جدید جنگوں میں مصنوعی ذہانت، تجارتی سیٹلائٹس اور اوپن سورس معلومات کے بڑھتے استعمال نے عسکری توازن کو تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے۔
وہ ٹیکنالوجی جو کبھی صرف بڑی طاقتوں تک محدود تھی، اب تجارتی سطح پر دستیاب ہے، جس سے اسٹیلتھ طیاروں سمیت حساس عسکری نظاموں کی خفیہ نقل و حرکت کو محفوظ رکھنا پہلے سے زیادہ مشکل بنتا جا رہا ہے۔
لیکن آج حالات مختلف ہیں۔
تجارتی سیٹلائٹس دنیا کے تقریباً ہر حصے کی بار بار تصاویر لے رہے ہیں۔
فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹس فضائی نقل و حرکت کا ڈیٹا فراہم کر رہی ہیں، جبکہ مصنوعی ذہانت ان مختلف ذرائع سے حاصل شدہ معلومات کو جوڑ کر مکمل تصویر بنانے کی صلاحیت حاصل کر چکی ہے۔اب وہ کام جو پہلے درجنوں ماہرین اور مہینوں کی تحقیق سے ممکن ہوتا تھا، جدید سافٹ ویئر چند منٹوں میں انجام دے سکتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت ہزاروں تصاویر، پروازوں کے راستوں اور زمینی سرگرمیوں کا تجزیہ کر کے مخصوص عسکری نقل و حرکت کی نشاندہی کر سکتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ دفاعی ماہرین اب ’معلوماتی شفافیت‘ کے ایک نئے دور کی بات کر رہے ہیں، جہاں بہت سی عسکری سرگرمیاں مکمل راز نہیں رہ پاتیں۔
کئی ممالک ایسے ریڈار نظام تیار کر رہے ہیں جو روایتی اسٹیلتھ ٹیکنالوجی کے خلاف زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔
کم فریکوئنسی والے جدید ریڈارز اور مستقبل کے ’کوانٹم ریڈار‘ جیسے تصورات دفاعی میدان میں نئی بحث کو جنم دے رہے ہیں۔
اگرچہ ان ٹیکنالوجیز کی مکمل عملی صلاحیت اب بھی تحقیق اور تجربات کے مراحل میں ہے، لیکن یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ آنے والے برسوں میں اسٹیلتھ اور نگرانی کے درمیان مقابلہ مزید پیچیدہ ہو جائے گا۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اسٹیلتھ ٹیکنالوجی مکمل طور پر ختم نہیں ہوگی لیکن اسے ایک نئے دور کے تقاضوں کے مطابق تبدیل ہونا پڑے گا۔
اب اصل چیلنج صرف دشمن کے ریڈار سے بچنا نہیں، بلکہ اس وسیع معلوماتی ماحول سے بھی خود کو محفوظ رکھنا ہے جہاں تجارتی سیٹلائٹس، مصنوعی ذہانت، اوپن سورس معلومات اور جدید تجزیاتی نظام مسلسل نئی حقیقتیں سامنے لا رہے ہیں۔
جنگوں کی نوعیت بدل رہی ہے۔