صرف سوچ کر کمپیوٹر چلانا، مفلوج ہاتھ کو دوبارہ حرکت دینا یا دماغی سگنلز سے کسی ڈیجیٹل ڈیوائس کو کنٹرول کرنا کبھی سائنس فکشن محسوس ہوتا تھا۔
مزید پڑھیں
اب چین اسے تجربہ گاہ سے نکال کر اسپتال اور مارکیٹ تک پہنچانے کی دوڑ میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔
چینی حکام نے رواں سال برین کمپیوٹر انٹرفیس، یعنی BCI سے متعلق کئی طبی مصنوعات کی منظوری دی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی دماغ کے برقی سگنلز پڑھ کر انہیں کمپیوٹر، روبوٹک ہاتھ یا دوسرے آلات کے لیے کمانڈ میں بدلتی ہے۔
🧠 دماغ سے مشین تک: BCI آخر کام کیسے کرتی ہے؟ فکری عمل
مرحلہ 1: نیورونز کے برقی سگنلز کی گرفت
انسان جب کسی حرکت کا ارادہ باندھتا ہے تو دماغ کے اربوں نیورونز میں برقی چنگاریاں پھوٹتی ہیں؛ کھوپڑی میں نصب مائیکرو سینسرز یا بیرونی ہیڈ بینڈز ان سگنلز کو فوراً کیپچر کر لیتے ہیں۔
مرحلہ 2: شور کو الگ کر کے سگنل ڈی کوڈنگ
دماغی سگنلز کے ساتھ آنے والے حیاتیاتی ارتعاش کو فلٹر کیا جاتا ہے اور جدید الگورتھمز ارادے کو بائنری ڈیجیٹل کوڈ میں تبدیل کرتے ہیں۔
مرحلہ 3: روبوٹک آلات اور کمپیوٹر پر عمل درآمد
ڈی کوڈ شدہ ہدایات وائرلیسلی اسکرین کے کرسر، اسمارٹ وہیل چیئر یا نیومیٹک دستانے تک پہنچتی ہیں اور انسان بغیر ہاتھ ہلائے صرف سوچ کی مدد سے اشیاء کو حرکت دیتا ہے۔
اس میدان میں صرف ایلون مسک ہی اکیلے نہیں
اس شعبے کا سب سے مشہور نام ایلون مسک کی Neuralink ہے، لیکن چین اب واضح طور پر امریکی برتری کو چیلنج کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
دماغی چپس کی جنگ: سوچ سے کمپیوٹر کا کنٹرول 🧠
برین کمپیوٹر انٹرفیس کے شعبے میں چین کا امریکی برتری کو چیلنج اور طبی انقلاب
چین نے برین کمپیوٹر انٹرفیس کو قومی صنعت کا درجہ دے کر مفلوج مریضوں کے لیے جدید دماغی چپس اور بغیر سرجری ٹیکنالوجی کے تجارتی منصوبے تیز کر دیے۔
🎯 متوقع مارکیٹ حجم 📈
سال 2028 تک چینی برین کمپیوٹر انٹرفیس مارکیٹ کی تخمینہ شدہ مجموعی مالیت۔
🏥 کلینیکل مریضوں کی جانچ 🩺
ریڑھ کی ہڈی کی چوٹ والے افراد پر سکے نما چپ کی کامیاب آزمائش جس سے ہاتھ کی حرکت بحال ہوئی۔
⏱️ بغیر سرجری امپلانٹ کا وقت ⚡
گردن کی خون کی نالی کے ذریعے سرجری کے بغیر دماغ تک چپ پہنچانے کا متوقع دورانیہ۔
🏛️ قومی صنعتی معیارات 📋
چینی حکومت کی جانب سے سال 2028 تک بی سی آئی ٹیکنالوجی کے لیے منظور ہونے والے تکنیکی اصول۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
بیجنگ نے BCI کو اپنی مستقبل کی اہم صنعتوں میں شامل کیا ہے اور 2030 تک 2 سے 3 عالمی سطح کی چینی کمپنیاں کھڑی کرنے کا ہدف رکھا ہے۔
چین بمقابلہ نیورالنک: اصل ٹیکنالوجی جنگ کیسے ہوگی؟
امریکی ماڈل: ایلون مسک کی نیورالنک
کھوپڑی کی ہڈی کاٹ کر باریک لچکدار دھاگے دماغ کی اوپری سطح میں داخل کرنا؛ یہ طریقہ انتہائی حساس ڈیٹا دیتا ہے مگر اس میں اوپن برین سرجری کے سنگین خطرات شامل ہیں۔
چینی حکمتِ عملی: کم تکلیف دہ متبادلات
سرجری کے بجائے گردن کی رگ کے راستے چپ پہنچانا (StairMed) اور بیرونی اسکینرز کا فروغ؛ بیجنگ نے 2028 تک 40 معیارات بنا کر پروڈکشن کو تیز ترین کرنے کا ہدف رکھا ہے۔
مقابلے کا محور: اصل فتح یہ نہیں کہ کون پہلا امپلانٹ لگائے گا، بلکہ یہ ہے کہ کون سرجری کے بغیر اسے سستا، محفوظ اور عام اسپتالوں میں قابلِ علاج بنا سکے گا۔
اگست میں جاری چینی منصوبوں کے تحت 2028 تک BCI کے لیے 40 سے زیادہ تکنیکی معیار بنائے یا اپ ڈیٹ کیے جانے ہیں، جبکہ کم از کم 100 کمپنیوں کو ان معیارات کے دائرے میں لانے کی تیاری ہے۔
مفلوج ہاتھ نے پھر حرکت کی
سب سے اہم پیش رفت شنگھائی کی Neuracle Medical Technology کی طرف سے آئی۔
اس کا سکے کے سائز کا NEO امپلانٹ مارچ میں منظوری کے بعد جولائی میں ایک مریض میں کمرشل طور پر نصب کیا گیا۔ یہ دماغی سگنلز پڑھ کر نیومیٹک دستانے کو کنٹرول کرتا ہے، جس سے ریڑھ کی ہڈی کی شدید چوٹ والے مریض ہاتھ سے چیزیں پکڑ سکتے ہیں۔
🩺 فالج، الزائمر اور ڈپریشن: کن بیماریوں میں امید؟ کلینیکل افادیت
ریڑھ کی ہڈی کی چوٹ اور فالج
دماغی احکامات کو بائی پاس کر کے براہِ راست روبوٹک دستانے یا مصنوعی اعضاء تک پہنچانا، جس سے ہاتھ پیر دوبارہ حرکت کر سکتے ہیں۔
الزائمر اور یادداشت کے امراض
تلف شدہ نیورل سرکٹس کی بحالی اور سوچنے سمجھنے کے عمل کو منظم برقی ارتعاش کے ذریعے دوبارہ بیدار کرنے کی آزمائشیں جاری ہیں۔
شدید ڈپریشن اور ذہنی تناؤ
غیر جراحی برین انٹرفیس (BrainCo) کی مدد سے دماغی لہروں کو مانیٹر کر کے منفی کیمیائی سگنلز کو غیر فعال کرنے میں مدد لی جا رہی ہے۔
کامیاب کلینیکل ثبوت: شنگھائی میں 32 مفلوج مریضوں پر کیے گئے حالیہ ٹرائلز میں سکے کے برابر NEO چپ نے مریضوں کو بغیر مدد کے ہاتھ سے گلاس اور اشیاء تھامنے کے قابل بنایا ہے۔
اس نظام کی کلینیکل جانچ 32 مریضوں پر کی گئی، جس میں ہاتھ کی حرکت بہتر ہونے کے نتائج سامنے آئے۔
دماغ میں چپ اور سرجری کے بغیر راستہ
دوسری چینی کمپنی StairMed Technology ایسے امپلانٹس پر کام کر رہی ہے جو روایتی دماغی سرجری کے بجائے گردن کی خون کی نالی کے ذریعے دماغ تک پہنچائے جا سکیں۔
کمپنی کے مطابق مستقبل میں یہ عمل تقریباً 10 منٹ میں ممکن ہو سکتا ہے۔
📊 اربوں یوآن کی منڈی: دماغی چپس اگلا بڑا کاروبار؟ 6.14B یوآن مارکیٹ
چینی سرکاری ادارے CCID کی رپورٹ کے مطابق ملک کی BCI انڈسٹری 2024 میں 3.2 ارب یوآن سے بڑھ کر 2028 تک 6.14 ارب یوآن سے تجاوز کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
علی بابا اور ٹین سینٹ کی بھاری سرمایہ کاری
ٹیک کمپنیاں کلاؤڈ اور مصنوعی ذہانت کے بعد BCI اسٹارٹ اپس میں اربوں کی فنڈنگ انڈیل رہی ہیں؛ StairMed نے تنہا 1.1 ارب یوآن سے زائد حاصل کیے۔
ریاستی سرپرستی اور 100 کمپنیوں کا جال
بیجنگ نے BCI کو مستقبل کی اسٹریٹجک صنعت قرار دے کر 2030 تک عالمی سطح کی بڑی ملٹی نیشنلز کھڑی کرنے کا باضابطہ قانونی فریم ورک نافذ کیا ہے۔
StairMed نے گزشتہ ایک سال میں 1.1 ارب یوآن سے زیادہ سرمایہ حاصل کیا، جس میں Alibaba اور Tencent بھی شامل ہیں۔
اسی دوران BrainCo ڈپریشن اور دیگر دماغی عوارض کی شناخت اور علاج کے لیے غیر جراحی BCI ٹیکنالوجی پر کام کر رہی ہے۔
اربوں یوآن کی اگلی ٹیکنالوجی کی جنگ
چین کے لیے یہ صرف طبی تحقیق نہیں بلکہ ایک نئی صنعت بھی ہے۔
🔭 اگلا مرحلہ کیا ہوگا؟ انسان اور مشین کا مستقبل مستقبل کی دنیا
طبی بحالی سے وسیع تر کنزیومر ٹیکنالوجی تک
ابتدائی مرحلے میں فوکس فالج کے مریضوں پر ہے، مگر اگلا ہدف عام صارفین کے لیے بغیر ٹائپنگ اور بغیر اسکرین چھوئے کمپیوٹر کنٹرول فراہم کرنا ہے۔
10 منٹ کا تیز ترین نسوانی پروسیجر
خون کی نالیوں کے ذریعے کیتھیٹر امپلانٹیشن کے رائج ہونے سے دماغی چپس لگوانا دانت نکالنے یا عام انجکشن جتنا سادہ عمل بن سکتا ہے۔
ذہنی پرائیویسی اور اخلاقی حدود کے خطرات
جب مشینیں دماغ کے ارادے پڑھنا شروع کریں گی تو خیالات کی رازداری، دماغی ہیکنگ اور تجارتی اشتہارات کے لیے سوچ چوری ہونے جیسے سنگین اخلاقی سوالات کھڑے ہوں گے۔
سرکاری ادارے سے منسلک CCID Consulting کے مطابق چینی BCI مارکیٹ 2024 میں 3.2 ارب یوآن تھی، جو 2028 تک تقریباً 6.14 ارب یوآن تک پہنچ سکتی ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل سوال اب یہ نہیں کہ انسان دماغ سے مشینیں چلا سکے گا یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو محفوظ، سستا اور بڑے پیمانے پر قابل استعمال سب سے پہلے کون بناتا ہے۔
فی الحال اس عالمی دوڑ میں امریکہ کے سامنے چین پوری رفتار سے آ چکا ہے۔