ایلون مسک کی خلائی کمپنی اسپیس ایکس نے باضابطہ طور پر ابتدائی عوامی شیئر فروخت IPO کا اعلان کر دیا ہے، جو تاریخ کا سب سے بڑا آئی پی او بن سکتا ہے۔
کمپنی 75 ارب ڈالر تک سرمایہ جمع کرنے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ اس کی متوقع مارکیٹ ویلیو 2 کھرب ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہے۔
اگر یہ ہدف حاصل ہو جاتا ہے تو اسپیس ایکس 2019 میں سعودی آرامکو کے 29.4 ارب ڈالر کے تاریخی آئی پی او ریکارڈ کو بھی پیچھے چھوڑ دے گی۔
اسپیس ایکس خلائی نقل و حمل کے شعبے میں نمایاں حیثیت رکھتی ہے اور امریکی خلائی ادارے ناسا اور امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے لیے راکٹ لانچنگ خدمات فراہم کرنے والی بڑی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔
کمپنی اپنی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس اسٹارلنک کے ذریعے بھی اربوں ڈالر کی آمدنی حاصل کر رہی ہے۔
نجی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بننے والی اسپیس ایکس کی مارکیٹ ویلیو تیزی سے بڑھ کر 1.25 کھرب ڈالر تک پہنچ چکی ہے، خاص طور پر رواں سال ایلون مسک کی مصنوعی ذہانت کی کمپنی ایکس اے آئی کے انضمام کے بعد۔