اہم خبریں
21 May, 2026
--:--:--

ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای پُراسرار گمشدہ، ملک کون چلا رہا ہے؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ایران کی موجودہ سیاسی صورتحال، مجتبیٰ خامنہ ای پُراسرار طور پر غائب اور تہران میں اقتدار کے نئے مراکز کا خاکہ
ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای (فوٹو: انٹرنیٹ)

ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے اپنے والد علی خامنہ ای کی جگہ منصب سنبھالنے کے 2 ماہ بعد بھی عوامی منظر نامے سے پراسرار غائب ہونے نے ملک کے اندرونی اور بیرونی حلقوں میں کئی سوالات اور قیاس آرائیاں پیدا کر دی ہیں۔

مزید پڑھیں

فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام مسلسل یہ یقین دہانی کروا رہے ہیں کہ نئے سپریم لیڈر مکمل طور پر صحت مند ہیں اور ریاستی امور چلا رہے ہیں۔

تاہم ان کی طویل غیر حاضری نے ان کی جسمانی حالت اور اثر و رسوخ پر شکوک و شبہات بڑھا دیے ہیں۔

عالمی سطح پر یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ ایران میں اصل طاقت اب سپریم 

لیڈر کے بجائے ایرانی پاسداران انقلاب کے پاس منتقل ہو چکی ہے، جو امریکہ کے ساتھ جاری اہم مذاکرات اور دیگر تزویراتی فیصلوں میں حتمی اتھارٹی کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔

ایران کی موجودہ سیاسی صورتحال، مجتبیٰ خامنہ ای پُراسرار طور پر غائب اور تہران میں اقتدار کے نئے مراکز کا خاکہ
ایک ایرانی خاتون رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کا پوسٹر اٹھائے ہوئے (فوٹو: انٹرنیٹ)

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ تہران میں اقتدار کی تقسیم اور قیادت کے واضح مرکز کی عدم موجودگی کے باعث واشنگٹن کے ساتھ ہونے والے مذاکرات تعطل کا شکار ہیں، کیونکہ اس عمل میں فیصلہ سازی کا کوئی ایک مستحکم محور موجود نہیں ہے۔

اُدھر ایرانی صدر مسعود بزشکیان نے رواں ماہ پہلی بار مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کا دعویٰ کیا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ حکام نے عسکری ہم آہنگی کے اعلیٰ ترین ادارے ’خاتم الانبیاء ہیڈ کوارٹرز‘ کی قیادت کے ساتھ نئے سپریم لیڈر کے اجلاس کی خبریں بھی جاری کی ہیں۔

سرکاری میڈیا اب 28 فروری 2026 کو سابق سپریم لیڈر پر ہونے والے حملے کی تفصیلات جاری کر رہا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کو آنے والے زخم معمولی نوعیت کے تھے اور وہ مکمل صحت یابی کے بعد جلد منظر عام پر آئیں گے۔

دوسری جانب سابق امریکی عہدیدار اور ماہر بین الاقوامی تعلقات والی نصر کا کہنا ہے کہ ایرانی حکام ان بیانات کے ذریعے یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ مجتبیٰ خامنہ ای اب بھی طاقت اور فیصلوں کا مرکز ہیں اور تمام معاملات ان ہی کے کنٹرول میں ہیں۔

ایران کی موجودہ سیاسی صورتحال، مجتبیٰ خامنہ ای پُراسرار طور پر غائب اور تہران میں اقتدار کے نئے مراکز کا خاکہ
مجتبیٰ خامنہ ای (فوٹو: انٹرنیٹ)

ایرانی تجزیہ کار سعید لیلاز کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کو اپنے والد جیسا اثر و رسوخ قائم کرنے کے لیے وقت درکار ہے، کیونکہ انہوں نے 37 سالہ طویل دورِ اقتدار میں عسکری اور حکومتی اداروں پر اپنی گرفت انتہائی مضبوط کر لی تھی۔

رپورٹ کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای سخت ترین حفاظتی اقدامات کے تحت پس پردہ رہ کر کام کر رہے ہیں۔

یہ ممکنہ طور پر ایسا مقام ہو سکتا ہے  جہاں الیکٹرانک ٹریکنگ سے بچنے کے لیے تمام سرکاری پیغامات اور ہدایات ڈیجیٹل ذرائع کے بجائے دستی طور پر ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچائی جاتی ہیں۔

نئے سپریم لیڈر نے سیاسی اور عسکری رابطوں کے لیے دو خصوصی کمیٹیاں تشکیل دی ہیں جن میں سابق حکام اور عسکری شخصیات شامل ہیں۔

ایران کی موجودہ سیاسی صورتحال، مجتبیٰ خامنہ ای پُراسرار طور پر غائب اور تہران میں اقتدار کے نئے مراکز کا خاکہ
ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اسپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف خوشگوار موڈ میں محو گفتگو ہیں (فوٹو: انٹرنیٹ)

علاوہ ازیں مجتبیٰ خامنہ ای کی حفاظت کی مکمل ذمہ داری ایرانی پاسداران انقلاب کے سپرد ہے جن سے ان کے دیرینہ تعلقات ہیں۔

انٹرنیشنل کرائسز گروپ کے ماہر علی واعظ کا خیال ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کا کردار فی الحال محدود ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت اصل فیصلے پاسداران انقلاب کے سربراہ احمد وحیدی، اسپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف اور قومی سلامتی کونسل کے محمد باقر ذوالقدر کر رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک جنگ کے خطرات اور اہم شخصیات کی ٹارگٹ کلنگ کا خوف موجود ہے، مجتبیٰ خامنہ ای کی روپوشی برقرار رہ سکتی ہے۔

ایرانی قیادت اپنی حکومت کے باقی ماندہ اہم ستونوں کو ہر صورت محفوظ رکھنا چاہتی ہے۔