اہم خبریں
21 May, 2026
--:--:--

کچھ بڑا ہو رہا ہے: جنگ ختم کرنے کے لیے پاکستان کی آخری کوشش

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
امریکا ایران مذاکرات

امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ ختم کے لیے سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مؤقف میں نرمی اور پاکستان کی بڑھتی ثالثی کوششوں نے خطے میں ممکنہ پیش رفت کی امید پیدا کر دی ہے۔
پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی تہران میں ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کر چکے ہیں جبکہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے متوقع دورے کو بھی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ ان گھنٹوں کے دوران کوئی اہم پیش رفت ہو رہی ہے تاکہ امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ جنگ بھڑکنے سے روکا جا سکے۔ 

اس کا اندازہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلے ہوئے لہجے اور پاکستانی حکام کی ایرانی قیادت کے ساتھ اعلیٰ سطحی ملاقاتوں سے لگایا جا سکتا ہے۔

ایک نئی پیش رفت میں ٹرمپ نے حال ہی میں انکشاف کیا کہ انہوں نے گزشتہ منگل کو ایران کے خلاف مجوزہ فوجی کارروائی قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی قیادت کی درخواست پر مؤخر کر دی تھی تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران امریکا کے ساتھ کسی معاہدے تک نہ پہنچا تو ایک بڑی اور قریب فوجی کارروائی ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں

لیکن اس کے بعد امریکی صدر نے امید ظاہر کی کہ ایسا معاہدہ طے پا جائے گا جو مزید جانی نقصان کو روک سکے، جو ان کے مؤقف میں نمایاں تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔

مبصرین کے مطابق ٹرمپ کا لہجہ اب پہلے کے مقابلے میں سفارت کاری کی جانب زیادہ مائل دکھائی دے رہا ہے۔

ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ خطے کے رہنماؤں نے بحران کم کرنے میں اہم 

کردار ادا کیا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ کسی معاہدے تک پہنچنا ممکن ہے تاہم انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکی افواج کسی بھی ممکنہ صورتحال کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

ایران امریکا مذاکرات
ٹرمپ نے ایران پر ممکنہ حملہ مؤخر کرنے اور معاہدے کی امید ظاہر کی

اسی دوران امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ بدھ کے روز ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی فون کال کافی کشیدہ رہی، کیونکہ نیتن یاہو جنگ دوبارہ شروع کرنے کے خواہش مند تھے جبکہ ٹرمپ سفارتی راستے کو ترجیح دے رہے تھے۔

پاکستان نے
امریکا اور ایران
کے درمیان ثالثی
کی کوششیں
مزید تیز کر دیں

امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے گزشتہ اتوار نیتن یاہو کو بتایا تھا کہ امریکا ایران کے خلاف ’ہیوی ہیمر‘ نامی ایک نئی کارروائی شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان فاصلے کم کرنے اور کسی قابلِ قبول حل تک پہنچنے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی بدھ کے روز تہران پہنچے، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی۔
دوسری جانب پاکستانی آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی بھی تہران آمد متوقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ ایک ہفتے کے دوران محسن نقوی کا دوسرا دورۂ تہران ہے۔
وہ پہلے 3 روز ایران میں گزارنے کے بعد اسلام آباد واپس آئے، جہاں وزیر اعظم اور آرمی چیف سے مشاورت کی اور پھر دوبارہ ایران روانہ ہو گئے۔

اطلاعات کے مطابق جنرل عاصم منیر کا متوقع دورہ انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ اس سے پاکستان کی جانب سے امریکا اور ایران کے درمیان مؤقف قریب لانے اور ممکنہ طور پر مذاکرات کا نیا راستہ کھولنے کی کوششوں کا اظہار ہوگا۔

پاکستانی وزارت داخلہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق اسلام آباد کو خدشہ ہے کہ وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے اور جنگ دوبارہ شروع ہو سکتی ہے، اسی لیے پاکستان ایک نیا سفارتی فارمولہ پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ایران امریکہ کشیدگی
پاکستانی ثالثی کوششیں تیز، ایران نے خبردار کیا کہ جنگ مشرق وسطیٰ سے آگے تک پھیل سکتی ہے

ایران میں بھی یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ پس پردہ کوئی اہم معاملہ طے کیا جا رہا ہے۔ ایرانی حکام امریکی نئی تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں تاہم انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران کسی دباؤ یا ڈیڈ لائن کو قبول نہیں کرے گا۔

ایرانی حلقوں میں یہ تاثر موجود ہے کہ جنرل عاصم منیر ممکنہ طور پر کوئی اہم امریکی پیغام لے کر آ سکتے ہیں یا کشیدگی کم کرنے کی آخری کوشش کا حصہ بن سکتے ہیں۔

پاکستان کو اس بحران میں ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو مکمل ثالث تو نہیں، لیکن دونوں فریقوں کے درمیان رابطے کا مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔

اسلام آباد کو
خدشہ ہے کہ
وقت تیزی سے
ختم ہو رہا ہے
اور جنگ دوبارہ
شروع ہو سکتی ہے

اطلاعات کے مطابق پاکستان اس وقت تجاویز پیش کرنے، مؤقف قریب لانے اور دونوں ممالک کو نرم سفارتی دباؤ کے ذریعے رعایتوں پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایرانی خبر ایجنسی ایسنا نے رپورٹ کیا ہے کہ پاکستانی آرمی چیف آج تہران پہنچیں گے، جہاں وہ امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کوششوں کے سلسلے میں ایرانی حکام سے ملاقات کریں گے۔ادھر امریکی ویب سائٹ ایکسیوس کے مطابق ٹرمپ نے نیتن یاہو کو بتایا کہ ثالث ایسے Letter of Intent پر کام کر رہے ہیں، جس پر واشنگٹن اور تہران دستخط کر سکتے ہیں۔
اس کے بعد 30 روزہ مذاکراتی مرحلہ شروع ہوگا، جس میں ایرانی جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز جیسے اہم معاملات پر بات چیت کی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ تہران کو امریکی تجاویز موصول ہو چکی ہیں اور ان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