اہم خبریں
21 May, 2026
--:--:--

اسپیس ایکس 80 ارب ڈالر کے تاریخی آئی پی او کے لئے تیار

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
اسپیس ایکس آئی پی او
کمپنی 75 ارب ڈالر تک سرمایہ جمع کرنے کا ہدف رکھتی ہے

اسپیس ایکس کے ممکنہ تاریخی آئی پی او نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں ہلچل مچا دی ہے، جہاں سرمایہ کاروں اور ٹیکنالوجی ماہرین کی نظریں اب ایلون مسک کی اگلی بڑی چال پر مرکوز ہو گئی ہیں۔ 

امریکی اخبار دی وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق کمپنی 12 جون کو ایک ریکارڈ توڑ ابتدائی عوامی پیشکش IPO لانے کی تیاری کر رہی ہے، جس کے ذریعے 80 ارب ڈالر یا اس سے زائد سرمایہ اکٹھا کیا جا سکتا ہے۔ 

اگر یہ منصوبہ کامیاب رہا تو یہ تاریخ کی سب سے بڑی اسٹاک مارکیٹ لسٹنگ بن سکتی ہے۔

ChatGPT Image 16 مايو 2026، 01 55 34 م

ماہرین کے مطابق SpaceX اب صرف خلائی کمپنی نہیں رہی بلکہ یہ دفاع، مصنوعی ذہانت، سوشل میڈیا اور عالمی انٹرنیٹ انفراسٹرکچر پر مشتمل ایک وسیع ٹیکنالوجی سلطنت میں تبدیل ہو چکی ہے۔ 

کمپنی امریکی خلائی پروگرام میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے اور اس کے راکٹ لانچ سسٹمز کو دنیا کے جدید ترین خلائی منصوبوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

ممکنہ لسٹنگ
تاریخ کی سب سے
بڑی اسٹاک مارکیٹ
انٹری بن سکتی ہے

کمپنی کی ذیلی سروس Starlink پہلے ہی دنیا بھر میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ فراہم کر رہی ہے، جبکہ حالیہ مہینوں میں ایلون مسلک نے اپنی مصنوعی ذہانت کمپنی xAI اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم X کو بھی SpaceX کے ساتھ ضم کر دیا ہے۔
اس انضمام کے بعد مشترکہ گروپ کی تخمینی مالیت تقریباً 1.25 ٹریلین ڈالر بتائی جا رہی ہے، جو اسے دنیا کی سب سے قیمتی نجی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں شامل کر سکتی ہے۔
دوسری جانب بلومبرگ نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ کمپنی کے اکثریتی شیئر ہولڈرز نے 5 کے بدلے 1 شیئر تقسیم ’اسٹاک اسپلٹ‘ کی منظوری دے دی ہے۔
اس فیصلے کو ممکنہ آئی پی او سے قبل سرمایہ کاروں کی دلچسپی بڑھانے کی حکمت عملی قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق کمپنی نے اپنے سرمایہ کاروں کو ای میل کے ذریعے آگاہ کیا کہ اسٹاک اسپلٹ کے بعد فی شیئر قیمت 526.59 ڈالر سے کم ہو کر تقریباً 105.32 ڈالر ہو گئی ہے تاکہ زیادہ تعداد میں سرمایہ کار کمپنی کے حصص خرید سکیں۔

مالیاتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر SpaceX واقعی عوامی مارکیٹ میں داخل ہوتی ہے تو یہ صرف وال اسٹریٹ ہی نہیں بلکہ عالمی ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے منظرنامے کو بھی بدل سکتی ہے، کیونکہ کمپنی خلائی ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل میڈیا اور عالمی انٹرنیٹ نیٹ ورک جیسے شعبوں کو ایک ہی پلیٹ فارم پر یکجا کر رہی ہے۔