براہ راست نشریات

جنگ خلیج میں، آفٹر شاکس پاکستان میں

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
0% LikesVS
100% Dislikes
خلیجی جنگ کے پاکستان پر اثرات
تیل کی بڑھتی قیمتوں، مہنگائی اور معاشی بے یقینی کے جھٹکے پاکستان کے ہر گھر تک پہنچ رہے ہیں
Picture of محمد محسن اقبال

محمد محسن اقبال

اسلام آباد

زلزلے کا پہلا جھٹکا عمارتوں کو آزماتا ہے، جبکہ آفٹر شاکس ان کی بنیادوں کی اصل مضبوطی ظاہر کرتے ہیں۔
اسی طرح خلیجی جنگ کا ابتدائی دھچکا پاکستان میں تیل کی قیمت بڑھاتا ہے، مگر اس کے مسلسل معاشی آفٹر شاکس ریاستی منصوبہ بندی، مالیاتی نظم اور عوامی برداشت کا حقیقی امتحان لیتے ہیں۔

زلزلے کا مرکز کشمیر میں تھا

مگر آفٹر شاکس دور تک محسوس کیے گئے

آج جنگ خلیج میں ہے

مگر اس کی معاشی لرزش پاکستان کے ہر بازار اور ہر گھر تک پہنچ رہی ہے۔

OVERSEAS POST | چراغِ طور

2005ء کے موسمِ خزاں میں کشمیر کے قدیم پہاڑوں نے زمین کے غضب کا ایسا منظر دیکھا جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکے گی۔ 

8 اکتوبر کی صبح ریکٹر اسکیل پر 7.6 شدت کا ہولناک زلزلہ آیا، جس کا مرکز مظفرآباد سے محض 19 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع تھا۔

اس قیامت خیز لرزش کی بازگشت صرف پاکستان تک محدود نہ رہی بلکہ افغانستان، تاجکستان، بھارت کی وادیوں اور چین کے دور افتادہ خطۂ سنکیانگ تک محسوس کی گئی۔ 

یہ اس دہائی کی مہلک ترین قدرتی آفات میں شمار ہوا، جس نے ہزاروں قیمتی جانیں نگل لیں اور بے شمار بستیوں کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا۔

مگر قیامت یہیں ختم نہیں ہوئی۔ 

آنے والے کئی ماہ تک زمین مسلسل کانپتی رہی، یہاں تک کہ اکتوبر سے اگلے سال مارچ تک مجموعی طور پر 497 آفٹر شاکس ریکارڈ کیے گئے۔ 

اہم نکات +
  • مضمون میں 2005ء کے کشمیر زلزلے اور خلیجی جنگ کے معاشی اثرات کے درمیان علامتی مماثلت پیش کی گئی ہے۔
  • ایران–امریکہ جنگ اور آبنائے ہرمز کی بے یقینی نے عالمی تیل کی رسد کو سنگین خطرات سے دوچار کیا۔
  • عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہونے سے پاکستان میں پٹرول، ڈیزل اور نقل و حمل کے اخراجات بڑھے۔
  • ایندھن کی مہنگائی نے زراعت، صنعت، اشیائے ضروریہ اور عام گھرانوں کے بجٹ کو متاثر کیا۔
  • قرضوں اور درآمدی توانائی پر انحصار کے باعث پاکستانی معیشت بیرونی بحرانوں کے جھٹکے زیادہ شدت سے محسوس کرتی ہے۔
  • مضمون کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ مضبوط معاشی بنیادیں ہی مسلسل آفٹر شاکس کا مقابلہ کرسکتی ہیں۔

اس آزمائش نے انسان کو ایک نہایت گہرا سبق دیا: 

جو عمارتیں مضبوط بنیادوں، معیاری تعمیر اور دیانت داری سے تعمیر کی گئی تھیں، وہ بار بار کے جھٹکوں کے باوجود قائم رہیں، جبکہ جلد بازی، غفلت اور بے احتیاطی سے کھڑی کی گئی عمارتیں گرد و غبار اور مایوسی کا استعارہ بن گئیں۔

مزید پڑھیں

اسی نوعیت کا ایک اور ڈرامائی منظر حالیہ برسوں میں دنیا نے دیکھا۔ 

فرق صرف اتنا تھا کہ اس مرتبہ زمین نہیں بلکہ عالمی سیاست اور انسانی تصادم کی دنیا لرز رہی تھی۔

فروری 2026ء کے اواخر میں ایران اور امریکہ کے درمیان عرصۂ دراز سے سلگتی کشیدگی کھلی جنگ میں تبدیل ہو گئی، جس میں اسرائیل بھی پوری قوت کے ساتھ شریک ہو گیا۔ 

وسیع پیمانے پر فضائی اور میزائل حملوں میں ایران کے سینکڑوں مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں عسکری اڈے، جوہری تنصیبات اور اعلیٰ قیادت کے مراکز شامل تھے۔

ابتدائی حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی وفات نے نہ صرف پورے خطے بلکہ عالمی سیاست میں بھی شدید ارتعاش پیدا کر دیا۔ 

جواباً تہران نے میزائلوں اور ڈرونز کی ایسی یلغار کی جس نے رات کے آسمان کو شعلوں سے بھر دیا اور مختلف ممالک میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا۔

مارچ اور اپریل کے دوران جنگ کی شدت مسلسل بڑھتی رہی۔ 

ہزاروں افراد لقمۂ اجل بنے، جن میں اکثریت ایران اور لبنان کے شہریوں کی تھی۔ 

حزب اللہ اور دیگر قوتوں کی ممکنہ شمولیت نے اس تصادم کے مزید پھیلنے کے خدشات بھی پیدا کر دیے۔ 

عالمی توانائی کی شہ رگ سمجھی جانے والی آبنائے ہرمز شدید خطرات کی زد میں آ گئی اور پوری دنیا تیل کی رسد پر منڈلاتے بحران کو تشویش سے دیکھنے لگی۔

فیکٹ باکس +
مرکزی موضوعخلیجی جنگ کے پاکستان پر معاشی اثرات
تحریرمحمد محسن اقبال
علامتی حوالہ8 اکتوبر 2005ء کا کشمیر زلزلہ
زلزلے کی شدتریکٹر اسکیل پر 7.6
آفٹر شاکس497 ریکارڈ کیے گئے
موجودہ بحرانایران–امریکہ تصادم اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی
پاکستان پر اثراتمہنگا ایندھن، بلند کرائے، پیداواری لاگت میں اضافہ اور قوتِ خرید میں کمی
بنیادی پیغامکمزور معاشی بنیادیں بیرونی بحرانوں کے اثرات کئی گنا بڑھا دیتی ہیں۔

جون کے وسط میں امید کی ایک کرن اس وقت نمودار ہوئی جب امریکہ اور ایران کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت طے پائی۔ 

اس معاہدے میں بڑے پیمانے پر جنگی کارروائیاں ختم کرنے، آبنائے ہرمز کو پُرامن بحری آمدورفت کے لیے دوبارہ کھولنے اور ایران کے جوہری پروگرام پر سنجیدہ مذاکرات شروع کرنے کا وعدہ کیا گیا۔

چند ہفتوں کے لیے یوں محسوس ہوا کہ شاید عقل و تدبر ایک بار پھر طاقت پر غالب آ جائے گا، مگر 7 اور 8 جولائی کو جنگ بندی کی یہ نازک ڈور ٹوٹ گئی۔ 

ایرانی افواج نے آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا، جس کے جواب میں امریکہ نے تازہ فضائی حملے کیے اور بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی۔ 

ایران نے بھی بحرین، کویت، اردن اور دیگر مقامات پر امریکی اور اتحادی افواج کے ٹھکانوں پر جوابی حملے کیے۔

