براہ راست نشریات

پاکستان نے بحری راستہ سنبھال لیا.. اب تیل اپنے جہازوں سے آئے گا

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
PNSC

خلیجی جنگ اور آبنائے ہرمز میں بڑھتے خطرات نے پاکستان کے قومی بحری بیڑے کی توسیع کو نئی اہمیت دے دی ہے۔ جو منصوبہ پہلے غیر ملکی شپنگ کمپنیوں کو سالانہ اربوں ڈالر کی ادائیگی کم کرنے کے لیے شروع ہوا تھا، اب توانائی کے تحفظ کا حصہ بنتا جارہا ہے۔
پاکستان امریکی تیل، سعودی ینبع، فجیرہ اور اپنے آئل ٹینکرز سمیت متعدد متبادل راستوں پر کام کررہا ہے۔

خلیجی جنگ سے پہلے پاکستان میں مزید آئل ٹینکرز اور تجارتی جہاز خریدنے کا منصوبہ بنیادی طور پر ایک معاشی ضرورت سمجھا جاتا تھا۔ 

سوال یہ تھا کہ پاکستان ہر سال اربوں ڈالر غیر ملکی شپنگ کمپنیوں کو کیوں ادا کرے، جبکہ اپنے جہازوں کے ذریعے اسی رقم کا ایک بڑا حصہ ملک کے اندر رکھا جاسکتا ہے؟

لیکن خلیجی جنگ نے یہ سوال بدل دیا ہے۔

اب اصل سوال یہ ہے کہ اگر تیل دستیاب ہو، لیکن اسے پاکستان لانے والا جہاز نہ ملے یا کوئی شپنگ کمپنی جنگ زدہ سمندری راستے سے گزرنے کے لیے تیار نہ ہو تو کیا ہوگا؟

01
اہم نکات
خلیجی جنگ نے پاکستان کی بحری حکمتِ عملی کیوں بدل دی؟
  • پاکستان کی تقریباً 90 فیصد تیل اور LNG درآمدات جنگ سے پہلے آبنائے ہرمز سے گزرتی تھیں۔
  • غیر ملکی شپنگ کمپنیوں کو سالانہ تقریباً 4 سے 4.6 ارب ڈالر ادا کئے جاتے رہے ہیں۔
  • PNSC نے نئے آئل ٹینکرز خرید کر قومی بیڑا بڑھانا شروع کردیا ہے۔
  • فجیرہ، خورفکان اور ینبع جیسے متبادل مراکز اب زیادہ اہم ہوگئے ہیں۔
  • نئی حکمتِ عملی: تیل کے ذرائع میں تنوع + بحری راستوں میں تنوع + اپنے جہاز۔
Overseas Post

یہی وہ نقطہ ہے جہاں پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن PNSC کے بیڑے میں توسیع کا منصوبہ ایک عام تجارتی منصوبے سے بڑھ کر قومی توانائی کے تحفظ کا حصہ بن گیا ہے۔ 

جنگ سے پہلے پاکستان کی تقریباً 90 فیصد تیل اور ایل این جی درآمدات آبنائے ہرمز سے گزرتی تھیں، اس لیے ہرمز میں پیدا ہونے والی ہر رکاوٹ براہ راست پاکستانی معیشت کو متاثر کرتی ہے۔

مزید پڑھیں

سب سے بڑی کمزوری نمایاں

پاکستان اپنی توانائی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے بڑی حد تک درآمدی تیل پر انحصار کرتا ہے، جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اس کے اہم ترین توانائی فراہم کرنے والوں میں شامل ہیں۔ 

یہی وجہ ہے کہ خلیج سے آنے والا بحری راستہ پاکستان کے لیے صرف تجارت نہیں بلکہ توانائی کی شہ رگ بھی ہے۔

مگر ایران سے جنگ اور ہرمز میں کشیدگی نے اس راستے کو غیر یقینی بنادیا۔

19 اگست کے اعداد و شمار کے مطابق ایک دن میں صرف 6 تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزر سکے، جبکہ گزشتہ 10 دنوں کا اوسط تقریباً 11 جہاز یومیہ تھا۔ 

جنگ سے پہلے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کا خام تیل اور ایل این جی اسی راستے سے گزرتا تھا۔

02
فیکٹ باکس
پاکستان کا بحری بیڑا: اہم اعداد ایک نظر میں
قومی بیڑا13 جہاز
نئے نمایاں ٹینکرزKarachi، Lahore، Quetta
غیر ملکی شپنگ پر خرچ4–4.6 ارب ڈالر سالانہ
ہرمز پر سابق انحصارتقریباً 90٪ تیل و LNG
اہم متبادل مراکزفجیرہ، خورفکان، ینبع
نیا توانائی ذریعہامریکی خام تیل
Overseas Post

پاکستان کے لیے مسئلہ صرف تیل کی قیمت بڑھنے تک محدود نہیں۔

جب جنگی خطرات بڑھتے ہیں تو شپنگ انشورنس مہنگی ہوجاتی ہے، جہازوں کے کرائے بڑھتے ہیں اور بعض کمپنیاں پورے خطے میں داخل ہونے سے گریز کرتی ہیں۔ 

ایسی صورت میں کسی ملک کے پاس تیل خریدنے کا معاہدہ تو ہوسکتا ہے، لیکن اسے اپنے ساحل تک لانے کے لیے ٹینکر دستیاب نہ ہو۔ 

تیاری جنگ سے پہلے شروع

اہم بات یہ ہے کہ پاکستان نے جہاز خریدنے کا فیصلہ موجودہ جنگ شروع ہونے کے بعد نہیں کیا۔

جون 2025 میں وزیراعظم شہباز شریف نے PNSC کے بیڑے میں توسیع کا منصوبہ تیار کرنے کا حکم دیا تھا۔ 

اس وقت اندازہ لگایا گیا تھا کہ پاکستان غیر ملکی شپنگ کمپنیوں کو سالانہ تقریباً 4 ارب ڈالر ادا کرتا ہے۔

بعد میں وزارتِ بحری امور نے یہ رقم تقریباً 4.6 ارب ڈالر سالانہ بتائی۔

03
یہ کیوں اہم ہے؟
تیل خریدنا کافی نہیں.. اسے لانے والا جہاز بھی چاہئے

خلیجی جنگ نے پاکستان کی ایک بنیادی کمزوری نمایاں کردی: اگر تیل دستیاب ہو لیکن شپنگ کمپنی جنگ زدہ راستے میں داخل ہونے سے انکار کردے تو توانائی کی سپلائی متاثر ہوسکتی ہے۔

اپنے آئل ٹینکرز پاکستان کو بحران کے وقت کم از کم اپنی ترجیحات کے مطابق جہاز چلانے، اہم کھیپ کو ترجیح دینے اور متبادل بندرگاہوں کی طرف رخ کرنے کی زیادہ آزادی دیتے ہیں۔

Overseas Post

ابتدائی مقصد واضح تھا: پاکستان اپنی زیادہ تجارت اپنے جہازوں پر منتقل کرے، زرمبادلہ کی بیرون ملک منتقلی کم کرے اور قومی شپنگ کمپنی کی آمدن میں اضافہ ہو۔

لیکن خلیجی جنگ نے اس منصوبے کو نئی اہمیت دے دی۔ 

اب مسئلہ صرف یہ نہیں کہ جہاز اپنا ہو تو پیسے بچیں گے، بلکہ یہ بھی ہے کہ بحران کے وقت پاکستان کے پاس کم از کم اپنی ترجیحات کے مطابق جہاز چلانے کی صلاحیت موجود ہوگی۔

تین نئے جہاز اور بدلتی ہوئی حکمتِ عملی

اکتوبر 2025 میں PNSC نے تین نئے جہاز خریدنے کی منظوری دی۔

ان میں دو Aframax آئل ٹینکرز شامل تھے، جنہیں بعد میں MT Karachi اور MT Lahore کا نام دیا گیا۔ 

دونوں کی قیمت تقریباً 74.5 ملین ڈالر فی جہاز تھی۔

تیسرا MR-2 کلاس کا پیٹرولیم مصنوعات لے جانے والا ٹینکر تھا، جسے MT Quetta کا نام دیا گیا اور اس کی قیمت 44.15 ملین ڈالر تھی۔

اس کے ساتھ مزید 12 جہاز خریدنے کے لیے بھی کارروائی شروع کی گئی۔

04
نئے ٹینکرز
Karachi، Lahore اور Quetta.. تین جہازوں نے منصوبے کی سمت بدل دی

PNSC نے دو Aframax آئل ٹینکرز خریدے جنہیں MT Karachi اور MT Lahore کا نام دیا گیا۔ دونوں کی قیمت تقریباً 74.5 ملین ڈالر فی جہاز تھی۔

تیسرا MR-2 پیٹرولیم ٹینکر MT Quetta تقریباً 44.15 ملین ڈالر میں خریدا گیا۔ اس کے ساتھ مزید جہاز خریدنے کی کارروائی بھی شروع کی گئی۔

Overseas Post

PNSC کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق قومی کمپنی کے زیرِ انتظام اب 13 جہاز ہیں، جن میں پانچ بلک کیریئر اور آٹھ آئل یا پیٹرولیم ٹینکرز شامل ہیں۔

یہ تعداد ابھی پاکستان کو بڑی عالمی شپنگ طاقت نہیں بناتی، لیکن یہ اس سمت میں واضح تبدیلی ضرور ہے جہاں ملک مکمل طور پر غیر ملکی جہازوں پر انحصار کرنے کے بجائے اپنی بحری صلاحیت پیدا کررہا ہے۔

فجیرہ کیوں اہم ہوگیا؟

اس پوری کہانی میں متحدہ عرب امارات کا فجیرہ بندرگاہ غیر معمولی اہمیت اختیار کرگیا ہے۔

PNSC کے حالیہ آپریشنل ڈیٹا میں پاکستانی جہازوں، جن میں Sargodha، Bolan اور Hyderabad شامل ہیں، کی فجیرہ میں موجودگی بھی دیکھی گئی۔

فجیرہ کی اہمیت یہ ہے کہ یہ آبنائے ہرمز کے باہر، خلیج عمان کی طرف واقع ہے۔ 

اسی لیے جنگی حالات میں یہ تیل ذخیرہ کرنے، جہازوں کو ایندھن فراہم کرنے اور عالمی توانائی تجارت کا اہم مرکز بن جاتا ہے۔

05
ہرمز کا خطرہ
اپنے جہاز ہرمز کو محفوظ نہیں بناتے.. مگر کنٹرول بڑھاتے ہیں

پاکستانی پرچم والا ٹینکر بھی جنگ، میزائل، بارودی سرنگوں اور مہنگی انشورنس کے خطرات سے محفوظ نہیں۔ اگر ہرمز فوجی طور پر بند ہو تو قومی جہاز بھی اسے جادوئی طور پر عبور نہیں کرسکتے۔

اصل فائدہ کنٹرول ہے: حکومت اپنی ضرورت کے مطابق ٹینکر کو ترجیحی کھیپ، متبادل بندرگاہ یا مختلف راستے پر بھیج سکتی ہے۔

Overseas Post

مارچ 2026 میں پاکستان نے کراچی کو فجیرہ اور خورفکان سے جوڑنے والی باقاعدہ بحری سروس بھی شروع کی تھی۔

اس وقت اس منصوبے کو تجارتی سہولت کے طور پر دیکھا گیا، لیکن جنگ نے اسے اسٹریٹجک اہمیت دے دی ہے۔ 

اگر ہرمز میں آمد و رفت مزید متاثر ہوتی ہے تو ایسے بندرگاہی مراکز پاکستان کے لیے متبادل تجارتی دروازے بن سکتے ہیں۔ 

پاکستان تیل کے ذرائع بھی بدل رہا ہے

تبدیلی صرف جہازوں تک محدود نہیں۔

پاکستان کی بڑی ریفائنری Cnergyico نے امریکی خام تیل کی خریداری بڑھائی ہے۔ کمپنی تقریباً 8.1 ملین بیرل امریکی تیل نو ماہ کے دوران درآمد کرچکی ہے۔

پاکستان سعودی تیل کو ایسے راستوں سے حاصل کرنے کے امکانات بھی دیکھ رہا ہے جو ہرمز پر کم انحصار کریں۔ ان میں سعودی عرب کی ینبع بندرگاہ سے بحیرہ احمر کے راستے آنے والے تیل کا آپشن بھی شامل ہے۔

06
متبادل راستہ
فجیرہ اور خورفکان پاکستان کے لیے کیوں اہم ہوگئے؟

فجیرہ آبنائے ہرمز کے باہر خلیج عمان کی طرف واقع ہے اور عالمی توانائی، ذخیرہ اندوزی اور جہازوں کو ایندھن فراہم کرنے کا بڑا مرکز ہے۔

پاکستان نے کراچی کو فجیرہ اور خورفکان سے جوڑنے والی بحری سروس بھی شروع کی۔ جنگ کے بعد یہ رابطہ صرف تجارتی سہولت نہیں بلکہ متبادل بحری راستے کے طور پر بھی اہم ہوگیا ہے۔

Overseas Post

اسی طرح Cnergyico بڑے VLCC ٹینکرز استعمال کرنے کی تیاری کررہی ہے۔ ماہرین کے مطابق بڑے جہاز امریکی تیل کی فی بیرل شپنگ لاگت میں بعض حالات میں 25 سے 30 فیصد کمی لاسکتے ہیں۔

یعنی پاکستان اب صرف یہ نہیں دیکھ رہا کہ تیل کہاں سے خریدا جائے، بلکہ یہ بھی دیکھ رہا ہے کہ اسے کس بندرگاہ سے، کس جہاز پر اور کس راستے سے لایا جائے۔ 

کیا پاکستانی جہاز ہرمز کا خطرہ ختم کرسکتے ہیں؟

نہیں۔

اپنے جہاز ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان کسی فوجی بندش یا شدید جنگی خطرے کے باوجود ہرمز سے گزر سکے گا۔ 

پاکستانی ٹینکرز بھی میزائل، بارودی سرنگوں، حملوں اور مہنگی انشورنس کے انہی خطرات کا سامنا کریں گے جو دوسری عالمی کمپنیوں کو درپیش ہیں۔

لیکن اپنے جہاز ہونے سے پاکستان کے پاس ایک اہم چیز آجاتی ہے: کنٹرول۔

07
تیل کے نئے ذرائع
امریکی خام تیل اور سعودی ینبع.. پاکستان ایک راستے سے باہر نکل رہا ہے

پاکستانی ریفائنریوں نے امریکی خام تیل کی خریداری بڑھائی، جبکہ ایسے سعودی آپشنز بھی زیرِ غور آئے جن میں ینبع اور بحیرہ احمر کے راستے ہرمز پر انحصار کم ہوسکتا ہے۔

بڑے VLCC ٹینکرز استعمال کرنے سے بعض حالات میں امریکی تیل کی فی بیرل شپنگ لاگت میں تقریباً 25 سے 30 فیصد کمی کا امکان بتایا گیا ہے۔

Overseas Post

بحران کے وقت اسلام آباد یہ طے کرسکتا ہے کہ کس تیل کی کھیپ کو ترجیح دینی ہے، کس بندرگاہ کی طرف جہاز موڑنا ہے اور کس روٹ کو استعمال کرنا ہے۔

غیر ملکی شپنگ مارکیٹ میں جہاز تلاش کرنے کے مقابلے میں اپنے ٹینکرز قومی ضروریات کو زیادہ تیزی سے پورا کرسکتے ہیں۔ 

13 جہاز ابھی کافی نہیں

پاکستان کی 90 فیصد سے زیادہ تجارت حجم کے لحاظ سے سمندری راستے سے ہوتی ہے، اس کے مقابلے میں PNSC کا موجودہ بیڑا اب بھی بہت چھوٹا ہے۔

اس لیے تین نئے جہاز خریدنا اس منصوبے کا اختتام نہیں بلکہ آغاز ہے۔

اصل ہدف یہ ہے کہ پاکستان کے پاس اتنے آئل ٹینکرز، پیٹرولیم کیریئرز اور تجارتی جہاز ہوں کہ ملک اپنی ضرورت کا قابلِ ذکر حصہ خود منتقل کرسکے۔

08
کیا یقینی ہے؟
جنگ نے منصوبہ شروع نہیں کیا.. اس کا مطلب بدل دیا

تصدیق شدہ: پاکستان نے قومی شپنگ بیڑا بڑھانے کی منصوبہ بندی خلیجی جنگ سے پہلے شروع کردی تھی، بنیادی مقصد غیر ملکی شپنگ پر اربوں ڈالر کا خرچ کم کرنا تھا۔

اہم تبدیلی: ہرمز کے بحران کے بعد یہی منصوبہ اب توانائی اور سپلائی چین کے تحفظ سے بھی جڑ گیا ہے۔

جو ثابت نہیں: یہ کہنا درست نہیں کہ پاکستان صرف جنگ کی وجہ سے اچانک تمام جہاز خرید رہا ہے یا قومی بیڑا ہرمز کی فوجی بندش کو ختم کرسکتا ہے۔

Overseas Post

خلیجی جنگ نے پاکستان کو ایک واضح سبق دیا ہے:

توانائی کا تحفظ صرف یہ جاننے کا نام نہیں کہ تیل کہاں سے خریدا جائے۔

یہ بھی ضروری ہے کہ تیل کس راستے سے آئے گا، کس بندرگاہ پر اترے گا اور اسے لے کر آنے والا جہاز کس کا ہوگا۔

پاکستان کی ابھرتی ہوئی حکمتِ عملی کو تین نکات میں سمیٹا جاسکتا ہے:

تیل کے ذرائع میں تنوع + بحری راستوں میں تنوع + اپنے جہاز۔

اگر خلیج میں جنگ اور سمندری راستوں کی غیر یقینی صورتحال جاری رہتی ہے تو یہی حکمتِ عملی آنے والے برسوں میں پاکستان کی تجارت اور توانائی پالیسی کی سب سے اہم تبدیلیوں میں سے ایک بن سکتی ہے۔