مکہ مکرمہ میں واقع جبل عرفات، جہاں ہر سال لاکھوں عازمین حج عبادت کے لیے جمع ہوتے ہیں، اپنی ارضیاتی تاریخ کی وجہ سے سائنسدانوں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
مزید پڑھیں
تحقیق کے مطابق یہ پہاڑ انسانی تاریخ سے بھی 9 ملین سال قدیم ہے۔
پاکستان کے کامسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبہ فزکس کے ماہرین کی یہ تحقیق ’جرنل آف ریڈیو اینالٹیکل اینڈ نیوکلیئر کیمسٹری‘ میں شائع ہوئی ہے۔
اس مطالعے میں جبل عرفات کی چٹانوں کے نمونوں کا جدید سائنسی بنیادوں پر تفصیلی تجزیہ کیا گیا ہے۔
ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ جبل عرفات کی چٹانیں ’گرانوڈیورائٹ‘نامی آتش فشانی پتھروں پر مشتمل ہیں۔
یہ چٹانیں زمین کی گہرائی میں لاوے کے آہستہ آہستہ ٹھنڈا ہونے سے بنتی ہیں، جن میں کوارٹز، فیلڈ اسپار اور ابرق جیسے اہم معدنیات پائے جاتے ہیں۔
اس تحقیق کے دوران ’فیشن ٹریک ڈیٹنگ‘ نامی انتہائی حساس تکنیک استعمال کی گئی، جس کے ذریعے چٹانوں میں موجود یورینیم کے ذرات کا معائنہ کیا گیا۔
یہ طریقہ کار چٹانوں کے ٹھنڈا ہونے اور ان کے ارضیاتی طور پر مستحکم ہونے کا درست وقت بتاتا ہے۔
سائنسی نتائج سے معلوم ہوا کہ یہ پہاڑ 9 ملین سال قبل ’لیٹ میوسین‘ دور میں وجود میں آیا تھا۔
اس کی تشکیل کا تعلق ان ارضیاتی تبدیلیوں سے ہے جب بحیرہ احمر کے بننے کے دوران جزیرہ نما عرب افریقہ سے الگ ہو رہا تھا۔
تحقیق میں اس اہم سوال کا جواب بھی تلاش کیا گیا کہ کیا ان چٹانوں سے انسانی صحت کو کوئی خطرہ ہے۔
ماہرین نے یورینیم، تھوریم اور پوٹاشیم جیسے تابکار عناصر کی موجودگی کے باوجود واضح کیا کہ یہاں تابکاری کی سطح بین الاقوامی معیار کے مطابق محفوظ ہے۔
عرب ماہرین ارضیات کی یونین کے نائب صدر ڈاکٹر حسن بخیت نے ان نتائج کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ آتش فشانی چٹانوں میں قدرتی تابکاری کا ہونا ایک عام بات ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جبل عرفات میں تابکاری کی مقدار انسانی صحت کے لیے بالکل بے ضرر ہے۔
یہ مطالعہ ثابت کرتا ہے کہ جبل عرفات نہ صرف ایک مقدس مقام ہے بلکہ یہ زمین کی قدیم تاریخ کا ایک زندہ ریکارڈ بھی ہے۔ اس کی چٹانیں کروڑوں سال قبل ہونے والی جغرافیائی تبدیلیوں اور خطے کی تشکیل کے اہم راز اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