براہ راست نشریات

کعبہ کی جعلی تصویر بے نقاب، اے آئی نے ڈیڑھ صدی پرانا ماضی گھڑ دیا

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
خانۂ کعبہ کی قدیم تصویر

خانۂ کعبہ کی ایک تصویر کو 1880 کی قدیم ترین تاریخی تصویر قرار دے کر سوشل میڈیا پر پھیلایا گیا۔
اسے معتبر بنانے کے لیے محمد صادق بیگ اور ان کی تصویر کشی سے متعلق درست معلومات استعمال کی گئیں۔
مگر تصویر کا کوئی اصل نسخہ، نیگیٹو، فہرستی نمبر یا مستند آرکائیول ریکارڈ موجود نہیں۔
تحقیق نے دکھایا کہ مصنوعی ذہانت اب صرف تصاویر نہیں بلکہ ایسا ماضی بھی تخلیق کرسکتی ہے جو کبھی وجود ہی نہیں رکھتا تھا۔

تصویر کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وہ کسی ایسے لکڑی کے صندوق سے نکالی گئی ہو جو تقریباً ڈیڑھ صدی سے بند پڑا تھا۔ 

خانۂ کعبہ منظر کے وسط میں، مطاف کے گرد قدیم عمارتیں اور دھندلے لباس میں ساکت کھڑے حجاج—جیسے اس زمانے کے سست رفتار کیمرے نے انہیں وقت کے کسی لمحے میں منجمد کردیا ہو۔

لوگوں کو یقین دلانے کے لیے تصویر کو کسی دستاویز کی ضرورت نہیں پڑی۔ 

سرمئی رنگ، مصنوعی خراشیں، دھندلے چہرے اور پرانی عمارتیں اسے انیسویں صدی کی ایک محفوظ رہ جانے والی تاریخی شہادت بنانے کے لیے کافی دکھائی دیں۔

مگر غالب امکان یہی ہے کہ مکہ مکرمہ نے یہ منظر کبھی دیکھا ہی نہیں۔

4645646465
جعلی تصویر — اے آئی سے تیار کردہ، سوشل میڈیا پر محمد صادق بیگ سے منسوب کی گئی یہ تصویر مستند تاریخی آرکائیوز میں موجود نہیں

سوشل میڈیا پر ’خانۂ کعبہ کی قدیم ترین تصویر‘ کے طور پر پھیلنے والی اس تصویر کو مصری فوجی افسر، انجینئر اور فوٹوگرافر محمد صادق بیگ سے منسوب کیا گیا اور دعویٰ کیا گیا کہ اسے 1880 میں کھینچا گیا تھا۔ 

لیکن نہ یہ تصویر ان کے محفوظ البمز میں موجود ہے اور نہ ان عجائب گھروں، کتب خانوں یا تاریخی ذخائر میں جہاں ان کا اصل کام محفوظ ہے۔

تصویر میں دکھائی دینے والی عمارتیں، چہرے اور انسانی جسم بھی ایک ایسے ماضی کی نشانیاں نہیں جو کسی پرانے کیمرے نے محفوظ کیا ہو، بلکہ ایسے مصنوعی منظر کا نتیجہ معلوم ہوتے ہیں جسے جدید الگورتھم نے ماضی کی شکل و صورت کی نقل کرتے ہوئے تخلیق کیا۔

6 اہم نکات +
1وائرل تصویر کو خانۂ کعبہ کی قدیم ترین تاریخی تصویر قرار دیا گیا تھا۔
2تصویر محمد صادق بیگ سے منسوب کی گئی، مگر ان کے کسی مستند البم یا آرکائیو میں موجود نہیں۔
3اگر تصویر 1880 کی ہوتی تو 2026 میں اس کی عمر تقریباً 146 سال بنتی، 130 سال نہیں۔
4عمارتوں، انسانی چہروں اور ہجوم میں کئی غیر فطری اور دہرائی گئی تفصیلات دکھائی دیتی ہیں۔
5محمد صادق بیگ نے 1861 میں مدینہ منورہ اور 1880 میں مکہ مکرمہ کی حقیقی تصاویر بنائی تھیں۔
6جعلی تصویر کو قابلِ اعتبار بنانے کے لیے حقیقی نام، درست تاریخیں اور مستند واقعات استعمال کیے گئے۔

