اہم خبریں
21 May, 2026
--:--:--

’اعتدال‘ متحرک، 27 کروڑ انتہا پسند مواد ہٹا دیئے گئے

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
سعودی مرکز اعتدال

سعودی عرب کے عالمی مرکز برائے انسداد انتہا پسندانہ فکر ’اعتدال‘ نے اعلان کیا ہے کہ فروری 2022 سے مارچ 2026 تک 27 کروڑ 25 لاکھ سے زائد شدت پسندانہ ڈیجیٹل مواد حذف کئے گئے جبکہ ٹیلی گرام پر چلنے والے 19 ہزار 608 انتہا پسند چینلز بھی بند کر دیئے گئے۔
مرکز جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور عالمی تعاون کے ذریعے شدت پسندی، نفرت انگیز بیانیے اور دہشت گردی کے فروغ کے خلاف کام کر رہا ہے۔

سعودی عرب کے دار الحکومت ریاض میں قائم عالمی مرکز برائے انسدادِ انتہا پسندانہ فکر ’اعتدال‘ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے 21 فروری 2022 سے مارچ 2026 تک بڑے ڈیجیٹل آپریشن کے دوران 25 کروڑ سے زائد انتہا پسندانہ ڈیجیٹل مواد کو ہٹا دیا، جو شدت پسندی اور نفرت انگیز نظریات پر مبنی تھا۔

مرکز کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق اس عرصے کے دوران مجموعی طور پر 272,524,453 انتہا پسندانہ مواد کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے حذف کیا گیا، جبکہ ٹیلی گرام پر چلنے والے 19,608 شدت پسند چینلز بھی بند کیے گئے۔

مزید پڑھیں

سال 2017 میں سعودی عرب کے قیام کردہ مرکز اعتدال گزشتہ 9 برسوں سے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے نفرت انگیز بیانیے، شدت پسندی اور دہشت گرد نظریات کے خلاف سرگرم عمل ہے۔ 

مرکز مختلف ڈیجیٹل، فکری اور ابلاغی ذرائع سے انتہا پسند سرگرمیوں کا سراغ لگاتا ہے، دہشت گرد گروہوں کی بھرتی، مالی معاونت اور آن لائن پروپیگنڈے کی کوششوں کو ناکام بناتا ہے۔

مرکز کی جدید ڈیجیٹل لیبارٹریاں انتہا پسند عناصر کی تصاویر، ویڈیوز، تقاریر اور آن لائن سرگرمیوں کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، جبکہ یہ ادارہ ایسے تحقیقی مطالعے بھی شائع کرتا ہے جو ڈیجیٹل دنیا میں شدت پسند عناصر کے طریقۂ کار اور سماجی ساخت کو بے نقاب کرتے ہیں۔

ChatGPT Image 21 مايو 2026، 09 01 52 م
272,524,453 انتہا پسندانہ ڈیجیٹل مواد حذف کیے گئے

اسی تناظر میں ’اعتدال‘ نے ’عالمی شدت پسندی اشاریہ‘ بھی تیار کیا ہے، جو 3 بنیادی ستونوں ٹیکنالوجی، فکری حکمت عملی اور ابلاغی تجزیے پر مبنی ہے تاکہ دنیا بھر میں شدت پسندی کے رجحانات اور اس کے فروغ دینے والوں کی نگرانی کی جا سکے۔

مرکز نے مزید انکشاف کیا کہ سعودی شاہی فرمان کے تحت ’اعتدال‘ کو ایک آزاد، غیر منافع بخش ادارے کی حیثیت دے دی گئی ہے، جسے مکمل قانونی اختیار حاصل ہوگا تاکہ وہ انتہا پسندانہ فکر کی نگرانی، تجزیہ، انسداد اور اس کے خلاف اقدامات کو مزید مؤثر بنا سکے۔

19,608 شدت
پسند ٹیلی گرام
چینلز بند
کر دیئے گئے

نئے نظام کے تحت مرکز کو شدت پسندانہ نظریات، بھرتی کے طریقوں اور انتہا پسند تنظیموں کی سرگرمیوں کا تجزیہ کرنے، حکومتی اداروں، بین الاقوامی تنظیموں اور مختلف ممالک کے متعلقہ اداروں کے ساتھ تعاون بڑھانے کے اختیارات بھی حاصل ہوں گے۔
مرکز تحقیق، مطالعات، اعداد و شمار، عالمی کانفرنسوں، ورکشاپس اور تربیتی پروگراموں کے ذریعے بھی انتہا پسندی کے خلاف شعور اجاگر کر رہا ہے، جبکہ اعتدال پسندی، رواداری اور باہمی ہم آہنگی کے فروغ پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
’اعتدال‘ نے گزشتہ برسوں میں اقوام متحدہ کے مرکز برائے انسداد دہشت گردی (UNCCT) سمیت مختلف عالمی اداروں کے ساتھ شراکت داری قائم کی۔

مرکز اب تک دنیا کے مختلف ممالک سے آنے والے 352 سے زائد وفود کی میزبانی بھی کر چکا ہے، جو اس کی تکنیکی صلاحیتوں اور انتہا پسندانہ فکر کے خلاف جاری اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے سعودی عرب پہنچے۔