بھارت طویل عرصے تک اسرائیلی ہتھیاروں کا بڑا خریدار رہا، مگر اب یہ تعلق ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے 2,596 کھیپوں کے تجزیے کے بعد دعویٰ کیا ہے کہ بھارتی کمپنیوں نے اسرائیلی دفاعی اداروں کو لاکھوں فوجی پرزے اور گولہ بارود کے اجزا فراہم کیے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ اس کی تمام حساس برآمدات قومی قوانین اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق ہیں۔
یہ بڑھتا ہوا دفاعی تعاون غزہ کے ساتھ پاکستان اور جنوبی ایشیا کی سلامتی کے لیے بھی اہم سوالات پیدا کر رہا ہے۔
کئی دہائیوں تک بھارت اور اسرائیل کے دفاعی تعلقات کی کہانی ایک خریدار اور فروخت کنندہ کے درمیان تعلق کی طرح بیان کی جاتی رہی۔
اسرائیل بھارت کو میزائل، ڈرون، ریڈار، نگرانی کے آلات اور فضائی دفاعی نظام فراہم کرتا تھا، جبکہ نئی دہلی جدید فوجی ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے تل ابیب پر انحصار بڑھاتا جا رہا تھا۔
لیکن اب یہ تعلق ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی نئی تحقیقات کے مطابق بھارت اب صرف اسرائیلی ہتھیاروں کا بڑا خریدار نہیں رہا، بلکہ بھارتی سرکاری اور نجی کمپنیاں اسرائیلی دفاعی صنعت کو اسلحہ، گولہ بارود، ڈرون وار ہیڈز، فوجی گاڑیوں کے پرزے اور دوسرے حساس اجزا بھی فراہم کر رہی ہیں۔
اس تبدیلی کا مطلب یہ ہے کہ بھارت، اسرائیلی فوجی ٹیکنالوجی کا صارف ہونے کے ساتھ اسرائیل کی اسلحہ سازی کی بین الاقوامی سپلائی چین میں بھی شامل ہو گیا ہے۔
مزید پڑھیں
2,596 کھیپوں کی چھان بین
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی 42 صفحات پر مشتمل رپورٹ ’میڈ اِن انڈیا: اسرائیل کو ہتھیاروں اور گولہ بارود کی فراہمی‘ میں 7 اکتوبر 2023 سے 30 نومبر 2025 تک بھارت سے اسرائیل بھیجی جانے والی 2,596 تجارتی کھیپوں کا جائزہ لیا۔
تحقیق کے مطابق ان کھیپوں میں سے کم از کم 788 ایسی تھیں جن میں
فوجی استعمال کی اشیا شامل تھیں۔
ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ اس نے ان مصنوعات کو اپنے حتمی اعداد میں شامل نہیں کیا جن کے شہری یا خالصتاً دفاعی استعمال کا امکان موجود تھا۔
تحقیق میں سامنے آنے والے کم از کم اعداد یہ ہیں:
- فوجی معیار کے چھوٹے ہتھیاروں کے 390,516 پرزے
- دھماکا خیز گولہ بارود کے 564,970 اجزا
- فوجی گاڑیوں کے 298 پرزے
- ڈرون وار ہیڈز اور توپ خانے کے گولوں کے خول
- ہتھیاروں کے لیے بیرل، سائٹس، لانچر اور الیکٹرانک سینسر
◆OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTبھارت–اسرائیل دفاعی اتحاد — اہم نکات⌄
- ✓ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارت سے اسرائیل بھیجی جانے والی 2,596 کھیپوں کا جائزہ لیا۔
- ✓کم از کم 788 کھیپوں میں فوجی استعمال کی اشیا کی نشاندہی کی گئی۔
- ✓تحقیق میں 390,516 چھوٹے ہتھیاروں کے پرزوں کا ریکارڈ سامنے آیا۔
- !بھارتی سرکاری، نجی اور مشترکہ کمپنیاں اسرائیلی دفاعی سپلائی چین میں شامل بتائی گئی ہیں۔
- ؟بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ حساس برآمدات قومی قوانین اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ سامان ایسی بڑی اسرائیلی کمپنیوں کو فراہم کیا گیا جو براہ راست اسرائیلی فوج کے لیے ہتھیار اور دفاعی نظام تیار کرتی ہیں۔
ایمنسٹی نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ تجارتی ریکارڈ میں اختلافات اور محدود معلومات کے باعث اصل تجارت اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔
تاہم یہ نتیجہ تنظیم کی تحقیق ہے، بھارتی حکومت نے ان مخصوص اعداد کی الگ الگ تصدیق نہیں کی۔
صرف نجی کمپنیاں نہیں
رپورٹ کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اسرائیل سے اس فوجی تجارت میں صرف بھارتی نجی ادارے شامل نہیں۔
تحقیق میں جن کمپنیوں کی نشاندہی کی گئی، ان میں بھارتی حکومت کی ملکیت میں کام کرنے والے دفاعی ادارے بھی شامل ہیں، مثلاً:
- میونیشنز انڈیا لمیٹڈ
- انڈیا آپٹل لمیٹڈ
- ایڈوانسڈ ویپنز اینڈ ایکوپمنٹ انڈیا لمیٹڈ
اس کے علاوہ متعدد نجی اور مشترکہ بھارتی–اسرائیلی کمپنیاں بھی اس سپلائی نیٹ ورک کا حصہ بتائی گئی ہیں۔
iOVERSEAS POST | FACT BOXبھارت سے اسرائیل — فیکٹ باکس⌄
- تحقیق کا دورانیہ
- 7 اکتوبر 2023 سے 30 نومبر 2025
- زیرِ جائزہ کھیپیں
- 2,596
- فوجی استعمال والی کھیپیں
- کم از کم 788
- چھوٹے ہتھیاروں کے پرزے
- 390,516
- گولہ بارود کے اجزا
- 564,970
- فوجی گاڑیوں کے اجزا
- 298
- بنیادی ماخذ
- شپمنٹ سطح کا تجارتی ڈیٹا
- بھارتی مؤقف
- برآمدات قانون اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق ہیں
ان میں پی ایل آر سسٹمز جیسی کمپنی بھی شامل ہے، جو بھارتی اڈانی گروپ اور اسرائیل ویپن انڈسٹریز کا مشترکہ منصوبہ ہے۔
اسی طرح الفا ایل سیک ڈیفنس اینڈ ایرو اسپیس کو ڈرون وار ہیڈز بنانے والے مشترکہ منصوبے کے طور پر رپورٹ میں درج کیا گیا ہے۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت اور اسرائیل کا دفاعی تعلق محض حکومتی خریداری تک محدود نہیں، بلکہ مشترکہ پیداوار، ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور عالمی سپلائی چین تک پھیل چکا ہے۔
خریدار سے شراکت دار تک
اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، سپری، کے مطابق 2020 سے 2024 کے دوران اسرائیل کے بڑے ہتھیاروں کی برآمدات میں بھارت کا حصہ تقریباً 34 فیصد تھا۔
اس عرصے میں بھارت اسرائیلی اسلحے کا سب سے بڑا واحد خریدار تھا۔
بھارت نے اسرائیل سے فضائی دفاعی نظام، میزائل، ڈرون، ریڈار اور سرحدی نگرانی کی ٹیکنالوجی حاصل کی۔
باراک میزائل نظام سمیت بعض منصوبوں پر دونوں ملکوں نے مشترکہ طور پر کام بھی کیا۔
لیکن ایمنسٹی کی تازہ تحقیق سے ایک الٹی سمت میں چلنے والا راستہ بھی سامنے آتا ہے: اب ہتھیاروں کے اجزا بھارت سے اسرائیل بھی پہنچ رہے ہیں۔
◎OVERSEAS POST | ANALYSISپاکستان کے لیے یہ کیوں اہم ہے؟⌄
بھارت–اسرائیل دفاعی تعاون غزہ تک محدود معاملہ نہیں؛ اس کے اثرات جنوبی ایشیا کے فوجی توازن تک پہنچ سکتے ہیں:
یوں دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی تعلق یک طرفہ خریداری سے نکل کر باہمی انحصار کی صورت اختیار کر رہا ہے۔
