غزہ میں گزشتہ 3 برس سے جاری جنگ کے باعث محصور درجنوں مصری شہریوں نے اپنی وطن واپسی کے لیے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔
مزید پڑھیں
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ان شہریوں نے مصری حکومت اور صدر عبدالفتاح سیسی سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں جنگ زدہ علاقے سے نکال کر فوری طور پر مصر منتقل کیا جائے۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ مصری پاسپورٹ اور پیدائشی سرٹیفکیٹ رکھنے کے باوجود رفح کراسنگ سے نہیں گزر سکتے۔
اسرائیلی حکام انہیں سرحد عبور کرنے کی اجازت دینے سے مسلسل انکار
کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے وہ اپنی شناخت ثابت کرنے کے باوجود غزہ میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔
ڈیلٹا نیل کے شہر دمیاط سے تعلق رکھنے والے محمد نصر العزب جنگ سے 7 ماہ قبل غزہ پہنچے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ وہ بھوک و نقل مکانی جیسی مشکلات کا شکار ہیں اور مصری وزارت خارجہ سے کئی بار رابطہ کرنے کے باوجود اب تک کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔
ایک اور شہری ہیثم محمود اپنی فلسطینی اہلیہ اور بچوں کو لینے جنگ سے 3 ہفتے قبل یہاں آئے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ ان کے بچوں کی تعلیم کے 3 سال ضائع ہو چکے ہیں اور وہ مصر میں اپنا گھر ہونے کے باوجود یہاں کسمپرسی میں خیموں میں رہ رہے ہیں۔
مظاہرے میں شریک ایک شخص نے اپنے 8 سالہ بیمار بیٹے کا حوالہ دیتے ہوئے صدر سیسی سے مدد مانگی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ غزہ میں گندگی اور بیماریوں کی وجہ سے حالات غیر انسانی ہو چکے ہیں اور ان کے بیٹے کو طبی بنیادوں پر مصر میں فوری علاج کی ضرورت ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال اسرائیلی حکام کی ہٹ دھرمی کی عکاسی کرتی ہے، جو جنوری 2025 سے نافذ العمل جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
اسرائیل کی جانب سے مسلسل محاصرے کے باعث مصری شہریوں سمیت ہزاروں افراد غزہ میں پھنسے ہوئے ہیں اور بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں۔