براہ راست نشریات

مکاتیب: مقوقس نے اسلام قبول نہیں کیا، امیرِ بحرین ایمان لے آئے

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Muqawqis and Bahrain
Picture of عبد الستار خان

عبد الستار خان

اوورسیز پوسٹ

مقوقسِ مصر نے نامۂ نبوتﷺ کا احترام کیا اور تحائف روانہ کئے مگر اسلام قبول نہ کیا، جبکہ امیرِ بحرین المنذر بن ساوی نے دعوتِ اسلام قبول کرکے اپنی رعایا کے بارے میں رسولِ اکرمﷺ سے رہنمائی طلب کی۔

5/10

پھر مقوقس کے سامنے رسولِ اکرمﷺ کا مکتوبِ گرامی پیش کیا گیا، جس کا متن یہ تھا:

’بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ 

اللہ کے بندے اور اس کے رسول محمدﷺ کی طرف سے مقوقس، عظیمِ قبط کے نام۔ 

اس پر سلام جو ہدایت کی پیروی کرے۔

اما بعد! 

میں تمہیں اسلام کی دعوت دیتا ہوں۔ 

اسلام لاؤ، سلامت رہو گے۔ 

اسلام لاؤ، اللہ تعالیٰ تمہیں دوہرا اجر عطا فرمائے گا، لیکن اگر تم نے منہ موڑا تو تم پر اہلِ قبط کا بھی گناہ ہوگا۔

OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTمقوقس اور امیرِ بحرین — اہم نکات
  • رسولِ اکرم ﷺ نے مقوقس، عظیمِ قبط کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے حضرت حاطب بن ابی بلتعہؓ کو اپنا ایلچی بنا کر بھیجا۔
  • مقوقس نے نامۂ نبوت ﷺ کا احترام کیا، قاصد کی تکریم کی اور جواب و ہدایات روانہ کئے، مگر اسلام قبول نہیں کیا۔
  • سیرت کی روایات میں حضرت ماریہ قبطیہؓ، ان کی بہن سیرین اور خچر دُلدُل سمیت مختلف ہدایات کا ذکر ملتا ہے۔
  • امیرِ بحرین المنذر بن ساوی کو بھی رسولِ اکرم ﷺ نے اسلام کی دعوت دی اور انہوں نے اسلام قبول کرلیا۔
  • المنذر بن ساوی نے اہلِ بحرین کو خط پڑھ کر سنایا اور یہود و مجوس کے بارے میں رسولِ اکرم ﷺ سے رہنمائی طلب کی۔
  • جو لوگ یہودیت یا مجوسیت پر قائم رہے، ان کے بارے میں خط میں جزیہ کا حکم مذکور ہے۔
overseaspost.net

اے اہلِ قبط! ایک ایسی بات کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور ہم میں سے کوئی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر کسی دوسرے کو رب نہ بنائے۔ 

پس اگر وہ منہ موڑیں تو کہہ دو کہ گواہ رہو، ہم مسلمان ہیں۔‘

مزید پڑھیں

شاہِ مصر و اسکندریہ نے نامۂ نبوت کو بڑے احترام کے ساتھ وصول کیا۔ 

اسے ہاتھی دانت سے بنی ہوئی ایک ڈبیہ میں رکھا، اس پر مہر لگائی اور اپنی ایک لونڈی کے حوالے کردیا۔ 

اس کے بعد حضرت حاطب بن ابی بلتعہؓ سے مخاطب ہوکر کہا:

’میں نے اس معاملے میں غور کیا تو یہ دیکھا کہ وہﷺ کسی

 ناپسندیدہ بات کا حکم نہیں دیتے اور کسی پسندیدہ بات سے منع نہیں کرتے۔ 

میں دیکھتا ہوں کہ انﷺ کے ساتھ نبوت کی یہ نشانی بھی ہے کہ وہ پوشیدہ باتوں کو ظاہر کرتے اور سرگوشیوں کی خبر دیتے ہیں۔ 

میں اس معاملے میں مزید غور کروں گا۔‘

بعدازاں مقوقس نے اپنے کاتب کو بلوایا اور رسولِ اکرمﷺ کے نام ایک خط تحریر کرایا، جس کا متن یوں تھا:

’بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ 

محمد بن عبد اللہﷺ کے نام، مقوقس عظیمِ قبط کی طرف سے۔

آپﷺ پر سلام۔

اما بعد! میں نے آپﷺ کا خط پڑھا اور اس میں آپﷺ کی بیان کردہ باتوں اور دعوت کو سمجھا۔ 

مجھے معلوم تھا کہ ابھی ایک نبی کی آمد باقی ہے، البتہ میں سمجھتا تھا کہ وہ شام سے نمودار ہوگا۔

i OVERSEAS POST | FACT BOXمصر سے بحرین تک: فیکٹ باکس
مصر کا حکمران
مقوقس، عظیمِ قبط
مصر کے لیے قاصد
حضرت حاطب بن ابی بلتعہؓ
مقوقس کا ردِعمل
خط کا احترام، مگر اسلام قبول نہیں کیا
بحرین کا حکمران
المنذر بن ساوی العبدی
بحرین کے لیے قاصد
حضرت علاء بن حضرمیؓ
المنذر کا ردِعمل
اسلام قبول کیا
اہم سوال
بحرین میں موجود یہود اور مجوس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے؟
جواب
جو یہودیت یا مجوسیت پر قائم رہے ان پر جزیہ
overseaspost.net

میں نے آپﷺ کے قاصد کا اعزاز و اکرام کیا ہے۔ 

آپﷺ کی خدمت میں دو لونڈیاں بھیج رہا ہوں جنہیں قبطیوں میں بڑا مرتبہ حاصل ہے۔ 

اس کے ساتھ کپڑے بھی ارسال کررہا ہوں اور آپﷺ کی سواری کے لئے ایک خچر بھی بطور ہدیہ بھیج رہا ہوں۔

آپﷺ پر سلام۔‘

مقوقس نے اپنے خط میں اس سے زیادہ کچھ نہیں لکھا اور اسلام قبول نہیں کیا۔

جن دو لونڈیوں کو بطور ہدیہ روانہ کیا گیا تھا، ان میں سے ایک حضرت ماریہ قبطیہؓ تھیں۔ رسولِ اکرمﷺ نے انہیں اپنے حرم میں شامل فرمایا اور انہی کے بطن سے نبی کریمﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیمؓ پیدا ہوئے۔ 

دوسری خاتون حضرت ماریہؓ کی بہن سیرین تھیں، جنہیں حضرت حسان بن ثابتؓ کے حوالے کیا گیا۔

مقوقس کی طرف سے بھیجے گئے خچر کا نام ’دُلدُل‘ تھا۔ 

رسولِ اکرمﷺ نے اسے اپنی سواری کے لئے استعمال فرمایا اور یہ حضرت معاویہؓ کے زمانے تک موجود رہا۔

مورخین کا کہنا ہے کہ مقوقس کے روانہ کئے گئے تحائف میں سونا، چاندی، شہد، ایک گھوڑا اور ایک گدھا بھی شامل تھا۔

OVERSEAS POST | ANALYSISیہ خطوط کیوں اہم ہیں؟

مقوقس اور المنذر بن ساوی کے واقعات نبوی دعوت ﷺ کے تین اہم پہلو واضح کرتے ہیں:

عالمی دعوتپیغامِ اسلام عرب سے باہر حکمرانوں اور ریاستی مراکز تک پہنچ رہا تھا۔
مختلف ردِعملمقوقس نے سفارتی احترام دکھایا، جبکہ المنذر بن ساوی نے اسلام قبول کیا۔
ریاستی رہنمائیبحرین کے معاملے میں مسلمانوں، یہود اور مجوس کے بارے میں عملی انتظامی رہنمائی بھی سامنے آئی۔
اصل اہمیت: یہ خطوط بتاتے ہیں کہ رسولِ اکرم ﷺ کی دعوت صرف انفرادی تبلیغ نہیں رہی تھی، بلکہ مختلف علاقوں کے حکمرانوں کے ساتھ باقاعدہ مراسلت اور ریاستی سطح کی رہنمائی تک پہنچ چکی تھی۔
overseaspost.net

جب رسولِ اکرمﷺ کے پاس مقوقس کا خط پہنچا تو آپﷺ نے فرمایا:

’یہ چیزیں بھیج کر وہ اپنی بادشاہی کو محفوظ بنانا چاہتا ہے، حالانکہ اس کی بادشاہی ختم ہونے والی ہے۔‘

امیرِ بحرین کے نام مکتوبِ نبویﷺ

ابن سید الناس کے مطابق رسولِ اکرمﷺ نے امیرِ بحرین، المنذر بن ساوی العبدی کے نام بھی مکتوب روانہ فرمایا۔ 

آپﷺ نے حضرت علاء بن حضرمیؓ کو اپنا ایلچی بنا کر ان کی طرف بھیجا۔

رسولِ اکرمﷺ کے اس مکتوبِ گرامی کی تاریخِ ارسال کے بارے میں مؤرخین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ 

بعض نے اسے صلحِ حدیبیہ کے بعد کا واقعہ قرار دیا ہے، جبکہ بعض کا خیال ہے کہ یہ خط غزوۂ تبوک سے واپسی کے بعد رجب 9 ہجری میں ارسال کیا گیا تھا۔

✓? OVERSEAS POST | VERIFIEDکیا مضبوط روایت ہے، کہاں احتیاط ضروری ہے؟

مصدقہ معلومات

  • حضرت حاطب بن ابی بلتعہؓ کو مقوقس کے پاس مکتوب دے کر بھیجنے کا واقعہ قدیم سیرت و حدیثی مصادر میں منقول ہے۔
  • مقوقس کی طرف سے قاصد کی تکریم اور ہدایات بھیجنے کا ذکر متعدد تاریخی روایات میں ملتا ہے۔
  • المنذر بن ساوی کے اسلام قبول کرنے اور اہلِ بحرین کو دعوت سنانے کا واقعہ سیرت کی معروف کتابوں میں مذکور ہے۔
  • بحرین میں یہود و مجوس سے متعلق جزیے کا حکم رسولِ اکرم ﷺ کے جوابی مکتوب میں منقول ہے۔

ادارتی احتیاط

  • مقوقس کے ہدایات کی مکمل فہرست تمام تاریخی مصادر میں یکساں نہیں؛ مختلف روایات میں جزوی فرق پایا جاتا ہے۔
  • حضرت ماریہ قبطیہؓ سے متعلق بعض تفصیلات تاریخی روایات سے آتی ہیں، اس لیے انہیں اسی احتیاط کے ساتھ بیان کرنا چاہئے۔
  • مکتوبِ بحرین کی تاریخِ ارسال میں اختلاف ہے؛ بعض مؤرخین اسے صلحِ حدیبیہ کے بعد اور بعض بعد کے دور سے جوڑتے ہیں۔
  • مقوقس کے بارے میں منقول بعض اقوال کی سند و الفاظ مختلف مصادر میں مختلف ہیں، اس لیے قطعی نسبت سے گریز بہتر ہے۔

ادارتی اصول: جہاں تفصیلات میں تاریخی اختلاف ہو وہاں اسے واضح طور پر روایت یا مؤرخین کے بیان کے طور پر پیش کیا جائے، قطعی حقیقت کے طور پر نہیں۔

overseaspost.net

تاہم تاریخ میں اس اختلاف کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ رسولِ اکرمﷺ نے امیرِ بحرین کے نام ایک سے زیادہ خطوط روانہ فرمائے۔ 

پہلے خط کا جواب موصول ہونے کے بعد آپﷺ نے انہیں دوسرا مکتوب بھی ارسال فرمایا۔ 

اس لئے ممکن ہے کہ پہلا خط صلحِ حدیبیہ کے بعد اور دوسرا غزوۂ تبوک سے واپسی کے بعد بھیجا گیا ہو۔

الواقدی نے عکرمہ سے نقل کیا ہے کہ المنذر بن ساوی کے نام روانہ کیا گیا مکتوب حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کے پاس محفوظ تھا۔ 

حضرت ابن عباسؓ کی وفات کے بعد یہ خط ان کے سامان سے دریافت ہوا اور عکرمہ کے مطابق انہوں نے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔

رسولِ اکرمﷺ کی جانب سے المنذر کے نام بھیجے گئے پہلے مکتوب کا

 مکمل متن دستیاب نہیں ہوسکا، تاہم معلوم ہوتا ہے کہ اس خط میں آپﷺ نے امیرِ بحرین المنذر بن ساوی کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تھی۔ 

انہوں نے دعوت قبول کی اور مشرف بہ اسلام ہوگئے۔

1′ OVERSEAS POST | QUICK READایک منٹ میں پوری کہانی

رسولِ اکرم ﷺ نے مختلف حکمرانوں کو اسلام کی دعوت دیتے ہوئے مقوقسِ مصر کے نام بھی مکتوب روانہ فرمایا۔ حضرت حاطب بن ابی بلتعہؓ یہ خط لے کر پہنچے۔ مقوقس نے مکتوب اور قاصد کا احترام کیا، جواب دیا اور ہدایات بھیجیں، لیکن اسلام قبول نہیں کیا۔

روایات کے مطابق انہی ہدایات میں حضرت ماریہ قبطیہؓ اور ان کی بہن سیرین بھی شامل تھیں۔ حضرت ماریہؓ بعد میں رسولِ اکرم ﷺ کے حرم میں شامل ہوئیں اور ان کے بطن سے حضرت ابراہیمؓ پیدا ہوئے۔

دوسری طرف امیرِ بحرین المنذر بن ساوی نے دعوتِ اسلام قبول کی۔ انہوں نے اہلِ بحرین کو پیغام سنایا اور وہاں موجود یہود و مجوس کے بارے میں رسولِ اکرم ﷺ سے رہنمائی مانگی۔

نتیجہ: مصر اور بحرین کے یہ دو واقعات ایک ہی نبوی دعوت ﷺ پر دو مختلف سیاسی ردِعمل دکھاتے ہیں—ایک طرف احترام مگر عدمِ قبول، دوسری طرف قبولِ اسلام اور عملی ریاستی رہنمائی۔

overseaspost.net

اسلام قبول کرنے کے بعد المنذر بن ساوی نے رسولِ اکرمﷺ کی خدمت میں ایک جوابی خط روانہ کیا۔ 

اس کے متن کا ترجمہ مولانا صفی الرحمن مبارک پوری نے اپنی معروف کتاب ’الرحیق المختوم‘ میں نقل کیا ہے۔

المنذر بن ساوی نے لکھا:

’اما بعد! اے اللہ کے رسولﷺ! میں نے آپﷺ کا خط اہلِ بحرین کو پڑھ کر سنادیا۔ 

بعض لوگوں نے اسلام کو محبت اور پاکیزگی کی نظر سے دیکھا اور اس کے حلقۂ بگوش ہوگئے، جبکہ بعض نے اسے پسند نہیں کیا۔

میری سرزمین میں یہود اور مجوسی بھی آباد ہیں، لہٰذا آپﷺ اس بارے میں اپنا حکم صادر فرمائیں کہ میں کیا کروں۔‘

امیرِ بحرین کے اس خط کے جواب میں رسولِ اکرمﷺ نے انہیں ایک اور مکتوب روانہ فرمایا، جس کا متن یہ تھا:

’بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ 

محمد رسول اللہﷺ کی طرف سے المنذر بن ساوی کے نام۔

تم پر سلام ہو۔

میں تمہارے ساتھ اس اللہ تعالیٰ کی حمد کرتا ہوں جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔

OVERSEAS POST | COMPARISONمقوقس بمقابلہ المنذر بن ساوی

مقوقس — مصر

  • رسولِ اکرم ﷺ کا مکتوب احترام سے وصول کیا۔
  • حضرت حاطب بن ابی بلتعہؓ کی تکریم کی۔
  • جوابی خط اور ہدایات روانہ کئے۔
  • اسلام کی دعوت کو سمجھا، مگر قبول نہیں کیا۔
  • اس کا ردِعمل سفارتی احترام تک محدود رہا۔

المنذر بن ساوی — بحرین

  • رسولِ اکرم ﷺ کی دعوتِ اسلام قبول کی۔
  • اہلِ بحرین کو نبوی مکتوب پڑھ کر سنایا۔
  • اپنی رعایا کے مختلف مذہبی گروہوں کے بارے میں رہنمائی مانگی۔
  • مسلمانوں کو ان کے حال پر برقرار رکھنے کی ہدایت ملی۔
  • یہود و مجوس کے لیے جزیے کا حکم بیان ہوا۔

ایک ہی نبوی دعوت ﷺ کے دو مختلف نتائج سامنے آئے: مصر میں احترام مگر عدمِ قبول، جبکہ بحرین میں قبولِ اسلام اور عملی ریاستی رہنمائی۔

overseaspost.net

اما بعد! میں تمہیں اللہ عزوجل کی یاد دلاتا ہوں۔ 

یاد رکھو کہ جو شخص بھلائی اور خیر خواہی کرے گا، وہ اپنے ہی لئے بھلائی کرے گا۔ 

جو شخص میرے قاصدوں کی اطاعت اور ان کے حکم کی پیروی کرے گا، اس نے میری اطاعت اور پیروی کی، اور جو ان کے ساتھ خیر خواہی کرے گا، اس نے میرے ساتھ خیر خواہی کی۔

میرے قاصدوں نے تمہاری تعریف کی ہے اور میں نے تمہاری قوم کے بارے میں تمہاری سفارش قبول کرلی ہے۔ 

لہٰذا مسلمان جس حال میں ایمان لائے ہیں، انہیں اسی حال پر رہنے دو۔

میں نے خطاکاروں کو معاف کردیا ہے، لہٰذا ان سے بھی قبول کرو۔ 

جب تک تم اصلاح کی راہ اختیار کئے رہو گے، ہم تمہیں تمہارے منصب اور عمل سے معزول نہیں کریں گے۔ 

اور جو شخص یہودیت یا مجوسیت پر قائم رہے، اس پر جزیہ ہے۔‘

فکر و نفس کی تربیت، دین و دنیا کی رہنمائی، کلک کریں

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے