امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ ختم کے لیے سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مؤقف میں نرمی اور پاکستان کی بڑھتی ثالثی کوششوں نے خطے میں ممکنہ پیش رفت کی امید پیدا کر دی ہے۔
پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی تہران میں ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کر چکے ہیں جبکہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے متوقع دورے کو بھی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے گزشتہ اتوار نیتن یاہو کو بتایا تھا کہ امریکا ایران کے خلاف ’ہیوی ہیمر‘ نامی ایک نئی کارروائی شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان فاصلے کم کرنے اور کسی قابلِ قبول حل تک پہنچنے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی بدھ کے روز تہران پہنچے، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی۔
دوسری جانب پاکستانی آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی بھی تہران آمد متوقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ ایک ہفتے کے دوران محسن نقوی کا دوسرا دورۂ تہران ہے۔
وہ پہلے 3 روز ایران میں گزارنے کے بعد اسلام آباد واپس آئے، جہاں وزیر اعظم اور آرمی چیف سے مشاورت کی اور پھر دوبارہ ایران روانہ ہو گئے۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان اس وقت تجاویز پیش کرنے، مؤقف قریب لانے اور دونوں ممالک کو نرم سفارتی دباؤ کے ذریعے رعایتوں پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایرانی خبر ایجنسی ایسنا نے رپورٹ کیا ہے کہ پاکستانی آرمی چیف آج تہران پہنچیں گے، جہاں وہ امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کوششوں کے سلسلے میں ایرانی حکام سے ملاقات کریں گے۔ادھر امریکی ویب سائٹ ایکسیوس کے مطابق ٹرمپ نے نیتن یاہو کو بتایا کہ ثالث ایسے Letter of Intent پر کام کر رہے ہیں، جس پر واشنگٹن اور تہران دستخط کر سکتے ہیں۔
اس کے بعد 30 روزہ مذاکراتی مرحلہ شروع ہوگا، جس میں ایرانی جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز جیسے اہم معاملات پر بات چیت کی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ تہران کو امریکی تجاویز موصول ہو چکی ہیں اور ان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