فلسطینی ذرائع نے کہا ہے کہ آج جمعرات کی صبح فجر کے وقت مسجد الاقصیٰ کے دروازے دوبارہ کھولے گئے اور نمازیوں کو اندر جانے کی اجازت دی گئی، یہ اقدام قابض اسرائیلی حکام کی 40 دن کی بندش کے بعد ہوا ہے۔
مزید پڑھیں
الجزیرہ کے مطابق جاری کی جانے والی ویڈیو میں دیکھا گیا کہ فلسطینی نمازی بڑی تعداد میں مسجد اقصیٰ کے صحنوں میں داخل ہو رہے ہیں اور طویل عرصے کے بعد وہاں واپس آنے کی خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔
مزید ویڈیوز میں صحنوں اور عبادت گاہوں کی صفائی اور ترتیب کے مناظر بھی دکھائے گئے، جو مسجد کے رضاکاروں اور خدمت گزاروں نے
نمازیوں کے استقبال اور مذہبی رسومات کے لیے کیے۔
أذان الفجر الاول من المسجد الأقصى المبارك بعد 40 يوما من إغلاقه أمام المصلين pic.twitter.com/DohtsCCwdB
— القسطل الإخباري (@AlQastalps) April 9, 2026
مقبوضہ بیت المقدس میں اسلامی اوقاف کے شعبے نے ایک مختصر بیان میں تصدیق کی کہ مسجد اقصیٰ کے دروازے جمعرات کی فجر کی نماز سے تمام نمازیوں کے لیے کھول دیے جائیں گے۔
اسرائیلی اعلان اور سیکیورٹی تیاری
یہ اقدام اس کے بعد سامنے آیا کہ اسرائیلی حکام نے بدھ کی شام اعلان کیا کہ وہ بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ اور کلیسائے قیامہ کو دوبارہ کھولنے کے لیے تیار ہیں، جو 28 فروری سے ایران کے خلاف جنگ کے آغاز کے بعد مکمل بند تھے۔
اسرائیلی پولیس نے اپنے بیان میں کہا کہ مقدس مقامات کو نمازیوں اور زائرین کے لیے جمعرات کی صبح سے کھولنے کی تیاری جاری ہے۔
اللحظات الأولى لفتح أبواب المسجد الأقصى المبارك بعد الإغلاق الذي استمر 40 يوما pic.twitter.com/9iKwU8sCu6
— شبكة قدس الإخبارية (@qudsn) April 9, 2026
بیان میں مزید کہا گیا کہ سخت سیکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں، اور قابض انتظامیہ کی پولیس نے سینکڑوں اہلکار اور بارڈر گارڈ فورسز قدیم شہر کے تنگ راستوں اور مقدس مقامات جانے والی سڑکوں پر تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے، فورس کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ’زائرین کی حفاظت کے لیے‘ ہیں۔
#فيديو.. من داخل المصلى القبلي بالتزامن مع توافد الأهالي لأداء صلاة فجر اليوم pic.twitter.com/KOCKwUckx7
— شبكة فلسطين للحوار (@paldf) April 9, 2026
یاد رہے کہ القدس شہر اور اس کی مقدسات نے گزشتہ 6 ہفتوں کے دوران سخت سیکیورٹی اور بار بار بندشیں دیکھیں، جو خطے میں ایران کے ساتھ تنازع کے پیش نظر اسرائیلی قبضے کی طرف سے لگائی گئی اعلیٰ ترین چوکس حالت کے ساتھ مطابقت رکھتی ہیں۔