اسرائیلی حملوں اور انخلا انتباہات کے باعث جنوبی لبنان میں بڑے پیمانے پر نقل مکانی جاری ہے۔
تقریباً 10 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ صیدا اور دیگر محفوظ علاقوں میں قائم امدادی مراکز شدید دباؤ کا شکار ہیں۔
جنوبی لبنان میں جاری جنگ اور اسرائیلی انخلا انتباہات نے انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
ہزاروں خاندان اپنے گھروں سے نکل کر محفوظ مقامات کی تلاش میں دربدر ہیں، جبکہ امدادی مراکز اور عارضی پناہ گاہیں گنجائش سے زیادہ بھر چکی ہیں۔
صیدا کے قریب ایک عارضی خیمے میں مقیم صبح عامر ان ہزاروں متاثرین میں شامل ہیں جو جنوبی لبنان کے قصبے السکسکیہ سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔
وہ بتاتی ہیں کہ ان کی بیٹی کو اسرائیلی فوج کی جانب سے فون کال موصول ہوئی جس میں گھر فوری خالی کرنے کی ہدایت دی گئی کیونکہ اسرائیلی دعوے کے مطابق اس کے قریب حزب اللہ سے وابستہ ایک مقام موجود تھا۔
اس اطلاع کے بعد خاندان کو جلدی میں گھر چھوڑنا پڑا اور وہ صرف ضروری سامان ہی ساتھ لے جا سکے۔
مزید پڑھیں
صبح عامر کے مطابق نقل مکانی کے بعد ان کا خاندان مختلف مقامات پر پناہ کی تلاش میں بھٹکتا رہا۔
انہوں نے پہلے صیدا کے پرانے عدالتی کمپلیکس اور پھر لبنانی یونیورسٹی کا رخ کیا، لیکن شدید ازدحام کے باعث انہیں کہیں جگہ نہ مل سکی۔
ذیابیطس کے مرض میں مبتلا صبح کہتی ہیں کہ ابتدائی دن انتہائی
مشکل تھے کیونکہ نہ مناسب رہائش میسر تھی اور نہ ہی مستقبل کا کوئی واضح راستہ نظر آتا تھا۔
جنگ کے باعث بے گھر ہونے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافے نے سرکاری امدادی مراکز کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ سڑکوں، پارکوں اور کھلے میدانوں کو بھی عارضی رہائش گاہوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔
آخرکار صبح عامر کے خاندان کو حارۃ صیدا بلدیہ کے زیر انتظام قائم ایک کیمپ میں جگہ مل گئی۔
اگرچہ وہاں خوراک اور پانی جیسی بنیادی ضروریات فراہم کی جا رہی ہیں، تاہم بیت الخلا، صفائی ستھرائی اور دیگر سہولیات کی کمی اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، خاص طور پر خواتین اور بچوں کے لیے۔
لبنانی حکومت کی رپورٹ کے مطابق جنگ کے نتیجے میں تقریباً 10 لاکھ افراد اپنے گھروں سے بے دخل ہو چکے ہیں۔
ان میں جنوبی لبنان، نبطیہ اور بیروت کے جنوبی مضافات کے رہائشی شامل ہیں جو نسبتاً محفوظ علاقوں کی طرف منتقل ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بحران کے عروج پر ایک لاکھ 41 ہزار سے زائد افراد ملک بھر کے سینکڑوں امدادی مراکز میں مقیم تھے۔
ان مراکز میں بڑی تعداد تعلیمی اداروں کی ہے، جس کے باعث تعلیمی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔
🏕️ جنوبی لبنان میں نقل مکانی کا بحران
اسرائیلی حملوں اور انخلا انتباہات کے بعد لاکھوں لبنانی شہری بے گھر، خیموں اور امدادی مراکز میں زندگی گزارنے پر مجبور
10 لاکھ
بے گھر افراد
692
امدادی مراکز
141,440
بحران کے عروج پر مراکز میں مقیم افراد
631
فعال امدادی مراکز (مئی کے اختتام تک)
📖 متاثرہ خاندانوں کی کہانیاں
👩 صبح عامر
السکسکیہ سے تعلق رکھنے والی صبح عامر اسرائیلی انخلا وارننگ کے بعد گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئیں۔ کئی مقامات پر پناہ نہ ملنے کے بعد اب عارضی کیمپ میں مقیم ہیں۔
👩👧 فاطمہ
خاندان پہلے السکسکیہ منتقل ہوا، مگر نئی وارننگ کے بعد دوبارہ نقل مکانی کرنا پڑی۔ کئی مقامات پر بھٹکنے کے بعد کیمپ تک پہنچ سکے۔
👨 حسن خلیل
صور سے تعلق رکھنے والے حسن خلیل جنگ کے آغاز سے اب تک تین مرتبہ گھر چھوڑ چکے ہیں، جس سے مالی اور معاشی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔
🏕️ حارۃ صیدا کی صورتحال
55+
خاندان نئی عارضی سڑک کیمپ میں
9+
امدادی مراکز
40,000
متاثرہ افراد
8,000-9,000
متاثرہ خاندان
⚠️ اہم چیلنجز
دوسری جانب اسرائیلی فوج کی جانب سے جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں کے لیے انخلا انتباہات کا سلسلہ جاری ہے۔
حالیہ دنوں میں صور، جزین، نبطیہ اور دریائے الزہرانی کے جنوب میں واقع متعدد قصبوں کے مکینوں کو علاقہ خالی کرنے کی ہدایت دی گئی، جس کے نتیجے میں مزید ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔
حبوش سے تعلق رکھنے والی فاطمہ بتاتی ہیں کہ ان کا خاندان پہلے السکسکیہ منتقل ہوا تھا، جہاں تقریباً ڈیڑھ ماہ قیام کیا، لیکن بعد میں وہاں بھی انخلا کا حکم ملنے پر دوبارہ نقل مکانی کرنا پڑی۔
متعدد مقامات پر بھٹکنے کے بعد وہ موجودہ کیمپ تک پہنچے۔
ان کے مطابق مسلسل فضائی حملوں کا خوف ہی اس بار بار نقل مکانی کی بنیادی وجہ ہے۔
اسی طرح صور سے تعلق رکھنے والے حسن خلیل کا کہنا ہے کہ جنگ شروع ہونے کے بعد یہ تیسری مرتبہ ہے کہ انہیں اپنا گھر چھوڑنا پڑا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ہر نئی نقل مکانی کے ساتھ رہائش، خوراک اور بچوں کی ضروریات پوری کرنا مزید مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
حارۃ صیدا کے میئر مصطفیٰ الزین کے مطابق بلدیہ نے متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے ہیں۔
صرف چند روز میں ایک نئی عارضی بستی قائم کی گئی جس میں درجنوں خاندانوں کو پناہ فراہم کی گئی۔
ان کا کہنا ہے کہ حارۃ صیدا میں اس وقت ہزاروں خاندان امدادی مراکز، میزبان گھروں اور عارضی رہائش گاہوں میں مقیم ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ مقامی اداروں، سرکاری محکموں اور سماجی تنظیموں کے تعاون سے بحران کے اثرات کو کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاہم متاثرین کی ضروریات اب بھی دستیاب وسائل سے کہیں زیادہ ہیں۔
جنگ کے جاری رہنے سے خدشہ ہے کہ نقل مکانی کا یہ بحران مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