براہ راست نشریات

سفارت کاری میں لپٹی جنگ: ایران کے محاذ پر ٹرمپ کے 7 بدلتے مؤقف

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Trump Iran War Strategy

حملوں، پابندیوں اور نظام کی تبدیلی کے دعووں سے مذاکرات اور اقتصادی رعایتوں تک

Picture of محمد محسن اقبال

محمد محسن اقبال

اسلام آباد

ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے آغاز سے اگست 2026ء تک صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی میں کئی نمایاں تبدیلیاں سامنے آئیں۔
جوہری پروگرام اور میزائلوں کے مکمل خاتمے، نظام کی تبدیلی اور سخت پابندیوں جیسے اہداف رفتہ رفتہ محدود شرائط، اقتصادی مراعات اور مذاکرات میں تبدیل ہوتے گئے۔
یہ مضمون جنگی دھمکیوں اور سفارتی مفاہمت کے درمیان امریکی پالیسی کے مسلسل جھول کا جائزہ لیتا ہے۔

امریکی قیادت کی تاریخ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک منفرد شخصیت کے طور پر نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔ 

وہ بیک وقت سیاست دان، کامیاب کاروباری شخصیت اور فری اسٹائل کشتی کے شوقین ہیں۔ 

ان کے اندازِ فکر، منصوبہ بندی اور فیصلہ سازی میں ایک ایسا رنگ جھلکتا ہے جو ان کے پیش روؤں سے خاصا مختلف ہے۔ 

بہت سے مبصرین کے نزدیک امریکی تاریخ میں اس طرزِ قیادت کی کوئی واضح مثال نہیں ملتی۔

تجزیہ نگار انہیں مزاج کے اعتبار سے لچک دار قرار دیتے ہیں، مگر ساتھ ہی یہ حقیقت بھی تسلیم کرتے ہیں کہ جس مؤقف پر وہ ایک لمحے میں پوری قوت سے قائم دکھائی دیتے ہیں، اگلے ہی لمحے اس کے برعکس راستہ اختیار کرنے میں بھی کوئی تامل محسوس نہیں کرتے۔

ٹرمپ کی حکمتِ عملی میں سات بڑی تبدیلیاں
  1. معیشت: مالی نقصانات کو غیر اہم قرار دینے سے عالمی منڈیوں کو بچانے کی کوشش تک۔
  2. نظام کی تبدیلی: ایرانی عوام کو بغاوت کی دعوت دینے سے موجودہ قیادت کے ساتھ تعاون تک۔
  3. میزائل پروگرام: مکمل تباہی کے مطالبے سے محدود میزائل رکھنے کی اجازت تک۔
  4. جوہری صلاحیت: مکمل انہدام سے صرف ایٹمی ہتھیار کی تیاری روکنے تک۔
  5. افزودہ یورینیم: ناقابلِ مذاکرات شرط سے آئندہ بات چیت کے موضوع تک۔
  6. اقتصادی دباؤ: سخت پابندیوں سے اثاثوں کی بحالی اور ممکنہ مراعات تک۔
  7. علاقائی گروہ: ایرانی نیٹ ورکس کے خاتمے سے فوری جنگ بندی کو ترجیح دینے تک۔

یہ کیفیت 28 فروری 2026ء کو ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیوں کے آغاز کے بعد پوری طرح نمایاں ہوئی۔ 

اس عرصے، خصوصاً جون میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت اور اس کے بعد کے واقعات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو ٹرمپ کی حکمتِ عملی میں کم از کم 7 نمایاں تبدیلیاں دکھائی دیتی ہیں۔

مزید پڑھیں

ابتدا میں انہوں نے معاشی خدشات کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے کہا کہ امریکی عوام کی مالی مشکلات کی کوئی حیثیت نہیں، اصل مقصد صرف یہ ہے کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کرنے دیا جائے۔ 

مگر جی سیون اجلاس تک پہنچتے پہنچتے ان کا لہجہ بدل چکا تھا۔ 

اب وہ ایک ایسے معاہدے کی ضرورت پر زور دے رہے تھے جو عالمی معیشت کو ہربرٹ ہوور کے دور اور عظیم کساد بازاری سے بچا سکے۔ 

اس مؤقف کی تائید میں وہ مالیاتی منڈیوں کی بے چینی کو بطور دلیل پیش کر رہے تھے۔

ایران میں نظامِ حکومت کی تبدیلی کا مطالبہ بھی ابتدا میں نہایت دوٹوک تھا۔ 

ایک ویڈیو خطاب میں انہوں نے ایرانی عوام کو اپنی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ شاید یہ آنے والی کئی نسلوں کے لیے آخری موقع ہو۔ 

لیکن بعد کے بیانات میں یہی مطالبہ پس منظر میں چلا گیا۔ 

اب وہ ایران کے ساتھ معمول کے تعلقات اور وہاں کی موجودہ قیادت کے ساتھ تعاون کی بات کرنے لگے۔ 

بعض مواقع پر انہوں نے انہی ایرانی رہنماؤں کو پہلے سے زیادہ ’معقول‘ بھی قرار دیا۔

جنگ اور مذاکرات کی زمانی ترتیب
28 فروری 2026ء

ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیوں کا آغاز ہوا۔

7 اپریل

پلوں اور بجلی گھروں پر حملوں کی دھمکی کے بعد دو ہفتوں کی جنگ بندی طے پائی۔

18 مئی

ایک بڑا حملہ سنجیدہ مذاکرات کے لیے مؤخر کیا گیا۔

11 جون

شدید حملے کی دھمکی چند گھنٹوں بعد مبینہ سفارتی پیش رفت پر واپس لے لی گئی۔

17 جون

جنگ بندی، محدود اقتصادی رعایتوں اور 60 روزہ مذاکرات پر مشتمل مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے۔

جولائی کا آغاز

بحری جہازوں پر حملوں کے بعد جنگ بندی ختم اور بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی گئی۔

27 جولائی

شدید روزانہ حملے روک کر سفارتی کوششوں کو ایک اور موقع دیا گیا۔

یکم اور 2 اگست

ممکنہ سیاسی فریم ورک سامنے آنے پر نئی فوجی کارروائی مؤخر کر دی گئی۔

ابتدائی مرحلے میں ایران کے میزائل پروگرام، میزائل تیار کرنے والی صنعت اور اس کی پشت پر موجود بحری قوت کو مکمل طور پر تباہ کرنا ایک بنیادی ہدف تھا۔ 

بعدازاں ٹرمپ کا مؤقف یہ بن گیا کہ میزائل اگرچہ کسی محدود علاقے کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، مگر پوری دنیا کو تباہ نہیں کر سکتے۔ 

چونکہ دوسرے ممالک بھی ایسے ہتھیار رکھتے ہیں، اس لیے ایران کے پاس بھی محدود تعداد میں میزائل رہ سکتے ہیں۔ 

یہی وجہ تھی کہ جون کی مفاہمتی یادداشت میں ایران کے میزائل پروگرام کے مکمل خاتمے کی کوئی شرط شامل نہیں کی گئی۔

ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے بھی اسی نوعیت کی تبدیلی دیکھنے میں آئی۔ 

2025ء اور پھر 2026ء کی فوجی کارروائیوں کے بعد دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران کی یورینیم افزودگی کی تمام صلاحیت مکمل طور پر ختم کر دی جائے گی اور جوہری خطرے کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دیا جائے گا۔ 

لیکن بعد میں مقصد صرف اتنا رہ گیا کہ ایران ایٹمی ہتھیار تیار نہ کر سکے۔ 

اس ہدف کے حصول کے لیے جوہری تنصیبات کے مکمل انہدام کے بجائے نگرانی اور آئندہ مذاکرات پر انحصار کیا جانے لگا۔

یہ معاملہ کیوں اہم ہے؟
جنگ میں کسی ایک غلط فیصلے سے پورا مشرقِ وسطیٰ وسیع تصادم کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش عالمی تیل کی رسد اور قیمتوں کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔
بار بار بدلتے امریکی مؤقف سے اتحادیوں اور ثالثوں کے لیے واضح منصوبہ بندی مشکل ہو جاتی ہے۔
ایران کی مزاحمتی صلاحیت نے مکمل فوجی فتح کے امریکی تصور کو محدود کر دیا ہے۔
سخت دھمکیوں اور مذاکرات کا امتزاج کسی معاہدے کے ساتھ ساتھ نئی جنگ کا خطرہ بھی برقرار رکھتا ہے۔

اعلیٰ درجے کی افزودہ یورینیم پر کنٹرول کو ابتدا میں ناقابلِ گفت و شنید اور لازمی شرط قرار دیا گیا تھا، مگر بعد میں اسے نسبتاً کم اہمیت دی جانے لگی۔ 

کہا گیا کہ بنیادی مقصد صرف ایٹمی ہتھیار کی تیاری روکنا ہے، جبکہ افزودہ یورینیم سے متعلق معاملات آئندہ مذاکرات میں طے کیے جا سکتے ہیں۔

ایران پر دباؤ ڈالنے کے ذرائع بھی یکسر تبدیل ہو گئے۔ 

ابتدا میں اقتصادی پابندیاں اور مالیاتی دباؤ بنیادی ہتھیار تھے، لیکن بعد میں انہی کی جگہ مراعات نے لے لی۔ 

منجمد اثاثوں کی بحالی، تیل کی فروخت کے لیے عارضی اجازت ناموں اور ایران کی تعمیرِ نو کے لئے سیکڑوں ارب ڈالر تک کے ممکنہ فنڈز کی بات ہونے لگی۔ 

مزید رعایتوں کو ایران کے مستقبل کے طرزِ عمل سے مشروط کر دیا گیا۔

اسی طرح خطے میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کی سرپرستی ختم کرانے کا ابتدائی عزم بھی رفتہ رفتہ پس منظر میں چلا گیا۔ 

اس کی جگہ براہِ راست جنگ بندی اور مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے وسیع تر تقاضوں پر توجہ مرکوز ہونے لگی۔

ان بنیادی پالیسی تبدیلیوں کے ساتھ عملی میدان میں بھی بار بار اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا۔ کئی مواقع پر سخت دھمکیوں کے فوراً بعد حملے مؤخر یا منسوخ کر دیئے گئے۔ 

3 اگست تک مرتب کی گئی زمانی ترتیب کے مطابق متعدد مرتبہ بڑے حملوں کے اعلانات ہوئے، مگر بعد میں انہیں ترک کر دیا گیا۔

امریکی حکمتِ عملی کیوں بدلی؟
بڑھتے ہوئے جنگی اخراجات عالمی منڈیوں کی بے چینی تیل کی قیمتوں میں اضافہ داخلی سیاسی دباؤ اسلحے کی دستیابی کی حدود ایران کی مزاحمتی صلاحیت علاقائی اتحادیوں کے تحفظات وسیع علاقائی جنگ کا خطرہ

اس کی تازہ ترین مثال یکم اور 2 اگست کو سامنے آئی، جب ایران اور خطے کے بعض فریقوں کی درخواستوں اور ممکنہ مفاہمت کے ابتدائی خدوخال سامنے آنے کے بعد فوجی کارروائی روک دی گئی۔ 

اس موقع پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور جوہری خطرے کے خاتمے کے امکانات پر غور شروع ہوا۔

اس سے قبل 7 اپریل کو، اس آخری مہلت سے کچھ پہلے جس کے بعد ٹرمپ نے پلوں اور بجلی گھروں پر حملوں کی دھمکی دی تھی، دو ہفتوں کی جنگ بندی طے پا گئی۔ 

انہوں نے خبردار کیا تھا کہ ایسے حملے پوری تہذیب کو مٹا سکتے ہیں۔ 

21 اپریل کو ثالثوں کی درخواست پر یہ جنگ بندی غیر معینہ مدت تک بڑھا دی گئی، اگرچہ بعد میں دوبارہ جھڑپیں شروع ہو گئیں۔

18 مئی کو ایک بڑے حملے کو سنجیدہ مذاکرات کے لیے مؤخر کیا گیا، لیکن جب بات چیت تعطل کا شکار ہوئی تو فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع ہو گئیں۔ 

11 جون کی رات ٹرمپ نے ایران پر انتہائی شدید حملے اور اس کے تیل و گیس کے ذخائر پر قبضے کی دھمکی دی، مگر چند گھنٹوں بعد ایک مبینہ سفارتی پیشرفت کا حوالہ دیتے ہوئے کارروائی منسوخ کر دی گئی۔ 

اسی پیشرفت نے بعد ازاں مفاہمتی یادداشت کی راہ ہموار کی۔

ایک منٹ میں پوری کہانی

امریکا نے ایران کے خلاف جنگ بڑے اور فیصلہ کن اہداف کے ساتھ شروع کی، مگر پانچ ماہ کے دوران وہی اہداف محدود ہوتے گئے۔ مکمل تباہی کی جگہ نگرانی، پابندیوں کی جگہ مراعات اور نظام کی تبدیلی کی جگہ مذاکرات نے لے لی۔ یوں یہ ایک ایسی جنگ بن گئی جس میں مذاکرات کی میز بھی سجی رہی اور پس منظر میں میزائل بھی تیار رکھے گئے۔

17 جون کو دستخط ہونے والی اس یادداشت میں جنگ بندی، آبنائے ہرمز کو عارضی طور پر کھولنے، محدود اقتصادی رعایتیں دینے اور 60 روزہ مذاکرات شروع کرنے کا خاکہ شامل تھا۔ 

تاہم امریکا نے یہ حق محفوظ رکھا کہ اگر شرائط پوری نہ ہوئیں تو ایران پر بمباری دوبارہ شروع کی جا سکتی ہے۔

