع حصے مستقل فیصلہ سازی میں محدود نمائندگی رکھتے ہیں۔
ویٹوویٹو ایک مستقل رکن کو ایسے فیصلے روکنے کی طاقت دیتا ہے جن پر باقی ارکان میں وسیع حمایت موجود ہوسکتی ہے۔
جواب دہیمنتخب نشستوں کے حامیوں کے مطابق انتخابات اور علاقائی گردش ارکان کو وسیع تر عالمی برادری کے سامنے زیادہ جواب دہ رکھتے ہیں۔
اصل سوال: کیا اصلاح کا مقصد مزید مستقل طاقتیں پیدا کرنا ہونا چاہئے، یا زیادہ ممالک کو باقاعدہ اور قابلِ احتساب طریقے سے عالمی فیصلہ سازی میں شریک کرنا؟
overseaspost.net

اس کے برعکس یونائٹنگ فار کنسنسس گروپ، جس میں پاکستان نمایاں کردار ادا کر رہا ہے اور جسے اٹلی، میکسیکو، ارجنٹینا، کینیڈا اور جنوبی کوریا سمیت متعدد ممالک کی حمایت حاصل ہے، مستقل ارکان کی تعداد بڑھانے کی مخالفت کرتا ہے۔ 

اس گروپ کی تجویز ہے کہ منتخب ارکان کی تعداد میں اضافہ کیا جائے، ان کی مدتِ رکنیت کو زیادہ لچکدار بنایا جائے اور دوبارہ انتخاب کے امکانات پیدا کئے جائیں۔

یوں مختلف گروہوں کے مطالبات اور مفادات ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔ 

نتیجتاً کسی ایک فارمولے کے حق میں مطلوبہ اکثریت پیدا نہیں ہو پاتی اور اصلاحات کا عمل مسلسل جمود کا شکار ہے۔

بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا مستقل ارکان کی تعداد بڑھانا واقعی سلامتی کونسل کی اصلاح ہوگی، یا اس سے صرف مراعات یافتہ ممالک کے ایک نئے طبقے کو جنم ملے گا؟

مزید ممالک کو مستقل رکنیت اور بالخصوص ویٹو کا اختیار دینے سے ایسے مواقع میں اضافہ ہو سکتا ہے جہاں قومی مفادات عالمی اقدام کی راہ میں دیوار بن جائیں۔ 

غزہ کی تباہی کے دوران سلامتی کونسل میں امریکی ویٹو کے بار بار استعمال نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال نمایاں کیا کہ ایک مستقل رکن کس طرح وسیع تر عالمی اتفاقِ رائے یا اجتماعی خواہش کو مؤثر اقدام میں تبدیل ہونے سے روک سکتا ہے۔

✓◆ OVERSEAS POST | CONTEXTکیا حقیقت ہے، کیا مضمون کا مؤقف؟

مصدقہ ادارہ جاتی حقائق

  • سلامتی کونسل 15 ارکان پر مشتمل ہے: پانچ مستقل اور دس منتخب ارکان۔
  • غیر مستقل ارکان جنرل اسمبلی سے دو سال کے لیے منتخب ہوتے ہیں۔
  • اصلاحات کے بین الحکومتی مذاکرات میں ویٹو، نمائندگی اور رکنیت کے ماڈلز بدستور زیرِ بحث ہیں۔
  • فرانس اور میکسیکو بڑے پیمانے پر مظالم کے معاملات میں ویٹو کے رضاکارانہ ضبط کی حمایت کرتے ہیں۔
  • یونائٹنگ فار کنسنسس مستقل نشستوں کے بجائے منتخب یا طویل مدتی غیر مستقل ماڈلز پر زور دیتا ہے۔

مضمون کا تجزیاتی مؤقف

  • نئی مستقل نشستیں سلامتی کونسل کی مفلوجیت اور مراعات کے دائرے کو بڑھا سکتی ہیں۔
  • بھارت کی مستقل نشست کی اہلیت پر کشمیر، انسانی حقوق اور جوہری عدم پھیلاؤ سے متعلق سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
  • جرمنی کی مستقل نشست سے یورپی نمائندگی کا عدم توازن مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
  • منتخب نشستوں میں اضافہ علاقائی گردش اور جواب دہی کو مستقل نشستوں کے مقابلے میں بہتر بنا سکتا ہے۔
  • مضمون یونائٹنگ فار کنسنسس کو زیادہ متوازن اور قابلِ احتساب راستہ قرار دیتا ہے۔
overseaspost.net