اسرائیل بھارت کو فوجی ٹیکنالوجی فراہم کرتا ہے، جبکہ بھارتی کارخانے اسرائیلی کمپنیوں کی پیداوار کے لیے پرزے اور گولہ بارود تیار کرتے ہیں۔
بھارتی حکومت کیا کہتی ہے؟
بھارتی وزارت خارجہ نے ایمنسٹی کے الزامات کو قبول نہیں کیا۔
وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال کے مطابق بھارت کے پاس حساس اور دوہرے استعمال کی مصنوعات کی برآمدات کے لیے مضبوط قانونی اور ضابطہ جاتی نظام موجود ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت ایسی برآمدات اپنے قومی قوانین اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق کرتا ہے۔
تاہم ترجمان نے ایمنسٹی کی جانب سے پیش کیے گئے 2,596 شپمنٹس یا مخصوص فوجی پرزوں کی تفصیلات کا براہ راست جواب نہیں دیا۔
بھارت کا سرکاری مؤقف یہ بھی ہے کہ وہ اسرائیل–فلسطین تنازع کے دو ریاستی حل، شہریوں کے تحفظ اور غزہ میں بلا رکاوٹ انسانی امداد کی حمایت کرتا ہے۔
قانونی سوال کہاں کھڑا ہے؟
ایمنسٹی کا مؤقف ہے کہ کسی ملک کو ایسے حالات میں اسلحہ یا فوجی سازوسامان فراہم کرنا، جب اس کے سنگین بین الاقوامی جرائم میں استعمال کا واضح خطرہ موجود ہو، فراہم کرنے والے ملک کے لیے قانونی ذمہ داری پیدا کر سکتا ہے۔
✓?OVERSEAS POST | VERIFIEDکیا مصدقہ ہے، کیا ابھی ثابت نہیں؟⌄
مصدقہ نکات
- ایمنسٹی نے شپمنٹ سطح کے تجارتی ڈیٹا میں 2,596 کھیپوں کا تجزیہ کیا۔
- بھارتی سرکاری اور نجی کمپنیوں سے اسرائیلی دفاعی اداروں کو فوجی اجزا بھیجے گئے۔
- سپری کے مطابق بھارت اسرائیلی بڑے ہتھیاروں کا نمایاں خریدار رہا ہے۔
- بھارت نے حساس برآمدات کے لیے قانونی و ضابطہ جاتی نظام موجود ہونے کا مؤقف دیا ہے۔
ابھی قطعی طور پر ثابت نہیں
- ہر برآمد شدہ پرزہ غزہ میں استعمال ہوا، یہ الگ الگ ثابت نہیں کیا گیا۔
- تجارتی ریکارڈ تمام فوجی تجارت کا مکمل حجم ظاہر کرتا ہے یا نہیں، یہ واضح نہیں۔
- ہر کھیپ کی حتمی فوجی منزل اور عملی استعمال کی تفصیل دستیاب نہیں۔
- ان برآمدات سے بھارت پر قانونی ذمہ داری عائد ہوگی یا نہیں، اس کا حتمی عدالتی فیصلہ موجود نہیں۔
اہم احتیاط: رپورٹ کے اعداد ایمنسٹی کی تحقیق پر مبنی ہیں؛ بھارتی حکومت نے مخصوص اعداد کی الگ الگ تصدیق نہیں کی۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین بھی ریاستوں اور کمپنیوں سے اسرائیل کو ان ہتھیاروں کی منتقلی روکنے کا مطالبہ کر چکے ہیں جن کے انسانی حقوق یا بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزیوں میں استعمال ہونے کا خدشہ ہو۔
ستمبر 2024 میں بھارتی سپریم کورٹ کے سامنے ایک درخواست دائر کی گئی تھی جس میں اسرائیل کو اسلحے کی برآمد کے موجودہ لائسنس منسوخ کرنے اور نئے لائسنس روکنے کا مطالبہ کیا گیا۔
عدالت نے درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ خارجہ پالیسی حکومت کے دائرۂ اختیار میں آتی ہے۔
عدالت نے یہ بھی کہا کہ برآمدات روکنے سے بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی اور بھارتی کمپنیوں کے خلاف مالی دعوے پیدا ہو سکتے ہیں۔
عدالت نے یہ فیصلہ نہیں دیا تھا کہ برآمدات قانونی یا غیر قانونی ہیں، اس نے بنیادی طور پر معاملے میں عدالتی مداخلت سے گریز کیا۔
مودی کے دور میں بڑی تبدیلی
بھارت نے 1950 میں اسرائیل کو تسلیم کر لیا تھا، لیکن دونوں ملکوں کے مکمل سفارتی تعلقات 1992 میں قائم ہوئے۔
اس کے باوجود بھارت طویل عرصے تک فلسطینی ریاست کے قیام کا نمایاں حامی رہا۔
وزیر اعظم نریندر مودی کے دور میں تعلقات کی نوعیت تیزی سے تبدیل ہوئی۔
2017 میں مودی اسرائیل کا دورہ کرنے والے پہلے بھارتی وزیر اعظم بنے۔
اس کے بعد دفاع، زراعت، سائبر سکیورٹی، انٹیلی جنس اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون بڑھتا چلا گیا۔
1′OVERSEAS POST | QUICK READایک منٹ میں پوری کہانی⌄
بھارت طویل عرصے تک اسرائیلی ہتھیاروں کا بڑا خریدار تھا، مگر نئی تحقیق کے مطابق بھارتی کمپنیاں اب اسرائیلی دفاعی سپلائی چین کو فوجی پرزے اور گولہ بارود کے اجزا بھی فراہم کر رہی ہیں۔
ایمنسٹی نے 2,596 کھیپوں کے تجزیے کے بعد لاکھوں ہتھیاری اجزا کی نشاندہی کی؛ ان میں بعض برآمد کنندگان بھارتی حکومت کی ملکیت میں بھی ہیں۔
نئی دہلی کا مؤقف ہے کہ برآمدات قانون کے مطابق ہیں، لیکن بڑھتا دفاعی تعاون غزہ، قانونی جواب دہی اور پاکستان کے فوجی توازن سے متعلق اہم سوالات پیدا کرتا ہے۔
مودی اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ذاتی تعلقات نے بھی اس شراکت کو سیاسی علامت فراہم کی۔
مبصرین کے مطابق ہندوتوا اور اسرائیلی قوم پرستی کے درمیان نظریاتی قربت نے دونوں حکومتوں کو مزید قریب کیا ہے، اگرچہ بھارتی معاشرے اور حزب اختلاف کے بعض حلقے اس پالیسی کی مخالفت بھی کرتے ہیں۔
پاکستان کے لیے یہ کیوں اہم ہے؟
بھارت–اسرائیل دفاعی تعاون پاکستان کے لیے محض غزہ سے متعلق اخلاقی یا سفارتی سوال نہیں، بلکہ براہ راست قومی سلامتی کا معاملہ بھی ہے۔
بھارت نے اسرائیلی میزائل، ڈرون، ریڈار اور نگرانی کے نظام اپنی پاکستانی سرحد کے قریب تعینات کیے ہیں۔
دونوں ملکوں کی مشترکہ پیداوار بھارت کو بیرون ملک سے مکمل ہتھیار خریدنے کے بجائے مقامی سطح پر جدید نظام تیار کرنے کی صلاحیت دے رہی ہے۔
اس کے 3 ممکنہ نتائج ہیں:
- جنوبی ایشیا میں جدید ڈرون اور میزائل ٹیکنالوجی کی دوڑ مزید تیز ہو سکتی ہے۔
- بھارت اسرائیلی جنگی تجربات اور ٹیکنالوجی کو پاکستان کے خلاف اپنی فوجی حکمت عملی میں استعمال کر سکتا ہے۔
- پاکستان کا چین اور ترکی کے ساتھ دفاعی تعاون مزید گہرا ہو سکتا ہے۔
یہ معاملہ ایک اور اہم حقیقت بھی سامنے لاتا ہے:
غزہ کی جنگ اب صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہی۔
اس کی اسلحہ سپلائی چین، سفارتی صف بندیاں اور ٹیکنالوجی کے اثرات جنوبی ایشیا کی سلامتی کو بھی تبدیل کر رہے ہیں۔
بھارت اور اسرائیل کے درمیان تعلق اب صرف دو دوست حکومتوں یا ہتھیار خریدنے والے ایک گاہک کی کہانی نہیں۔ یہ مشترکہ کارخانوں، سرکاری کمپنیوں، ڈرون وار ہیڈز، میزائل ٹیکنالوجی اور ایک ایسے عالمی دفاعی نیٹ ورک کی کہانی بن چکا ہے جس کا ایک سرا غزہ میں اور دوسرا جنوبی ایشیا میں دکھائی دیتا ہے۔
↗OVERSEAS POST | SOURCESاصل اور بنیادی ذرائع
تحقیق کے دعووں، بھارتی مؤقف اور قانونی پس منظر کو الگ الگ ذرائع سے پیش کیا گیا ہے۔