براہ راست نشریات

روبوٹ دبائے گا ٹریگر؟ امریکا AI کو قتل کا اختیار دینے کے قریب

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
امریکا کے خودمختار جنگی روبوٹ
امریکا مسلح روبوٹس تیار تیز کر رہا ہے جو انسانی منظوری کے بغیر ہدف پر حملہ کر سکیں گے

امریکا مصنوعی ذہانت سے لیس خودمختار ہتھیاروں اور انسان نما فوجی روبوٹس کے استعمال کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
حامی اسے فوجیوں کی جانیں بچانے اور چین و روس کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں، مگر ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ مشینوں کو قتل کا اختیار دینے سے غلط حملوں، عالمی اسلحہ دوڑ اور جواب دہی کے سنگین بحران کا خطرہ پیدا ہوگا۔

OVERSEAS POST  |  PREMIUM STORY

مسلح روبوٹ کا دشمن کا تعاقب کرنا اور کسی انسانی حکم کا انتظار کیے بغیر گولی چلانے کا فیصلہ کرنا اب صرف سائنس فکشن فلموں کا تصور نہیں رہا۔ 

سیلیکون ویلی کی تجربہ گاہوں اور امریکی فوج کے منصوبہ ساز مراکز میں اس خیال کو حقیقی میدان جنگ تک پہنچانے کی تیاریاں تیز ہو رہی ہیں۔

یہ تبدیلی محض کسی مشین کے ہاتھ میں بندوق تھمانے تک محدود نہیں، بلکہ انسان اور ہتھیار کے تعلق کو بنیادی طور پر بدل سکتی ہے۔ 

دنیا کی افواج کئی دہائیوں سے گائیڈڈ میزائل، ڈرون اور خودکار دفاعی نظام استعمال کر رہی ہیں، لیکن اب سوال زیادہ خطرناک ہے: 

کیا مصنوعی ذہانت کو ہدف تلاش کرنے، اس کی شناخت کرنے، خطرے کا اندازہ لگانے اور انسانی منظوری کے بغیر اس پر حملہ کرنے کا اختیار دیا جا سکتا ہے؟

امریکا اسی سرخ لکیر کے قریب پہنچ رہا ہے۔ 

یہ قدم مستقبل کی جنگوں کی نوعیت بدلنے کے ساتھ ایسا عالمی اسلحہ مقابلہ بھی شروع کر سکتا ہے جسے ایک بار رفتار پکڑنے کے بعد روکنا انتہائی مشکل ہوگا۔

مزید پڑھیں

’فینٹم‘ روبوٹ، فیکٹری سے میدان جنگ تک

اس ممکنہ مستقبل کی ایک جھلک انسان نما روبوٹ ’فینٹم‘ میں دکھائی دیتی ہے، جسے امریکی کمپنی ’فاؤنڈیشن‘ نے تیار کیا ہے۔ 

کمپنی کی جاری کردہ ویڈیو میں روبوٹ کو مارٹر گولہ اٹھاتے اور اسے لوڈ کرنے کے عمل میں حصہ لیتے دیکھا گیا۔

روبوٹ کی حرکت تربیت یافتہ فوجی کے مقابلے میں سست دکھائی دیتی

 ہے، لیکن اصل اہمیت اس کی رفتار نہیں بلکہ اس پیغام میں ہے کہ انسان نما مشینیں اب صرف فیکٹریوں اور گوداموں کے لیے نہیں بن رہیں۔ 

انہیں نقل و حمل، نگرانی، بارودی رکاوٹیں ہٹانے اور معلومات جمع کرنے سے آگے بڑھا کر براہِ راست جنگی کردار دینے کی تیاری ہو رہی ہے۔

اہم نکات
  • امریکی کمپنی فاؤنڈیشن نے مارٹر گولہ سنبھالنے والا انسان نما ’فینٹم‘ روبوٹ تیار کیا ہے۔
  • کمپنی کے مطابق اسے امریکی دفاعی اداروں سے 24 ملین ڈالر کا معاہدہ ملا ہے۔
  • ٹرمپ انتظامیہ فوجی اور انٹیلی جنس شعبوں میں مصنوعی ذہانت کا استعمال تیز کر رہی ہے۔
  • اصل تنازع یہ ہے کہ کیا مشین انسانی اجازت کے بغیر ہدف منتخب کرکے حملہ کرسکتی ہے۔
  • الگورتھم کی غلط شناخت شہری ہلاکتوں یا دوست فوج پر حملے کا سبب بن سکتی ہے۔
  • اقوام متحدہ انسانی کنٹرول کے بغیر کام کرنے والے مہلک ہتھیاروں پر پابندی چاہتی ہے۔

کمپنی کے بانی سانکیت پاٹھک مستقبل میں مسلح روبوٹس کو بتدریج زیادہ خودمختاری دینا چاہتے ہیں، بالخصوص ان حالات میں جہاں کسی فوجی کمانڈ مرکز سے اجازت لینے کے لیے وقت نہ ہو۔

کمپنی کے مطابق اسے امریکی دفاعی اداروں سے 24 ملین ڈالر کا معاہدہ ملا ہے اور اس کے روبوٹس کو یوکرین میں بھی آزمایا جا چکا ہے۔ 

تاہم اب تک ایسا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا کہ ’فینٹم‘ نے کسی جنگ میں خود ہدف منتخب کرکے انسان پر فائر کیا ہو۔ 

فی الحال اصل تنازع اسی ممکنہ اگلے مرحلے پر ہے۔

چین اور روس کا خوف

اس ٹیکنالوجی کے حامی ایک مضبوط دلیل پیش کرتے ہیں: 

اگر امریکا خودمختار ہتھیار بنانے سے پیچھے ہٹ بھی جائے تو چین اور روس ایسا نہیں کریں گے۔

ان کے نزدیک لڑاکا روبوٹس محض دلچسپ ٹیکنالوجی نہیں بلکہ امریکی فوجی برتری برقرار رکھنے کی ضرورت ہیں۔ 

مشین نہ تھکتی ہے، نہ خوف محسوس کرتی ہے اور نہ اسے نیند کی ضرورت ہوتی ہے۔ 

اسے آلودہ علاقوں، بارودی عمارتوں اور انتہائی خطرناک محاذوں پر بھیجا جا سکتا ہے، جہاں انسانی فوجی کی جان کو شدید خطرہ ہو۔

حامیوں کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت سینسرز سے آنے والی ہزاروں تصاویر اور معلومات چند لمحوں میں جانچ کر ہدف کا بہتر تعین کر سکتی ہے۔ 

ممکن ہے کہ وہ کم تباہ کن ہتھیار منتخب کرے اور یوں فوجیوں اور شہریوں کی ہلاکتیں کم ہو جائیں۔

54466

لیکن یہی دلیل ایک خطرناک دوڑ کو جنم دیتی ہے۔ 

اگر ہر بڑی طاقت یہ سمجھے کہ اس کا حریف زیادہ تیز اور خودمختار ہتھیار بنا رہا ہے تو وہ انسانی نگرانی کا وقت مزید کم کرے گی۔ 

یوں پہلے انسان فیصلہ سازی کے دائرے میں رہے گا، پھر صرف مشین کی نگرانی کرے گا اور بالآخر اس کا کردار نظام کو فعال کرنے تک محدود ہو سکتا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے رفتار بڑھا دی

اس تبدیلی کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی سے بڑی سیاسی قوت ملی ہے۔ 

انہوں نے امریکی قومی سلامتی کے اداروں کو انٹیلی جنس اور جنگی شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال میں تیزی لانے کی ہدایت دی ہے۔

5 جون 2026 کی قومی سلامتی یادداشت میں ٹرمپ نے خودمختار جنگی نظام سے متعلق امریکی پالیسی 90 دن میں اپ ڈیٹ کرنے کا حکم دیا۔ 

ان کا مؤقف ہے کہ سابقہ بیوروکریٹک پابندیوں نے فوج کو جدید ٹیکنالوجی اپنانے میں سست رکھا، جبکہ حریف ممالک آگے بڑھتے رہے۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ نئے نظام قابلِ اعتماد اور قابلِ کنٹرول ہوں گے، جبکہ ذمہ داری فوجی کمان کے پاس رہے گی۔ 

لیکن عملی میدان میں دو اہداف کو بیک وقت حاصل کرنا آسان نہیں: 

مصنوعی ذہانت کو تیزی سے تعینات کرنا اور اس پر مؤثر انسانی نگرانی بھی برقرار رکھنا۔

امریکی سینیٹ میں بھی یہی کشمکش جاری ہے۔ 

سخت پابندیوں کی تجاویز مسترد ہونے کے بعد زیرِ غور دفاعی بل مصنوعی ذہانت اور خودمختار نظاموں کے زیادہ سے زیادہ استعمال کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، تاہم طاقت کے استعمال کی ذمہ داری انسانی کمانڈروں کے پاس رکھنے پر زور دیتا ہے۔

اصل سوال پھر بھی حل نہیں ہوتا: انسانی شرکت کتنی ہو تو فیصلہ واقعی انسان کا سمجھا جائے، نہ کہ مشین کے فیصلے پر محض قانونی مہر؟

فیکٹ باکس
نمایاں روبوٹ فینٹم
تیار کرنے والی کمپنی فاؤنڈیشن
بنیادی صلاحیت فوجی سامان اور مارٹر گولہ سنبھالنا
دفاعی معاہدہ کمپنی کے مطابق 24 ملین ڈالر
امریکی پالیسی خودمختار ہتھیاروں کے قواعد اپ ڈیٹ کرنے کی تیاری
بنیادی تنازع مشین کو ہدف چننے اور حملہ کرنے کا اختیار
سب سے بڑا خطرہ غلط شناخت، شہری ہلاکتیں اور جواب دہی کا بحران
عالمی مطالبہ انسانی کنٹرول کے بغیر مہلک ہتھیاروں پر پابندی

انسان ٹریگر سے کتنی دور ہوگا؟

خودمختار ہتھیاروں کو 3 درجوں میں سمجھا جا سکتا ہے۔ 

پہلے درجے میں نظام ہدف تلاش کرکے سفارش پیش کرتا ہے، مگر حملے کی اجازت انسان دیتا ہے۔ 

دوسرے میں نظام خود ہدف منتخب کرکے حملہ کرتا ہے، جبکہ انسان اسے روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تیسرے درجے میں ہتھیار فعال ہونے کے بعد کسی مؤثر انسانی نگرانی کے بغیر کام کرتا ہے۔

خطرہ یہ ہے کہ ان درجوں کے درمیان حد واضح نہیں۔ 

کمانڈر کسی مخصوص علاقے، وقت اور اہداف کے زمرے کی پیشگی منظوری دے سکتا ہے، لیکن اس کے بعد نظام خود طے کرے کہ کس شخص یا گاڑی کو نشانہ بنانا ہے۔

فوج کہہ سکتی ہے کہ بنیادی فیصلہ انسان نے کیا تھا، مگر جس شخص پر حملہ ہوا اس کی شناخت اور اس پر فائرنگ کا آخری فیصلہ الگورتھم نے کیا ہوگا۔

امریکی پالیسی اس وقت طاقت کے استعمال پر ’مناسب انسانی فیصلہ سازی‘ کی شرط لگاتی ہے، لیکن لفظ ’مناسب‘ کی تشریح وسیع ہے۔ 

کسی آنے والے میزائل کو چند سیکنڈ میں تباہ کرنا اور شہری آبادی میں کسی مشتبہ انسان کا تعاقب کرنا ایک جیسے معاملات نہیں۔

اگر الگورتھم نے غلطی کردی؟

مصنوعی ذہانت دنیا کو انسانی شعور سے نہیں بلکہ تربیتی ڈیٹا اور نمونوں کے ذریعے سمجھتی ہے۔ 

کوئی نظام تجربات میں درست کام کر سکتا ہے، لیکن دھوئیں، اندھیرے، غیرمعمولی لباس یا الیکٹرانک مداخلت کے دوران اس کا رویہ بدل سکتا ہے۔

54644465

میدان جنگ میں اس کی غلطی محض کمپیوٹر اسکرین پر غلط جواب نہیں ہوگی۔ 

وہ شہری گاڑی کو فوجی ہدف سمجھ سکتا ہے، طبی کارکن اور جنگجو میں فرق کرنے میں ناکام رہ سکتا ہے یا حالات بدل جانے کے باوجود حملہ جاری رکھ سکتا ہے۔

دشمن روبوٹ کے سینسرز کو دھوکا دینے، جھوٹی معلومات بھیجنے یا مواصلاتی نظام ہیک کرنے کی کوشش بھی کرے گا۔ اگر یہی ٹیکنالوجی سیکڑوں ڈرونز یا روبوٹس کے ایک جھنڈ میں استعمال ہوئی تو ایک غلطی انتہائی تیزی سے وسیع تباہی میں بدل سکتی ہے۔

اصل خطرہ یہ نہیں کہ مشین اچانک ’بری‘ بن جائے گی، بلکہ یہ ہے کہ وہ ناقص ہدف یا غلط ہدایت پر غیرمعمولی کارکردگی سے عمل کرے گی۔

قتل کا ذمہ دار کون؟

اگر کوئی فوجی غیرقانونی طور پر کسی شہری کو قتل کرے تو اس کے فیصلے اور احکامات کی تحقیقات کی جا سکتی ہیں۔ 

لیکن خودمختار نظام سے غلطی ہو تو ذمہ دار کون ہوگا؟

کیا وہ کمانڈر جس نے اسے تعینات کیا، آپریٹر جو بروقت مداخلت نہ کرسکا، کمپنی جس نے روبوٹ بنایا یا وہ ماہرین جنہوں نے الگورتھم اور تربیتی ڈیٹا تیار کیا؟

ذمہ داری اتنے فریقوں میں تقسیم ہو سکتی ہے کہ ہر شخص یہ کہہ سکے کہ قتل کا براہِ راست فیصلہ اس نے نہیں کیا۔ 

یوں دستاویزات میں ’انسانی ذمہ داری‘ موجود رہے گی، لیکن حقیقی حادثے میں جواب دہی غائب ہو سکتی ہے۔ 

ٹیکنالوجی کمپنیوں میں تقسیم

امریکی فوج کے ساتھ تعاون نے مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کو بھی تقسیم کردیا ہے۔ ’اینتھروپک‘ نے اپنے ماڈل ’کلاڈ‘ کو مکمل خودمختار ہتھیاروں میں استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کیا ہے۔ 

کمپنی کا کہنا ہے کہ موجودہ جدید ماڈلز زندگی اور موت کے فیصلے کرنے کے لیے کافی قابلِ اعتماد نہیں۔

یہ کیوں اہم ہے؟
یہ صرف ایک نئے روبوٹ کی کہانی نہیں، بلکہ زندگی اور موت کا آخری فیصلہ انسان سے مشین کو منتقل ہونے کا معاملہ ہے۔

اگر بڑی طاقتوں نے مکمل خودمختار ہتھیار میدان میں اتار دیے تو جنگ شروع کرنے کی سیاسی اور انسانی قیمت کم ہوسکتی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے چھوٹے ممالک، مسلح گروہوں یا جرائم پیشہ نیٹ ورکس تک پہنچنے سے خودکار ڈرون حملوں اور ٹارگٹ کلنگ کا خطرہ بھی بڑھ جائے گا۔ سب سے اہم سوال یہ ہوگا کہ الگورتھم کی غلطی سے کسی بے گناہ کی جان جائے تو قانونی اور اخلاقی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی۔

دوسری جانب ’اوپن اے آئی‘ نے امریکی فوج کے ساتھ تعاون جاری رکھا، لیکن اعلان کیا کہ اس کی ٹیکنالوجی ایسے نظاموں کی حمایت نہیں کرے گی جو طاقت کے استعمال میں مناسب انسانی اختیار اور جواب دہی ختم کردیں۔

تاہم اس پالیسی میں ہر حملے سے پہلے علیحدہ انسانی منظوری ضروری نہیں۔ 

انسان ہدف کی قسم، جغرافیائی حدود، مدت اور آپریشنل شرائط پہلے طے کر سکتا ہے، جس کے بعد فوری فیصلے مشین کے حوالے کیے جا سکتے ہیں۔

اصل جنگ آخری فیصلے کی ہے

’فینٹم‘ ابھی مکمل انقلاب نہیں، بلکہ اس آنے والے دور کی علامت ہے جس میں جنگ کا مرکز ہدف دیکھنے والے فوجی سے منتقل ہو کر ڈیٹا جمع کرنے، شناخت کرنے اور چند لمحوں میں حملہ طے کرنے والے سافٹ ویئر تک پہنچ سکتا ہے۔

ممکن ہے مستقبل میں یہ نظام فوجیوں اور شہریوں کی جانیں بچائیں اور انسانوں سے زیادہ درست حملے کریں۔ 

لیکن تکنیکی صلاحیت اس اخلاقی سوال کا جواب نہیں دیتی کہ کیا ہر وہ چیز استعمال کی جانی چاہیے جسے بنانا ممکن ہو؟

سب سے بڑا خطرہ روبوٹس کا انسانوں کے خلاف بغاوت کرنا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ انسان جنگ کا سب سے خطرناک فیصلہ اپنی مرضی سے مشینوں کے حوالے کردیں—اور پھر انہیں احساس ہو کہ اختیار واپس لینا، اسے سونپنے سے کہیں زیادہ مشکل ہے۔

🤖 اصل اور معتبر ذرائع VERIFIED SOURCES فوجی روبوٹس، خودمختار ہتھیاروں، انسانی اختیار اور قومی سلامتی میں مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق بنیادی حوالہ جات 7 معتبر ذرائع
فینٹم فوجی روبوٹ اور خودکار ہدف کی شناخت
فینٹم فوجی روبوٹ — کمپنی کا آفیشل صفحہ فینٹم روبوٹ، اس کی مصنوعی ذہانت، عسکری صلاحیتوں اور مارٹر گولہ سنبھالنے کے عملی مظاہروں سے متعلق کمپنی کی براہِ راست معلومات۔ کمپنی کا آفیشل ماخذ ویب سائٹ کھولیں ↗ رائٹرز — فینٹم روبوٹ اور خودکار ہدف کی شناخت کمپنی کے بانی کے مطابق مستقبل میں روبوٹ خود ہدف شناخت کرسکے گا، تاہم طاقت کے استعمال اور فائرنگ کے فیصلے کے لیے انسانی منظوری برقرار رکھنے کا ارادہ ہے۔ اصل ویڈیو رپورٹ ویڈیو رپورٹ کھولیں ↗
امریکی قومی سلامتی اور دفاعی پالیسی
وائٹ ہاؤس — قومی سلامتی میں AI کے تیز استعمال کا NSPM-11 قومی سلامتی کے اداروں کو مصنوعی ذہانت کے تجربات، عملی استعمال اور تعیناتی کی رفتار تیز کرنے سے متعلق صدارتی پالیسی یادداشت۔ صدارتی پالیسی اصل یادداشت کھولیں ↗ پینٹاگون — خودمختار ہتھیاروں سے متعلق Directive 3000.09 امریکی محکمہ دفاع کی بنیادی پالیسی، جس میں طاقت کے استعمال پر انسانی فیصلے، قانونی جائزے، نظام کی جانچ اور خودمختار ہتھیاروں کی منظوری کی شرائط بیان کی گئی ہیں۔ سرکاری دفاعی پالیسی PDF کھولیں ↗
AI کمپنیوں کے مؤقف اور استعمال کی حدود
اینتھروپک — مکمل خودمختار ہتھیاروں پر کمپنی کا مؤقف کمپنی کے مطابق موجودہ جدید مصنوعی ذہانت کے ماڈلز مکمل خودمختار مہلک ہتھیار چلانے کے لیے مطلوبہ اعتماد، استحکام اور درستگی کے معیار پر پورا نہیں اترتے۔ AI کمپنی کا بیان اصل بیان کھولیں ↗ اوپن اے آئی — امریکی محکمہ دفاع کے ساتھ معاہدہ معاہدے میں خودمختار ہتھیاروں، انسانی اختیار، نگرانی اور اعلیٰ خطرے کے فیصلوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق حدود اور حفاظتی شرائط بیان کی گئی ہیں۔ کمپنی کا آفیشل بیان اصل بیان کھولیں ↗
اقوام متحدہ اور عالمی قانونی ضابطہ
اقوام متحدہ — مہلک خودمختار ہتھیاروں پر قانونی پابندی کا مطالبہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے انسانی کنٹرول کے بغیر اہداف منتخب اور تباہ کرنے والے مہلک خودمختار ہتھیاروں کو محدود یا ممنوع بنانے کے لیے قانونی معاہدے کا مطالبہ کیا۔ اقوام متحدہ کا بیان اصل بیان کھولیں ↗
ادارتی نوٹ: اس رپورٹ کی تیاری میں فاؤنڈیشن فیوچر انڈسٹریز، رائٹرز، وائٹ ہاؤس، امریکی محکمہ دفاع، اینتھروپک، اوپن اے آئی اور اقوام متحدہ کے اصل سرکاری یا ادارہ جاتی ذرائع سے استفادہ کیا گیا ہے۔ ان ذرائع میں فوجی روبوٹس، خودکار ہدف کی شناخت، انسانی منظوری، خودمختار ہتھیاروں کی قانونی حدود اور قومی سلامتی میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے مختلف پہلو شامل ہیں۔ BY: overseaspost.net