جولائی اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے، مگر امریکی فضائی کارروائیوں اور ایرانی جوابی حملوں کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ 

پورا خلیجی خطہ مسلسل بے یقینی، خوف اور اضطراب کی کیفیت میں مبتلا ہے۔

مضبوط بنیادیں
مسلسل آفٹر
شاکس کا
مقابلہ کرنے
کے لیے
ناگزیر ہیں

اگرچہ اس جنگ کا اصل میدان پاکستان کی سرحدوں سے بہت دور ہے، مگر اس کے آفٹر شاکس نہایت تیزی سے پاکستان کی گلیوں، بازاروں اور معیشت تک پہنچ چکے ہیں۔
جنگ کے ابتدائی مرحلے ہی میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں نے شدید چھلانگ لگائی۔
3 اپریل کو پاکستان میں پٹرول کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح، یعنی 458 روپے 41 پیسے فی لیٹر تک جا پہنچی۔
ڈیزل کی قیمت اس سے بھی آگے بڑھ کر 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر تک پہنچ گئی۔
یہ اضافہ رسد میں تعطل، عالمی منڈی کی بے یقینی اور بے قابو قیاس آرائیوں کا نتیجہ تھا۔
اس اضافے کے اثرات قومی زندگی کے ہر شعبے پر مرتب ہوئے۔
ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھ گئے، کسانوں کے لیے زرعی مشینری چلانا اور اجناس کی نقل و حمل مہنگی ہو گئی، جبکہ عام گھرانوں کو مہنگائی کے طوفان کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے بنیادی اخراجات تک محدود کرنا پڑے۔

یہ کیوں اہم ہے؟ +

پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدی تیل پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ آبنائے ہرمز یا خلیج میں پیدا ہونے والی ہر کشیدگی پاکستان کے درآمدی بل، روپے کی قدر، زرمبادلہ کے ذخائر اور مقامی مہنگائی کو متاثر کرسکتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ہزاروں کلومیٹر دور ہونے والی جنگ بھی پاکستانی شہری کے سفر، خوراک، بجلی اور روزمرہ اخراجات پر براہِ راست اثر ڈالتی ہے۔

سفارتی کوششوں، جن میں پاکستان کی خاموش مگر مؤثر ثالثی بھی شامل تھی، کے نتیجے میں حالات میں وقتی بہتری آئی۔ 

آبنائے ہرمز دوبارہ فعال ہوئی اور قیمتوں میں نسبتاً استحکام پیدا ہوا، لیکن جولائی میں جنگ دوبارہ بھڑکنے سے یہ عارضی سکون بھی ختم ہو گیا۔ 

تیل کی قیمتیں ایک بار پھر بے قابو ہونے لگیں، جبکہ غیر یقینی صورتِ حال اور نئی قیاس آرائیوں نے عالمی منڈی کو مزید بے چین کر دیا۔

بین الاقوامی قرضوں پر انحصار اور کمزور معیشت کے باعث حکومت کے لیے بھی حالات نہایت دشوار ہو گئے۔ 

مستقبل کے خدشات اور عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ کے پیشِ نظر اسے تقریباً روزانہ کی بنیاد پر مقامی ایندھن کی قیمتوں پر نظر رکھنا اور ان میں ردوبدل کرنا پڑا۔

یوں پاکستان نے بھی ایک بڑے ابتدائی جھٹکے کے بعد مسلسل آفٹر شاکس کا سامنا کیا، بالکل اسی طرح جیسے دو دہائیاں قبل کشمیر کے زلزلے کے دوران ہوا تھا۔ 

خلیج میں پیدا ہونے والی ہر نئی کشیدگی پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر، ٹرانسپورٹ کے شعبے اور عام آدمی کی قوتِ خرید کو ایک نئے ارتعاش سے دوچار کر دیتی ہے۔

عالمی منڈی میں
تیل مہنگا ہونے
سے پاکستان میں
پٹرول، ڈیزل اور
ٹرانسپورٹ
کے اخراجات
بڑھ گئے

ایندھن پر انحصار کرنے والی صنعتوں نے اپنی پیداوار محدود کر دی ہے، روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں اور اس بوجھ کا سب سے زیادہ شکار وہ طبقہ ہے جو پہلے ہی سنگین معاشی مشکلات کا سامنا کر رہا تھا۔
بیرونی طوفانوں کے درمیان قرض کی بنیادوں پر کھڑی پاکستانی معیشت ان جھٹکوں کو غیر معمولی شدت سے محسوس کرتی ہے۔
ان تمام مشکلات کے باوجود پاکستانی عوام کا حوصلہ اور تحمل آج بھی سلامت ہے۔
اس ضمن میں روزنامہ پاکستان کے ان دنوں کا ایک دلچسپ واقعہ یاد آتا ہے جب یہ اخبار اکبر بھٹی کی ملکیت تھا۔
ایک روز ایک رپورٹر گھبرایا ہوا رپورٹنگ روم میں داخل ہوا اور اعلان کیا کہ بھٹی صاحب کی گاڑی حادثے کا شکار ہو گئی ہے۔
ابھی سب لوگ تشویش میں مبتلا ہی ہوئے تھے کہ ایک سینئر صحافی مسکراتے ہوئے بولے: اس کا مطلب ہے کہ اس مہینے تنخواہیں وقت پر نہیں ملیں گی۔
بظاہر یہ ایک ہلکا پھلکا جملہ تھا، مگر اس میں زندگی کی ایک تلخ حقیقت پوری شدت کے ساتھ پوشیدہ تھی:
جب کشتی کا ملاح ہی مشکل میں پڑ جائے تو اس کے اثرات تمام مسافروں تک ضرور پہنچتے ہیں۔

مضمون کا مرکزی استعارہ +
زلزلے کا پہلا جھٹکا عمارتوں کو آزماتا ہے، جبکہ آفٹر شاکس ان کی بنیادوں کی اصل مضبوطی ظاہر کرتے ہیں۔ اسی طرح خلیجی جنگ کا ابتدائی دھچکا پاکستان میں تیل کی قیمت بڑھاتا ہے، مگر اس کے مسلسل معاشی آفٹر شاکس ریاستی منصوبہ بندی، مالیاتی نظم اور عوامی برداشت کا حقیقی امتحان لیتے ہیں۔

پاکستان اس سے پہلے بھی سیاسی ہنگاموں، معاشی بحرانوں اور قدرتی آفات کے بے شمار ادوار سے گزر چکا ہے۔ 

ہر بار اس قوم نے اپنی بکھری ہوئی قوت کو سمیٹا، زخموں پر مرہم رکھا، ٹوٹے ہوئے حوصلوں کو جوڑا اور نئے عزم کے ساتھ آگے بڑھنے کا راستہ اختیار کیا۔

خلیجی تنازع کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں روز افزوں اضافہ اور معاشی اعتماد میں مسلسل کمی بھی اسی نوعیت کا ایک نیا امتحان ہے۔ 

ماضی میں مضبوط ریاستی اداروں اور عوام کے ثابت قدم حوصلوں نے قوم کو سہارا دیا، اور آج بھی یہی ہماری سب سے بڑی امید ہیں۔

ان شاء اللہ، یہ آزمائش بھی گزر جائے گی۔ 

پاکستان ان آفٹر شاکس سے مزید مضبوط، زیادہ متحد اور پہلے سے کہیں زیادہ مستحکم ہو کر ابھرے گا، کیونکہ قوموں کی اصل طاقت ان کی عمارتوں میں نہیں بلکہ ان کے لوگوں کے عزم، صبر اور استقلال میں ہوتی ہے۔

آپ بھی لکھیں
آپ کی تحریر شائع کر کے ہمیں خوشی ہوگی
✍️
📄

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے