محمد مبشر انوار
سینئر تجزیہ نگار
امریکہ نئی پابندیوں کے ذریعے ایران کے مالیاتی نظام کو دباؤ میں لانا چاہتا ہے۔
ایران کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس متبادل مالی اور تجارتی راستے موجود ہیں۔
آبنائے ہرمز بھی تہران کے لئے معاشی اور تزویراتی طاقت کا نیا ذریعہ بن سکتا ہے۔
چین اور پاکستان کا کردار آئندہ مرحلے میں انتہائی اہم ہوگا۔
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اس وقت میدانِ جنگ کی بجائے پسِ پردہ ملاقاتوں اور سفارتی رابطوں پر زیادہ انحصار کر رہی ہے۔
کوشش یہی دکھائی دیتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح ان ملاقاتوں میں ایسی پیش رفت ہو جائے جس پر فریقین متفق ہو سکیں اور امن کی راہ ہموار ہو۔
تاہم اس کے لئے بنیادی شرط یہ ہے کہ فریقین کسی ایک قابلِ عمل معاہدے پر متفق ہوں۔
بظاہر فی الوقت ایسی کوئی واضح صورت دکھائی نہیں دیتی۔
جون میں پاکستان نے ثالثی کرتے ہوئے فریقین کو ایک مفاہمتی یادداشت پر رضامند تو کر لیا تھا، لیکن اب وہ یادداشت کس مرحلے میں ہے، یقین سے کچھ کہنا ممکن نہیں۔
یہ بھی واضح نہیں کہ فریقین اس پر کس حد تک عمل پیرا ہیں۔
◆ OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTمالیاتی شریان — اہم نکات ⌄
- ✓
مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی اب صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں؛ مالیاتی دباؤ، بحری راستے اور سفارت کاری فیصلہ کن محاذ بنتے جا رہے ہیں۔
- ✓
امریکہ نئی پابندیوں کے ذریعے ایران کے ڈیجیٹل اثاثوں، ٹیکنالوجی، سونے اور ترسیلاتِ زر کو دباؤ میں لانا چاہتا ہے۔
- ✓
ایران کا مؤقف ہے کہ پابندیاں اس کی مالیاتی شریان کو فیصلہ کن نقصان نہیں پہنچا سکتیں۔
- ✓
آبنائے ہرمز ایران کے لئے صرف سکیورٹی نہیں بلکہ معاشی اور تزویراتی طاقت کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
اعتماد کا فقدان انتہائی شدید ہے۔
ایران، بہرحال مجروح فریق کے طور پر، اس وقت تک امریکہ پر اعتبار کرنے کے لئے تیار دکھائی نہیں دیتا جب تک امریکہ اپنے عمل سے اپنی نیک نیتی ثابت نہ کرے۔ دوسری طرف امریکہ، عالمی طاقت ہونے کے زعم میں، یہ تصور کئے بیٹھا ہے کہ ایران کو وہ تمام شرائط من و عن تسلیم کر لینی چاہئیں جن کا واشنگٹن مطالبہ کر رہا ہے۔
مزید پڑھیں
ایرانی تحفظات اپنی جگہ اس لئے بھی وزن رکھتے ہیں کہ امریکہ نے دو مرتبہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے دوران ہی جارحیت کا ارتکاب کیا، جبکہ ایران نے دونوں مرتبہ اپنے حقِ دفاع کو استعمال کیا۔
ایرانی نقطۂ نظر کے مطابق ان محاذ آرائیوں نے تہران کے اعتماد میں اضافہ کیا اور اب ایران یہ تصور کر رہا ہے کہ میدانِ جنگ میں حاصل کی گئی برتری کو مذاکرات کی میز پر کھو دینا مناسب نہیں ہوگا۔
اس اعتماد کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ ایران نے انتہائی سخت حالات اور معاشی پابندیوں کے باوجود امریکہ جیسی عالمی طاقت کا بھرپور مقابلہ کیا۔
اگر امریکہ میدانِ جنگ میں ایران کو فیصلہ کن شکست دینے میں کامیاب ہو جاتا تو ممکن تھا کہ ایران کی صورتحال عراق سے مختلف نہ رہتی، امریکہ وہاں اپنے قدم جما چکا ہوتا، نظام کو اپنی مرضی کے مطابق ترتیب دینے کی کوشش کرتا، معدنی وسائل پر اثرورسوخ بڑھاتا اور ایرانی معیشت پر براہِ راست کنٹرول حاصل کرنے کی راہ ہموار کرتا۔
لیکن تاحال امریکہ کو ایسی کوئی فیصلہ کن کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔
i OVERSEAS POST | FACT BOXفیکٹ باکس: اصل کشمکش کہاں ہے؟ ⌄
اصولاً ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ امریکہ اپنی زمینی پوزیشن کا درست ادراک کرتا، معاملے کو ختم کرنے کی طرف بڑھتا، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد یقینی بناتا اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی راہ اختیار کرتا۔
لیکن محسوس یہ ہوتا ہے کہ واشنگٹن موجودہ صورتحال کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی بھی اب نئے سوالات کی زد میں ہے۔
امریکی میزبان ریاستوں کے اندر یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ اگر امریکہ اپنے فوجی اڈوں کو مکمل تحفظ فراہم کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہا ہے تو وہ میزبان ممالک کی سلامتی کی ضمانت کس حد تک دے سکتا ہے؟
ہرمز ایران کے لئے
صرف بحری راستہ
نہیں، بلکہ معاشی
اور تزویراتی طاقت
کا نیا ذریعہ
بن سکتا ہے
جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی بعض خلیجی ریاستوں نے امریکہ کو اپنی زمینی اور فضائی حدود ایران کے خلاف استعمال کرنے سے روکنے کی کوشش کی تھی۔ جن ریاستوں کی سرزمین یا تنصیبات ایران کے خلاف کارروائیوں کے لئے استعمال ہوئیں، ایران نے وہاں امریکی فوجی موجودگی یا متعلقہ تنصیبات کو نشانہ بنانے کی حکمتِ عملی اختیار کی۔ متحدہ عرب امارات کے حوالے سے بھی ایسی کارروائیوں اور امریکی فوجیوں کی موجودگی سے متعلق دعوے سامنے آئے، جن کے ذریعے تہران یہ پیغام دینا چاہتا تھا کہ خطے میں موجود امریکی عسکری ڈھانچہ اس کی نظر میں محفوظ نہیں۔
قارئین! آپ کے علم میں ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے بعد امریکہ نے مسلسل کوششیں جاری رکھیں کہ کسی طرح چند بحری جہازوں کو اپنے حفاظتی حصار میں، یا ایران کی اجازت اور اس کے طے کردہ راستے سے ہٹ کر، آبنائے ہرمز سے گزارا جائے تاکہ دنیا کو یہ باور کرایا جا سکے کہ امریکہ اس اہم بحری راستے پر اثرورسوخ رکھتا ہے اور جہازوں کی آمدورفت یقینی بنانے میں مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔
تاہم امریکی کوششوں اور ایرانی مزاحمت کے باعث آبنائے ہرمز عالمی طاقتوں کے درمیان ایک نئے آزمائشی میدان کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
دوسری جانب امریکی بحری ناکہ بندی اور نگرانی کے باعث جہازوں کی نقل و حرکت بھی متاثر ہوتی رہی۔
◎ OVERSEAS POST | ANALYSISآبنائے ہرمز کیوں فیصلہ کن ہے؟ ⌄
رپورٹ میں آبنائے ہرمز کو جنگ، تجارت اور مالیاتی اثرورسوخ کے سنگم کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
اس تمام کشمکش کے باوجود یہ دعوے بھی سامنے آئے کہ آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت مکمل طور پر بند نہیں ہوئی بلکہ ایران کی اجازت سے گزرنے والے بہت سے جہاز کھلے پانیوں میں پہنچ کر اپنی منزلوں کی جانب سفر جاری رکھتے رہے۔
اس وقت امریکہ کی خواہش بظاہر یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال 28 فروری سے پہلے والی حالت میں واپس آجائے اور جہازوں کی نقل و حرکت کسی ایک علاقائی طاقت کے کنٹرول کے بغیر جاری رہے۔
دوسری طرف ایران اور عمان آبنائے ہرمز کے انتظامات کے حوالے سے ملاقاتیں اور مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ممکن ہے کہ مستقبل قریب میں جہازرانی کے لئے باقاعدہ ضابطہ یا معاہدہ طے پا جائے، جس کے بعد آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے مشترکہ انتظام اور نگرانی میں زیادہ منظم انداز میں کھولی جائے۔
$ OVERSEAS POST | SANCTIONSامریکہ کا نیا مالیاتی دباؤ ⌄
ایرانی پارلیمنٹ اس حوالے سے ایک قانون بھی منظور کر چکی ہے جس کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے انتظامی اور سکیورٹی خدمات کی مد میں فیس وصول کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔
اگر ایسا نظام نافذ ہوتا ہے اور ایران و عمان کے درمیان آمدنی کی تقسیم طے پاتی ہے تو یہ ایران کے لئے ایک نیا ذریعۂ آمدن بن سکتا ہے، جو اس کے مالی استحکام میں اہم کردار ادا کرے گا۔
امریکہ کے لئے، تاہم، اس نوعیت کا انتظام قابلِ قبول دکھائی نہیں دیتا اور واشنگٹن اس کے خلاف مسلسل سیاسی اور معاشی دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
منجمد اثاثے اور نئی معاشی پابندیاں
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے مطابق ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی بھی ایک اہم معاملہ تھا، لیکن امریکہ اب تک ان اثاثوں کو مکمل طور پر بحال کرنے پر آمادہ دکھائی نہیں دیتا۔
اس کے بجائے ایسی تجاویز بھی زیرِ بحث رہی ہیں جن کے تحت ایران کو نقد رقوم واپس کرنے کی بجائے مخصوص مصنوعات یا اشیا فراہم کی جائیں۔
ایران اسے اپنے مالی حقوق کا متبادل تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں۔
CN OVERSEAS POST | CHINAچین کا کردار — اصل امتحان ⌄
چین کا مؤقف ہے کہ پابندیاں مسائل کا حل نہیں اور سفارت کاری کو جاری رہنا چاہئے۔
- 1
اگر چین ایران کے ساتھ مالی و تجارتی روابط برقرار رکھتا ہے تو امریکی پابندیوں کی تاثیر محدود ہو سکتی ہے۔
- 2
اگر واشنگٹن چینی اداروں پر ثانوی دباؤ بڑھاتا ہے تو معاملہ ایران سے نکل کر امریکہ-چین مالی کشمکش بن سکتا ہے۔
- 3
ایران کے لئے چین ممکنہ طور پر تجارت، ادائیگی اور سیاسی پشت پناہی کے متبادل راستے فراہم کر سکتا ہے۔
مزید برآں ایران کو دباؤ میں لانے کے لئے امریکہ کی جانب سے نئی معاشی پابندیوں کی دھمکیاں مسلسل دی جاتی رہی ہیں۔
مقصد یہ رہا ہے کہ ایران پر اتنا دباؤ بڑھایا جائے کہ وہ امریکی مطالبات کے سامنے جھکنے پر مجبور ہو جائے، لیکن تہران نے ان دھمکیوں کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔
اب نئی پابندیوں کا اعلان بھی سامنے آ چکا ہے۔
امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ کی جانب سے ایران کے ڈیجیٹل اثاثوں، ٹیکنالوجی، سونے اور ترسیلاتِ زر سے متعلق شعبوں پر مزید قدغنیں لگانے کی بات کی گئی ہے، جبکہ ایران کے ساتھ مالی تعاون کرنے والے ممالک اور اداروں کو بھی امریکی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
متحدہ عرب امارات بھی ایران کے ساتھ بعض مالی معاملات میں محتاط رویہ اختیار کر چکا ہے، جس سے تہران کے لئے مالیاتی مشکلات پیدا کرنے کی امریکی حکمتِ عملی کو تقویت مل سکتی ہے۔
چین کیا کرے گا؟
دوسری جانب چین واضح کر چکا ہے کہ پابندیاں مسائل کا مستقل حل نہیں اور تنازعات کے حل کے لئے سفارت کاری کو ترجیح دی جانی چاہئے۔
بیجنگ یہ تاثر بھی دے رہا ہے کہ وہ ایران کو مکمل تنہائی میں نہیں چھوڑے گا۔
PK OVERSEAS POST | DIPLOMACYپاکستان کہاں کھڑا ہے؟ ⌄
اہم نکتہ: پاکستان کی اہمیت اسی صورت بڑھے گی جب وہ فریقین کے درمیان اعتماد کی بحالی کے لئے قابلِ عمل راستہ فراہم کر سکے۔
یہاں اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایران نئی امریکی معاشی پابندیوں کی زد میں آتا ہے اور چین اس کی مالی یا تجارتی مدد جاری رکھتا ہے تو امریکہ چین کے ساتھ کیا رویہ اختیار کرے گا؟
چین نے ماضی میں بھی یک طرفہ امریکی پابندیوں کو ہمیشہ تسلیم نہیں کیا۔
لہٰذا ایران کے خلاف نئے مالیاتی دباؤ کے بعد بیجنگ کا اگلا لائحہ عمل مستقبل کی عالمی معاشی صف بندی کے لئے نہایت اہم ہوگا۔
پاکستان کی سفارت کاری
اسی دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل نے ایران کا دورہ کیا اور ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں خطے میں پائیدار امن، عدم استحکام کے مستقل خاتمے اور سفارتی راستے کھلے رکھنے پر گفتگو ہوئی۔
پاکستانی وزیرِ داخلہ کے مطابق یہ مذاکرات انتہائی مثبت رہے، جبکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے ممکنہ طریقوں پر بھی غور کیا گیا۔
↔ OVERSEAS POST | MONEY ROUTESایران کے ممکنہ متبادل مالی راستے ⌄
ایرانی قیادت نے پاکستانی امن کوششوں کو سراہتے ہوئے اسلام آباد کے مخلصانہ کردار کی ستائش کی، لیکن ساتھ ہی یہ مؤقف بھی دہرایا کہ ایران امریکی پابندیوں کو قبول نہیں کرتا اور نہ ہی ان پابندیوں کے سامنے جھکنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
امریکہ کا دعویٰ ہے کہ نئی پابندیوں کے ذریعے ایران کی مالیاتی شریان کو دباؤ میں لایا جائے گا، جبکہ تہران کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات اس کے مالیاتی نظام کو فیصلہ کن نقصان نہیں پہنچا سکتے۔
یہ اعتماد محض بیانیہ ہے یا ایران نے واقعی اپنے مالیاتی نظام کے لئے متبادل راستے تیار کر رکھے ہیں؟ یہ آنے والے دنوں میں واضح ہوگا۔
? OVERSEAS POST | EDITORIAL CHECKکیا واضح ہے، کیا مزید توثیق چاہتا ہے؟ ⌄
یہ کارڈ مضمون کے اندر موجود دعووں اور مؤقف کی ادارتی درجہ بندی ہے؛ اسے آزادانہ فیکٹ چیک نہ سمجھا جائے۔
ممکن ہے کہ ایران نے متبادل مالیاتی ذرائع، علاقائی تجارت، سونے، مقامی کرنسیوں، ڈیجیٹل نظام یا دوست ممالک کے تعاون پر مبنی کوئی نیا انتظام تیار کر لیا ہو۔
یہ بھی ممکن ہے کہ ایرانی مالیاتی نظام کی سانسیں بحال رکھنے کے لئے تہران کا سب سے بڑا انحصار اب اپنے دوست ممالک، بالخصوص چین اور دیگر علاقائی شراکت داروں پر ہو۔
اصل معرکہ اب صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ مالیاتی شریانوں، بحری راستوں، پابندیوں، تجارت اور سفارتی اتحادوں کے درمیان برپا ہے۔
دیکھنا یہ ہے کہ امریکہ ایران کی مالیاتی شریان پر دباؤ بڑھانے میں کامیاب ہوتا ہے یا ایران ایک بار پھر متبادل راستے تلاش کرکے اس دباؤ کو بے اثر کر دیتا ہے۔