اصل دھوکا صرف تصویر میں نہیں تھا بلکہ اس کے گرد انتہائی مہارت سے گھڑی گئی کہانی میں چھپا تھا۔ 

ایک حقیقی فوٹوگرافر، تصویر کشی کی حقیقی تکنیک، ایک مستند تاریخی نمائش اور درست معلومات کے چند ٹکڑے—یہ سب ایک غیر حقیقی تصویر کو معتبر بنانے کے لیے یکجا کردیے گئے۔

یہی چیز اسے ایک عام جعلی تصویر سے کہیں زیادہ خطرناک بناتی ہے۔

جب جھوٹ نے سچ کا لباس پہن لیا

یہ تصویر ڈیجیٹل دنیا میں ایسے تعارف کے ساتھ سامنے آئی کہ اسے ’خانۂ کعبہ کی سب سے خوب صورت اور قدیم ترین تصویر‘ قرار دیا گیا۔ 

بعدازاں یہ مختلف پلیٹ فارمز تک پہنچی اور اس کے ساتھ محمد صادق بیگ کا نام، 1880 کا سال اور ’گیلے شیشے کی پلیٹ‘ سے تصویر کشی کی تکنیک جوڑ دی گئی۔

جب تصویر دوبارہ وائرل ہوئی تو اسے فنکارانہ تخیل یا قدیم مکہ کے تصوراتی منظر کے طور پر پیش نہیں کیا گیا بلکہ ایک اصل تاریخی دستاویز قرار دیا گیا۔ 

بعض صارفین نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے اسے متحرک ویڈیو میں بھی بدل دیا۔ 

تصویر میں موجود حجاج چلنے لگے اور ایک جعلی جامد منظر بظاہر تاریخی دستاویزی فلم کا حصہ بن گیا۔

یہ کہانی پہلی نظر میں اس لیے قابلِ اعتبار معلوم ہوئی کہ محمد صادق بیگ واقعی موجود تھے۔ 

انہوں نے 1880 میں مکہ مکرمہ اور خانۂ کعبہ کی تصاویر بھی کھینچی تھیں، شیشے کی پلیٹیں استعمال کی تھیں اور 1881 میں وینس کی ایک بین الاقوامی جغرافیائی نمائش میں طلائی تمغہ بھی حاصل کیا تھا۔

فیکٹ باکس +
وائرل دعویٰخانۂ کعبہ کی قدیم ترین تصویر
منسوب فوٹوگرافرمحمد صادق بیگ
منسوب سال1880
2026 میں عمرتقریباً 146 سال بنتی ہے
حقیقی پیشہمصری فوجی افسر، انجینئر اور نقشہ نویس
اصل تکنیکگیلے شیشے کی پلیٹ سے تصویر کشی
پہلی دستاویزی مہم1861، الوجہ سے مدینہ منورہ
مکہ کی اہم تصاویر1880
بین الاقوامی اعزاز1881 میں وینس میں طلائی تمغہ
تحقیقی نتیجہ: وائرل تصویر کا کوئی مستند اصل نسخہ یا آرکائیول ریکارڈ موجود نہیں۔

لیکن ان میں سے کوئی حقیقت یہ ثابت نہیں کرتی کہ وائرل ہونے والی تصویر بھی انہی کی بنائی ہوئی ہے۔

اس کے ساتھ منسوب عمر ہی دعوے کی پہلی کمزوری بن گئی۔ 

اگر تصویر واقعی 1880 کی تھی تو 2026 میں اسے تقریباً 146 سال پرانا ہونا چاہیے تھا، نہ کہ 130 سال، جیسا کہ متعدد پوسٹس اور سرخیوں میں بتایا گیا۔

سب سے مضبوط ثبوت مصنوعی ذہانت شناخت کرنے والے سافٹ ویئر سے بھی نہیں ملتا۔ 

ایسے ٹولز غلط نتائج دے سکتے ہیں، اس لیے انہیں حتمی فیصلہ نہیں سمجھا جاسکتا۔ 

اصل ثبوت یہ ہے کہ اس تصویر کا کوئی مستند اصل نسخہ، شیشے کا نیگیٹو، آرکائیول ریکارڈ یا فہرستی نمبر موجود نہیں۔

اس کے برعکس محمد صادق بیگ کی حقیقی تصاویر دستخط، تاریخ اور محفوظ آرکائیول ریکارڈ کے ساتھ آج بھی موجود ہیں۔ 

ان کا وائرل تصویر سے موازنہ کیا جائے تو خانۂ کعبہ کی ساخت اور غلاف، مطاف کے گرد برآمدوں اور ستونوں، آس پاس کی عمارتوں اور لوگوں کی ترتیب میں نمایاں فرق دکھائی دیتا ہے۔

جعلی تصویر میں بعض چہرے اور جسم نامکمل ہیں، جبکہ کئی انسانی تفصیلات غیر فطری انداز میں دہرائی گئی ہیں۔ 

پیچیدہ ہجوم تخلیق کرتے وقت مصنوعی ذہانت سے بننے والی تصاویر میں اس نوعیت کی غلطیاں عام طور پر دیکھی جاتی ہیں۔

یوں یہ دعویٰ صرف اس لیے رد نہیں ہوا کہ کسی پروگرام نے تصویر کو مصنوعی قرار دیا، بلکہ اس لیے بھی کہ مستند تاریخ اور آرکائیوز نے اسے پہچاننے سے انکار کردیا۔

وہ شخص جو اپنا تاریک کمرہ بھی حجاز لے گیا

جس شخصیت کا نام جعلی تصویر کو معتبر بنانے کے لیے استعمال کیا گیا، اس کی حقیقی کہانی خود اس مصنوعی منظر سے کہیں زیادہ حیرت انگیز ہے۔

جنوری 1861 کے آخری دنوں میں مصری فوج کے ایک افسر محمد صادق قاہرہ سے حجاز روانگی کی تیاری کر رہے تھے۔ 

وہ فوجی انجینئر اور نقشہ نویس تھے اور ان کی ذمہ داری بحیرۂ احمر کی بندرگاہ الوجہ سے مدینہ منورہ تک راستوں، آبادیوں اور زمینی ساخت کا جائزہ لینا تھی۔

صحافتی تحقیق کا نتیجہ +
فیصلہ: تصویر گمراہ کن اور غیر مستند ہے

دستیاب آرکائیول، تاریخی اور بصری شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ زیرِ گردش تصویر محمد صادق بیگ کی اصل تصویر نہیں۔ یہ نہ ان کے محفوظ البمز میں ملتی ہے اور نہ اس کا کوئی اصل نیگیٹو، دستخط، فہرستی نمبر یا ادارہ جاتی ریکارڈ موجود ہے۔

مستند تاریخی تصاویر سے موازنے پر خانۂ کعبہ، غلاف، ستونوں، عمارتوں، چہروں اور ہجوم کی تشکیل میں واضح فرق سامنے آتا ہے۔ بعض انسانی تفصیلات غیر فطری اور دہرائی گئی ہیں، جو مصنوعی طور پر تیار کردہ تصاویر میں عام ہوتی ہیں۔

مجموعی شواہد اس نتیجے کی مضبوط تائید کرتے ہیں کہ وائرل منظر ایک حقیقی تاریخی تصویر نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت یا جدید بصری تیاری کا نتیجہ ہے۔

فاصلے ناپنے والے آلات اور نقشوں کے درمیان انہوں نے ایک ایسی ایجاد بھی اپنے سامان میں رکھی جو ابھی ابتدائی دور میں تھی: 

گیلے شیشے کی پلیٹ سے کام کرنے والا ایک بڑا اور بھاری کیمرا۔

یہ آج کا کیمرا نہیں تھا جسے اٹھا کر صرف بٹن دبایا جاسکے۔ 

شیشے کی پلیٹ کو کیمیائی مادوں سے تیار کرنا، نم حالت میں کیمرے کے اندر رکھنا اور خشک ہونے سے پہلے فوری طور پر اسے ڈیولپ کرنا پڑتا تھا۔ 

اس کا مطلب یہ تھا کہ فوٹوگرافر کو بھاری کیمرے، نازک شیشوں اور کیمیائی مادوں کے ساتھ ایک متحرک تاریک کمرہ بھی اپنے ہمراہ لے جانا پڑتا تھا۔

محمد صادق اور ان کے ساتھیوں نے الوجہ سے مدینہ منورہ تک تقریباً 418 کلومیٹر کا سفر 12 دن میں طے کیا۔ 

راستے میں خشک وادیاں، سنگلاخ پہاڑ اور دن رات کے درجۂ حرارت میں شدید فرق ان کے منتظر تھے۔

12 فروری 1861 کو جب مدینہ منورہ دور سے دکھائی دیا تو صادق نے اپنا کیمرا نکالا اور ایک ایسے لمحے کو محفوظ کرنا شروع کیا جو بعد میں خطے کی تصویری تاریخ کا حصہ بن گیا۔

انہوں نے مسجد نبوی اور گنبدِ خضرا کی تصاویر بنائیں، مدینہ منورہ کا وسیع منظر محفوظ کیا اور عمارتوں کے تفصیلی نقشے بھی تیار کیے۔ 

آرامکو ورلڈ کے تاریخی آرکائیو کے مطابق محمد صادق جزیرۂ عرب میں فوٹوگرافی اور جغرافیائی تحقیق کے ان فراموش کردہ معماروں میں شامل تھے جنہوں نے موجودہ سعودی عرب کی حدود میں معلوم اولین تصاویر بنائیں۔

5456456 scaled
محمد صادق بیگ کی 1880ء میں کھینچی گئی مسجد نبوی ﷺ کی تاریخی تصویر، پس منظر میں گنبدِ خضرا نمایاں ہے۔

تقریباً دو دہائیوں بعد وہ مصری قافلۂ حج کے ساتھ دوبارہ حجاز پہنچے۔ 

اس مرتبہ وہ محمل کے خزانچی تھے، مگر اپنا کیمرا اور تصویر کشی کا سامان ساتھ لانا نہیں بھولے۔

مکہ مکرمہ میں انہوں نے مسجد الحرام، خانۂ کعبہ، طواف کرتے حجاج، منیٰ، عرفات اور دیگر مقامات کی تصاویر بنائیں۔ 

مکہ کی گرمی اور حج کے ہجوم میں شیشے کی پلیٹوں اور فوری کیمیائی عمل کے ذریعے تصاویر بنانا آج کے قاری کے لیے ایک ناقابلِ تصور تکنیکی اور انسانی جدوجہد تھی۔

خلیلی کلیکشن برائے حج و فنونِ زیارت میں محمد صادق بیگ کی 1297 ہجری، یعنی 1880 میں کھینچی گئی خانۂ کعبہ کی ایک اصل تصویر محفوظ ہے۔ 

اس پر ان کے دستخط موجود ہیں، اسے کارڈ پر نصب کیا گیا ہے اور اس کا باقاعدہ آرکائیول نمبر، حجم اور تاریخی ریکارڈ دستیاب ہے۔

arc.pp 0211.04 1200x924 1
محمد صادق بیگ کی 1880 میں کھینچی گئی اصل اور مستند تصویر

یعنی یہ تصویر صرف پرانی دکھائی نہیں دیتی، بلکہ اس کے پاس ماضی سے اپنا تعلق ثابت کرنے والی مکمل دستاویزی زنجیر بھی موجود ہے۔

1881 میں محمد صادق بیگ نے مکہ، مدینہ اور مناسکِ حج کی تصاویر پر مشتمل اپنا البم وینس میں ہونے والی تیسری بین الاقوامی جغرافیائی کانفرنس میں پیش کیا، جہاں انہیں طلائی تمغے سے نوازا گیا۔ 

دنیا پہلی مرتبہ مقدس مقامات کو ایسے مسلمان کی آنکھ اور کیمرے سے دیکھ رہی تھی جو وہاں ایک حاجی، محقق اور دستاویز ساز کی حیثیت سے پہنچا تھا۔

گھنٹوں کی محنت سے چند سیکنڈ کے جھوٹ تک

محمد صادق بیگ کو مکہ مکرمہ کا ایک منظر محفوظ کرنے کے لیے طویل سفر، بھاری کیمرے، ٹوٹ جانے والی شیشے کی پلیٹوں، کیمیائی مادوں اور روشنی کے گہرے علم کی ضرورت پڑی۔

146 سال بعد ایک الگورتھم کو ایسا ماضی تخلیق کرنے کے لیے صرف چند سیکنڈ درکار ہوئے جو کبھی وجود ہی نہیں رکھتا تھا۔ 

پھر اس نے تصویر کو ماضی کی تمام ظاہری نشانیاں بھی عطا کردیں: دھندلا رنگ، خراشیں، غیر واضح چہرے اور خاموش کھڑے انسان۔

یہ کیوں اہم ہے؟ +

یہ معاملہ صرف ایک جعلی تصویر کا نہیں بلکہ مذہبی اور تاریخی یادداشت کے تحفظ کا ہے۔ مصنوعی ذہانت اب ایسے مناظر بنا سکتی ہے جو دیکھنے والے کو حقیقی ماضی کا حصہ محسوس ہوں، حالانکہ وہ کبھی وجود ہی نہیں رکھتے تھے۔

جب کسی مصنوعی تصویر کے ساتھ معروف فوٹوگرافر، درست تاریخ اور حقیقی تاریخی واقعہ جوڑ دیا جائے تو جھوٹ مزید قابلِ اعتبار بن جاتا ہے۔ ایسی تصویر سوشل میڈیا سے کسی مضمون، ویڈیو یا دستاویزی فلم تک پہنچ کر اجتماعی یادداشت میں حقیقت کی جگہ لے سکتی ہے۔

خطرہ صرف جعلی تصویر نہیں؛ خطرہ یہ ہے کہ مصنوعی ماضی اصل تاریخ کی جگہ لے لے۔

یہ تبدیلی صرف ٹیکنالوجی کی کہانی نہیں بلکہ تصاویر کے ساتھ انسانی تعلق کا مسئلہ بھی ہے۔ 

تاریخی تصویر صرف ہماری آنکھ سے مخاطب نہیں ہوتی، وہ ہمیں احساس دلاتی ہے کہ ہم ایک ایسے لمحے کے سامنے کھڑے ہیں جو دوبارہ کبھی واپس نہیں آئے گا۔

اور جب تصویر کا تعلق خانۂ کعبہ سے ہو تو تاریخی تجسس، عقیدت اور حرمین کی زیارت کی آرزو ایک ساتھ جمع ہوجاتے ہیں۔ 

پاکستان جیسے ملک میں، جہاں کروڑوں مسلمان حرمین سے گہرا روحانی تعلق رکھتے ہیں، ایسی تصویر کی جذباتی کشش مزید بڑھ جاتی ہے۔ 

نتیجتاً ماخذ تلاش کرنے سے پہلے شیئر کا بٹن دبا دیا جاتا ہے۔

مکہ مکرمہ میں ہونے والی وسیع تعمیراتی تبدیلیاں بھی عام قاری کے لیے غلطی پہچاننا مشکل بناتی ہیں۔ 

منظر جتنا موجودہ مکہ سے مختلف دکھائی دیتا ہے، بعض لوگ اسے اتنا ہی زیادہ قدیم اور مستند سمجھنے لگتے ہیں۔

اسی لیے تاریخی تصاویر میں جعل سازی روزمرہ کی جعلی خبر سے کہیں زیادہ خطرناک ہوسکتی ہے۔ 

غلط خبر چند دنوں میں بھلا دی جاتی ہے، مگر جعلی تاریخی تصویر ایک اکاؤنٹ سے دوسرے، پھر کسی مضمون، ویڈیو یا دستاویزی فلم تک پہنچ کر اجتماعی یادداشت میں حقیقت کے طور پر جگہ بنا سکتی ہے۔

امریکی لائبریری آف کانگریس میں تقریباً 1910 کی خانۂ کعبہ کی ایک تصویر محفوظ ہے۔ 

اس کے ساتھ فوٹوگرافر، مجموعے، نیگیٹو کی قسم، ڈیجیٹل نقل اور استعمال کے حقوق کی تفصیلات درج ہیں۔ 

یہ معلومات وائرل تصویر کے سحر کے مقابلے میں خشک محسوس ہوسکتی ہیں، مگر یہی تفصیلات ایک تاریخی دستاویز کو محض تصور سے الگ کرتی ہیں۔

service pnp matpc 04600 04658v
1910 کے لگ بھگ خانۂ کعبہ اور طواف کرتے حجاج کا مستند تاریخی منظر، تصویر: امریکن کالونی، لائبریری آف کانگریس

تصویر کی خوب صورتی سچائی کا ثبوت نہیں

ہر خوب صورت پرانی تصویر تاریخی دستاویز نہیں ہوتی، اور تاریخوں سے بھرپور ہر طویل تعارف بھی صداقت کی ضمانت نہیں۔ 

بعض اوقات تفصیلات کی کثرت ہی دھوکے کا اہم حصہ ہوتی ہے۔ 

کسی مصنوعی تصویر کے ساتھ معروف فوٹوگرافر، مخصوص سال اور مشکل تکنیک کا نام جوڑ دیا جائے تو بہت سے لوگ مزید سوال کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔

حقیقی تاریخی تصویر کو چند بنیادی سوالوں کے جواب دینا ہوتے ہیں: 

اس کا اصل نسخہ کہاں ہے؟ اسے کون سا ادارہ محفوظ رکھتا ہے؟ کیا اس پر دستخط یا فہرستی نمبر موجود ہے؟ کیا یہ اسی دور کے کسی البم، کتاب یا دستاویز میں شامل رہی ہے؟

جعلی تاریخی تصویر کیسے پہچانیں؟ +
تصویر کا اصل اور اولین ماخذ تلاش کریں۔
فوٹوگرافر کے نام اور تصویر کھینچنے کے سال کی تصدیق کریں۔
دیکھیں کہ تصویر کا کوئی آرکائیول یا فہرستی نمبر موجود ہے یا نہیں۔
چہروں، ہاتھوں، لباس، ستونوں اور عمارتوں کی غیر فطری تفصیلات پر غور کریں۔
ریورس امیج سرچ کے ذریعے معلوم کریں کہ تصویر پہلی مرتبہ کب اور کہاں شائع ہوئی۔
مستند عجائب گھروں اور کتب خانوں میں محفوظ تصاویر سے موازنہ کریں۔
صرف سوشل میڈیا کی تحریر کو تاریخی حوالہ تسلیم نہ کریں۔
اے آئی شناخت کرنے والے ٹولز کو معاون اشارہ سمجھیں، حتمی ثبوت نہیں۔
اہم اصول: اگر تصویر کا واحد ماخذ سوشل میڈیا پوسٹ ہو تو اسے تصدیق کے بغیر تاریخی دستاویز نہ سمجھیں۔

اگر کسی تصویر کا واحد ماخذ سوشل میڈیا کی ایک پوسٹ ہو تو وہ تاریخی دستاویز نہیں—چاہے وہ کتنی ہی قدیم کیوں نہ دکھائی دے۔

یہ معاملہ صرف ایک جعلی تصویر کے بے نقاب ہونے تک محدود نہیں۔ 

یہ اس دور کے لیے ابتدائی انتباہ ہے جس میں مصنوعی ذہانت ایک پورا ماضی تخلیق کرکے خاموشی سے ہماری اجتماعی یادداشت میں داخل کرسکتی ہے۔

محمد صادق بیگ نے مکہ کو ویسا محفوظ کیا جیسا انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ انہوں نے دشوار سفر، بھاری سامان اور روشنی کی سختیوں کو برداشت کیا تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک دیانت دار بصری شہادت چھوڑ سکیں۔

الگورتھم نے مکہ کو ویسا بنایا جیسا اس نے ماضی کا تصور کیا، پھر اپنی تخلیق کو سچ ثابت کرنے کے لیے محمد صادق بیگ کا نام مستعار لے لیا۔

ان دونوں تصویروں کے درمیان صحافت، آرکائیوز اور قاری کی ذمہ داری کھڑی ہے۔ 

مقدس مقامات کو ایسے زیادہ خوب صورت ماضی کی ضرورت نہیں جو کبھی وجود ہی نہیں رکھتا تھا، انہیں ایسی سچی یادداشت کی ضرورت ہے جو ان کی تاریخ کو الگورتھم کے تخلیق کردہ جھوٹ سے محفوظ رکھ سکے۔

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے