براہ راست نشریات

اپنوں سے دوری: ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے ہم اجنبی کیوں ہوگئے؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
social media effects

ہم پوری دنیا سے جڑ گئے، مگر اسی سفر میں اپنے گھر کے لوگوں سے دور ہوتے چلے گئے

Picture of محمد محسن اقبال

محمد محسن اقبال

اسلام آباد

ماضی میں خاندان محبت، احترام، مشاورت اور باہمی اعتماد کا مرکز ہوا کرتا تھا، مگر موبائل فون اور سوشل میڈیا نے ایک ہی گھر میں رہنے والوں کے درمیان بھی خاموش فاصلے پیدا کردیے ہیں۔
یہ تحریر خاندانی تعلقات کو دوبارہ وقت، توجہ اور محبت دینے کی دعوت ہے۔

OVERSEAS POST | چراغِ طور

ایک زمانہ تھا جب خاندان کو انسانی زندگی کی سب سے مضبوط بنیاد سمجھا جاتا تھا۔ 

اس کی عمارت احترام، محبت، ایثار اور باہمی اعتماد کے مضبوط ستونوں پر استوار ہوتی تھی۔ گھر میں بزرگوں کی موجودگی اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت تصور کی جاتی۔ 

ان کی پیشانی کی جھریاں زمانے کے نشیب و فراز کی داستان سناتیں، جب کہ ان کے نپے تلے الفاظ برسوں کے تجربے، بصیرت اور دانائی کا نچوڑ ہوتے تھے۔

انہوں نے خوش حالی کے موسم بھی دیکھے ہوتے اور تنگ دستی کی کڑی ساعتیں بھی جھیلی ہوتیں۔ 

اسی لیے ان کی رائے جذبات کی رو میں بہنے کے بجائے تلخ و شیریں تجربات کی مضبوط بنیاد پر قائم ہوتی تھی۔ 

اہم نکات +
  • ڈیجیٹل رابطے بڑھے، مگر خاندان کے افراد کے درمیان حقیقی گفتگو کم ہوگئی۔
  • ہم اجنبیوں کی زندگیوں سے باخبر، لیکن اپنوں کی خاموش پریشانیوں سے بے خبر ہیں۔
  • ایک ہی گھر میں رہنے والے افراد جسمانی طور پر قریب، مگر جذباتی طور پر دور ہوچکے ہیں۔
  • خاندانی تعلقات کی بحالی کے لیے اسکرینوں سے وقفہ اور باہمی گفتگو ضروری ہے۔

شادی بیاہ کے فیصلے ہوں، گھریلو اختلافات، کھیتی باڑی کے معاملات یا نئی نسل کی تعلیم و تربیت، ہر چھوٹا بڑا مسئلہ خاندان کے افراد کے باہمی مشورے سے طے پاتا تھا۔ 

گفتگو کے دوران اختلاف بھی ہوتا، مگر احترام کا دامن کبھی ہاتھ سے نہ چھوٹتا۔

مزید پڑھیں

اجتماعی سوچ سے جنم لینے والے فیصلے زیادہ مضبوط، پائیدار اور بابرکت ثابت ہوتے تھے۔ 

خوشی بانٹنے سے دوبالا ہوجاتی اور غم تقسیم کرنے سے ہلکا محسوس ہوتا۔ 

یہ باہمی اعتماد محض ایک روایت نہیں تھا بلکہ ایک مقدس امانت تھی، جو خون کے رشتوں کو مزید مضبوط اور مستحکم بناتی تھی۔

عید جیسے تہوار اسی خاندانی یکجہتی کی روشن علامت ہوا کرتے تھے۔ 

گھروں کی صفائی نہایت اہتمام سے کی جاتی، چراغ روشن ہوتے اور محبت سے تیار کیے گئے پکوانوں کی خوشبو ہر سو بکھر جاتی۔ 

خاندان کے افراد اپنے بہترین لباس زیبِ تن کرکے اکٹھے ہوتے اور ایک دوسرے کو اس محبت سے گلے لگاتے کہ الفاظ کی ضرورت ہی باقی نہ رہتی۔

1ایک منٹ میں مضمون +

کبھی خاندان محبت، احترام، مشاورت اور باہمی اعتماد کا مرکز ہوا کرتا تھا۔ بزرگوں کی بات سنی جاتی، رشتہ دار ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے اور عید جیسے تہوار دلوں کو جوڑتے تھے۔ آج موبائل فون اور سوشل میڈیا نے دنیا کو قریب ضرور کردیا ہے، مگر ایک ہی چھت تلے رہنے والوں کے درمیان خاموش فاصلے بڑھا دیے ہیں۔ تحریر کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کو خادم بنایا جائے، آقا نہیں، اور اپنوں کو وقت، توجہ اور محبت دی جائے۔

بچے بزرگوں کے ہاتھ چوم کر اور ان سے دعائیں لے کر خود کو خوش نصیب سمجھتے تھے۔ رشتہ داروں سے ملنا محض ایک رسمی فریضہ نہیں بلکہ خوشی اور محبت کا تقاضا سمجھا جاتا تھا۔ کوئی بیمار چچا کی عیادت کے لیے میلوں کا سفر طے کرتا، کوئی بیوہ پھوپھی کے لیے مٹھائی لے جاتا اور کوئی غم کے لمحوں میں اپنے عزیز کے شانہ بشانہ کھڑا ہوجاتا۔ 

ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہونا احسان نہیں بلکہ رشتہ داری کا فطری تقاضا تصور کیا جاتا تھا۔ گویا یہی خاندانی زندگی کی اصل دھڑکن تھی۔

پھر وقت نے کروٹ لی۔ 

جدید دور اپنی بے پناہ مصروفیات اور چکاچوند ایجادات کے ساتھ آیا اور رفتہ رفتہ ان مضبوط رشتوں کی گرہیں ڈھیلی پڑنے لگیں۔ 

ٹیکنالوجی ترقی کا پیامبر بن کر سامنے آئی اور انٹرنیٹ نے دنیا کو سمیٹ کر ایک گاؤں بنا دینے کا دعویٰ کیا۔ 

بلاشبہ اس نے سمندروں کے پار رہنے والوں کو لمحوں میں ایک دوسرے سے جوڑ دیا، لیکن افسوس کہ اسی ٹیکنالوجی نے ایک چھت کے نیچے رہنے والے افراد کے درمیان فاصلے بھی بڑھا دیئے۔

!اصل مسئلہ کیا ہے؟ +

مسئلہ ٹیکنالوجی کا وجود نہیں بلکہ اس کا بے اعتدال استعمال ہے۔ ہم سوشل میڈیا پر اجنبیوں کی خوشیوں، تصویروں اور سرگرمیوں کو گھنٹوں دیکھتے ہیں، لیکن اپنے والدین کی خاموش پریشانیوں اور بچوں کی ان کہی خواہشوں کو محسوس نہیں کرپاتے۔ یوں گھر میں موجود ہوتے ہوئے بھی ہم ذہنی اور جذباتی طور پر کہیں اور ہوتے ہیں۔

کبھی عید کارڈ بڑی محبت اور سلیقے سے منتخب کیے جاتے تھے۔ 

ان پر اپنے ہاتھ سے دل کی گہرائیوں سے نکلے ہوئے الفاظ لکھے جاتے اور وہ چند جملے برسوں تک یاد رہتے۔ 

آج ان کی جگہ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ بے شمار خوب صورت مگر بے روح پیغامات نے لے لی ہے۔ 

جو الفاظ کبھی سیدھے دل میں اتر جاتے تھے، اب محض ایک رسمی کارروائی بن کر رہ گئے ہیں۔

اس سے بھی زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ ہماری نگاہیں اپنے قریب رہنے والوں سے ہٹ کر اجنبی دنیا کی جانب مرکوز ہوگئی ہیں۔ 

ہم گھنٹوں سوشل میڈیا پر نامعلوم لوگوں کی زندگیوں کو دیکھتے رہتے ہیں۔ 

ایسے افراد کی تصویروں پر پسندیدگی کا اظہار کرتے ہیں جنہیں ہم جانتے تک نہیں، مگر اپنے والدین کی خاموش پریشانیاں اور اپنی اولاد کی ان کہی خواہشیں ہماری توجہ سے اوجھل رہتی ہیں۔

اپنوں کے قریب کیسے آئیں؟ +
  1. کھانے اور خاندانی گفتگو کے وقت موبائل فون ایک طرف رکھ دیں۔
  2. روزانہ کچھ وقت والدین، بچوں اور شریکِ حیات کے لیے مخصوص کریں۔
  3. خاندانی مشاورت اور رشتہ داروں سے ملاقات کی روایت دوبارہ زندہ کریں۔
  4. آن لائن تعلقات کے ساتھ حقیقی زندگی کے رشتوں کو اولین ترجیح دیں۔
  5. ٹیکنالوجی کو ضرورت کے مطابق استعمال کریں، عادت اور مجبوری نہ بننے دیں۔

ہم مہربانی، صبر، شکرگزاری اور انسان دوستی پر مبنی دل کو چھو لینے والی تحریریں بڑے شوق سے شیئر کرتے ہیں، لیکن ان تعلیمات پر خود عمل کرنے کی نوبت کم ہی آتی ہے۔ 

ہماری ڈیجیٹل دوستیاں پانی کی سطح پر ابھرنے والے بلبلوں کی مانند ہیں، دیکھنے میں دلکش، مگر اندر سے کھوکھلی۔ 

