مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی وزرا اور آبادکاروں کی بڑھتی سرگرمیوں نے تاریخی اسٹیٹس کو کے مستقبل پر سنگین سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔
اردن نے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدامات پورے خطے کو مذہبی تصادم کی جانب دھکیل سکتے ہیں۔
مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ کے گرد جاری کشمکش اب محض اشتعال انگیز دوروں یا چند انتہا پسند مذہبی گروہوں کی سرگرمیوں تک محدود نہیں رہی۔
تازہ واقعات نے یہ خدشہ پیدا کردیا ہے کہ اسرائیل کسی باقاعدہ اعلان کے بغیر مسجد اقصیٰ کے تاریخی اور قانونی انتظام کو بتدریج تبدیل کر رہا ہے۔
اردن نے صورتِ حال کی سنگینی کے پیش نظر عرب اور مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس طلب کیا اور خبردار کیا کہ مسجد اقصیٰ کو اسرائیلی کنٹرول میں لینے کا خطرہ اب محض دور کا امکان نہیں رہا۔
اردنی وزیر خارجہ ایمن الصفدی کے مطابق تاریخی انتظام سے چھیڑ چھاڑ ایسا مذہبی تصادم پیدا کرسکتی ہے جس کے اثرات فلسطین اور اردن سے نکل کر پوری مسلم دنیا تک پھیل جائیں گے۔
23 جولائی کو کیا ہوا؟
23 جولائی 2026 کو اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن غفیر کی قیادت میں دو ہزار سے زائد مذہبی قوم پرست اسرائیلی مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہوئے۔
مزید پڑھیں
میڈیا رپورٹس کے مطابق ان میں بڑی تعداد یہودی آبادکاروں کی تھی۔
انہوں نے اسرائیلی پولیس کی موجودگی اور حفاظت میں احاطے کے مختلف حصوں میں دعائیں پڑھیں اور مذہبی رسومات ادا کیں۔
بن غفیر نے یہودیوں کو مسجد اقصیٰ کے احاطے میں عبادت کی اجازت دینے کے اپنے دیرینہ مطالبے کو بھی دہرایا۔ اردنی حکام نے اسے جدید تاریخ میں مسجد اقصیٰ کے مروجہ انتظام کی سنگین ترین خلاف ورزیوں
میں سے ایک قرار دیا۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق بن غفیر نے یہودی زائرین کی جانب سے احاطے میں عبادت کیے جانے کو سراہا، حالانکہ تاریخی انتظام کے تحت غیر مسلم مسجد اقصیٰ کی زیارت تو کرسکتے ہیں لیکن وہاں مذہبی عبادات نہیں کرسکتے۔
اہم نکات
- 23 جولائی کو بن غفیر کی قیادت میں دو ہزار سے زائد اسرائیلی مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہوئے۔
- اسرائیلی پولیس کی موجودگی میں یہودی دعائیں اور مذہبی رسومات ادا کی گئیں۔
- تاریخی انتظام کے تحت مسجد اقصیٰ میں عبادت کا حق صرف مسلمانوں کے لیے مخصوص ہے۔
- اردن نے اسرائیلی اقدامات کو تاریخی اسٹیٹس کو تبدیل کرنے کی منظم کوشش قرار دیا ہے۔
- ماہرین کے مطابق اصل خطرہ اچانک قبضہ نہیں بلکہ بتدریج نیا نظام مسلط کرنا ہے۔
مسجد اقصیٰ کا تاریخی انتظام کیا ہے؟
مسجد اقصیٰ کا قانونی اور تاریخی ’اسٹیٹس کو‘ کسی ایک مختصر معاہدے کا نام نہیں بلکہ کئی دہائیوں سے قائم انتظامات، سیاسی مفاہمتوں اور قانونی ذمہ داریوں کا مجموعہ ہے۔
اس نظام کے مطابق مسجد اقصیٰ، گنبدِ صخرہ اور تمام صحنوں سمیت پورا 144 دونم، یعنی تقریباً ایک لاکھ 44 ہزار مربع میٹر رقبہ، اسلامی مقدس مقام ہے۔
احاطے میں عبادت کا حق مسلمانوں کے لیے مخصوص ہے، جبکہ غیر مسلم مقررہ اوقات اور ضوابط کے تحت زیارت کرسکتے ہیں۔
مسجد اقصیٰ کے مذہبی، انتظامی اور مرمتی امور اردن کی وزارتِ اوقاف کے ماتحت القدس اوقاف کے پاس ہیں۔
اسرائیلی پولیس خارجی دروازوں اور سکیورٹی پر عملی کنٹرول رکھتی ہے، لیکن تاریخی انتظام کے مطابق اسے مسجد کے مذہبی تشخص یا عبادت کے اصول تبدیل کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔
1994 کے اردن–اسرائیل امن معاہدے کی دفعہ 9 میں اسرائیل نے بیت المقدس کے مسلم مقدس مقامات میں اردن کے خصوصی تاریخی کردار کو تسلیم کیا تھا۔ اقوام متحدہ کے پاس موجود معاہدے میں بھی یہ ذمہ داری درج ہے۔
اعلان کچھ، زمین پر عمل کچھ اور
اسرائیلی حکومت کا سرکاری مؤقف اب بھی یہی ہے کہ مسجد اقصیٰ کے اسٹیٹس کو میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔
لیکن اصل سوال حکومتی بیان کے بجائے زمین پر ہونے والے اقدامات کا ہے۔
فیکٹ باکس: مسجد اقصیٰ
جب اسرائیلی پولیس کا نگران وزیر خود مسجد اقصیٰ میں داخل ہو، یہودی عبادت کی حمایت کرے اور پولیس اسے روکنے کے بجائے تحفظ فراہم کرے تو پھر یہ دعویٰ کمزور پڑجاتا ہے کہ تاریخی انتظام بدستور اپنی اصل شکل میں قائم ہے۔
اسرائیل نے ابھی مسجد اقصیٰ کی باضابطہ تقسیم یا اس پر مکمل کنٹرول کا اعلان نہیں کیا۔
تاہم ناقدین کے مطابق وہ ایسے اقدامات کو معمول بنا رہا ہے جو مستقبل میں کسی بڑی تبدیلی کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
جو عمل پہلے ممنوع تھا، اسے ابتدا میں خاموشی سے برداشت کیا گیا، پھر محدود پیمانے پر اجازت ملی اور اب وہ اسرائیلی وزرا، ارکانِ پارلیمان اور پولیس کی سرپرستی میں اجتماعی سرگرمی بنتا جا رہا ہے۔
پولیس کا بدلتا کردار
اردن کو ان اطلاعات پر بھی شدید تشویش ہے کہ مذہبی قوم پرست یہودیوں کو مسجد اقصیٰ کے لیے قائم ایک خصوصی اسرائیلی پولیس یونٹ میں بھرتی کیا جا رہا ہے۔
اگر مسجد کی سکیورٹی پر مامور اہلکار خود ان گروہوں کے نظریات سے متاثر ہوں جو وہاں یہودی عبادت یا مستقبل میں ہیکل کی تعمیر کا مطالبہ کرتے ہیں تو پولیس ایک غیر جانب دار حفاظتی ادارے کے بجائے اسٹیٹس کو تبدیل کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
مسجد اقصیٰ: اہم ٹائم لائن
اسرائیل نے مشرقی بیت المقدس پر قبضہ کیا، تاہم مسجد اقصیٰ کا مذہبی انتظام اردنی اوقاف کے پاس برقرار رہا۔
اردن–اسرائیل امن معاہدے میں مسلم مقدس مقامات سے متعلق اردن کے خصوصی تاریخی کردار کو تسلیم کیا گیا۔
ایریل شیرون کے متنازع دورے کے بعد شدید کشیدگی پیدا ہوئی اور دوسرا انتفاضہ شروع ہوگیا۔
بن غفیر کی قیادت میں دو ہزار سے زائد اسرائیلی احاطے میں داخل ہوئے اور مذہبی رسومات ادا کی گئیں۔
اردن نے القدس اور اس کے مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے عرب اور مسلم ممالک کا ہنگامی اجلاس منعقد کیا۔
القدس اوقاف کے ملازمین کی سرگرمیوں میں مداخلت، مرمتی کاموں میں رکاوٹ، مسلمانوں کے داخلے پر پابندیاں اور یہودی زائرین کے اوقات اور تعداد میں اضافہ بھی اسی تدریجی تبدیلی کی علامات قرار دی جا رہی ہیں۔
اردن اور فلسطین کی جانب سے یونیسکو کو پیش کردہ رپورٹوں میں کھدائی، مرمت میں رکاوٹ، املاک سے متعلق اقدامات اور مسجد اقصیٰ میں بڑھتی ہوئی منظم سرگرمیوں کو تاریخی اور قانونی حیثیت کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔
یونیسکو کی دستاویز بھی اسٹیٹس کو کو بیت المقدس کی تاریخی شناخت اور تحفظ کے لیے بنیادی قرار دیتی ہے۔
عمان کے ہنگامی اجلاس میں کیا طے ہوا؟
5 اگست کو اردن نے القدس اور اس کے مقدس مقامات کی حمایت کے لیے غیر معمولی وزارتی اجلاس منعقد کیا۔
عرب وزارتی کمیٹی کے رکن ممالک کے علاوہ پاکستان، ترکیہ، انڈونیشیا اور ملائیشیا کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔
اجلاس کے سرکاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ مشرقی بیت المقدس مقبوضہ فلسطینی علاقہ ہے اور اسرائیل کو اس پر قانونی خودمختاری حاصل نہیں۔
اصل خطرہ کیا ہے؟
فوری خطرہ مسجد اقصیٰ پر اچانک مکمل قبضے کا اعلان نہیں، بلکہ چھوٹے اقدامات کے ذریعے ایک نیا معمول قائم کرنا ہے۔
ناقدین اسی تدریجی عمل کو مسجد اقصیٰ پر ’’خاموش قبضہ‘‘ قرار دیتے ہیں۔
اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے پورے 144 دونم رقبے کو صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار دیتے ہوئے واضح کیا گیا کہ القدس اوقاف ہی مسجد کے امور چلانے اور داخلے کو منظم کرنے کا قانونی اور خصوصی اختیار رکھتا ہے۔
شرکا نے مسجد کی زمانی یا مکانی تقسیم کی کوششوں، اسرائیلی وزرا اور آبادکاروں کے داخلے، نمازیوں پر پابندیوں اور اوقاف کے کام میں مداخلت کی مذمت کی۔
خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دینے اور عالمی اداروں تک پہنچانے کے لیے مستقل نظام اور میڈیا پلیٹ فارم قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
کیا واقعی مذہبی جنگ چھڑ سکتی ہے؟
مسجد اقصیٰ پہلے بھی بڑے تصادم کا نقطۂ آغاز بن چکی ہے۔
ستمبر 2000 میں اسرائیلی سیاست دان ایریل شیرون کا بھاری سکیورٹی کے ساتھ مسجد اقصیٰ کا دورہ دوسرے انتفاضہ کے فوری محرکات میں شامل تھا۔
آج خطرہ اس لیے زیادہ ہے کہ اسٹیٹس کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کرنے والے عناصر اب حکومت سے باہر موجود چھوٹے گروہ نہیں رہے۔
بن غفیر جیسے سیاست دان کابینہ میں طاقت رکھتے ہیں، پولیس پر اثر انداز ہوتے ہیں اور مسجد اقصیٰ کو انتخابی سیاست کا حصہ بنا چکے ہیں۔
ستمبر کے یہودی مذہبی تہواروں اور اکتوبر میں متوقع اسرائیلی انتخابات کے دوران انتہائی دائیں بازو کی جماعتیں اپنے ووٹروں کو متحرک کرنے کے لیے مسجد اقصیٰ میں مزید بڑے اجتماعات یا مذہبی رسومات کی کوشش کرسکتی ہیں۔
پاکستان کا کردار کیوں اہم ہے؟
پاکستان نے عمان میں القدس اور اس کے مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے منعقدہ وزارتی اجلاس میں شرکت کی۔
یہ معاملہ پاکستان کی دیرینہ فلسطین پالیسی، اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے اور مشرقی بیت المقدس کو فلسطینی ریاست کا دارالحکومت بنانے کی حمایت سے منسلک ہے۔
پاکستان کے لیے یہ معاملہ کیوں اہم ہے؟
عمان اجلاس میں پاکستان کی شرکت اس بات کا اظہار ہے کہ مسجد اقصیٰ کو صرف عرب ممالک کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری مسلم دنیا کا مشترکہ معاملہ سمجھا جا رہا ہے۔
یہ مسئلہ پاکستان کی دیرینہ فلسطین پالیسی، اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کے مؤقف اور مشرقی بیت المقدس کو فلسطینی ریاست کا دارالحکومت بنانے کی حمایت سے براہِ راست منسلک ہے۔
اسلام آباد کے لیے اصل امتحان یہ ہوگا کہ آیا یہ سفارتی حمایت صرف اعلامیوں تک محدود رہتی ہے یا پاکستان اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم اور دیگر عالمی فورمز پر قابلِ عمل مشترکہ حکمتِ عملی کے لیے بھی کردار ادا کرتا ہے۔
اصل خطرہ اچانک قبضہ نہیں
فوری خطرہ شاید مسجد اقصیٰ پر اچانک مکمل قبضے کا اعلان نہیں۔
زیادہ سنجیدہ خطرہ یہ ہے کہ چھوٹے اقدامات کے ذریعے ایک نیا معمول قائم کردیا جائے:
پہلے انفرادی عبادت، پھر پولیس کی خاموش اجازت، اس کے بعد اجتماعی رسومات، وزرا کی شرکت اور بالآخر مسجد کے اوقات یا مقامات کی باقاعدہ تقسیم۔
اسی عمل کو مبصرین ’تدریجی قبضہ‘ قرار دیتے ہیں۔
مسجد اقصیٰ کی موجودہ جنگ کسی ایک دورے یا ایک اشتعال انگیز بیان کی نہیں، یہ اس تاریخی نظام کو بچانے کی جنگ ہے جسے چھوٹے مگر مسلسل اقدامات کے ذریعے اندر ہی اندر تبدیل کیا جا رہا ہے۔