براہ راست نشریات

مسجد اقصیٰ مکمل بند، مغربی کنارے میں بڑا کریک ڈاؤن

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
مسجد اقصیٰ
کم از کم 23 فلسطینی گرفتار، درجنوں افراد سے پوچھ گچھ (فوٹو: ایکس)

اسرائیلی قابض افواج نے مسجد اقصیٰ کے تمام دروازے بند کرکے نمازیوں اور زائرین کا داخلہ روک دیا، جبکہ مغربی کنارے میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیوں کے دوران کم از کم 23 فلسطینیوں کو گرفتار کر لیا گیا۔
جنوبی الخلیل کے علاقے مسافر یطا میں ایک فلسطینی گھر بھی مسمار کر دیا گیا، جس سے ایک خاندان بے گھر ہوگیا۔

اسرائیلی قابض افواج نے آج منگل کے روز مسجد اقصیٰ کے تمام دروازے بند کر دیے اور نمازیوں و زائرین کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی۔ 

اس دوران قدیم شہر اور مسجد کے اطراف غیر معمولی سکیورٹی اقدامات کیے گئے، متعدد اضافی فوجی چوکیاں قائم کی گئیں، جبکہ داخلی راستوں پر سخت تلاشی اور شناختی جانچ کا سلسلہ جاری رہا۔

عینی شاہدین کے مطابق بڑی تعداد میں فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ تک پہنچنے سے روک دیا گیا، جس کے باعث علاقے میں شدید کشیدگی پیدا ہوگئی۔

مزید پڑھیں

مغربی کنارے میں وسیع فوجی آپریشن

ادھر اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں بیک وقت کارروائیاں کرتے ہوئے الخلیل، نابلس، رام اللہ، بیت لحم، جنین، طولکرم اور قلقیلیہ سمیت متعدد شہروں اور قصبوں میں چھاپے مارے۔

فوجیوں نے درجنوں گھروں کی تلاشی لی، گھریلو سامان کی توڑ پھوڑ کی اور کم از کم 23 فلسطینیوں کو گرفتار کر لیا، جبکہ متعدد دیگر افراد کو 

کئی گھنٹوں تک حراست میں رکھ کر پوچھ گچھ کی گئی۔

جھڑپیں، آنسو گیس اور فائرنگ

فلسطینی ذرائع کے مطابق بعض علاقوں میں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کے دوران مقامی نوجوانوں اور فوجیوں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔

مسجد اقصی
قابض افواج نے اقصی کے تمام دروازے بند کردیئے ( فوٹو: ایکس)

اسرائیلی اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس، صوتی بم اور بعض مقامات پر براہِ راست گولیاں بھی استعمال کیں۔ 

ابتدائی اطلاعات کے مطابق فوری طور پر کسی بڑے جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی، تاہم کشیدگی بدستور برقرار ہے۔

مسافر یطا میں گھر مسمار، خاندان بے گھر

جنوبی الخلیل کے حساس علاقے مسافر یطا میں اسرائیلی حکام نے ایک فلسطینی رہائشی مکان مسمار کر دیا، جس کے نتیجے میں وہاں مقیم خاندان بے گھر ہوگیا۔

فلسطینی حکام اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ مسافر یطا میں گھروں کی مسماری اور بے دخلی کی کارروائیاں کئی برسوں سے جاری ہیں اور ان کا مقصد فلسطینی آبادی پر دباؤ بڑھا کر انہیں اپنی زمینیں چھوڑنے پر مجبور کرنا ہے، تاکہ ان علاقوں میں یہودی بستیوں کی توسیع کی جا سکے۔

خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ

مسجد اقصیٰ کی بندش، وسیع پیمانے پر گرفتاریاں اور گھروں کی مسماری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب غزہ کی جنگ اور مغربی کنارے میں جاری فوجی کارروائیوں کے باعث پورا خطہ شدید تناؤ کا شکار ہے۔

فلسطینی قیادت نے اسرائیلی اقدامات کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مقدس مقامات پر پابندیاں، مسلسل گرفتاریاں اور جبری بے دخلی کی کارروائیاں صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہیں، جبکہ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں شہریوں کی حفاظت اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

اوورسیز پوسٹ ایپ
کیسے استعمال کریں؟ مکمل رہنمائی کے لیے کلک کریں
📱
☝️