قوموں کا زوال صرف حکمرانوں، اداروں یا ناقص نظام کی وجہ سے نہیں ہوتا
محمد محسن اقبال
اسلام آباد
ملک میں بدعنوانی، ناانصافی، اقربا پروری اور ادارہ جاتی کمزوری پر تنقید تو بہت ہوتی ہے، مگر ہم کم ہی سوچتے ہیں کہ ان خرابیوں میں ہمارا اپنا کردار کیا ہے۔
حقیقی اصلاح دوسروں کے احتساب کے ساتھ اپنے رویوں، ترجیحات اور ذمہ داریوں کا جائزہ لینے سے شروع ہوتی ہے۔
انسانی تاریخ کے طویل اور نشیب و فراز سے بھرپور سفر پر نگاہ ڈالی جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ اقوام کے کردار کو سب سے زیادہ نمایاں کرنے والی چیز ان کی طرزِ حکمرانی رہی ہے۔
گزشتہ زمانوں کے صاحبِ تدبر حکمران ہوں یا ہمارے آئینی نظام کی بنیادیں استوار کرنے والے مدبرین، سب اس حقیقت سے بخوبی آگاہ تھے کہ حکومت کرنا محض اقتدار کا کھیل نہیں بلکہ ایک عظیم اخلاقی ذمہ داری ہے۔
ان کے نزدیک اقتدار کسی فرد یا جماعت کی ملکیت نہیں بلکہ پوری قوم کی امانت تھا، جسے عدل، دیانت، تحمل اور آنے والی نسلوں کی فلاح کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے استعمال کیا جانا چاہیے۔
اگرچہ ان کے نظام اپنے عہد کی حدود و قیود سے آزاد نہیں تھے، مگر ان کی روح احتساب، قانون کی بالادستی اور اس یقین سے معمور تھی کہ سرکاری منصب اعزاز سے زیادہ ایک ذمہ داری ہے۔
عدالتوں سے توقع کی جاتی تھی کہ وہ غیر جانب دار منصف بن کر کھڑی رہیں۔
سرکاری ملازمین کو فرض شناسی کو ذاتی مفاد پر مقدم رکھنے کی تربیت دی جاتی اور حکمران اس حقیقت سے آگاہ رہتے کہ ان کی حکمرانی کی اصل قوت عوام کے اعتماد اور رضامندی میں مضمر ہے۔
مزید پڑھیں
ہمیں انہی لوگوں سے ایک ایسا ادارہ جاتی ڈھانچہ ورثے میں ملا جس میں منتخب اسمبلیاں، آزاد عدلیہ، منظم انتظامی خدمات اور اختیارات کے بے جا استعمال کو روکنے والے قوانین شامل تھے۔
یہ ادارے اگرچہ کامل نہیں تھے، لیکن ان میں انصاف کے ساتھ نظم و ضبط قائم کرنے کی ایک بلند آرزو جلوہ گر تھی۔
طویل عرصے تک قومی زندگی میں وقار، سنجیدگی اور ذمہ داری کا ایک
قابلِ قدر معیار برقرار رہا۔
بدعنوانی اس وقت بھی موجود تھی، جیسا کہ ہر دور میں رہی ہے، مگر اسے ترقی کا زینہ نہیں بلکہ اخلاقی انحراف اور باعثِ شرمندگی سمجھا جاتا تھا۔
اس دور کی حکمرانی مشترکہ اخلاقی اقدار پر استوار تھی، دیانت داری، قومی وسائل کے استعمال میں کفایت شعاری اور یہ احساس کہ طاقت ور پر کمزور کی حفاظت کی خصوصی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
اہم ترین نکات +
- اقتدار کسی فرد یا جماعت کی ملکیت نہیں بلکہ قوم کی امانت ہے۔
- ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ کمزور ہو رہا ہے۔
- میرٹ کی جگہ سفارش، تعلقات اور ذاتی مفادات لے رہے ہیں۔
- ادارے بعض اوقات اپنے بنیادی مقصد کے بجائے اپنی بقا کو ترجیح دیتے ہیں۔
- تعلیم علم اور مہارت تک محدود ہو کر کردار سازی سے دور ہوتی جا رہی ہے۔
- ہم جن رویوں کی مذمت کرتے ہیں، کبھی خود بھی انہی میں شریک ہوتے ہیں۔
- پائیدار اصلاح کا آغاز ذاتی دیانت اور خود احتسابی سے ہوگا۔
اب سوال یہ ہے کہ اس درخشاں ورثے کے مقابلے میں آج ہم کہاں کھڑے ہیں؟
بظاہر اچھی حکمرانی کی تمام علامتیں اب بھی موجود ہیں۔
آئین سے وفاداری کے حلف اٹھائے جاتے ہیں، انتخابات منعقد ہوتے ہیں اور قوانین منظور کئے جاتے ہیں، مگر ان تمام ظاہری صورتوں کی روح رفتہ رفتہ کمزور ہوتی جا رہی ہے۔
ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ مدھم پڑتا محسوس ہوتا ہے۔
انصاف اب اکثر لوگوں کو یکساں دکھائی نہیں دیتا۔
یہ تاثر عام ہوتا جا رہا ہے کہ اس تک رسائی صاحبِ حیثیت اور بااثر افراد کے لیے زیادہ آسان ہے۔
عوام کی خدمت کے لیے قائم کیا گیا انتظامی نظام تاخیر، سفارش، اقربا پروری اور ذاتی مفادات کے جال میں الجھتا جا رہا ہے۔
سیاسی گفتگو شائستگی اور اصول پسندی سے دور ہو کر مفاد پرستی اور وقتی سودے بازی کا روپ دھار چکی ہے، جہاں جماعت یا شخصیت سے وفاداری اکثر قومی مفاد اور اصولوں پر غالب آ جاتی ہے۔
بلند بانگ دعوؤں اور عملی رویوں کے درمیان فاصلہ اس قدر بڑھ گیا ہے کہ بہت سے شہری مایوسی کا شکار ہو کر اجتماعی ذمہ داریوں سے کنارہ کش ہونے لگے ہیں۔
فیکٹ باکس +
اگر ہمیں اپنی ناکامیوں کا اعتراف کرنا ہے، اور دیانت داری اسی کا تقاضا کرتی ہے، تو ان کے اسباب کا جائزہ بھی لینا ہوگا۔
ان میں سب سے نمایاں سبب عوامی زندگی میں اخلاقی کردار کی تدریجی کمزوری ہے۔
بلند عزائم کو فرض شناسی سے جدا کر دیا گیا ہے۔
اقتدار اور مادی منفعت کی خواہش نے خدمتِ خلق کے اس قدیم تصور کو پسِ پشت ڈال دیا ہے جو کبھی قیادت کا بنیادی وصف سمجھا جاتا تھا۔
ہماری سیاسی ثقافت میرٹ کے بجائے سرپرستی اور تعلقات کی بنیاد پر عہدوں اور مراعات کی تقسیم کی طرف مائل ہو چکی ہے۔
اختیارات کے ناجائز استعمال پر قدغن لگانے کے لیے قائم کیے گئے ادارے خود دباؤ، ترغیب یا خاموش خوف کے باعث اپنی آزادی کھوتے جا رہے ہیں۔
تعلیم، جس کا مقصد ایسے شہری تیار کرنا تھا جو حق اور مصلحت میں فرق کر سکیں، اکثر محض ڈگری اور فنی مہارت تک محدود ہو گئی ہے، جبکہ اخلاقی تربیت پس منظر میں چلی گئی ہے۔
معاشی دباؤ اور تیز رفتار سماجی تبدیلیوں نے بھی صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جس کے نتیجے میں فوری فائدہ طویل المدتی دیانت داری پر غالب آتا جا رہا ہے۔
یہ مضمون کیوں اہم ہے؟ +
اس سب کے ساتھ ایک اجتماعی عادت بھی پروان چڑھ چکی ہے:
ہر طبقہ دوسروں کو قصوروار ٹھہراتا ہے، مگر اپنے احتساب سے گریز کرتا ہے۔
کیا ہم نے بطور فرد، بطور ادارہ اور بطور قوم اپنی ذمہ داریاں پوری کی ہیں؟
اس سوال کا جواب زیادہ حوصلہ افزا نہیں۔
افراد کی حیثیت سے ہم میں سے بہت سے لوگ حالات پر افسوس تو کرتے ہیں، لیکن انہی رویوں میں کسی نہ کسی درجے میں شریک بھی رہتے ہیں جن کی مذمت کرتے ہیں۔
ہم اپنی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کرتے ہیں، خصوصی رعایت کے خواہاں رہتے ہیں اور جہاں سچ بولنے کی قیمت ادا کرنا پڑے، وہاں خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔
ادارے بھی اکثر اپنے اصل مقصد کے بجائے اپنی بقا یا اپنے قائدین کے مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔ بادی النظر میں عدالتیں مقدمات کے فیصلوں میں غیر ضروری تاخیر کرتی ہیں، مقننہ قومی مفاد کے بجائے جماعتی سیاست میں الجھی رہتی ہے، جبکہ انتظامیہ بعض اوقات ان شہریوں کو فراموش کر دیتی ہے جن کی خدمت اس کا بنیادی فرض ہے۔
