کویت کی وزارتِ داخلہ نے شہریوں اور مقیم غیر ملکیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی نامعلوم شے، دھاتی ٹکڑے یا میزائل و ڈرون کے ملبے کے قریب نہ جائیں، کیونکہ یہ عوامی سلامتی کے لیے خطرناک یا دھماکا خیز مواد پر مشتمل ہو سکتے ہیں۔
وزارت نے اپنے آگاہی بیان میں زور دیا کہ ایسی اشیاء کی نہ تو تصاویر بنائی جائیں، نہ انہیں چھوا جائے اور نہ ہی ان کے قریب جایا جائے، تاکہ انسانی جانوں اور املاک کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔
مزید پڑھیں
بیان میں کہا گیا کہ کسی بھی مشکوک شے کی فوری اطلاع ہنگامی نمبر 112 پر دی جائے، جبکہ موقع سے محفوظ فاصلے پر رہتے ہوئے متعلقہ اداروں کو اپنی ذمہ داریاں انجام دینے کا موقع فراہم کیا جائے۔
دوسری جانب کویتی فوج کی جنرل ہیڈکوارٹرز نے بھی شہریوں اور رہائشیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ دشمن فضائی اہداف کو تباہ کرنے کی کارروائیوں کے نتیجے میں گرنے والے کسی بھی ملبے، شیل کے ٹکڑوں یا
نامعلوم اشیا کو ہاتھ نہ لگائیں، کیونکہ یہ انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
کویتی وزارتِ دفاع کے ترجمان کرنل سعود عبدالعزیز العطوان نے کہا کہ ایسی کسی بھی مشتبہ شے کی فوری اطلاع 112 یا متعلقہ حکام کو دی جائے، حفاظتی ہدایات پر عمل کیا جائے اور معلومات صرف سرکاری ذرائع سے حاصل کی جائیں۔
کویتی فوج نے عوام سے مکمل تعاون اور جاری کردہ حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات ملک میں امن و سلامتی اور عوام کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں۔
واضح رہے کہ آج بدھ کو کویت کی جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اعلان کیا کہ ایرانی حملے کے بعد کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ میں ہنگامی پلان نافذ کر دیا گیا ہے۔
اتھارٹی کے مطابق ڈرونز اور میزائلوں کے حملے میں ایئرپورٹ کے مرکزی ٹرمینل T1 کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا جبکہ کئی افراد زخمی بھی ہوئے۔
حکام نے فوری طور پر تمام پروازیں معطل کرتے ہوئے انہیں متبادل ہوائی اڈوں کی جانب منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، اور کہا کہ آئندہ اطلاع تک فضائی آپریشن بند رہیں گے۔