فیلڈ مارشل عاصم منیر 24 اگست کو تہران پہنچ رہے ہیں اور اسی روز امریکا ایران کے خلاف نئی سخت اقتصادی پابندیوں کی تفصیلات سامنے لانے کی تیاری کر رہا ہے۔
پاکستان کے ایران، سعودی عرب، چین اور امریکا سے تعلقات اسے ممکنہ ثالث بناتے ہیں، لیکن ہرمز، حوثیوں اور خلیجی سلامتی کے معاملات اس مشن کو انتہائی مشکل بنا رہے ہیں۔
پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کل پیر 24 اگست کو تہران کا دورہ محض ایران اور پاکستان کے درمیان ایک اور اعلیٰ سطحی ملاقات نہیں رہا۔
اس دورے کا وقت اسے براہِ راست اس بڑے سیاسی اور اقتصادی بحران کے مرکز میں لے آیا ہے جو امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث خطے کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہے۔
خاص بات یہ ہے کہ جس روز عاصم منیر تہران پہنچیں گے، اسی روز واشنگٹن ایران کے خلاف نئی اور انتہائی سخت اقتصادی پابندیوں کی تفصیلات سامنے لانے کی تیاری کر رہا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ ان اقدامات کو ایران کے خلاف اب تک کی سخت ترین پابندیوں میں شمار کر چکے ہیں۔
مزید پڑھیں
اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک طرف امریکا تہران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے جا رہا ہے، جبکہ دوسری طرف پاکستان ایران کے ساتھ براہِ راست رابطوں کو آگے بڑھا رہا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کا کردار اہم ہو جاتا ہے۔
ایران نے اعلان کیا کہ عاصم منیر سرکاری وفد کے ساتھ تہران جائیں گے، جہاں خطے میں امن اور سلامتی سے متعلق کوششوں پر بات ہوگی۔
پاکستانی حکومتی ذرائع نے بھی دورے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ اسلام آباد اور تہران کے درمیان براہِ راست رابطے جاری ہیں۔
تاہم ملاقات کا ایجنڈا صرف دوطرفہ تعلقات تک محدود نہیں ہوگا۔
01 OVERSEAS POST | URDU PACKAGE اہم نکات ⌄
- فیلڈ مارشل عاصم منیر پیر 24 اگست کو تہران کا دورہ کرنے والے ہیں۔
- ایران کے مطابق دورے کا مقصد خطے میں امن اور سلامتی کی کوششوں کو آگے بڑھانا ہے۔
- یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب واشنگٹن ایران پر مزید سخت اقتصادی دباؤ بڑھانے کی تیاری میں ہے۔
- متوقع گفتگو میں امریکی دباؤ، علاقائی سکیورٹی، پاکستان-ترکی-سعودی رابطے اور حوثیوں کا معاملہ شامل ہوسکتا ہے۔
- آبنائے ہرمز میں شدید خلل نے سفارتی کوششوں کو مزید فوری اور اہم بنا دیا ہے۔
جنگ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اقتصادی دھمکیاں، پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ مشاورت، حوثی مسئلہ اور خلیج کی سلامتی جیسے معاملات بھی گفتگو کا حصہ بن سکتے ہیں۔
پاکستان کیوں اہم ہے؟
پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس وقت اس کی جغرافیائی اور سیاسی پوزیشن ہے۔
وہ ایران کا پڑوسی ہے، لیکن ساتھ ہی سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ اس کے گہرے دفاعی، اقتصادی اور سیاسی تعلقات ہیں۔
چین پاکستان کا اہم ترین اسٹریٹجک شراکت دار ہے، جبکہ امریکا کے ساتھ بھی اسلام آباد کے رابطے مکمل طور پر منقطع نہیں ہوئے۔
عام حالات میں یہ مختلف سمتوں میں پھیلے تعلقات مشکل توازن پیدا کرتے ہیں، مگر موجودہ بحران میں یہی تعلقات پاکستان کو ایک ممکنہ ثالث بنا سکتے ہیں۔
02 OVERSEAS POST | URDU PACKAGE یہ دورہ اتنا اہم کیوں ہے؟ ⌄
اس سے قبل بھی پاکستان اور ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کا نیا راستہ تلاش کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس عمل میں چین نے بھی دلچسپی دکھائی، کیونکہ ایران کے ساتھ کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں رکاوٹ کا سب سے بڑا اقتصادی نقصان بیجنگ کو بھی پہنچ سکتا ہے۔
چین ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار رہا ہے، اس لئے ہرمز میں کشیدگی، تیل کی ترسیل میں رکاوٹ اور خلیجی تجارت کے خطرات براہِ راست چینی مفادات کو متاثر کرتے ہیں۔
اس طرح پاکستان ایک ایسی جگہ پر کھڑا ہے جہاں ایران، چین اور خلیجی ممالک کے مفادات کسی حد تک ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔
مگر ثالثی آسان نہیں
پاکستان ایران کے قریب جا سکتا ہے، لیکن کسی حد کے بغیر نہیں۔
اسلام آباد کے لئے سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں کی سلامتی بھی انتہائی اہم ہے۔
اگر ایران یا اس کے اتحادیوں کی جانب سے سعودی عرب، خلیجی تنصیبات یا بحری راستوں پر حملے جاری رہتے ہیں تو پاکستان کے لئے ایران کی سیاسی حمایت کرنا یا اس کی جانب سے نرم مؤقف اپنانا مشکل ہوگا۔
یہی وجہ ہے کہ عاصم منیر کا خود اس معاملے میں سرگرم ہونا اہم سمجھا جا رہا ہے۔
03 OVERSEAS POST | URDU PACKAGE پاکستان کے پاس کون سی بڑی سفارتی طاقت ہے؟ ⌄
- ایران: براہِ راست ہمسایہ اور مسلسل سیاسی و سکیورٹی رابطہ۔
- سعودی عرب اور خلیج: گہرے دفاعی، اقتصادی اور سیاسی تعلقات۔
- چین: اسٹریٹجک شراکت دار، جس کے لئے ایران اور ہرمز کی صورتِ حال براہِ راست توانائی کا مسئلہ ہے۔
- امریکا: اختلافات کے باوجود رابطوں اور سفارتی رسائی کا دروازہ موجود ہے۔
فوجی سربراہ کی موجودگی یہ پیغام دیتی ہے کہ بات صرف سفارت کاری کی نہیں بلکہ علاقائی سکیورٹی، ایران کے اتحادی گروپوں، حوثیوں، بحری سلامتی اور ممکنہ دفاعی انتظامات تک بھی پہنچ سکتی ہے۔
پیر کا دن فیصلہ کن کیوں؟
امریکا اسی دن ایران کے خلاف نئی پابندیاں سامنے لانے جا رہا ہے۔
واشنگٹن کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد ایران کو فوری طور پر نئی بڑی جنگ میں دھکیلنا نہیں بلکہ اس کے مالی وسائل محدود کرنا، تیل کی آمدنی کم کرنا اور تہران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانا ہے۔
صدر ٹرمپ پہلے ہی ان ممالک، کمپنیوں اور مالیاتی اداروں کو خبردار کر چکے ہیں جو ایران کو اقتصادی سہارا فراہم کریں گے۔
04 OVERSEAS POST | URDU PACKAGE اصل مذاکراتی گرہیں کیا ہیں؟ ⌄
کسی بھی نئی سیاسی پیش رفت کو اب صرف جوہری پروگرام یا پابندیوں تک محدود رکھنا مشکل ہوگا۔ کامیاب مذاکرات کے لئے بحری سلامتی اور علاقائی کشیدگی کو بھی ایک ہی فریم میں دیکھنا پڑے گا۔
یہ صورتحال پاکستان کے لئے ایک پیچیدہ سوال پیدا کرتی ہے:
کیا اسلام آباد ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی بھی کر سکتا ہے اور ساتھ ہی امریکی اقتصادی دباؤ سے بھی بچ سکتا ہے؟
اگر امریکا ثانوی پابندیوں کا دائرہ وسیع کرتا ہے تو ایران کے ساتھ اقتصادی تعاون اور سیاسی ثالثی کے درمیان فرق مزید حساس ہو سکتا ہے۔
ہرمز اصل مسئلہ
موجودہ بحران میں آبنائے ہرمز سب سے بڑی مذاکراتی چابی بن چکی ہے۔
یہ وہ سمندری راستہ ہے جہاں سے معمول کے حالات میں دنیا کے تیل کی بہت بڑی مقدار گزرتی ہے۔
ایران اس راستے کو دباؤ کے ایک اہم ہتھیار کے طور پر استعمال کر سکتا ہے، جبکہ خلیجی ممالک اور عالمی منڈیوں کے لئے اس کا کھلا رہنا ناگزیر ہے۔
05 OVERSEAS POST | URDU PACKAGE کیا مصدقہ ہے، کیا ابھی ثابت نہیں؟ ⌄
مصدقہ:
- ایران نے عاصم منیر کے پیر کو تہران آنے کا اعلان کیا ہے۔
- پاکستانی ذرائع نے بھی دورے کی تصدیق کی ہے۔
- ایران-امریکا تنازع اور خطے کی سکیورٹی اس دورے کے بنیادی پس منظر میں ہیں۔
ابھی ثابت نہیں:
- ایسی کوئی مصدقہ اطلاع نہیں کہ عاصم منیر کوئی تیار شدہ امریکی ڈیل یا باضابطہ معاہدہ لے کر جا رہے ہیں۔
- یہ بھی واضح نہیں کہ تہران کسی فوری رعایت یا باضابطہ مذاکراتی فارمولے پر رضامند ہوگا۔
اسی لئے اب کسی ممکنہ معاہدے میں صرف ایران کا جوہری پروگرام یا امریکی پابندیاں کافی نہیں ہوں گی۔
مذاکرات میں ہرمز، بحری سلامتی، خلیجی ممالک کے خلاف حملوں کا خاتمہ، حوثیوں کا کردار اور امریکی اقتصادی دباؤ جیسے معاملات بھی شامل ہوں گے۔
کیا عاصم منیر کوئی ڈیل لے کر جا رہے ہیں؟
ابھی تک ایسی کوئی مصدقہ اطلاع نہیں کہ عاصم منیر کوئی تیار شدہ معاہدہ یا امریکی تجویز لے کر تہران جا رہے ہیں۔
زیادہ درست بات یہ ہے کہ یہ دورہ ایک امتحان ہے۔
اگر ایران ہرمز، خلیجی سلامتی اور علاقائی کشیدگی پر کوئی لچک دکھاتا ہے تو پاکستان کا ثالثی کردار مزید اہم ہو سکتا ہے۔
06 OVERSEAS POST | URDU PACKAGE آگے کیا ہوسکتا ہے؟ تین منظرنامے ⌄
لیکن اگر نئی امریکی پابندیوں کے جواب میں تہران نے عسکری یا بحری دباؤ بڑھایا تو اسلام آباد کے لئے سفارتی جگہ تیزی سے محدود ہو جائے گی۔
اس لئے اصل سوال صرف یہ نہیں کہ عاصم منیر تہران میں کیا کہیں گے۔
اصل سوال یہ ہے:
کیا پاکستان اب بھی تہران، واشنگٹن اور ریاض کے درمیان کوئی ایسا راستہ نکال سکتا ہے جو خطے کو نئی جنگ سے بچا سکے؟