اگر مستقل ارکان کی تعداد مزید بڑھا دی گئی تو باہم متصادم قومی اور علاقائی مفادات بھی بڑھیں گے، جس سے ادارہ جاتی مفلوجیت کا خطرہ مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ 

مستقل رکنیت ایک مرتبہ مل جانے کے بعد اسے واپس لینا عملاً نہایت دشوار ہے۔ 

نتیجتاً آج شامل ہونے والے نئے مستقل ارکان مستقبل میں کسی بھی نئی اصلاحی کوشش کو روکنے کی پوزیشن میں آ سکتے ہیں۔

بھارت کا مستقل نشست کا دعویٰ بھی خصوصی توجہ اور سنجیدہ غور کا متقاضی ہے۔ کسی ریاست کو مستقل رکنیت دیتے وقت اقوامِ متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قوانین اور عالمی اصولوں سے اس کی مستقل وابستگی ایک بنیادی معیار ہونا چاہئے۔

جموں و کشمیر کے بارے میں سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں پر عمل درآمد نہ ہونا، اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں استصوابِ رائے کی مخالفت اور متنازع علاقے کی آئینی حیثیت میں یک طرفہ تبدیلیاں ایسے معاملات ہیں جو اس دعوے پر سوال اٹھاتے ہیں۔

اسی طرح متنازع خطے اور دیگر مقامات پر انسانی حقوق کی صورتِ حال، سندھ طاس معاہدے کی معطلی، سرحدوں سے باہر مبینہ جبر، شہریت ترمیمی قانون، روہنگیا پناہ گزینوں کے ساتھ سلوک اور ایسی خارجہ پالیسی جو اسرائیل کے لیے تزویراتی سہولت کا باعث بنی ہے، عالمی برادری کے سامنے مزید سوالات رکھتی ہے۔ 

اس کے علاوہ بھارت کا جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے اور جامع ایٹمی تجربات پر پابندی کے معاہدے سے باہر رہنا بھی زیرِ غور آنے والا اہم معاملہ ہے۔

UN OVERSEAS POST | EXPLAINER اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل میں کیا فرق ہے؟

اقوام متحدہ — UN

  • یہ ایک عالمی تنظیم ہے جس کے 193 رکن ممالک ہیں۔
  • اس کا مقصد عالمی امن، تعاون، انسانی حقوق اور ترقی کو فروغ دینا ہے۔
  • جنرل اسمبلی، سلامتی کونسل، عالمی عدالت انصاف اور دیگر ادارے اسی نظام کا حصہ ہیں۔
  • تمام رکن ممالک جنرل اسمبلی میں نمائندگی رکھتے ہیں۔

سلامتی کونسل — Security Council

  • یہ اقوام متحدہ کے چھ بنیادی اداروں میں سے ایک ہے۔
  • اس کے صرف 15 ارکان ہوتے ہیں؛ پانچ مستقل اور دس منتخب۔
  • اس کی بنیادی ذمہ داری عالمی امن اور سلامتی کا تحفظ ہے۔
  • پانچ مستقل ارکان کو ویٹو کا اختیار حاصل ہے۔
آسان الفاظ میں: اقوام متحدہ پوری عالمی تنظیم ہے، جبکہ سلامتی کونسل اسی تنظیم کے اندر وہ اہم ادارہ ہے جو جنگ، تنازعات، پابندیوں اور عالمی امن سے متعلق بڑے فیصلے کرتا ہے۔
overseaspost.net

جرمنی کی مستقل رکنیت کی خواہش کو بھی مختلف نوعیت کے اعتراضات کا سامنا ہے۔ 

یورپ پہلے ہی سلامتی کونسل کی دو مستقل نشستوں کا حامل ہے، اس لیے ایک تیسری یورپی مستقل نشست کا اضافہ علاقائی عدم توازن کو مزید گہرا کر سکتا ہے۔

غزہ کے معاملے پر جرمنی کے حالیہ مؤقف کو بھی بعض حلقوں نے ان انسانی اصولوں سے متصادم قرار دیا ہے جن کی پاسداری کی توقع سلامتی کونسل کے مستقل ارکان سے کی جاتی ہے۔ 

مزید برآں، حالیہ انتخاب میں جرمنی کا غیر مستقل نشست حاصل نہ کر پانا بھی اس بحث کو تقویت دیتا ہے کہ اس کی مستقل رکنیت کی خواہش کو مطلوبہ وسیع عالمی حمایت حاصل ہے یا نہیں۔

ان حالات میں یونائٹنگ فار کنسنسس کی تجویز اس پیچیدہ مسئلے کا نسبتاً متوازن اور محتاط حل پیش کرتی ہے۔

منتخب ارکان کی تعداد دس سے بڑھا کر بیس کرنے سے افریقہ، ایشیا بحرالکاہل، لاطینی امریکا اور کیریبین سمیت مختلف خطوں کے ممالک کے لیے سلامتی کونسل میں شرکت کے زیادہ مواقع پیدا ہو سکتے ہیں، لیکن اس کے نتیجے میں اقتدار کے نئے مستقل مراکز وجود میں نہیں آئیں گے۔

اوورسیز پوسٹ ایپ
کیسے استعمال کریں؟ مکمل رہنمائی کے لیے کلک کریں
📱
☝️

باقاعدہ انتخابات ارکان کو وسیع تر عالمی برادری کے سامنے جواب دہ رکھیں گے، جبکہ علاقائی گردش کے ذریعے مزید ممالک کو عالمی امن و سلامتی کے قیام میں اپنا کردار ادا کرنے کا موقع ملے گا۔ 

وسیع تر شرکت فلسطین، یوکرین اور دیگر دیرینہ تنازعات جیسے پیچیدہ مسائل پر غور و فکر کے معیار کو بہتر بنا سکتی ہے، جبکہ مزید ایسے ویٹو اختیارات پیدا کرنے سے بھی بچا جا سکے گا جو ماضی میں بارہا فیصلہ سازی کو تعطل کا شکار کر چکے ہیں۔

سلامتی کونسل میں اصلاحات کا اصل مقصد اس کی ساکھ، نمائندگی اور مؤثریت کو مضبوط بنانا ہونا چاہئے، نہ کہ اس کی عملی صلاحیت کو مزید کمزور کرنا۔

ہم سے جڑے رہیں

مستقل ارکان کی تعداد بڑھانے سے مراعات یافتہ نشستوں میں اضافہ تو ہوگا، لیکن اس کے ساتھ ادارہ جاتی جمود کا خطرہ بھی بڑھے گا اور مستقبل میں مزید اصلاحات کا راستہ دشوار ہو سکتا ہے۔ 

اس کے مقابلے میں وسیع تر جغرافیائی نمائندگی کا زیادہ مؤثر راستہ منتخب ارکان کی تعداد میں اضافہ اور علاقائی شرکت کو مضبوط بنانا ہے۔

یونائٹنگ فار کنسنسس کا تصور موجودہ ادارہ جاتی ڈھانچے کو مکمل طور پر تبدیل کئے بغیر شمولیت کے دائرے کو وسیع کرتا ہے، باقاعدہ انتخابات کے ذریعے جواب دہی کو فروغ دیتا ہے اور عالمی برادری کے اجتماعی مفادات کی زیادہ بہتر عکاسی کا امکان پیدا کرتا ہے۔

لہٰذا سلامتی کونسل میں پائیدار اصلاحات کا راستہ مستقل مراعات اور ویٹو کے دائرے کو مزید وسیع کرنے میں نہیں، بلکہ شرکت کے دروازے کھولنے، علاقائی توازن مضبوط کرنے، جواب دہی بڑھانے اور عالمی نمائندگی کو حقیقی معنوں میں وسیع کرنے میں پوشیدہ ہے۔

آپ بھی لکھیں
آپ کی تحریر شائع کر کے ہمیں خوشی ہوگی
✍️
📄