اہم خبریں
22 May, 2026
--:--:--

لبنان میں اسرائیلی جارحیت: شہر کے شہر اور دیہات نقشے سے مٹ گئے

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
جنوبی لبنان میں ہونے والی یہ تباہی، رہائشی عمارتوں کا ملبہ اور سیٹلائٹ تصاویر کا خاکہ
اسرائیلی جارحیت کا مقصد سرحدی علاقوں سے آبادی کو مستقل طور پر بے دخل کرنا ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

جنوبی لبنان کے سرحدی علاقوں میں جاری اسرائیلی فضائی کارروائیوں اور زمینی پیش قدمی کے نتیجے میں درجنوں دیہات اور قصبے مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔

مزید پڑھیں

سیٹلائٹ تصاویر اور مقامی باشندوں کے آنکھوں دیکھے حالات جان کر وسیع پیمانے پر ہونے والی اس  تباہی کی تصدیق ہوتی ہے جو ایک بڑا انسانی المیہ بن چکی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اس تنازع کے آغاز سے اب تک جنوبی لبنان میں 50 ہزار سے زائد رہائشی یونٹس تباہ یا شدید متاثر ہوچکے ہیں۔

مقامی حکام اور متاثرین اسے ’معاشرتی نسل کشی‘ قرار دے رہے ہیں، جس کا مقصد سرحدی علاقوں سے آبادی کو مستقل طور پر بے دخل کرنا ہے۔

جنوبی لبنان میں ہونے والی یہ تباہی، رہائشی عمارتوں کا ملبہ اور سیٹلائٹ تصاویر کا خاکہ
اسرائیلی جارحیت سے گھروں کے علاوہ اسکول، عبادت گاہیں اور زرعی اراضی بھی شدید متاثر ہوئی ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

نقل مکانی اور گھروں کی تباہی کا درد

یارون قصبے سے نقل مکانی کرنے والی فرح جیسی خواتین اپنے گھروں کے کھو جانے پر دکھی ہیں۔

اسی طرح بہت سے بے گھر افراد 140 ڈالر خرچ کر کے سیٹلائٹ تصاویر خرید رہے ہیں تاکہ اپنے تباہ شدہ گھروں کی حالت دیکھ سکیں۔ یہ تصاویر ان کی یادوں اور ماضی کا واحد سہارا بن کر رہ گئی ہیں۔

جنوبی لبنان میں ہونے والی یہ تباہی، رہائشی عمارتوں کا ملبہ اور سیٹلائٹ تصاویر کا خاکہ
مقامی حکام اور متاثرین اسرائیلی کارروائیوں کو ’معاشرتی نسل کشی‘ قرار دے رہے ہیں (فوٹو: انٹرنیٹ)

تاریخی مقامات اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی

اسرائیلی جارحیت سے گھروں کے علاوہ اسکول، عبادت گاہیں اور زرعی اراضی بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔

بنت جبیل کے تاریخی قصبے کا مشہور اسٹیڈیم، جہاں سے ماضی میں اہم سیاسی تقاریر ہوئی تھیں، اب ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔ سینٹ جارج چرچ جیسی تاریخی عمارتیں بھی بمباری کی نذر ہو گئیں۔

جنوبی لبنان میں ہونے والی یہ تباہی، رہائشی عمارتوں کا ملبہ اور سیٹلائٹ تصاویر کا خاکہ
جنوبی لبنان میں 50 ہزار سے زائد رہائشی یونٹس تباہ یا شدید متاثر ہوچکے ہیں (فوٹو: انٹرنیٹ)

معاشرتی نسل کشی

لبنانی نیشنل کونسل فار سائنسی تحقیق (CNRS) کے مطابق اسرائیلی فورسز نے 17 اپریل کی جنگ بندی کے دوران بڑے پیمانے پر بارودی سرنگیں بچھا کر عمارتوں کو تباہ کیاہے۔

کونسل کا کہناہے کہ یہ محض عسکری کارروائی نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی ہے جس کا مقصد لوگوں کی یادوں کو مٹانا ہے۔

جنوبی لبنان میں ہونے والی یہ تباہی، رہائشی عمارتوں کا ملبہ اور سیٹلائٹ تصاویر کا خاکہ
سیٹلائٹ تصاویر سے وسیع پیمانے پر ہونے والی تباہی کی تصدیق ہوتی ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

جنگ بندی اور جاری کشیدگی کا تناظر

لبنان اور اسرائیل 1948 سے حالتِ جنگ میں ہیں، جبکہ واشنگٹن میں جاری براہ راست مذاکرات کے باوجود اسرائیل کی جانب سے انخلا کے انتباہات اور فضائی حملے جاری ہیں۔

نیشنل کونسل کے مطابق  2023 سے اب تک کل 2 لاکھ 90 ہزار رہائشی یونٹس کو نقصان پہنچا ہے، جس سے ملک کو ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے۔

جنوبی لبنان میں ہونے والی یہ تباہی، رہائشی عمارتوں کا ملبہ اور سیٹلائٹ تصاویر کا خاکہ
اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں درجنوں دیہات اور قصبے مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں (فوٹو: انٹرنیٹ)

جنوبی لبنان میں ہونے والی یہ تباہی صرف املاک کا ضیاع نہیں، بلکہ یہ ایک پورے خطے کے ثقافتی اور سماجی تانے بانے کو پارہ پارہ کرنے کے مترادف ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب تک مستقل امن کا کوئی قابلِ عمل فارمولا طے نہیں پاتا، اس خطے کی تعمیر نو اور لوگوں کی واپسی محض ایک خواب معلوم ہوتی ہے۔