یہ لمحوں میں ٹوٹ جاتی ہیں اور اپنے پیچھے محض ایک خوش فہمی چھوڑ جاتی ہیں۔

آج بہت سے گھروں میں ایک دل گرفتہ منظر دکھائی دیتا ہے۔ 

ایک کمرے میں باپ اپنے موبائل فون میں گم، کہیں دور کے کاروباری معاملات یا گفتگو میں مصروف ہے۔ 

اس کے قریب بیٹھی ماں بھی کسی اسکرین پر چلتی تصویروں اور آوازوں میں محو ہے۔ 

اس کی مسکراہٹ اب گھر والوں کے بجائے موبائل کی دنیا کے لیے مخصوص ہوچکی ہے۔ 

بچے بھی اپنے اپنے آلات پر نظریں جمائے کسی نامعلوم دوست کے لطیفوں پر ہنس رہے ہیں یا مجازی دنیا میں داد و تحسین سمیٹنے کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں۔

یاد رکھنے کی بات +
انسان کے دل کو حقیقی سکون لوگوں کے ہجوم کی وقتی داد میں نہیں، بلکہ اپنے عزیزوں کی خاموش محبت، بے لوث وفاداری اور دائمی رفاقت میں ملتا ہے۔

وہ جسمانی طور پر ایک دوسرے کے قریب ضرور ہیں، مگر روحانی اور جذباتی طور پر ایک دوسرے سے کوسوں دور جاچکے ہیں۔ 

گھر میں بیٹھ کر دن بھر کے واقعات سنانے کا لطف، ایک دوسرے کی آواز میں اپنائیت محسوس کرنا یا خاموش نگاہوں سے دل کی بات سمجھ لینا اب نایاب ہوتا جارہا ہے۔ 

ہم نے ایک عجیب ہنر سیکھ لیا ہے کہ موجود ہوکر بھی غیر موجود رہیں اور غیر موجود ہوکر بھی اپنی موجودگی کا تاثر دیتے رہیں۔

یہ حقیقت اگرچہ دل کو زخمی کرتی ہے، مگر اس سے انکار ممکن نہیں کہ ہم بہت بدل چکے ہیں۔ 

اب ہمیں اپنے بہت سے عزیزوں کے بارے میں بس اتنا معلوم ہوتا ہے کہ وہ زندہ ہیں۔ 

بزرگوں کی زندگی کے قیمتی تجربات فراموشی کی گرد میں دب گئے ہیں، خاندانی مشاورت کی روایت خاموش ہوچکی ہے اور رشتہ داروں کے ہاں بے تکلف چلے جانا اب خوشی کے بجائے ایک زحمت محسوس ہونے لگا ہے۔

حالاں کہ یہی اپنے لوگ ہیں جو خوشیوں میں ہمارے ساتھ کھڑے ہوتے اور مصیبتوں کے طوفان میں ہمارا سہارا بنتے ہیں۔ 

حقیقت یہ ہے کہ دور کے ہجوم سے کہیں زیادہ ہمارے اپنے لوگ ہماری توجہ، وقت اور محبت کے مستحق ہیں۔

آپ بھی لکھیں
آپ کی تحریر شائع کر کے ہمیں خوشی ہوگی
✍️
📄

لہٰذا اب وقت آگیا ہے کہ ہم زندگی کی اصل روح کو دوبارہ دریافت کریں۔ آئیے، دن کے کچھ اوقات میں موبائل فون اور دوسری اسکرینوں کو ایک طرف رکھ دیں۔ 

اپنے اردگرد بیٹھے چہروں کو محبت سے دیکھیں اور حقیقی رفاقت کی اس نعمت کو دوبارہ محسوس کریں جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔

خاندان کی میز پر مشورے کی روایت پھر سے زندہ ہو، رشتہ داروں کے گھروں میں آمدورفت دوبارہ معمول بنے اور عید جیسے تہوار اپنی پرانی محبت، خلوص اور روحانیت کے ساتھ لوٹ آئیں۔ 

ٹیکنالوجی کو اپنا آقا بنانے کے بجائے اپنا خادم بنائیں اور اسے عقل، اعتدال اور دانائی کے ساتھ استعمال کریں۔

جب ہم ان رشتوں کی آبیاری کریں گے جو ہمارے ساتھ زندگی بانٹتے، ہمارے دکھ سکھ میں شریک ہوتے اور ہمارے دلوں کے سب سے قریب رہتے ہیں، تبھی خاندان کا بکھرتا ہوا تانا بانا دوبارہ اپنی مضبوطی، خوب صورتی اور وقار حاصل کرسکے گا۔

کیونکہ انسان کے دل کو حقیقی سکون لوگوں کے ہجوم سے ملنے والی وقتی داد میں نہیں، بلکہ اپنے عزیزوں کی خاموش محبت، بے لوث وفاداری اور دائمی رفاقت میں ملتا ہے۔

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے