اہم خبریں
22 May, 2026
--:--:--

ویڈیو: لبنان میں تباہی پر اسرائیلی فوجیوں کا اہل خانہ سمیت جشن

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
جنوبی لبنان میں تباہی کے مناظر پر تقریب، لبنانی دیہات کی تباہی پر جشن اور سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو کا خاکہ
اس تقریب میں انسانیت کو شرما دینے والی ہنسی اور نعروں کی گونج سنائی دے رہی ہے (فوٹو: اسکرین گریب)

جنوبی لبنان میں دیہات و رہائشی علاقوں کی مکمل تباہی اور دھماکوں کی لائیو فلم پر اسرائیلی فوجیوں اور ان کے خاندانوں کے جشن کی ایک ویڈیو نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

مزید پڑھیں

الجزیرہ کے مطابق اس تقریب میں انسانیت کو شرما دینے والی ہنسی اور نعروں کی گونج سنائی دے رہی ہے۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بڑی اسکرین پر گھروں کے گرنے اور دھواں اٹھتے ہی پورا ہال تالیوں اور قہقہوں سے گونج اٹھتا ہے۔

یہ منظر نقشے سے پورے دیہات مٹانے پر ایک منظم خوشی اور جشن کی عکاسی کر رہا ہے۔

یہ ویڈیو اسرائیلی فوجیوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی نگرانی کرنے والی تنظیم ’اسرائیل جینو سائیڈ ٹریکر‘ نے شیئر کی ہے۔

یہ تقریب حال ہی میں جنگ سے واپس لوٹنے والے فوجیوں کی خوشی میں منعقد کی گئی تھی، جس میں لبنانی دیہات کی منظم تباہی کا باقاعدہ ایک ویڈیو شو پیش کیا گیا۔

تنظیم کے مطابق ایسا ہولناک اور غیر انسانی منظر اسرائیل کے سوا دنیا میں کہیں اور دیکھنا ناممکن ہے۔

یہ فوٹیج حال ہی میں اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری کردہ ان ویڈیوز سے مماثلت رکھتی ہے جن میں بنت جبیل سمیت جنوب لبنان کے مختلف اضلاع میں رہائشی مکانات کو بارود سے اڑاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

اسرائیل اس منظم تباہی کے ذریعے لبنانی حدود کے اندر ایک وسیع بفر زون بنانا چاہتا ہے۔ یہ حکمت عملی بالکل اسی نوعیت کی ہے جو اس سے قبل غزہ کی پٹی کی مکمل تباہی کے لیے اپنائی گئی تھی۔

دوسری جانب اس ویڈیو نے سوشل میڈیا پر شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ 

نامور صحافی اور سماجی کارکن سارہ ولکنسن نے اسے ایک ذہنی بیماری سے تشبیہ دی ہے جہاں لوگ دوسروں کی تباہی پر جشن منا رہے ہیں۔  صحافی رائن گرم نے اس منظر کو کھلم کھلا پاگل پن قرار دیا ہے۔ 

دوسری جانب معروف سماجی کارکن شون کنگ نے کہا کہ اس مسئلے کو صرف نیتن یاہو تک محدود نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ پورا معاشرہ بیمار ہو چکا ہے۔

میڈیا پرسن کرسٹل بال نے لکھا کہ یہ لوگ ایک طرف نسل کشی کا جشن مناتے ہیں اور دوسری طرف سنجیدہ منہ بنا کر کہتے ہیں کہ انتہا پسند بین غویر ان کی قوم کا نمائندہ نہیں ہے۔

صحافی زید جیلانی نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بین غویر دراصل اس معاشرے کا سب سے بہترین اور حقیقی عکس ہے۔ مصنفہ سوزان ابو الہویٰ نے اس مجمعے کو اخلاقی طور پر مفلوج قرار دیا۔

شدید صدمے کے عالم میں صحافی آرون ماٹے نے طنزاً تجویز دی کہ اگر امریکہ اسرائیل کو اربوں ڈالر کی امداد دینا ہی چاہتا ہے تو یہ رقم ان کے ذہنی علاج اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے ہونی چاہیے۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے گھروں کو بموں سے اڑانے کا یہ سلسلہ اب سرحد سے 45 کلومیٹر دُور دریائے زہرانی تک بڑھا دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد لبنان کے 13 فیصد رقبے کی جغرافیائی ساخت کو مستقل طور پر تبدیل کرنا ہے۔