اہم خبریں
22 May, 2026
--:--:--

’ہم بِکاؤ نہیں‘:ٹرمپ کے عزائم کے خلاف گرین لینڈ میں بڑا عوامی احتجاج

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
گرین لینڈ میں بڑا عوامی احتجاج، امریکی قونصلیٹ کے باہر مظاہرین اور سرخ و سفید پرچم کا خاکہ
مظاہرے میں سیکڑوں افراد شریک تھے جنہوں نے امریکی قونصلیٹ کی نئی عمارت کے سامنے نعرے لگائے (فوٹو: انٹرنیٹ)

ڈنمارک کے زیرِ انتظام جزیرے گرین لینڈ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قبضے کے عزائم کے خلاف سیکڑوں مقامی باشندوں نے شدید احتجاج کیا ہے۔

مزید پڑھیں

الجزیرہ کے مطابق یہ بڑا احتجاجی مظاہرہ دارالحکومت نوک میں نئے امریکی قونصلیٹ کے افتتاح کے موقع پر کیا گیا۔

مظاہرے میں 500 سے زائد افراد شریک ہوئے جنہوں نے امریکی قونصلیٹ کی نئی عمارت کے سامنے جمع ہو کر نعرے بازی کی۔ شہریوں نے گرین لینڈ کے سرخ و سفید پرچم اور امریکہ مخالف کتبے اٹھا رکھے تھے۔

مظاہرین نے احتجاج کے دوران ’امریکہ واپس جاؤ‘ اور ‘ہم ’کاؤ نہیں ہیں‘ کے نعروں والے کتبے لہرائے۔

احتجاج کے شرکا نے علامتی طور پر قونصلیٹ کی عمارت کی طرف پیٹھ کر کے دو منٹ کی خاموشی اختیار کی اور شدید ناراضی کا اظہار کیا۔

گرین لینڈ میں بڑا عوامی احتجاج، امریکی قونصلیٹ کے باہر مظاہرین اور سرخ و سفید پرچم کا خاکہ
شہریوں نے گرین لینڈ کے سرخ و سفید پرچم اور امریکہ مخالف کتبے اٹھا رکھے تھے (فوٹو: انٹرنیٹ)

قونصلیٹ کا افتتاح ڈنمارک کے لیے امریکی سفیر کینیتھ ہاوری کی موجودگی میں وسطی نوک میں ہوا۔

امریکی سفیر نے اپنی تقریر میں واضح کیا کہ صدر ٹرمپ نے گرین لینڈ کے معاملے پر طاقت کا استعمال مسترد کر دیا ہے۔  امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ جزیرے کے مستقبل کا فیصلہ یہاں کے عوام کو خود کرنا چاہیے۔ 

دوسری جانب گرین لینڈ کے وزیراعظم ینس فریڈرک نیلسن نے احتجاجاً قونصلیٹ کی اس افتتاحی تقریب میں شرکت سے معذرت کر لی۔

انہوں نے گزشتہ پیر کو گرین لینڈ کے لیے متعین امریکی خصوصی ایلچی جیف لینڈری سے ملاقات کی تھی، جو باضابطہ دعوت نامے کے بغیر نوک کے دورے پر پہنچے تھے۔

یاد رہے کہ جیف لینڈری دسمبر 2025 میں اس عہدے پر مقرر ہوئے تھے اور وہ 5 ماہ بعد یہاں پہنچے ہیں۔ انہوں نے اپنے 4 روزہ دورے کے اختتام پر کہا کہ واشنگٹن کو جزیرے میں اپنی موجودگی دوبارہ قائم کرنی چاہیے۔

امریکی ایلچی کے مطابق اب وقت آ گیا ہے کہ امریکہ گرین لینڈ میں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھائے کیونکہ گرین لینڈ کو اس وقت آگے بڑھنے کے لیے امریکہ کی اشد ضرورت ہے۔

گرین لینڈ میں بڑا عوامی احتجاج، امریکی قونصلیٹ کے باہر مظاہرین اور سرخ و سفید پرچم کا خاکہ
احتجاج کے شرکا نے علامتی طور پر قونصلیٹ کی عمارت کی طرف پیٹھ کر کے دو منٹ کی خاموشی اختیار کی (فوٹو: انٹرنیٹ)

واضح رہے کہ صدر ٹرمپ بھی کئی بار کہہ چکے ہیں کہ قومی سلامتی کے پیش نظر امریکہ کو گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنا چاہیے۔ ٹرمپ کے مطابق ڈنمارک کا یہ خود مختار علاقہ چین اور روس کے قبضے کے خطرے میں ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ جزیرے کے جنوبی حصے میں 3 نئے فوجی اڈے قائم کرنے کی خواہش رکھتا ہے، تاہم جنوری میں ٹرمپ نے گرین لینڈ کو زبردستی ضم کرنے کی دھمکیوں سے پسپائی اختیار کی تھی۔

اس صورتحال کے بعد کوپن ہیگن اور نوک نے امریکہ کے فوجی تحفظات کا جائزہ لینے کے لیے ورکنگ گروپ بنایا۔

تاریخ کے مطابق 1951 کے دفاعی معاہدے کے تحت امریکہ کو یہاں فوجی نفری بڑھانے کی اجازت ہے۔

2004 میں اپ ڈیٹ کیے گئے اسی معاہدے کے مطابق امریکہ فوج یا تنصیبات بڑھا سکتا ہے مگر اس کے لیے ڈنمارک اور گرین لینڈ کی حکومتوں کو پہلے سے مطلع کرنا قانونی طور پر لازمی ہوگا۔