جولائی کے آغاز میں بحری جہازوں پر حملوں کے بعد جنگ بندی کو ختم قرار دے دیا گیا۔ درجنوں اور پھر اس سے بھی زیادہ اہداف پر حملے کئے گئے، کانگریس کو باقاعدہ آگاہ کیا گیا اور سخت ترین بیانات سامنے آئے۔ 

مگر انہی دنوں مذاکرات بھی جاری رہے۔

میزائل اور
جوہری صلاحیت
مکمل تباہ کرنے
کے اہداف
محدود کئے گئے

بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کی گئی اور دونوں جانب سے کارروائیاں جاری رہیں، لیکن 27 جولائی کو شدید روزانہ حملوں کا سلسلہ ایک مرتبہ پھر روک کر سفارتی کوششوں کو موقع دیا گیا۔ اگست کے اوائل میں بھی نئی فوجی دھمکیوں کو بالآخر ایک ممکنہ سیاسی فریم ورک کے حق میں مؤخر کر دیا گیا۔
ایران کے تیل پر عائد پابندیوں میں بھی یہی اتار چڑھاؤ دکھائی دیا۔
کبھی عارضی اجازت نامے جاری کئے گئے اور پھر اچانک پابندیاں بحال کر دی گئیں۔
فوجی تیاری، عوامی بیانات اور خود مفاہمتی یادداشت کی تشریح بھی مسلسل بدلتی رہی۔ابتدائی دور کے زیادہ سے زیادہ اہداف—ایرانی میزائلوں اور بحری قوت کی تباہی، جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ، علاقائی نیٹ ورکس کا صفایا اور حتیٰ کہ سیاسی نظام کی تبدیلی—وقت گزرنے کے ساتھ محدود اور قابلِ مذاکرات مقاصد میں ڈھلتے گئے۔

جون میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت بنیادی طور پر عارضی اور فریقوں کی کارکردگی سے مشروط تھی۔ 

اطلاعات کے مطابق اس کی بیشتر شقیں چند ہی ہفتوں میں متاثر ہو گئیں، جس کے نتیجے میں لڑائی دوبارہ بھڑک اٹھی اور نئے مذاکرات کا سلسلہ شروع کرنا پڑا۔ 

یوں جب تنازع پانچویں مہینے میں داخل ہوا تو صورتِ حال بدستور تغیر پذیر اور غیر یقینی تھی۔

جنگ جو سفارت کاری میں لپٹی رہی

ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے آغاز سے اگست 2026ء تک صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکمتِ عملی میں بار بار تبدیلی آئی۔ جوہری پروگرام، میزائلوں اور ایرانی نظام کے خاتمے جیسے بڑے اہداف رفتہ رفتہ محدود شرائط، اقتصادی مراعات اور مذاکرات میں تبدیل ہوتے گئے۔

ان مسلسل تبدیلیوں کے اسباب مختلف ہو سکتے ہیں۔ 

بعض مواقع پر یہ تبدیلیاں سفارتی حکمتِ عملی کا حصہ معلوم ہوتی ہیں، جبکہ بعض اوقات انہیں زمینی مجبوریوں یا ٹرمپ کے طویل عرصے سے قائم طرزِ عمل کا نتیجہ سمجھا جاتا ہے۔

بعض ناقدین اس سے بھی آگے بڑھ کر الزام عائد کرتے ہیں کہ مالیاتی منڈیوں میں پیدا ہونے والی بے چینی اور بعدازاں ان کی بحالی کے اس پورے سلسلے سے صدر ٹرمپ اور ان کے خاندان نے مالی فائدہ اٹھانے کی دانستہ کوشش کی۔ 

ان الزامات کی حقیقت خواہ کچھ بھی ہو، 28 فروری سے اگست کے آغاز تک کا ریکارڈ ایک مسلسل رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔

یہ ایک ایسا رجحان ہے جس میں ابتدا کے بلند، وسیع اور فیصلہ کن مقاصد رفتہ رفتہ محدود، قابلِ مفاہمت اور قابلِ مذاکرات مؤقف میں تبدیل ہوتے گئے۔ 

دوسری جانب سخت فوجی دھمکیوں اور تحمل، مذاکرات اور مفاہمت کے درمیان تیز رفتار جھول اس پورے عرصے کا نمایاں وصف بنا رہا۔

اسی لیے اس تنازع کو محض جنگ یا سفارت کاری کا نام دینا شاید کافی نہیں۔ 

یہ دراصل ایسی جنگ ہے جو سفارت کاری کی تہوں میں لپٹی ہوئی ہے—جہاں میز پر مذاکرات بھی جاری رہتے ہیں اور پس منظر میں میزائل بھی تیار رکھے جاتے ہیں۔

اوورسیز پوسٹ ایپ
کیسے استعمال کریں؟ مکمل رہنمائی کے لیے کلک کریں
📱
☝️

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے