رسول اللہﷺ کا پیغام لے کر حضرت عمرو بن العاصؓ عمان پہنچے تو شاہِ عمان سے ملاقات سے قبل ان کی گفتگو شاہ کے بھائی عبد سے ہوئی۔
سوال و جواب کے اس اہم مکالمے میں توحید، رسالت، نجاشی کے قبولِ اسلام، اسلامی اخلاق اور حکمرانی سے متعلق کئی اہم پہلو سامنے آئے۔
6/10
رسولِ اکرمﷺ نے عمان کے حکمران جیفر بن الجلندری اور ان کے بھائی عبد کے نام بھی دعوتِ اسلام کا مکتوب روانہ فرمایا۔
دونوں بھائی اس وقت عمان میں برسرِ اقتدار تھے۔
رسول اللہﷺ نے جلیل القدر صحابی حضرت عمرو بن العاصؓ کو اپنا ایلچی بنا کر عمان بھیجا اور سربمہر مکتوب ان کے حوالے فرمایا۔
حضرت عمرو بن العاصؓ عمان پہنچے تو سب سے پہلے شاہِ عمان کے بھائی عبد سے ملاقات ہوئی۔
عبد اپنے بھائی کی نسبت زیادہ نرم خو، متحمل مزاج اور دور اندیش تھے۔
حضرت عمروؓ نے انہیں بتایا:
’میں تمہارے پاس رسولِ اکرمﷺ کا ایلچی بن کر آیا ہوں اور میرے پاس شاہِ عمان کے نام رسول اللہﷺ کا سربمہر خط ہے۔‘
◆ OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTشاہِ عمان — اہم نکات ⌄
- ✓رسولِ اکرم ﷺ نے عمان کے حکمران جیفر بن الجلندری اور ان کے بھائی عبد کے نام دعوتِ اسلام کا مکتوب روانہ فرمایا۔
- ✓جلیل القدر صحابی حضرت عمرو بن العاصؓ کو ایلچی بنا کر عمان بھیجا گیا۔
- ✓شاہ سے پہلے حضرت عمروؓ کی ملاقات عبد سے ہوئی، جو نرم خو اور دور اندیش تھے۔
- ✓گفتگو کا مرکز توحید، رسالت، نجاشی کا قبولِ اسلام اور اسلامی اخلاق تھا۔
- ✓عبد اسلام کی تعلیمات سے متاثر ہوئے، مگر انہیں اپنے بھائی کی بادشاہت سے وابستگی کا خدشہ تھا۔
- ✓حضرت عمروؓ نے واضح کیا کہ اسلام قبول کرنے پر رسول اللہ ﷺ شاہِ عمان کی حکمرانی برقرار رکھیں گے۔
عبد نے جواب دیا:
’میرا بھائی مرتبے اور عمر، دونوں اعتبار سے مجھ سے مقدم ہے۔
میں آپ کو ان سے ملاقات کرا دوں گا، آپ خود ہی خط ان کے حوالے کر دیجئے گا، لیکن پہلے یہ بتائیے کہ آپ کس بات کی دعوت دیتے ہیں؟‘
حضرت عمروؓ نے فرمایا:
’ہم ایک اللہ کی طرف بلاتے ہیں جو تنہا ہے، جس کا کوئی شریک نہیں۔
ہم کہتے ہیں کہ اللہ کے سوا جن کی عبادت کی جاتی ہے، انہیں چھوڑ دو اور اس بات کی گواہی دو کہ محمدﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔‘
عبد نے پوچھا:
’آپ اپنی قوم کے ایک سردار کے بیٹے ہیں۔
یہ بتائیے کہ آپ کے والد نے کیا کیا؟ ان کا طرزِ عمل تو قابلِ اتباع ہونا چاہئے تھا۔‘
حضرت عمروؓ نے جواب دیا:
’وہ ایمان لائے بغیر وفات پا گئے۔
کاش انہوں نے اسلام قبول کیا ہوتا اور رسولِ اکرمﷺ کی تصدیق کی ہوتی۔
میں خود بھی انہی کے دین پر تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے اسلام کی ہدایت عطا فرمائی۔‘
◎ OVERSEAS POST | ANALYSISیہ مکالمہ کیوں اہم ہے؟ ⌄
حضرت عمرو بن العاصؓ اور عبد کے درمیان گفتگو دعوتِ اسلام کے چند بنیادی پہلو واضح کرتی ہے:
عبد نے پوچھا:
’آپ نے اس دین کی پیروی کب اختیار کی؟‘
حضرت عمروؓ نے جواب دیا:
’ابھی کچھ عرصہ قبل ہی، جب میں نجاشی کے پاس تھا۔
نجاشی بھی مسلمان ہو چکا ہے۔‘
عبد نے حیرت سے پوچھا:
’پھر اس کی قوم نے اس کی بادشاہت کے ساتھ کیا کیا؟‘
حضرت عمروؓ نے فرمایا:
’اس کی بادشاہی بدستور برقرار ہے اور قوم نے اس کی پیروی کی ہے۔‘
✓? OVERSEAS POST | STORY MAPمکالمے میں کیا سامنے آیا؟ ⌄
عبد کے سوالات
- اسلام کس بات کی دعوت دیتا ہے؟
- حضرت عمروؓ کے والد نے کیا راستہ اختیار کیا؟
- حضرت عمروؓ کب مسلمان ہوئے؟
- نجاشی کے اسلام کے بعد اس کی بادشاہت کا کیا ہوا؟
حضرت عمروؓ کے جوابات
- دعوت ایک اللہ اور رسالتِ محمد ﷺ کی طرف ہے۔
- انہوں نے بتایا کہ اللہ نے انہیں اسلام کی ہدایت دی۔
- نجاشی کے اسلام اور اس کی حکمرانی برقرار رہنے کا ذکر کیا۔
- اسلامی اخلاق اور ممنوعات کو واضح کیا۔
عبد نے مزید پوچھا:
’کیا راہبوں اور ربّیوں نے بھی اس کی پیروی کی ہے؟‘
حضرت عمروؓ نے اثبات میں جواب دیا۔
یہ سن کر عبد بہت حیران ہوئے اور بولے:
’اے عمروؓ! دیکھو کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں، کیونکہ آدمی کی کوئی خصلت جھوٹ سے زیادہ رسوا کن نہیں ہوتی۔‘
حضرت عمروؓ نے فرمایا:
’میں جھوٹ نہیں کہہ رہا اور نہ ہی ہمارے دین میں جھوٹ کی اجازت ہے۔‘
↳ OVERSEAS POST | TIMELINEدعوتِ عمان — واقعات کی ترتیب ⌄
- مرحلہ 1
- رسول اللہ ﷺ نے عمان کے دونوں حکمران بھائیوں کے نام مکتوب روانہ فرمایا۔
- مرحلہ 2
- حضرت عمرو بن العاصؓ سربمہر خط لے کر عمان پہنچے۔
- مرحلہ 3
- پہلی ملاقات عبد سے ہوئی، جنہوں نے دعوت کے بارے میں تفصیلی سوالات کئے۔
- مرحلہ 4
- حضرت عمروؓ نے نجاشی کے اسلام، ہرقل کے ردِعمل اور اسلامی تعلیمات کی وضاحت کی۔
- مرحلہ 5
- عبد متاثر ہوئے اور اپنے بھائی تک بات پہنچانے پر آمادہ ہوئے۔
عبد نے کہا:
’میں سمجھتا ہوں کہ ہرقل، شاہِ روم، کو نجاشی کے اسلام قبول کرنے کا علم نہیں ہوگا۔‘
حضرت عمروؓ نے جواب دیا:
’کیوں نہیں! نجاشی پہلے ہرقل کو خراج ادا کیا کرتا تھا، لیکن جب اس نے اسلام قبول کرلیا اور محمدﷺ کی تصدیق کردی تو اس نے کہا: خدا کی قسم! اب اگر ہرقل مجھ سے ایک درہم بھی مانگے گا تو میں اسے نہیں دوں گا۔
جب یہ بات ہرقل تک پہنچی تو اس کے بھائی یناق نے اس سے کہا:
کیا تم اپنے غلام، یعنی نجاشی، کو یوں ہی چھوڑ دو گے کہ وہ تمہیں خراج نہ دے اور تمہارے دین کے بجائے کسی دوسرے کا دین اختیار کرلے؟
ہرقل نے جواب دیا:
یہ ایک آدمی ہے جس نے ایک دین کو پسند کیا اور اسے اپنے لئے اختیار کرلیا، اب میں اس کا کیا کرسکتا ہوں؟
خدا کی قسم! اگر مجھے اپنی بادشاہت زیادہ عزیز نہ ہوتی تو میں بھی وہی کرتا جو نجاشی نے کیا ہے۔‘
- کوئی تبصرہ نہیں
- کوئی تبصرہ نہیں
عبد یہ باتیں سن کر مزید حیران ہوئے۔
انہوں نے پوچھا:
’تم لوگ کس بات کا حکم دیتے ہو اور کن چیزوں سے منع کرتے ہو؟‘
حضرت عمروؓ نے جواب دیا:
’ہم اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا حکم دیتے ہیں اور اس کی نافرمانی سے منع کرتے ہیں۔
نیکی اور صلہ رحمی کا حکم دیتے ہیں، جبکہ ظلم و زیادتی، زناکاری اور شراب نوشی سے روکتے ہیں۔
اسی طرح پتھروں، بتوں اور صلیب کی پرستش سے بھی منع کرتے ہیں۔‘
عبد ان باتوں سے بہت متاثر ہوئے اور بولے:
’یہ کتنی اچھی باتیں ہیں جن کی طرف تم لوگ دعوت دیتے ہو۔
اگر میرا بھائی بھی اس معاملے میں میری پیروی کرے تو ہم رسولِ اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور آپﷺ پر ایمان لے آتے، لیکن میرے بھائی کو اپنی بادشاہی بہت عزیز ہے۔
وہ اسے چھوڑ کر کسی کا تابع و فرمان نہیں بن سکتا۔‘
حضرت عمروؓ نے فرمایا:
’اگر وہ اسلام قبول کرلے تو رسول اللہﷺ اس کی بادشاہت کو برقرار رکھیں گے۔‘
بقیہ حصہ کل
- کوئی تبصرہ نہیں
- کوئی تبصرہ نہیں
- کوئی تبصرہ نہیں