یورپی یونین میں روس پر عائد پابندیوں کے پیکیج میں سے ایک چینی سیمی کنڈکٹر سپلائر کو عارضی استثنیٰ دینے کی تجویز پر غور کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں
بلومبرگ کے مطابق یہ فیصلہ یورپی کار ساز کمپنیوں کے شدید دباؤ کا نتیجہ ہے، کیونکہ یورپی کمپنیوں نے خبردار کیا ہے کہ اس چینی فرم پر فوری پابندی سے سپلائی چین بری طرح متاثر ہوگی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس تجویز کو رواں ہفتے پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ یاد رہے کہ مذکورہ چینی کمپنی گزشتہ ماہ منظور شدہ نئی یورپی پابندیوں کی فہرست میں شامل تھی۔
کار ساز اداروں کا برسلز پر دباؤ ہے کہ وہ یہ پابندی فی الحال مؤخر کرے۔ کمپنیوں کا مؤقف ہے کہ انہیں سپلائی چین متبادل بنانے کے لیے کافی وقت نہیں ملا اور پابندی سے چند ہی ہفتوں میں ان کا اسٹاک ختم ہو جائے گا۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کے اندر جاری یہ بحث ظاہر کرتی ہے کہ یورپ کی بڑی صنعتیں چینی پرزوں پر کس حد تک انحصار کرتی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آٹو موبائل، الیکٹرانکس اور چپس کے شعبے چینی درآمدات کے محتاج بن چکے ہیں۔
واضح رہے کہ یہ بحران ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روس یوکرین جنگ اور مغرب و چین کے مابین تجارتی تناؤ کے باعث جیوپولیٹیکل دباؤ بڑھ رہا ہے۔
اس صورتحال نے یورپ کی بڑی صنعتوں کو شدید تذبذب میں مبتلا کر دیا ہے۔
دوسری جانب چینی وزارت تجارت نے گزشتہ ماہ روس پر نئی پابندیوں کے بہانے چینی کمپنیوں کو نشانہ بنانے پر سخت ردعمل دیا تھا۔
بیجنگ نے یورپی یونین کی ان پابندیوں کی شدید الفاظ میں مخالفت کی تھی۔