جنوبی لبنان میں دیہات و رہائشی علاقوں کی مکمل تباہی اور دھماکوں کی لائیو فلم پر اسرائیلی فوجیوں اور ان کے خاندانوں کے جشن کی ایک ویڈیو نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
مزید پڑھیں
الجزیرہ کے مطابق اس تقریب میں انسانیت کو شرما دینے والی ہنسی اور نعروں کی گونج سنائی دے رہی ہے۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بڑی اسکرین پر گھروں کے گرنے اور دھواں اٹھتے ہی پورا ہال تالیوں اور قہقہوں سے گونج اٹھتا ہے۔
یہ منظر نقشے سے پورے دیہات مٹانے پر ایک منظم خوشی اور جشن کی عکاسی کر رہا ہے۔
یہ ویڈیو اسرائیلی فوجیوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی نگرانی کرنے والی تنظیم ’اسرائیل جینو سائیڈ ٹریکر‘ نے شیئر کی ہے۔
An Israeli unit's "homecoming" party featured a display of their well-documented annihilation of southern Lebanon's villages, met with cheers and laughter from crowds of soldiers, their relatives, and family members.
— Israel Genocide Tracker (@trackingisrael) May 21, 2026
It is a scene impossible to see anywhere but Israel. pic.twitter.com/EkAwH3jL9s
یہ تقریب حال ہی میں جنگ سے واپس لوٹنے والے فوجیوں کی خوشی میں منعقد کی گئی تھی، جس میں لبنانی دیہات کی منظم تباہی کا باقاعدہ ایک ویڈیو شو پیش کیا گیا۔
تنظیم کے مطابق ایسا ہولناک اور غیر انسانی منظر اسرائیل کے سوا دنیا میں کہیں اور دیکھنا ناممکن ہے۔
یہ فوٹیج حال ہی میں اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری کردہ ان ویڈیوز سے مماثلت رکھتی ہے جن میں بنت جبیل سمیت جنوب لبنان کے مختلف اضلاع میں رہائشی مکانات کو بارود سے اڑاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
העמקת הפעילות במרחב בינת ג'בייל נמשכת: לוחמי יחידת אגוז ויהל"ם השמידו כ-70 תשתיות של ארגון הטרור חיזבאללה בתוך דקה אחת בלבד
— צבא ההגנה לישראל (@idfonline) April 16, 2026
לכל הפרטים👇https://t.co/OKwyL4D3jl pic.twitter.com/ST7jJKqRAI
اسرائیل اس منظم تباہی کے ذریعے لبنانی حدود کے اندر ایک وسیع بفر زون بنانا چاہتا ہے۔ یہ حکمت عملی بالکل اسی نوعیت کی ہے جو اس سے قبل غزہ کی پٹی کی مکمل تباہی کے لیے اپنائی گئی تھی۔
دوسری جانب اس ویڈیو نے سوشل میڈیا پر شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔
نامور صحافی اور سماجی کارکن سارہ ولکنسن نے اسے ایک ذہنی بیماری سے تشبیہ دی ہے جہاں لوگ دوسروں کی تباہی پر جشن منا رہے ہیں۔ صحافی رائن گرم نے اس منظر کو کھلم کھلا پاگل پن قرار دیا ہے۔
In a sick & irredeemable scene of psychotic behaviour, israeli soldiers cheer at the ‘homecoming’ show of annihilation of Lebanon’s homes pic.twitter.com/92TcOcq5MX
— Sarah Wilkinson (@swilkinsonbc) May 22, 2026
دوسری جانب معروف سماجی کارکن شون کنگ نے کہا کہ اس مسئلے کو صرف نیتن یاہو تک محدود نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ پورا معاشرہ بیمار ہو چکا ہے۔
میڈیا پرسن کرسٹل بال نے لکھا کہ یہ لوگ ایک طرف نسل کشی کا جشن مناتے ہیں اور دوسری طرف سنجیدہ منہ بنا کر کہتے ہیں کہ انتہا پسند بین غویر ان کی قوم کا نمائندہ نہیں ہے۔
صحافی زید جیلانی نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بین غویر دراصل اس معاشرے کا سب سے بہترین اور حقیقی عکس ہے۔ مصنفہ سوزان ابو الہویٰ نے اس مجمعے کو اخلاقی طور پر مفلوج قرار دیا۔
this is not a normal society, a group of morally deranged people cobbled from around the world into a single place. https://t.co/5u95U357a9
— susan abulhawa | سوزان ابو الهوى (@susanabulhawa) May 21, 2026
شدید صدمے کے عالم میں صحافی آرون ماٹے نے طنزاً تجویز دی کہ اگر امریکہ اسرائیل کو اربوں ڈالر کی امداد دینا ہی چاہتا ہے تو یہ رقم ان کے ذہنی علاج اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے ہونی چاہیے۔
واضح رہے کہ اسرائیل نے گھروں کو بموں سے اڑانے کا یہ سلسلہ اب سرحد سے 45 کلومیٹر دُور دریائے زہرانی تک بڑھا دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد لبنان کے 13 فیصد رقبے کی جغرافیائی ساخت کو مستقل طور پر تبدیل کرنا ہے۔