بحیثیت قوم ہم نے علاقائی، گروہی اور ذاتی مفادات کو اپنی مشترکہ قومی تقدیر پر غالب آنے دیا ہے۔ ضروری اصلاحات مسلسل مؤخر ہوتی رہی ہیں، تلخ حقائق سے نظریں چرائی گئی ہیں اور اجتماعی بھلائی کو وقتی سیاسی مفادات پر قربان کیا جاتا رہا ہے۔
تاہم تاریخ ہمیشہ زوال کی یک طرفہ داستان نہیں ہوتی۔
بہت سی قومیں اخلاقی اور انتظامی انحطاط سے اس وقت دوبارہ ابھریں جب انہوں نے سب سے پہلے اپنا بے لاگ احتساب کیا۔
اصلاح کا دروازہ آج بھی کھلا ہے، لیکن اس کے لیے محض نعروں یا ظاہری تبدیلیوں سے کام نہیں چلے گا۔
اس کا آغاز ہماری روزمرہ زندگی میں ذاتی دیانت کی بحالی سے ہوگا، کیونکہ کوئی نظام اس وقت تک دیانت دار نہیں رہ سکتا جب تک اسے چلانے والے اور اس کے زیرِ سایہ رہنے والے خود سچائی کی قدر نہ کریں۔
ایک منٹ میں مضمون +
آج انصاف تک غیر مساوی رسائی، سفارش، اقربا پروری، سیاسی مفاد پرستی اور ادارہ جاتی کمزوری نمایاں مسائل بن چکے ہیں۔ تاہم خرابی صرف حکمرانوں یا اداروں میں نہیں۔ عام شہری بھی ذمہ داری سے پہلو تہی، خصوصی رعایت کی خواہش اور سچ بولنے کے بجائے خاموشی اختیار کرکے اسی ماحول کو مضبوط کرتے ہیں۔
اداروں کو اپنی آزادی دوبارہ حاصل کرنا ہوگی اور یہ یاد رکھنا ہوگا کہ ان کا اختیار وقتی حکمرانوں کی عنایت سے نہیں بلکہ عوام کے اعتماد سے جنم لیتا ہے۔
ہمیں ایک مرتبہ پھر قومی سطح پر اس سوال پر غور کرنا ہوگا کہ حکومت کا حقیقی مقصد کیا ہے؟ کیا اس کا مقصد صرف وسائل کی تقسیم اور انتخابات میں کامیابی ہے یا ایسا معاشرہ تشکیل دینا جہاں ہر شہری عزت، تحفظ اور امید کے ساتھ زندگی گزار سکے؟
تعلیم کو بھی کردار سازی کو اتنی ہی اہمیت دینا ہوگی جتنی مہارت اور علم کو دی جاتی ہے۔ اسی طرح شہری ذمہ داری کو چند افراد کا مشغلہ نہیں بلکہ پوری قوم کا مشترکہ فرض سمجھنا ہوگا۔
یہ راستہ یقیناً آسان نہیں۔
موجودہ بے ترتیبی سے فائدہ اٹھانے والے عناصر ہر اصلاح کی مزاحمت کریں گے۔
لیکن اگر ہم نے یہ سفر اختیار نہ کیا تو اس کا نتیجہ عوامی اعتماد کی مزید شکست، قومی زندگی کے اخلاقی معیار کی مزید تنزلی اور اس اجتماعی وحدت کے بتدریج زوال کی صورت میں نکلے گا جس کے بغیر کوئی معاشرہ زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔
مضمون کا خلاصہ +
ہمارے اسلاف ہمیں کوئی مکمل اور بے عیب نظام دے کر نہیں گئے تھے؛ وہ ہمیں ایک امانت، ایک ذمہ داری اور ایک روشن مثال سونپ گئے تھے۔
اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اس امانت کا حق ادا کرتے ہیں یا نہیں۔
اگر ہم اصول کو مصلحت پر، فرض کو ذاتی منفعت پر اور دور اندیشی کو فوری فائدے پر ترجیح دینے کا حوصلہ پیدا کر لیں تو آج بھی منزل کی سمت درست کی جا سکتی ہے۔
لیکن اگر ہم نے یہ موقع بھی گنوا دیا تو آنے والی نسلوں کا فیصلہ ہمارے حق میں نہیں ہوگا اور ہمارے پاس اپنے دفاع میں کہنے کے لیے بہت کم رہ جائے گا۔
آخرکار اصل ذمہ داری ہمارے اپنے کندھوں پر عائد ہوتی ہے۔
دوسروں کا احتساب ضروری ہے، لیکن اس سے پہلے ہمیں خود سے بھی سوال کرنا ہوگا:
کیا تمام خرابیوں کے باوجود میں خود کو مکمل طور پر بری الذمہ قرار دے سکتا ہوں؟