امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس کی سیکیورٹی کے نظام کو مزید فول پروف بنانے کے لیے ایک جامع منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں
الجزیرہ کے مطابق امریکی صدر کی انتظامیہ وائٹ ہاؤس سے ملحقہ لافائیٹ پارک کے گرد باڑ لگانے اور آنے والوں کی اسکریننگ کے لیے زیرِ زمین چیک پوائنٹ سمیت جدید سیکیورٹی کی تعمیر پر غور کررہی ہے۔
لافائیٹ پارک پر نئی سکیورٹی باڑ
امریکی انتظامیہ کا ارادہ ہے کہ وائٹ ہاؤس کے قریب واقع لافائیٹ پارک کو مکمل طور پر باڑ کے حصار میں لیا جائے۔
اس منصوبے کے تحت شمالی اور جنوبی داخلی راستوں پر گیٹس نصب کیے جائیں گے تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ضرورت پڑنے پر عوام کا داخلہ محدود کرنے کا اختیار مل سکے۔
اس منصوبے کی دستاویز 79 صفحات پر مشتمل ہے اور اس کا مقصد طویل مدتی سیکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔
امریکی خصوصی کمیشن اس تجویز کا جائزہ لے رہا ہے، جس میں پارک کے کونوں پر موجود 4 تاریخی یادگاروں کو باڑ کے اندر رکھنے یا باہر رکھنے کے آپشنز زیر غور ہیں۔
زیرِ زمین چیک پوائنٹس
وائٹ ہاؤس آنے والے ہزاروں سیاحوں، سرکاری مہمانوں اور عملے کی جانچ پڑتال کے لیے ایک زیرِ زمین مرکز تعمیر کرنا بھی اس منصوبے کا حصہ ہے۔
یہ سیکیورٹی مرکز ’شیرمین پارک‘ کے نیچے تعمیر ہوگا، جس کا رقبہ 3066 مربع میٹر ہوگا اور اس کا مقصد موجودہ عارضی خیموں اور سیکیورٹی رکاوٹوں کو ختم کرنا ہے۔
وائٹ ہاؤس کا تاریخی سیکیورٹی منصوبہ
زیرِ زمین چیک پوائنٹ اور لافائیٹ پارک کے گرد نئی فول پروف باڑ کی تیاری
صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ہونے والے قاتلانہ حملوں کے بعد صدارتی محل کی سیکیورٹی کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
🚧 لافائیٹ پارک کا حصار
تاریخی پارک کے گرد مستقل سیکیورٹی باڑ کی تنصیب اور ہنگامی حالات میں پبلک اینٹری بلاک کرنے کے لیے جدید گیٹس کی تجویز۔
🚇 زیرِ زمین چیک پوائنٹ
شیرمین پارک کے نیچے 3066 مربع میٹر پر محیط ایک جدید ترین انڈر گراؤنڈ اسکریننگ مرکز کی تعمیر، جس سے موجودہ عارضی خیمے ختم ہو جائیں گے۔
📅 شیڈول اور ہدف
تعمیراتی منصوبے کا باقاعدہ آغاز اگست میں متوقع ہے جبکہ پورے سیکیورٹی نظام کو جولائی 2028 تک مکمل طور پر فعال کرنے کا ہدف ہے۔
🛡️ بڑھتے ہوئے خطرات کا مقابلہ
2024 کی انتخابی مہم کے دوران قاتلانہ حملوں اور وائٹ ہاؤس کے پاس فائرنگ کے واقعات کے پیشِ نظر سیکیورٹی کو اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
نئے ڈیزائن کے مطابق اس کا داخلی راستہ مغرب کی جانب رکھا جائے گا تاکہ بنیادی ڈھانچے میں خلل نہ پڑے۔
اس منصوبے کے تعمیراتی کام کا آغاز اگست میں متوقع ہے، جبکہ اس سیکیورٹی نظام کو جولائی 2028 تک مکمل طور پر فعال کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
ماضی کے واقعات اور سیکیورٹی خدشات
میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ وائٹ ہاؤس سیکیورٹی کو ترجیح اس لیے دے رہے ہیں کیونکہ وہ خود کئی بار قاتلانہ حملوں کا ہدف بن چکے ہیں۔
2024 کی انتخابی مہم کے دوران 2 اور اپریل میں واشنگٹن میں ایک عشائیے کے دوران تیسری کوشش کے بعد ٹرمپ کے لیے خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔
اس کے علاوہ گزشتہ برس وائٹ ہاؤس کے قریب ایک چیک پوائنٹ پر فائرنگ کے واقعے میں سیکیورٹی اہلکاروں کی جوابی کارروائی میں ایک مشتبہ شخص کی ہلاکت نے انتظامیہ کو ہنگامی بنیادوں پر سیکیورٹی اپ گریڈ کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
پنسلوانیا ایونیو اور مستقبل کے امکانات
لافائیٹ پارک کے علاوہ وائٹ ہاؤس انتظامیہ پنسلوانیا ایونیو پر بھی ایسی ہی سیکیورٹی تنصیبات کی خواہشمند ہے۔
اس منصوبے میں وزارتِ خزانہ کی عمارت سے لے کر آئزن ہاور ایگزیکٹو بلڈنگ تک کے حصے کو شامل کیا گیا ہے۔ یہ تجاویز امریکن سیکرٹ سروس کے تعاون سے پیش کی گئی ہیں۔
انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات نہ صرف صدارتی کمپاؤنڈ کی حفاظت کو یقینی بنائیں گے بلکہ سیاحوں کے تجربے کو بھی بہتر بنائیں گے۔
لافائیٹ پارک جو کہ تاریخی طور پر عوامی احتجاج اور تقریبات کا مرکز رہا ہے، اپنی شناخت برقرار رکھے گا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی صدارتی محل (وائٹ ہاؤس) کی سیکیورٹی میں یہ تبدیلیاں عالمی سیاست میں بڑھتے ہوئے چیلنجز کی عکاسی کرتی ہیں۔
ایک ایسے دور میں جہاں ڈرون اور جدید خطرات درپیش ہیں، وائٹ ہاؤس کا یہ اقدام صرف ایک عمارت کی حفاظت نہیں بلکہ صدارتی وقار اور ملکی سلامتی کے تصور کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ایک کوشش ہے۔