تریتا پارسی کے مطابق سعودی عرب ایران کو تنہا رکھنے کے بجائے علاقائی نظام میں شامل کرنے کی کوشش کر رہا ہے
فارن پالیسی میں شائع تجزیے میں تریتا پارسی نے کہا ہے کہ خلیجی ممالک ایران کو تنہا رکھنے کے بجائے اسے علاقائی اقتصادی اور سلامتی نظام میں شامل کرنے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔
سعودی عرب اس ممکنہ تبدیلی کا مرکزی کردار بن سکتا ہے، تاہم اسرائیل اور فلسطین کا مسئلہ نئے نظام کی کامیابی کے لیے سب سے بڑا امتحان ہوگا۔
امریکی جریدے فارن پالیسی میں شائع ہونے والے اپنے تازہ تجزیے میں ایرانی نژاد امریکی دانشور تریتا پارسی نے مشرق وسطیٰ میں ابھرتے ہوئے ایک ایسے علاقائی نظام کی تصویر پیش کی ہے جس کا مرکزی کردار امریکہ یا اسرائیل نہیں بلکہ سعودی عرب اور خلیجی ممالک ادا کر سکتے ہیں۔
پارسی کے نزدیک اس تبدیلی کی سب سے غیر متوقع بات یہ ہے کہ ایران کے ساتھ شدید فوجی کشیدگی کے باوجود عرب ممالک تہران کو مزید تنہا کرنے کے بجائے اسے نئے علاقائی اقتصادی اور سلامتی کے نظام میں شامل کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
پارسی کے مضمون کا عنوان ’اسرائیل نئے سعودی–ایرانی نظام کا حصہ ہونا چاہئے‘ ہے، جو فارن پالیسی میں شائع ہوا۔
مزید پڑھیں
مضمون کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ خلیج میں پرانے امریکی سکیورٹی نظام کی کمزوریاں نمایاں ہونے کے بعد علاقائی ممالک اپنے تحفظ کی ذمہ داری خود سنبھالنے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔
تاہم مصنف خبردار کرتا ہے کہ ایران کو نظام میں شامل کرکے اسرائیل کو مکمل طور پر باہر رکھنے سے خطے میں پائیدار امن کے بجائے محض ایک نئی قسم کی تقسیم پیدا ہوسکتی ہے۔
توقعات کے برعکس تبدیلی
ایران کی جانب سے خلیجی عرب ریاستوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد عام خیال تھا کہ سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ممالک اسرائیل کے مزید قریب ہوجائیں گے۔
اسرائیل طویل عرصے سے یہ دلیل دیتا آیا ہے کہ ایران کے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے عرب ریاستوں کو اس کے ساتھ مشترکہ دفاعی محاذ قائم کرنا چاہئے۔
◆OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTخلیج کا نیا نظام — اہم نکات⌄
- ✓تریتا پارسی کے مطابق خلیجی ممالک ایران کو مزید تنہا کرنے کے بجائے اسے علاقائی اقتصادی اور سلامتی نظام میں شامل کرنے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
- ✓ان کے تجزیے میں سعودی عرب کو اس ممکنہ تبدیلی کی مرکزی محرک قوت قرار دیا گیا ہے۔
- ✓مجوزہ علاقائی بات چیت میں عدم جارحیت، بحری سلامتی اور اعتماد سازی کے اقدامات شامل ہوسکتے ہیں۔
- !پارسی نے ایران کی تنہائی ختم کرکے اسرائیل کو الگ تھلگ کرنے والے مخالفِ ابراہام اتحاد کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔
- ◆ان کی تجویز میں اسرائیل کی شمولیت قبضے کے خاتمے اور 1967 کی سرحدوں پر خودمختار فلسطینی ریاست سے مشروط ہے۔
لیکن پارسی کے مطابق عملاً اس کے برعکس صورت حال سامنے آرہی ہے۔
خلیجی ممالک میں یہ سوچ مضبوط ہوئی ہے کہ ایران کو پابندیوں، فوجی دباؤ اور سفارتی تنہائی کے ذریعے قابو کرنے کی سابق حکمت عملی جنگ روکنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔
اس کشیدگی نے امریکی دفاعی چھتری کی حدود بھی آشکار کردیں، کیونکہ بھاری امریکی فوجی موجودگی کے باوجود خلیجی ممالک کے شہروں، تنصیبات اور بحری راستوں کو مکمل تحفظ فراہم نہیں کیا جاسکا۔
اسی لیے اب ایک ایسی حکمت عملی زیر غور ہے جس میں ایران کو مستقل دشمن سمجھنے کے بجائے اقتصادی مفادات اور سلامتی کے معاہدوں کے ذریعے ذمہ دار علاقائی شراکت دار بنانے کی کوشش کی جائے۔
سعودی عرب کا مرکزی کردار
پارسی کی نظر میں اس تبدیلی کی قیادت سعودی عرب کر رہا ہے۔
ریاض مبینہ طور پر خلیج تعاون کونسل کے 6 ممالک اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی تیاری کررہا ہے۔
ممکنہ مذاکرات میں عدم جارحیت کا معاہدہ، بحری سلامتی، باہمی اعتماد سازی اور وزارتی سطح پر مستقل رابطوں کا نظام شامل ہوسکتا ہے۔
یہ تجویز 1975 کے ہیلسنکی معاہدے سے متاثر بتائی جاتی ہے، جس کے ذریعے سرد جنگ کے دوران مغربی ممالک اور سوویت بلاک نے اختلافات ختم کیے بغیر فوجی تصادم کا خطرہ کم کرنے کے اصول طے کئے تھے۔
فنانشل ٹائمز نے بھی رپورٹ کیا تھا کہ سعودی عرب ایران کے ساتھ اسی طرز کے علاقائی عدم جارحیت معاہدے کے امکان پر اتحادی ممالک سے بات چیت کر رہا ہے۔
iOVERSEAS POST | FACT BOXنئے خلیجی نظام کا فیکٹ باکس⌄
- اصل مضمون
- Israel Belongs in the New Saudi-Iranian Order
- مصنف
- تریتا پارسی
- جریدہ
- فارن پالیسی
- تاریخِ اشاعت
- 6 جولائی 2026
- مرکزی علاقائی کردار
- سعودی عرب اور خلیجی ممالک
- مجوزہ سلامتی نمونہ
- ہیلسنکی معاہدے، او ایس سی ای اور آسیان سے متاثر جامع علاقائی نظام
- اسرائیل کے لیے بنیادی شرط
- قبضے کا خاتمہ اور 1967 کی سرحدوں پر خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام
قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے بھی کہا تھا کہ علاقائی ممالک ایران کے ساتھ ایک مشترکہ سکیورٹی فریم ورک قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جسے مستقبل میں اقتصادی تعاون سے منسلک کرکے خطے میں استحکام لایا جاسکتا ہے۔
سعودی عرب کے لیے یہ راستہ کئی لحاظ سے اہم ہے۔
مسلسل جنگ، میزائل حملے، آبنائے ہرمز میں خلل اور توانائی کی تنصیبات کو لاحق خطرات نہ صرف قومی سلامتی بلکہ وژن 2030، غیرملکی سرمایہ کاری، سیاحت اور بڑے ترقیاتی منصوبوں کو بھی متاثر کرسکتے ہیں۔
اس لیے ریاض کے مفاد میں ہے کہ عسکری محاذ آرائی کو محدود کرکے علاقائی مقابلے کو سفارت کاری اور اقتصادی ترقی کی طرف منتقل کیا جائے۔
کیا امریکی بالادستی کا دور ختم ہو رہا ہے؟
پارسی کا کہنا ہے کہ ابھرتا ہوا نظام واشنگٹن کے اس روایتی مؤقف کو چیلنج کرتا ہے کہ امریکی فوجی بالادستی کے بغیر مشرق وسطیٰ انتشار کا شکار ہوجائے گا۔
ان کے مطابق اگر علاقائی ممالک ایران کے ساتھ براہ راست سلامتی کے انتظامات تشکیل دے لیتے ہیں تو وہ اپنے تحفظ کا بوجھ زیادہ حد تک خود اٹھا سکیں گے۔
◎OVERSEAS POST | ANALYSISیہ تجزیہ کیوں اہم ہے؟⌄
تریتا پارسی کا مضمون خلیجی سلامتی کو بیرونی فوجی تحفظ سے نکال کر علاقائی سفارت کاری اور مشترکہ ذمہ داری کے زاویے سے دیکھتا ہے:
تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ خلیجی ممالک فوری طور پر امریکہ سے تعلق ختم کردیں گے۔ زیادہ حقیقت پسندانہ امکان یہ ہے کہ وہ امریکی دفاعی تعاون برقرار رکھتے ہوئے اپنی سلامتی کے لیے متبادل علاقائی اور بین الاقوامی شراکت دار بھی تلاش کریں گے۔
یوں مستقبل کا نظام مکمل امریکی انخلا کے بجائے طاقت کے کئی مراکز پر قائم ہوسکتا ہے۔
ایران کی جگہ اسرائیل کو تنہا کرنے کا خطرہ
پارسی ایران کو علاقائی نظام میں شامل کرنے کی حمایت کرتے ہیں، لیکن انہیں خدشہ ہے کہ نیا بندوبست ایران کی تنہائی ختم کرکے اسرائیل کو تنہا کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
ان کے الفاظ میں خطہ ’ابراہام معاہدوں‘ کی جگہ ایک ایسا مخالف اتحاد تشکیل دے سکتا ہے جس کا بنیادی مقصد اسرائیل کو روکنا ہو۔
مصنف تسلیم کرتا ہے کہ غزہ میں فلسطینیوں کی ہلاکتوں، اسرائیلی توسیع پسندانہ پالیسیوں اور مختلف علاقائی کارروائیوں نے اسرائیل کے خلاف شدید غصہ پیدا کیا ہے۔
لیکن اس کے خیال میں صرف دباؤ اور تنہائی اسرائیلی حکومت کی پالیسی تبدیل نہیں کرسکیں گے، جب تک اسرائیل کو شرائط پوری کرنے کے بعد علاقائی نظام میں شمولیت کا واضح راستہ نہ دیا جائے۔
فلسطینی ریاست داخلے کی قیمت
پارسی ایک ایسے جامع سکیورٹی نظام کی تجویز پیش کرتے ہیں جو یورپ کی تنظیم برائے سلامتی و تعاون اور آسیان جیسے علاقائی اداروں سے متاثر ہو۔
اس نظام میں سعودی عرب، خلیجی ریاستیں، ایران اور دوسرے علاقائی ممالک شامل ہوں، جبکہ اسرائیل کے لیے بھی دروازہ کھلا رکھا جائے۔
لیکن اسرائیل کی شمولیت کو فلسطینی علاقوں پر قبضہ ختم کرنے اور 1967 کی سرحدوں پر ایک حقیقی، خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام سے مشروط کیا جائے۔
✓?OVERSEAS POST | VERIFIEDکیا مصدقہ ہے، کیا ابھی واضح نہیں؟⌄
مصدقہ نکات
- تریتا پارسی کا مضمون 6 جولائی 2026 کو فارن پالیسی میں شائع ہوا۔
- مصنف نے اپنی تحریر میں ایران کی اقتصادی اور سلامتی سے متعلق علاقائی شمولیت کی حمایت کی۔
- فنانشل ٹائمز نے سعودی عرب کی ایران کے ساتھ ہیلسنکی طرز کے عدم جارحیت معاہدے پر گفتگو کی خبر دی۔
- قطری وزیراعظم نے ایران کے ساتھ علاقائی سلامتی اور مستقبل کے اقتصادی تعاون کے فریم ورک کا ذکر کیا۔
تاحال غیر واضح
- خلیج تعاون کونسل اور ایران کے باضابطہ سربراہی مذاکرات کب ہوں گے؟
- کیا تمام خلیجی ممالک کسی مشترکہ قانونی متن پر متفق ہوچکے ہیں؟
- معاہدے کی خلاف ورزی کی نگرانی اور جواب دہی کا نظام کیا ہوگا؟
- کیا اسرائیل اور ایران فلسطینی ریاست سے مشروط مشترکہ نظام کو عملی طور پر قبول کریں گے؟
اہم احتیاط: تریتا پارسی کا مضمون ایک پالیسی تجزیہ اور تجویز ہے؛ اسے سعودی عرب، خلیجی ممالک، ایران یا اسرائیل کا حتمی سرکاری معاہدہ نہ سمجھا جائے۔
پارسی کے مطابق اسرائیل کو محض سعودی عرب کے ساتھ معمول کے سفارتی تعلقات کے بجائے پورے علاقائی سلامتی نظام میں شامل ہونے کی پیشکش کہیں زیادہ مؤثر ترغیب ثابت ہوسکتی ہے۔
ایران کو بھی فلسطینیوں کے لیے قابل قبول تصفیے کے بعد اسرائیل کی اس نظام میں شمولیت قبول کرنا ہوگی۔
منصوبے کی راہ میں بڑی رکاوٹیں
یہ تصور پُرکشش ضرور ہے، لیکن اس پر عمل آسان نہیں ہوگا۔
ایران کے میزائل پروگرام، مسلح گروہوں سے تعلقات، آبنائے ہرمز اور خلیجی ممالک پر سابق حملوں نے اعتماد کا گہرا بحران پیدا کیا ہے۔
دوسری طرف اسرائیلی حکومت فلسطینی ریاست کو بطور پیشگی شرط قبول کرنے کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتی۔
خلیجی ممالک کے اپنے خطرات، ترجیحات اور ایران سے تعلقات بھی یکساں نہیں۔
کسی بھی معاہدے کو کامیاب بنانے کے لیے صرف سیاسی اعلان کافی نہیں ہوگا، اس کے لیے حملوں کی تحقیقات، بحری راستوں کی نگرانی، میزائل اور ڈرون سرگرمیوں کے بارے میں پیشگی اطلاع، تنازعات حل کرنے کا مستقل ادارہ اور خلاف ورزی پر واضح کارروائی کا نظام درکار ہوگا۔
1′OVERSEAS POST | QUICK READایک منٹ میں پوری کہانی⌄
تریتا پارسی کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ اور امریکی دفاعی چھتری کی حدود نے خلیجی ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے نیا علاقائی راستہ تلاش کرنے پر آمادہ کیا ہے۔
اس راستے میں ایران کو الگ تھلگ رکھنے کے بجائے اسے عدم جارحیت، بحری سلامتی اور اقتصادی تعاون کے نظام میں شامل کیا جاسکتا ہے، جبکہ سعودی عرب مرکزی کردار ادا کرے گا۔
پارسی اسرائیل کے لیے بھی شمولیت کا دروازہ کھلا رکھنے کی تجویز دیتے ہیں، مگر قبضے کے خاتمے اور 1967 کی سرحدوں پر خودمختار فلسطینی ریاست کے واضح قیام کے بعد۔
پاکستان کے لیے کیا اہم ہے؟
خلیج میں امن پاکستان کے لیے براہ راست قومی مفاد کا معاملہ ہے۔
پاکستان کی توانائی کی ضروریات، سمندری تجارت اور لاکھوں پاکستانی کارکنوں کا روزگار خلیجی استحکام سے وابستہ ہے۔
سعودی عرب اور ایران دونوں کے ساتھ تعلقات رکھنے کے باعث اسلام آباد مستقبل کے مذاکرات میں رابطہ کار یا قابلِ اعتماد سہولت کار کا کردار ادا کرسکتا ہے۔
تریتا پارسی کا تجزیہ دراصل ایک بڑے سوال کی طرف اشارہ کرتا ہے:
کیا مشرق وسطیٰ اپنے اختلافات کو بیرونی فوجی طاقت کے ذریعے سنبھالتا رہے گا، یا علاقائی ممالک خود ایک مشترکہ نظام تشکیل دیں گے؟
سعودی عرب کی قیادت میں ایران کو شامل کرنے کی کوشش اس سمت میں اہم قدم ہوسکتی ہے، لیکن اس نظام کی حقیقی کامیابی کا فیصلہ اس بات سے ہوگا کہ آیا وہ خلیج کی سلامتی کے ساتھ فلسطینی مسئلے کا منصفانہ اور قابلِ عمل حل بھی پیش کر پاتا ہے۔
↗OVERSEAS POST | SOURCESاصل اور معتبر ذرائع
مصنف کی رائے، صحافتی رپورٹس اور سرکاری مؤقف کو الگ رکھتے ہوئے صرف قابلِ نسبت معلومات شامل کی گئی ہیں۔