کمپنی کی ذیلی سروس Starlink پہلے ہی دنیا بھر میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ فراہم کر رہی ہے، جبکہ حالیہ مہینوں میں ایلون مسلک نے اپنی مصنوعی ذہانت کمپنی xAI اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم X کو بھی SpaceX کے ساتھ ضم کر دیا ہے۔
اس انضمام کے بعد مشترکہ گروپ کی تخمینی مالیت تقریباً 1.25 ٹریلین ڈالر بتائی جا رہی ہے، جو اسے دنیا کی سب سے قیمتی نجی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں شامل کر سکتی ہے۔
دوسری جانب بلومبرگ نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ کمپنی کے اکثریتی شیئر ہولڈرز نے 5 کے بدلے 1 شیئر تقسیم ’اسٹاک اسپلٹ‘ کی منظوری دے دی ہے۔
اس فیصلے کو ممکنہ آئی پی او سے قبل سرمایہ کاروں کی دلچسپی بڑھانے کی حکمت عملی قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق کمپنی نے اپنے سرمایہ کاروں کو ای میل کے ذریعے آگاہ کیا کہ اسٹاک اسپلٹ کے بعد فی شیئر قیمت 526.59 ڈالر سے کم ہو کر تقریباً 105.32 ڈالر ہو گئی ہے تاکہ زیادہ تعداد میں سرمایہ کار کمپنی کے حصص خرید سکیں۔
اسپیس ایکس 80 ارب ڈالر کے تاریخی آئی پی او کے لئے تیار
Overseas Post
- IPO, آئی پی او, اسپیس ایکس, ایلون مسک, ٹریڈنگ, حصص, شیئرز, مارکیٹ