زلزلے کا پہلا جھٹکا عمارتوں کو آزماتا ہے، جبکہ آفٹر شاکس ان کی بنیادوں کی اصل مضبوطی ظاہر کرتے ہیں۔
اسی طرح خلیجی جنگ کا ابتدائی دھچکا پاکستان میں تیل کی قیمت بڑھاتا ہے، مگر اس کے مسلسل معاشی آفٹر شاکس ریاستی منصوبہ بندی، مالیاتی نظم اور عوامی برداشت کا حقیقی امتحان لیتے ہیں۔
اگرچہ اس جنگ کا اصل میدان پاکستان کی سرحدوں سے بہت دور ہے، مگر اس کے آفٹر شاکس نہایت تیزی سے پاکستان کی گلیوں، بازاروں اور معیشت تک پہنچ چکے ہیں۔
جنگ کے ابتدائی مرحلے ہی میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں نے شدید چھلانگ لگائی۔
3 اپریل کو پاکستان میں پٹرول کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح، یعنی 458 روپے 41 پیسے فی لیٹر تک جا پہنچی۔
ڈیزل کی قیمت اس سے بھی آگے بڑھ کر 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر تک پہنچ گئی۔
یہ اضافہ رسد میں تعطل، عالمی منڈی کی بے یقینی اور بے قابو قیاس آرائیوں کا نتیجہ تھا۔
اس اضافے کے اثرات قومی زندگی کے ہر شعبے پر مرتب ہوئے۔
ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھ گئے، کسانوں کے لیے زرعی مشینری چلانا اور اجناس کی نقل و حمل مہنگی ہو گئی، جبکہ عام گھرانوں کو مہنگائی کے طوفان کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے بنیادی اخراجات تک محدود کرنا پڑے۔
ایندھن پر انحصار کرنے والی صنعتوں نے اپنی پیداوار محدود کر دی ہے، روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں اور اس بوجھ کا سب سے زیادہ شکار وہ طبقہ ہے جو پہلے ہی سنگین معاشی مشکلات کا سامنا کر رہا تھا۔
بیرونی طوفانوں کے درمیان قرض کی بنیادوں پر کھڑی پاکستانی معیشت ان جھٹکوں کو غیر معمولی شدت سے محسوس کرتی ہے۔
ان تمام مشکلات کے باوجود پاکستانی عوام کا حوصلہ اور تحمل آج بھی سلامت ہے۔
اس ضمن میں روزنامہ پاکستان کے ان دنوں کا ایک دلچسپ واقعہ یاد آتا ہے جب یہ اخبار اکبر بھٹی کی ملکیت تھا۔
ایک روز ایک رپورٹر گھبرایا ہوا رپورٹنگ روم میں داخل ہوا اور اعلان کیا کہ بھٹی صاحب کی گاڑی حادثے کا شکار ہو گئی ہے۔
ابھی سب لوگ تشویش میں مبتلا ہی ہوئے تھے کہ ایک سینئر صحافی مسکراتے ہوئے بولے: اس کا مطلب ہے کہ اس مہینے تنخواہیں وقت پر نہیں ملیں گی۔
بظاہر یہ ایک ہلکا پھلکا جملہ تھا، مگر اس میں زندگی کی ایک تلخ حقیقت پوری شدت کے ساتھ پوشیدہ تھی:
جب کشتی کا ملاح ہی مشکل میں پڑ جائے تو اس کے اثرات تمام مسافروں تک ضرور پہنچتے ہیں۔