براہ راست نشریات

GSP+ اسٹیٹس خطرے میں: پاکستان کی معیشت پر کاری ضرب؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
100% LikesVS
0% Dislikes
پاکستان GSP+ اسٹیٹس

یورپی تحفظات، انسانی حقوق اور کمزور معاشی پالیسیوں نے پاکستان کے GSP+ اسٹیٹس کو خطرے میں ڈال دیا

Picture of محمد مبشر انوار

محمد مبشر انوار

سینئر تجزیہ نگار - ریاض

پاکستان کی معیشت پہلے ہی پیداواری لاگت، صنعتی زوال، درآمدات اور قرضوں کے دباؤ کا شکار ہے۔
ایسے میں انسانی حقوق، عدالتی آزادی، سیاسی قیدیوں، جبری گمشدگیوں اور میڈیا قوانین پر یورپی یونین کے تحفظات GSP+ اسٹیٹس کے لیے نیا خطرہ بن سکتے ہیں۔

OVERSEAS POST  |  SPECIAL COLUMN

کسی بھی ریاست کی خوشحالی اور استحکام کا انحصار بنیادی طور پر دو عوامل پر ہوتا ہے: 

ایک یہ کہ اس کی دفاعی صلاحیت کیا ہے اور دوسرا یہ کہ اس کی معاشی حیثیت کیسی ہے۔

 دیگر تمام عوامل، خواہ ان کا تعلق ریاست کی داخلی صورتِ حال سے ہو یا خارجی تعلقات سے، مل کر انہی دو بنیادی ستونوں کو مضبوط بناتے ہیں۔ 

اگر کوئی ریاست ان میں سے کسی ایک حوالے سے بھی کمزوری کا شکار ہو جائے تو اس کی حالت انتہائی نازک ہو جاتی ہے۔

ریاستِ پاکستان کی حالت بھی ہم سب کے سامنے ہے۔ 

جب سے ہوش سنبھالا ہے، اسے نازک دور سے گزرتے ہی دیکھا ہے۔ 

ہر حکمران کی جانب سے بلند بانگ دعوے کیے جاتے ہیں کہ پاکستان کو نازک صورتِ حال سے نکال لیا جائے گا۔ 

کبھی دن رات کوششوں کا تذکرہ ہوتا ہے تو کبھی ’شبانہ روز‘ محنت کی نوید سنائی جاتی ہے، لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان آج تک اس نازک موڑ اور مشکل دور سے باہر نہیں نکل سکا۔

ایک سطر میں کہانی
GSP+ اسٹیٹس خطرے میں پڑا تو پاکستان کی برآمدات، صنعت، روزگار اور زرمبادلہ کو ایک اور شدید معاشی دھچکا لگ سکتا ہے۔

البتہ یہ ضرور دیکھنے میں آیا ہے کہ ایسے دعوے کرنے والوں کا اپنا نازک دور بڑی تیزی سے خوشحالی میں بدل جاتا ہے۔ 

کل تک جن کی ذاتی معیشت کمزور ترین تھی، وہ دیکھتے ہی دیکھتے انتہائی مستحکم ہو جاتی ہے۔ 

اشرافیہ کی دوسری قسم، جس کے متعلق بات کرنے سے پَر جلتے ہیں، مدتِ ملازمت مکمل کرنے کے بعد انتہائی متمول دکھائی دیتی ہے۔ 

خواہ وہ اعلیٰ ترین عہدے پر فائز نہ بھی رہے ہوں، شرط صرف اتنی ہے کہ ان کے تعلقات اعلیٰ ترین عہدے پر رہنے والی شخصیت سے قریبی رہے ہوں اور وہ چیدہ چیدہ عہدوں پر تعینات رہے ہوں۔

ایسی تقرریوں کے بعد ان کی ذاتی معیشت بھی دن دگنی، رات چوگنی ترقی کرتی ہوئی عام پاکستانیوں کی دسترس سے کہیں دور جا پہنچتی ہے، جبکہ عام شہری کی حالت مزید دگرگوں اور کسمپرسی کا شکار ہو جاتی ہے۔

دوسری طرف جب ہم دیگر اقوام اور ریاستوں کی طرف نظر دوڑاتے ہیں تو انسان ورطۂ حیرت میں ڈوب جاتا ہے کہ انہوں نے اتنی ترقی کیسے حاصل کر لی؟ 

آخر وہ بھی تو ہم جیسے انسان ہی ہیں! بے شک وہ بھی ہم جیسے انسان ہیں، لیکن ان میں قومیت کا عنصر اور جذبہ ہم سے کہیں زیادہ ہے۔ 

وہ ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح نہیں دیتے۔ 

ان کی نظر میں ریاست کی ترقی اور خوشحالی ہی ان کی اپنی ترقی اور خوشحالی ہے۔

ریاستِ پاکستان میں یہ سوچ، جذبہ اور ترجیح بالعموم اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ 

یہاں خواص کے ہاں عمومی رویہ یہی نظر آتا ہے کہ سب سے پہلے ذاتی ترقی کو یقینی بنایا جائے، ریاست اور عوام خواہ کسی حال میں رہیں۔

اسی فلسفے کو سامنے رکھتے ہوئے ریاستی مشینری کی اکثریت بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتی۔ 

اشرافیہ کے ایسے طرزِ عمل سے اس کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ 

اگر ریاستی مشینری اشرافیہ کے لیے نظام میں سقم اور راستے تلاش کرکے ان کی ذاتی معیشت چمکانے میں معاون بنتی ہے تو کہیں نہ کہیں اپنی ذاتی معیشت بھی اس کی ترجیحات میں شامل دکھائی دیتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ریاستی مشینری کی اکثریت، جسے اس ملک کے نظام کو عوامی فلاح کے لیے بہتر سے بہترین بنانا چاہیے تھا، اسی نظام کو چھیڑے بغیر اس سے اپنے مفادات کشید کرتی دکھائی دیتی ہے۔ 

بدقسمتی دیکھیے کہ اعلیٰ عدالت کی جانب سے ریاستی مشینری میں دہری شہریت کے معاملے پر بھی اب خاموشی چھائی نظر آتی ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ریاستی مشینری کے وہ کل پرزے، جو پاکستان کا نظام چلانے کے ذمہ دار ہیں، خود اسی نظام پر اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں اور دہری شہریت حاصل کرکے بیٹھے ہیں۔ 

گویا ڈوبتی کشتی سے سب سے پہلے نکلنے والوں نے اس کشتی کے پتوار سنبھال رکھے ہیں؛ کشتی کو بچانے کے لیے نہیں بلکہ یہ جاننے کے لیے کہ وہ کب ڈوبے گی۔

ایسی ہی صورتِ حال اصل حکمرانوں کی بھی دکھائی دیتی ہے۔ 

اگرچہ گزشتہ برس سرحدوں پر ان کی کارکردگی قابلِ ذکر اور لائقِ ستائش رہی، لیکن ماضی میں ایسی کارکردگی کا ذکر بالعموم ’مطالعہ پاکستان‘ کے صفحات پر ہی پڑھنے کو ملتا تھا۔

GSP+

GSP+ کیا ہے اور کیوں اہم ہے؟

GSP+ یورپی یونین کی خصوصی تجارتی سہولت ہے، جس کے تحت اہل ترقی پذیر ممالک کی بڑی تعداد میں مصنوعات کو یورپی منڈی تک کم یا صفر درآمدی ڈیوٹی کے ساتھ رسائی ملتی ہے۔

GSP+ اسٹیٹس کیسے ملتا ہے؟

یہ سہولت صرف تجارتی رعایت نہیں بلکہ متعدد بین الاقوامی معاہدوں پر مؤثر عمل درآمد سے مشروط ہوتی ہے۔ ان معاہدوں کا تعلق انسانی حقوق، مزدوروں کے حقوق، ماحولیات، شفاف حکمرانی اور قانون کی بالادستی سے ہوتا ہے۔

پاکستان کے لیے کیوں اہم ہے؟
  • پاکستانی مصنوعات کو یورپی منڈی میں مسابقتی برتری ملتی ہے۔
  • ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات کو خصوصی فائدہ پہنچتا ہے۔
  • ملک کو قیمتی زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے۔
  • برآمدی صنعتوں سے وابستہ لاکھوں ملازمتوں کو سہارا ملتا ہے۔
  • یورپی سرمایہ کاروں اور خریداروں کا اعتماد برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔
اگر یہ حیثیت ختم ہوگئی تو کیا ہوگا؟

پاکستانی مصنوعات پر یورپی منڈی میں زیادہ محصولات عائد ہوسکتے ہیں، جس سے ان کی قیمت بڑھے گی اور مقابلے کی صلاحیت کم ہوسکتی ہے۔ اس کا دباؤ برآمدات، صنعتی پیداوار، روزگار اور زرمبادلہ کے ذخائر پر پڑنے کا خدشہ ہوگا۔

اہم نکتہ: GSP+ کا تسلسل صرف برآمدی کارکردگی پر نہیں بلکہ انسانی حقوق، عدالتی آزادی، مزدوروں کے تحفظ اور بین الاقوامی ذمہ داریوں پر عمل درآمد سے بھی وابستہ ہے۔

بہرحال، آج اگر دفاعی صلاحیت قابلِ ذکر ہو چکی ہے تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ریاست نازک دور سے نکل چکی ہے۔ 

آج بھی حکمرانوں کی جانب سے یہی الفاظ سننے کو ملتے ہیں کہ ہم اس وقت نازک، بلکہ ’نازک ترین دور‘ سے گزر رہے ہیں۔ 

اس کی وجہ یہ ہے کہ ریاست کی مضبوطی اور استحکام کا دوسرا بنیادی عنصر، یعنی معیشت، بقول خواجہ آصف، انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں داخل ہے۔

لیکن جیسا کہ پہلے عرض کیا، ان احباب کی ذاتی معیشت کو پَر لگے ہوئے ہیں اور وہ دن بدن بلندی کی طرف جا رہی ہے۔ 

فیلڈ مارشل نے اپنے ابتدائی ایام میں اعلان کیا تھا کہ انہوں نے معیشت کی باگ ڈور براہِ راست اپنے ہاتھوں میں سنبھال لی ہے اور اب چند دنوں کی بات ہے، دنیا پاکستان کی معیشت کو ترقی کرتے ہوئے دیکھے گی۔ 

تاہم فیلڈ مارشل کا یہ سہانا وعدہ بھی وفا نہ ہو سکا اور ان کی ترجیحات کا رخ بھی تبدیل ہو گیا۔

پاکستان میں پیداواری لاگت مختلف وجوہ کے باعث انتہائی بڑھ چکی ہے۔ 

مقامی صنعتکار اور ہنرمند اپنا سرمایہ یہاں سے منتقل کر چکے ہیں یا صنعتیں بند کرکے بیٹھ رہے ہیں۔ 

دوسری جانب ہنرمندوں کے لیے روزگار اور ترقی کے مواقع بھی باقی نہیں رہے۔ 

پاکستان کی حیثیت آج ایک پیداواری ملک کے بجائے محض صارف ملک کی بن چکی ہے، جہاں اشیائے ضروریہ دوسرے ممالک سے منگوائی جاتی ہیں۔

یہ اشیا بہرحال بعض اوقات مقامی پیداوار کے مقابلے میں کم قیمت پر دستیاب ہوتی ہیں، لیکن اس پوری مشق میں پاکستان کا قیمتی زرمبادلہ درآمدی تجارت کی نذر ہو جاتا ہے۔

اس کے باوجود یورپی یونین اور چند دیگر اہم ممالک نے پاکستانی صنعت کو زندہ رکھنے، حکمرانوں کو درست پالیسیاں بنانے اور عوامی فلاح کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان کو خصوصی تجارتی حیثیت دے رکھی تھی۔ 

اس کے تحت پاکستان کو ان ممالک میں اپنی مصنوعات برآمد کرنے کے لیے خصوصی رعایت حاصل تھی، تاکہ پاکستانی مصنوعات عالمی منڈی میں کسی حد تک مقابلہ کر سکیں۔

ایک زمانے میں پاکستان عالمی منڈیوں میں ٹیکسٹائل مصنوعات، آلاتِ جراحی، پنکھے، ظروف اور کئی دوسری مصنوعات برآمد کیا کرتا تھا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اور حکمرانوں کی ناعاقبت اندیشانہ پالیسیوں کے باعث عالمی منڈیوں میں پاکستان کا حصہ مسلسل سکڑتا چلا گیا۔

آج پاکستان کی چند باقی ماندہ قابلِ برآمد چیزوں میں سرفہرست افرادی قوت ہے۔ 

پاکستان اپنی افرادی قوت خلیجی ممالک کو فراہم کرکے کثیر زرمبادلہ حاصل کرتا ہے، لیکن پھر اسی زرمبادلہ کو بیرونِ ملک سے اشیائے ضروریہ درآمد کرنے پر خرچ کرکے ترقی یافتہ ممالک کو واپس دے دیتا ہے اور ہاتھ جھاڑ کر بیٹھ جاتا ہے۔

اپنے امورِ مملکت چلانے کے لیے پاکستان کبھی اس در اور کبھی اُس در کشکول اٹھائے قرضوں کی بھیک مانگتا نظر آتا ہے۔ 

یہ قرضے نہ صرف انتہائی سخت شرائط پر ملتے ہیں بلکہ ان کے نتیجے میں پاکستان اپنے باقی ماندہ اثاثوں سے بھی ہاتھ دھوتا جا رہا ہے۔

بدقسمتی سے شدید اندیشہ یہی ہے کہ جب پاکستانی نامی کشتی—نعوذ باللہ، خاکم بدہن—ڈوبتی ہوئی نظر آئے گی تو یہی حکمران طبقہ اور ریاستی مشینری، جو اپنے متبادل بندوبست پہلے ہی کر چکے ہیں، عوام کو ڈوبتا چھوڑ کر اپنے اپنے آبائی ممالک کی طرف کوچ کر جائیں گے۔ 

یہ لوگ پاکستان میں صرف حکمرانی کے لیے آتے ہیں، جبکہ ان کا بیشتر سرمایہ بیرونِ ملک موجود ہوتا ہے۔ 

دورِ حکمرانی میں مزید مال اکٹھا کرکے اپنے کاروبار کو وسعت دیتے ہیں اور پھر واپس چلے جاتے ہیں۔

بہرحال، اب آتے ہیں GSP+ اسٹیٹس کی جانب۔ 

یورپی یونین کی وہ کمیٹی، جو چند ماہ قبل اس حیثیت کا جائزہ لینے پاکستان آئی تھی، 2023ء سے 2025ء تک پاکستان کی صورتِ حال سے متعلق اپنی رپورٹ یورپی یونین کو پیش کر چکی ہے۔

اہم نکات

01 دفاعی طاقت، مگر کمزور معیشت
پاکستان کا دفاعی استحکام اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتا جب تک ملکی معیشت مضبوط اور پائیدار نہ ہو۔
02 پیداواری لاگت میں اضافہ
توانائی، خام مال اور کاروباری اخراجات بڑھنے سے مقامی صنعت دباؤ میں ہے اور متعدد صنعتکار اپنا سرمایہ منتقل یا کاروبار بند کر رہے ہیں۔
03 پیداواری سے صارف معیشت تک
پاکستان کی درآمدات پر بڑھتی ہوئی انحصاری نے اسے پیداواری ملک کے بجائے بڑی حد تک صارف معیشت میں تبدیل کردیا ہے۔
04 GSP+ کا بنیادی فائدہ
اس خصوصی حیثیت سے پاکستانی مصنوعات، بالخصوص ٹیکسٹائل اور ملبوسات، کو یورپی منڈی تک کم یا صفر درآمدی ڈیوٹی کے ساتھ رسائی ملتی ہے۔
05 یورپی یونین کے تحفظات
انسانی حقوق، سیاسی قیدیوں، جبری گمشدگیوں، عدالتی آزادی، فوجی عدالتوں اور میڈیا قوانین سے متعلق معاملات پر تشویش پائی جاتی ہے۔
06 برآمدات اور روزگار کو خطرہ
GSP+ اسٹیٹس متاثر ہونے سے پاکستانی مصنوعات مہنگی، برآمدات کم اور صنعتوں سے وابستہ لاکھوں ملازمتیں دباؤ میں آسکتی ہیں۔
07 زرمبادلہ پر ممکنہ دباؤ
یورپی منڈی میں برآمدات کم ہونے سے پاکستان کی زرمبادلہ آمدن متاثر اور بیرونی ادائیگیوں کا بحران مزید سنگین ہوسکتا ہے۔
08 فیصلہ ریاستی پالیسیوں پر منحصر
خصوصی تجارتی حیثیت کا مستقبل یورپی تحفظات دور کرنے، بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرنے اور مؤثر اصلاحات متعارف کرانے پر منحصر ہے۔

ہر نکتے کی تفصیل دیکھنے کے لیے متعلقہ بٹن کھولیں

یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ جب پاکستان جیسی کسی ریاست کو ایسی رعایت دی جاتی ہے تو اس کے بدلے میں کچھ تقاضے بھی کیے جاتے ہیں۔ 

ہم سب جانتے ہیں کہ یورپی یونین جیسی تنظیم کے لیے انسانی حقوق انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔ 

وہ تجارتی سہولتوں اور رعایتوں کے بدلے یہ چاہتی ہے کہ پاکستان جیسی ریاستیں اپنے ملک میں انسانی حقوق کی صورتِ حال بہتر بنائیں، خواہ ان حقوق کا تعلق عمومی شہری آزادیوں سے ہو یا مذہبی اور سماجی اقلیتوں سے۔

یہ کمیٹی بھی پاکستان میں ان تمام امور کا جائزہ لیتی رہی اور حکمرانوں کو اپنے تحفظات سے آگاہ کرتی رہی، لیکن حکمران طاقت کے زعم میں ان تنبیہات کو اہمیت دینے کے لیے تیار نہ تھے۔ 

میڈیا نے بھی ان معاملات کے ممکنہ مضمرات سے آگاہ کرنے کی اپنی سی کوشش کی، مگر یہ کوشش بے سود ثابت ہوئی۔

اب اس رپورٹ میں انسانی حقوق کی پامالیوں، سیاسی قیدیوں کو منصفانہ ٹرائل نہ ملنے اور بالخصوص سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو منصفانہ قانونی کارروائی سے محروم رکھنے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ 

اس کے علاوہ اقلیتوں کے حقوق کی ضمانت، ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے دی گئی امداد کے درست استعمال سے گریز، جبری گمشدگیاں، شہریوں کو فوجی عدالتوں سے سزائیں دینے اور عدلیہ کی آزادی پر قدغن لگانے جیسے معاملات بھی رپورٹ کا حصہ ہیں۔

بالخصوص 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے ذریعے عدلیہ کے پَر کاٹنے، میڈیا سے متعلق پیکا قانون اور پنجاب میں بنائے گئے قانون پر بھی سخت تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

پاکستان کو خبردار کیا گیا ہے کہ اگر اس نے +GSP اسٹیٹس کے عوض عائد شرائط پوری نہ کیں تو اس خصوصی حیثیت کو برقرار رکھنے کے فیصلے پر دوبارہ غور کیا جا سکتا ہے۔ 

اس رعایت کے تسلسل کو یورپی یونین کے تحفظات دور کرنے، انسانی حقوق کی صورتِ حال بہتر بنانے اور بالخصوص عمران خان سمیت دیگر سیاسی اسیران کی رہائی جیسے معاملات سے مشروط کیا جا رہا ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ ریاستِ پاکستان ان تحفظات اور شرائط کے جواب میں کیا طرزِ عمل اختیار کرتی ہے؟

ادارتی نوٹ
کالم میں اظہار کیے گئے خیالات اور آراء صرف کالم نگار کے ذاتی موقف کی عکاسی کرتے ہیں، جن سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

متعدد آراء

  1. ریاست کی مضبوطی کا دارومدار دفاع اور مضبوط معیشت پر ہوتا ہے، مگر پاکستان معاشی کمزوری کا شکار ہے۔

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے