جنوبی لبنان کے سرحدی علاقوں میں جاری اسرائیلی فضائی کارروائیوں اور زمینی پیش قدمی کے نتیجے میں درجنوں دیہات اور قصبے مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔
مزید پڑھیں
سیٹلائٹ تصاویر اور مقامی باشندوں کے آنکھوں دیکھے حالات جان کر وسیع پیمانے پر ہونے والی اس تباہی کی تصدیق ہوتی ہے جو ایک بڑا انسانی المیہ بن چکی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اس تنازع کے آغاز سے اب تک جنوبی لبنان میں 50 ہزار سے زائد رہائشی یونٹس تباہ یا شدید متاثر ہوچکے ہیں۔
مقامی حکام اور متاثرین اسے ’معاشرتی نسل کشی‘ قرار دے رہے ہیں، جس کا مقصد سرحدی علاقوں سے آبادی کو مستقل طور پر بے دخل کرنا ہے۔
نقل مکانی اور گھروں کی تباہی کا درد
یارون قصبے سے نقل مکانی کرنے والی فرح جیسی خواتین اپنے گھروں کے کھو جانے پر دکھی ہیں۔
اسی طرح بہت سے بے گھر افراد 140 ڈالر خرچ کر کے سیٹلائٹ تصاویر خرید رہے ہیں تاکہ اپنے تباہ شدہ گھروں کی حالت دیکھ سکیں۔ یہ تصاویر ان کی یادوں اور ماضی کا واحد سہارا بن کر رہ گئی ہیں۔
تاریخی مقامات اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی
اسرائیلی جارحیت سے گھروں کے علاوہ اسکول، عبادت گاہیں اور زرعی اراضی بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔
بنت جبیل کے تاریخی قصبے کا مشہور اسٹیڈیم، جہاں سے ماضی میں اہم سیاسی تقاریر ہوئی تھیں، اب ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔ سینٹ جارج چرچ جیسی تاریخی عمارتیں بھی بمباری کی نذر ہو گئیں۔
معاشرتی نسل کشی
لبنانی نیشنل کونسل فار سائنسی تحقیق (CNRS) کے مطابق اسرائیلی فورسز نے 17 اپریل کی جنگ بندی کے دوران بڑے پیمانے پر بارودی سرنگیں بچھا کر عمارتوں کو تباہ کیاہے۔
کونسل کا کہناہے کہ یہ محض عسکری کارروائی نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی ہے جس کا مقصد لوگوں کی یادوں کو مٹانا ہے۔
جنگ بندی اور جاری کشیدگی کا تناظر
لبنان اور اسرائیل 1948 سے حالتِ جنگ میں ہیں، جبکہ واشنگٹن میں جاری براہ راست مذاکرات کے باوجود اسرائیل کی جانب سے انخلا کے انتباہات اور فضائی حملے جاری ہیں۔
نیشنل کونسل کے مطابق 2023 سے اب تک کل 2 لاکھ 90 ہزار رہائشی یونٹس کو نقصان پہنچا ہے، جس سے ملک کو ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے۔
جنوبی لبنان میں ہونے والی یہ تباہی صرف املاک کا ضیاع نہیں، بلکہ یہ ایک پورے خطے کے ثقافتی اور سماجی تانے بانے کو پارہ پارہ کرنے کے مترادف ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب تک مستقل امن کا کوئی قابلِ عمل فارمولا طے نہیں پاتا، اس خطے کی تعمیر نو اور لوگوں کی واپسی محض ایک خواب معلوم ہوتی ہے۔