اہم خبریں
21 May, 2026
--:--:--

ریاض ایئرلائنز کی لندن کے لیے بکنگ:  یکم جولائی سے پروازوں کا آغاز

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ریاض ایئرلائنز کا جدید طیارہ، لندن ہیتھرو اور ریاض ایئرپورٹ کے درمیان فلائٹ آپریشن کا خاکہ
ایئرلائن نے لائلٹی پروگرام ’ایمبیسیڈر‘کا بھی اعلان کیا ہے جس میں مسافر بطور بانی رکن شامل ہو سکتے ہیں (فوٹو: انٹرنیٹ)

سعودی عرب کی نئی قومی فضائی کمپنی ’ریاض ایئرلائنز‘نے دارالحکومت ریاض اور لندن کے درمیان اپنی پروازوں کے لیے ٹکٹوں کی فروخت کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔

مزید پڑھیں

العربیہ کے مطابق پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کی ملکیتی یہ ایئر لائن یکم جولائی 2026 سے اپنے جدید ترین بیڑے کے ذریعے فلائٹ آپریشنز شروع کرے گی۔

مسافر اب لندن کے ہیتھرو اور ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے درمیان سفر کے لیے ایئر لائن کی ویب سائٹ، موبائل ایپ یا مستند ٹریول ایجنٹس کے ذریعے بکنگ کر سکتے ہیں۔ 

یہ اقدام 2030 تک مملکت کو 100 سے زائد عالمی مقامات سے جوڑنے کا ایک اہم حصہ ہے۔

ایئرلائن نے اپنے لائلٹی پروگرام ’ایمبیسیڈر‘کا بھی اعلان کیا ہے جس میں مسافر بطور بانی رکن شامل ہو سکتے ہیں۔

اس پروگرام کے تحت مسافروں کو بہترین قیمت کی ضمانت، دوران پرواز مفت تیز رفتار انٹرنیٹ اور مختلف انعامات سمیت کئی خصوصی مراعات فراہم کی جائیں گی۔

ریاض ایئرلائنز کا جدید طیارہ، لندن ہیتھرو اور ریاض ایئرپورٹ کے درمیان فلائٹ آپریشن کا خاکہ
یہ اقدام 2030 تک مملکت کو 100 سے زائد عالمی مقامات سے جوڑنے کا ایک اہم حصہ ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

واضح رہے کہ ریاض ایئرلائنز نے اکتوبر 2025 سے ہی ’جمیلہ‘ نامی متبادل طیارے کے ذریعے لندن کے لیے یومیہ پروازیں شروع کر رکھی ہیں۔

اس آزمائشی پروگرام کا مقصد بوئنگ سے نئے طیاروں کی وصولی سے قبل آپریشنل تیاریوں اور مسافروں کے لیے خدمات کے معیار کو یقینی بنانا ہے۔

یومیہ پرواز ’RX401‘ ریاض سے رات 02:35 بجے روانہ ہو کر صبح 07:30 بجے لندن پہنچے گی۔ 

اسی طرح واپسی کی پرواز ’RX402‘ لندن سے صبح 09:35 بجے اڑان بھرے گی اور شام 06:05 بجے ریاض پہنچے گی۔ یہ تمام اوقات مقامی وقت کے مطابق طے کیے گئے ہیں۔

کمپنی کے سی ای او ٹونی ڈگلس کے مطابق یہ سنگ میل فضائی سفر کے تصور کو بدلنے اور ریاض کو دنیا سے جوڑنے کے وژن کی عکاسی کرتا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ ایئر لائن سعودی وژن 2030 کے اہداف کے مطابق بہترین سعودی مہمان نوازی اور جدت فراہم کرے گی۔

بوئنگ 787-9 ڈریم لائنر طیاروں میں ایلیٹ بزنس، بزنس، پریمیم اکانومی اور اکانومی سمیت 4 کلاسز شامل ہیں۔ 

ریاض ایئرلائنز کا جدید طیارہ، لندن ہیتھرو اور ریاض ایئرپورٹ کے درمیان فلائٹ آپریشن کا خاکہ
ریاض اور لندن کا یہ روٹ جی 20 ممالک کے 2 اہم دارالحکومتوں کو جوڑ کر معاشی اور تجارتی راہداری کو مضبوط بنائے گا (فوٹو: انٹرنیٹ)

بزنس کلاس میں 1-2-1 کی ترتیب کے ساتھ مکمل فلیٹ بیڈ نشستیں، یو ایس بی چارجنگ پورٹس اور ہیڈ ریسٹ میں نصب جدید آڈیو سسٹم کی سہولت موجود ہے۔

پریمیم اکانومی میں 2-3-2 کی ترتیب کے ساتھ اضافی جگہ اور پرائیویسی فراہم کی گئی ہے، جبکہ اکانومی کلاس 3-3-3 کی ترتیب پر مبنی ہے۔ 

تمام نشستوں میں اعلیٰ معیار کا فوم اور کپڑا استعمال کیا گیا ہے تاکہ طویل سفر کے دوران مسافروں کو بھرپور آرام مل سکے۔

دوران پرواز تفریح کے لیے پیناسونک کا جدید ترین ’ایسٹرووا‘ پلیٹ فارم اور فور کے او ایل ای ڈی اسکرینیں نصب کی گئی ہیں۔ 

مسافروں کو شاہد، ڈزنی پلس، ایچ بی او میکس اور وارنر برادرز کی 500 سے زائد فلموں اور 600 ڈراموں تک رسائی حاصل ہوگی۔

علاوہ ازیں مسافروں کو ’کیانی‘ کی خصوصی مصنوعات، بچوں کے لیے ڈزنی کٹس اور مقامی و عالمی پکوانوں پر مشتمل پرتعیش کھانا پیش کیا جائے گا۔ 

اس کے ساتھ ساتھ جان ہارس فال کے تیار کردہ نرم بستر اور پریمیم اکانومی میں پہلی بار خصوصی کمفرٹ کٹس بھی فراہم کی جائیں گی۔

واضح رہے کہ ریاض اور لندن کا یہ روٹ جی 20 ممالک کے 2 اہم دارالحکومتوں کو جوڑ کر معاشی اور تجارتی راہداری کو مضبوط بنائے گا۔ 

یہ فضائی رابطہ سرمایہ کاری کے فروغ اور سیاحت کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرتے ہوئے ریاض کو عالمی لاجسٹک مرکز بنائے گا۔