براہ راست نشریات

زیرِزمین چیک پوائنٹ اور نئی رکاوٹیں: وائٹ ہاؤس سیکیورٹی سخت ترین

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
امریکی صدر کا محل وائٹ ہاؤس اور صدارتی کمپاؤنڈ کے گرد نئی سیکیورٹی باڑ اور چیک پوائنٹس کا منظر
اس سیکیورٹی منصوبے میں زیر زمین چیک پوائنٹ بنانا بھی شامل ہے (فوٹو: اے آئی)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس کی سیکیورٹی کے نظام کو مزید فول پروف بنانے کے لیے ایک جامع منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں

الجزیرہ کے مطابق امریکی صدر کی انتظامیہ وائٹ ہاؤس سے ملحقہ لافائیٹ پارک کے گرد باڑ لگانے اور آنے والوں کی اسکریننگ کے لیے زیرِ زمین چیک پوائنٹ سمیت جدید سیکیورٹی کی تعمیر پر غور کررہی ہے۔

لافائیٹ پارک پر نئی سکیورٹی باڑ

امریکی انتظامیہ کا ارادہ ہے کہ وائٹ ہاؤس کے قریب واقع لافائیٹ پارک کو مکمل طور پر باڑ کے حصار میں لیا جائے۔

اس منصوبے کے تحت شمالی اور جنوبی داخلی راستوں پر گیٹس نصب کیے جائیں گے تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ضرورت پڑنے پر عوام کا داخلہ محدود کرنے کا اختیار مل سکے۔

اوورسیز پوسٹ ایپ
کیسے استعمال کریں؟ مکمل رہنمائی کے لیے کلک کریں
📱
☝️

اس منصوبے کی دستاویز 79 صفحات پر مشتمل ہے اور اس کا مقصد طویل مدتی سیکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔

امریکی خصوصی کمیشن اس تجویز کا جائزہ لے رہا ہے، جس میں پارک کے کونوں پر موجود 4 تاریخی یادگاروں کو باڑ کے اندر رکھنے یا باہر رکھنے کے آپشنز زیر غور ہیں۔

امریکی صدر کا محل وائٹ ہاؤس اور صدارتی کمپاؤنڈ کے گرد نئی سیکیورٹی باڑ اور چیک پوائنٹس کا منظر
وائٹ ہاؤس، ملحقہ لافائیٹ پارک کے گرد مکمل باڑ لگانے پر غور کر رہا ہے (فوٹو: رائٹرز)

زیرِ زمین چیک پوائنٹس

وائٹ ہاؤس آنے والے ہزاروں سیاحوں، سرکاری مہمانوں اور عملے کی جانچ پڑتال کے لیے ایک زیرِ زمین مرکز تعمیر کرنا بھی اس منصوبے کا حصہ ہے۔

یہ سیکیورٹی مرکز ’شیرمین پارک‘ کے نیچے تعمیر ہوگا، جس کا رقبہ 3066 مربع میٹر ہوگا اور اس کا مقصد موجودہ عارضی خیموں اور سیکیورٹی رکاوٹوں کو ختم کرنا ہے۔

وائٹ ہاؤس کا تاریخی سیکیورٹی منصوبہ

زیرِ زمین چیک پوائنٹ اور لافائیٹ پارک کے گرد نئی فول پروف باڑ کی تیاری

صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ہونے والے قاتلانہ حملوں کے بعد صدارتی محل کی سیکیورٹی کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

1

🚧 لافائیٹ پارک کا حصار

تاریخی پارک کے گرد مستقل سیکیورٹی باڑ کی تنصیب اور ہنگامی حالات میں پبلک اینٹری بلاک کرنے کے لیے جدید گیٹس کی تجویز۔

2

🚇 زیرِ زمین چیک پوائنٹ

شیرمین پارک کے نیچے 3066 مربع میٹر پر محیط ایک جدید ترین انڈر گراؤنڈ اسکریننگ مرکز کی تعمیر، جس سے موجودہ عارضی خیمے ختم ہو جائیں گے۔

3

📅 شیڈول اور ہدف

تعمیراتی منصوبے کا باقاعدہ آغاز اگست میں متوقع ہے جبکہ پورے سیکیورٹی نظام کو جولائی 2028 تک مکمل طور پر فعال کرنے کا ہدف ہے۔

4

🛡️ بڑھتے ہوئے خطرات کا مقابلہ

2024 کی انتخابی مہم کے دوران قاتلانہ حملوں اور وائٹ ہاؤس کے پاس فائرنگ کے واقعات کے پیشِ نظر سیکیورٹی کو اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔

نئے ڈیزائن کے مطابق اس کا داخلی راستہ مغرب کی جانب رکھا جائے گا تاکہ بنیادی ڈھانچے میں خلل نہ پڑے۔ 

اس منصوبے کے تعمیراتی کام کا آغاز اگست میں متوقع ہے، جبکہ اس سیکیورٹی نظام کو جولائی 2028 تک مکمل طور پر فعال کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

امریکی صدر کا محل وائٹ ہاؤس اور صدارتی کمپاؤنڈ کے گرد نئی سیکیورٹی باڑ اور چیک پوائنٹس کا منظر
وائٹ ہاؤس کے جنوبی لان میں ہیلی کاپٹر لینڈنگ پیڈ بنایا جا رہا ہے (فوٹو: اے پی)

ماضی کے واقعات اور سیکیورٹی خدشات

میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ وائٹ ہاؤس سیکیورٹی کو ترجیح اس لیے دے رہے ہیں کیونکہ وہ خود کئی بار قاتلانہ حملوں کا ہدف بن چکے ہیں۔

2024 کی انتخابی مہم کے دوران 2 اور اپریل میں واشنگٹن میں ایک عشائیے کے دوران تیسری کوشش کے بعد ٹرمپ کے لیے خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔

خصوصی رپورٹ
صرف آپ کے لیے، کلک کریں

اس کے علاوہ گزشتہ برس وائٹ ہاؤس کے قریب ایک چیک پوائنٹ پر فائرنگ کے واقعے میں سیکیورٹی اہلکاروں کی جوابی کارروائی میں ایک مشتبہ شخص کی ہلاکت نے انتظامیہ کو ہنگامی بنیادوں پر سیکیورٹی اپ گریڈ کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

امریکی صدر کا محل وائٹ ہاؤس اور صدارتی کمپاؤنڈ کے گرد نئی سیکیورٹی باڑ اور چیک پوائنٹس کا منظر
میرین ون (ہیلی کاپٹر) صدر ٹرمپ کو لے کر وائٹ ہاؤس کے قریب پہنچ رہا ہے (فوٹو: اے پی)

پنسلوانیا ایونیو اور مستقبل کے امکانات

لافائیٹ پارک کے علاوہ وائٹ ہاؤس انتظامیہ پنسلوانیا ایونیو پر بھی ایسی ہی سیکیورٹی تنصیبات کی خواہشمند ہے۔

اس منصوبے میں وزارتِ خزانہ کی عمارت سے لے کر آئزن ہاور ایگزیکٹو بلڈنگ تک کے حصے کو شامل کیا گیا ہے۔ یہ تجاویز امریکن سیکرٹ سروس کے تعاون سے پیش کی گئی ہیں۔

انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات نہ صرف صدارتی کمپاؤنڈ کی حفاظت کو یقینی بنائیں گے بلکہ سیاحوں کے تجربے کو بھی بہتر بنائیں گے۔

امریکی صدر کا محل وائٹ ہاؤس اور صدارتی کمپاؤنڈ کے گرد نئی سیکیورٹی باڑ اور چیک پوائنٹس کا منظر
لنکن میموریل کے قریب نصب (A Throne Fit for a King) نامی سونے کا بیت الخلا (فوٹو: الجزیرہ)

لافائیٹ پارک جو کہ تاریخی طور پر عوامی احتجاج اور تقریبات کا مرکز رہا ہے، اپنی شناخت برقرار رکھے گا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی صدارتی محل (وائٹ ہاؤس) کی سیکیورٹی میں یہ تبدیلیاں عالمی سیاست میں بڑھتے ہوئے چیلنجز کی عکاسی کرتی ہیں۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈرون اور جدید خطرات درپیش ہیں، وائٹ ہاؤس کا یہ اقدام صرف ایک عمارت کی حفاظت نہیں بلکہ صدارتی وقار اور ملکی سلامتی کے تصور کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ایک کوشش ہے۔