ایک نئی سائنسی تحقیق نے اس راز سے پردہ اٹھایا ہے کہ خواتین مردوں کے مقابلے میں ’پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر‘ (PTSD) کا شکار کیوں زیادہ ہوتی ہیں۔
مزید پڑھیں
ورجینیا ٹیک یونیورسٹی کے ماہرین کے مطابق خواتین کا دماغ خوف کی یادداشتیں محفوظ کرنے کے لیے ایک منفرد مالیکیولر عمل اپناتا ہے۔
تحقیقی جریدے ’بیہیویئرل برین ریسرچ‘ میں شائع رپورٹ کے مطابق خواتین میں صدمے کے بعد ذہنی مسائل کا تناسب مردوں سے دگنا ہے۔
محققین نے واضح کیا ہے کہ یہ فرق صدمے کے واقعات میں اضافے کی وجہ سے نہیں بلکہ دماغی حیاتیاتی فرق کی مرہونِ منت ہے۔
تحقیق کا بنیادی طریقہ کار
ماہرین نے تجربات کے دوران دماغ کے دو اہم حصوں یعنی ’ہپوکیمپس‘ اور ’امیگڈالا‘ کا بغور جائزہ لیا۔
ہپوکیمپس انسانی تجربات کو جگہوں سے منسلک کرنے کا ذمہ دار ہے، جبکہ امیگڈالا جذبات اور خوف کو کنٹرول کرتا ہے۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ خواتین میں مخصوص مالیکیولز کا کردار مردوں سے مختلف ہے۔
مالیکیولر تبدیلیوں کا انکشاف
تحقیق کے مرکزی محقق ٹموتھی جاروم نے بتایا کہ خواتین کے دماغ میں ’پولی یوبیکیوٹن کے 27‘ (K27) نامی مالیکیولر مارکر پایا جاتا ہے۔
یہ مارکر خواتین کے دماغ میں خوف کی یادداشتیں بناتے وقت متحرک ہوتا ہے، جبکہ مردوں کے دماغ میں ایسی کوئی تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی۔
علاج کے لیے نئے نقطہ نظر کی ضرورت
اس دریافت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مردوں اور خواتین کے سیکھنے اور یادداشت محفوظ کرنے کے طریقے ایک جیسے نہیں ہیں۔
لہذا پی ٹی ایس ڈی یا یادداشت کے دیگر مسائل کے علاج کے لیے ایک ہی طریقہ کار اپنانا ناکافی ہو سکتا ہے جبکہ صنفی بنیادوں پر علاج بھی ضروری ہے۔
اے سی اے ٹی 1 پروٹین اور الزائمر
محققین نے دریافت کیا کہ ’کے 27‘ کا تعلق ’اے سی اے ٹی 1‘ نامی پروٹین سے بھی ہے جو ہپوکیمپس میں یادداشت بننے کے عمل کے دوران متحرک ہوتا ہے۔
یہ پروٹین الزائمر کے مرض میں بھی ملوث پایا گیا ہے، جس سے یادداشت کے ضیاع کے مزید پیچیدہ پہلو سامنے آئے ہیں۔
یہ تحقیق یادداشت کی خرابیوں، بشمول الزائمر اور ڈیمنشیا کے علاج میں اہم ثابت ہو سکتی ہے۔
ماہرین اب ان مالیکیولر میکانزم کو سمجھ کر ایسی نئی ادویات اور علاج متعارف کرانے پر کام کر رہے ہیں جو خواتین اور مردوں کی الگ الگ حیاتیاتی ضروریات کے مطابق تیار کی جا سکیں۔