میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT) کے محققین نے ایک حیران کن سائنسی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ چاول کے بیج بارش کی آواز کو ’سننے‘ اور اس کے مطابق ردعمل دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
مزید پڑھیں
یہ مطالعہ نباتاتی دنیا میں آواز کے اثرات کو سمجھنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
آواز اور پودوں کا تعلق
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پہلا براہِ راست ثبوت ہے کہ پودوں کے بیج اور کونپلیں قدرتی عوامل میں موجود آوازوں کو محسوس کر سکتے ہیں۔
یہ تحقیق یونیورسٹی آف ویسٹ منسٹر کے بائیو کیمسٹری کے لیکچرار
اسٹیورٹ تھامسن کے رپورٹ کردہ اعداد و شمار پر مبنی ہے۔
واضح رہے کہ ماضی میں بھی پودوں پر موسیقی کے اثرات کا مطالعہ کیا گیا تھا۔
2024 کی ایک تحقیق کے مطابق ’بوک چوئی‘ پودا کلاسیکی موسیقی میں بہتر نشوونما پاتا ہے جبکہ راک میوزک اس کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا۔
اسی طرح کچھ پھول حشرات کی بھنبھناہٹ سن کر زیرگی کا عمل شروع کرتے ہیں۔
بارش کی آواز اور چاول کی نشوونما
محققین نے حال ہی میں چاول کے بیجوں پر بارش کی آواز کے اثرات جانچنے کے لیے مصنوعی تجربات کیے ہیں۔
تجربے کے دوران بارش کے قطروں کے گرنے سے پیدا ہونے والی آواز انتہائی بلند تھی، جس کی فریکوئنسی انسانوں کے لیے قابلِ سماعت حد سے باہر تھی۔
تجربات سے ثابت ہوا کہ ہلکی بارش کا اثر محدود تھا، لیکن تیز بارش کی آواز نے بیجوں کی نشوونما میں 30 فیصد سے زائد کا اضافہ کیا۔
یہ عمل ساکن پانی میں موجود بیجوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ نمایاں تھا۔
سائنسی میکانزم اور ’سٹیٹولیتھس‘
محققین کے مطابق پودوں میں ’سٹیٹولیتھس‘ نامی باریک ذرات ہوتے ہیں جو نشاستہ (Starch) سے بھرپور اور کثیف ہوتے ہیں۔
آواز کی لہریں ان ذرات کو حرکت دیتی ہیں، جس سے کیمیائی پیغامات پودے کے باقی حصوں تک پہنچتے ہیں اور نشوونما کے عمل کو تیز کر دیتے ہیں۔
اگر پودے میں نشاستہ بنانے کی صلاحیت نہ ہو تو وہ ان ارتعاشات کو محسوس کرنے سے قاصر رہتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ 2002 میں کی گئی ایک تحقیق میں دیکھا گیا کہ جو پودے نشاستہ پیدا نہیں کر سکتے، وہ آواز پر کوئی ردعمل نہیں دکھاتے۔
پودوں کی ذہانت اور شعور
پودوں میں اعصابی نظام یا دماغ نہیں ہوتا، تاہم ماہرین ان میں برقی سگنلز کی موجودگی کی تصدیق کر چکے ہیں۔
مثال کے طور پر مٹر کے پودے اپنی جڑوں کے ذریعے پانی کی آواز کا پیچھا کرتے ہیں اور ’ونس فلی ٹریپ‘ جیسے پودے اپنی شکار پکڑنے والی صلاحیتوں کے لیے برقی سگنلز کا استعمال کرتے ہیں۔
سائنسدانوں کے درمیان اب یہ بحث جاری ہے کہ آیا پودوں کے ردعمل کو ’ذہانت‘ کہا جا سکتا ہے یا نہیں۔
اگر شعور کا مطلب بیرونی دنیا کا ادراک لینا ہے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ پودے بقا کے لیے ماحول سے ملنے والے سگنلز کو پوری طرح سمجھتے اور ان پر عمل کرتے ہیں۔
یہ سائنسی تحقیق اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ پودے خاموش نہیں، بلکہ اپنے گردوپیش سے مسلسل رابطے میں رہتے ہیں۔
اگرچہ انسانوں اور پودوں کا دنیا کو دیکھنے کا زاویہ مختلف ہے، لیکن یہ حقیقت اب تسلیم کی جا رہی ہے کہ پودے اپنی بقا کے لیے بارش کی آواز کو بخوبی سن اور سمجھ سکتے ہیں۔