پاکستان کی ثالثی کوششوں کے دوران ایران اور امریکا کے ممکنہ معاہدے کا 9 نکاتی مسودہ سامنے آ گیا، جس میں جنگ بندی، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی، مرحلہ وار پابندیوں کے خاتمے اور متنازع معاملات پر مذاکرات شامل ہیں تاہم افزودہ یورینیم اور ہرمز کے معاملے پر اختلافات برقرار ہیں۔
پاکستان کی جانب سے ایران اور امریکا کے درمیان اختلافات کم کرنے کی کوششیں تیز ہونے کے ساتھ ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں باخبر ذرائع نے ایک متوقع معاہدے کے مسودے کا انکشاف کیا ہے، جس میں دونوں ممالک کی منظوری کی صورت میں 9 اہم نکات شامل ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق مجوزہ معاہدے میں تمام محاذوں پر فوری، مکمل اور غیر مشروط جنگ بندی شامل ہے جبکہ دونوں فریق فوجی، شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ نہ بنانے کے پابند ہوں گے۔
اس کے علاوہ فوجی کارروائیوں اور میڈیا جنگ کو بھی روکنے کی تجویز دی گئی ہے۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق مسودے میں خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام، ایک دوسرے کے داخلی معاملات میں مداخلت نہ کرنے، خلیج عرب، آبنائے ہرمز اور بحیرہ عمان میں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانے اور تنازعات کے حل و نگرانی کے لیے مشترکہ نظام قائم کرنے کی شقیں شامل ہیں۔
معاہدے میں زیر التوا مسائل پر 7 دن کے اندر مذاکرات شروع
کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ ایران کی شرائط پر عملدرآمد کے بدلے امریکی پابندیوں میں مرحلہ وار نرمی کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔
مسودے میں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی پاسداری پر بھی زور دیا گیا ہے۔
توقع ہے کہ دونوں فریقوں کے باضابطہ اعلان کے فوراً بعد ابتدائی معاہدہ نافذ العمل ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران نے رواں ہفتے امریکا کو ایک نیا تجویز نامہ پیش کیا تھا، جس میں ایسے مطالبات شامل تھے جنہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے مسترد کر چکے ہیں، جن میں آبنائے ہرمز سے متعلق امور، جنگی نقصانات کا معاوضہ، تمام امریکی پابندیوں کا خاتمہ، اور بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی مکمل بحالی شامل ہے۔
پاکستانی ثالث چند روز قبل امریکی جواب تہران پہنچا چکے ہیں، جبکہ ایرانی حکام نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس جواب کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔
اسی تناظر میں پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے تہران میں اپنی سفارتی سرگرمیاں جاری رکھیں اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے دوسری بار ملاقات کی، جس میں ایران اور امریکا کے درمیان اختلافات کم کرنے اور ممکنہ تجاویز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق ملاقات میں نئی سفارتی پیش رفت اور دونوں فریقوں کے درمیان فاصلے کم کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔
ادھر پاکستانی آرمی چیف عاصم منیر کے تہران دورے کا بھی امکان تھا، تاہم مذاکرات میں خاطر خواہ پیش رفت نہ ہونے کے باعث یہ دورہ تاحال نہیں ہو سکا۔
ذرائع کے مطابق اہم اختلافات اب بھی ایران کے اعلیٰ درجے کے افزودہ یورینیم کو ملک سے باہر منتقل کرنے اور آبنائے ہرمز کے معاملے پر برقرار ہیں۔
امریکا اس بات پر قائم ہے کہ افزودہ یورینیم ایران کے اندر نہ رہے، جبکہ واشنگٹن آبنائے ہرمز پر کسی قسم کے ایرانی کنٹرول کو بھی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں، جہاں سے دنیا کی بڑی تیل اور گیس سپلائیز گزرتی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایک بار پھر واضح کیا کہ امریکا ایران کے پاس جوہری ہتھیار یا اعلیٰ درجے کے افزودہ یورینیم کی موجودگی قبول نہیں کرے گا۔
دوسری جانب ایرانی ذرائع کے مطابق تہران کی قیادت افزودہ یورینیم ملک کے اندر رکھنے پر اصرار کر رہی ہے، کیونکہ ایرانی حکام کا ماننا ہے کہ اس مواد کی بیرون ملک منتقلی مستقبل میں ایران کو زیادہ خطرات سے دوچار کر سکتی ہے۔
بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے اندازوں کے مطابق ایران کے پاس تقریباً 440 کلوگرام 60 فیصد افزودہ یورینیم موجود ہے، جس پر مغربی ممالک مسلسل تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان براہ راست مذاکرات کا ایک ابتدائی دور اسلام آباد میں ہو چکا ہے، تاہم اس میں کوئی فیصلہ کن پیش رفت نہیں ہوئی، جبکہ پاکستان اب بھی جنگ کے خاتمے اور دونوں ممالک کے درمیان کسی ممکنہ معاہدے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