اسپین کے سابق عالمی چیمپئن فٹبالر جوان کیپڈیویلا کو فٹبال ورلڈ کپ 2026 کے فائنل میں شرکت کے لیے امریکا جانے سے روک دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں
امریکی حکام کی جانب سے ان کے الیکٹرانک سفری اجازت نامے کی درخواست مسترد کر دی گئی ہے۔
کیپڈیویلا کی صدر ٹرمپ سے اپیل
48 سالہ جوان کیپڈیویلا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے براہ راست مدد کی اپیل کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ اپنے بچوں اور سابق ساتھی کھلاڑیوں کے ہمراہ فائنل دیکھنے کے خواہشمند تھے۔
نامعلوم وجوہات
امریکی حکام نے کیپڈیویلا کی درخواست کیوں مسترد کی، اس کی کوئی ٹھوس وجہ تاحال واضح نہیں ہو سکیں۔
2010 میں عالمی کپ جیتنے والی ہسپانوی ٹیم کا حصہ رہنے والے اس لیجنڈ کھلاڑی کو اپنے بچوں کے ہمراہ سفر کی اجازت نہیں ملی ہے، جس پر وہ افسردہ ہیں۔
فائنل دیکھنے کا خواب ادھورا؟
جوان کیپڈیویلا نیو جرسی کے مٹ لائف اسٹیڈیم میں اسپین اور ارجنٹائن کے درمیان ہونے والے فٹبال ورلڈکپ کا فائنل دیکھنے کے لیے پرجوش تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ لمحہ نہ صرف ان کے بلکہ ان کے بچوں کے لیے بھی انتہائی اہم ہے جو فٹبال کے شوقین ہیں۔
تاریخی لمحے سے محرومی کا دکھ
سابق ہسپانوی کھلاڑی نے اپنے پیغام میں کہا کہ انہیں یقین نہیں آ رہا کہ انہیں کھیل دیکھنے کے لیے امریکا میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
انہوں نے کہا کہ وہ اس تاریخی موقع پر اپنے سابق ساتھی کھلاڑیوں کے ساتھ اسٹیڈیم میں موجود ہو کر ٹیم کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتے تھے۔
رسمی ردعمل کا انتظار
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس معاملے پر امریکی حکام کی جانب سے تاحال کوئی باقاعدہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔
کیپڈیویلا ، جنہوں نے اسپین کی جانب سے 60 بین الاقوامی میچ کھیلے ہیں، اب بھی کسی حکومتی اقدام کے منتظر ہیں تاکہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ فائنل میں شرکت کر سکیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی کھیلوں کے ایونٹس میں ایسے سفری مسائل کا سامنے آنا حیران کن ہے۔
کیپڈیویلا جیسے عالمی سطح کے معروف کھلاڑی کا ویزا مسترد ہونا انتظامی پیچیدگیوں کی نشاندہی کرتا ہے، جس سے نہ صرف کھلاڑی بلکہ ان کے اہل خانہ کی خوشیاں بھی ماند پڑ گئی ہیں۔