اہم خبریں
22 May, 2026
--:--:--

ہرمز بحران: امریکہ سپر پاور نہیں رہا، ایران جنگ نے عالمی نظام بدل دیا

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
آبنائے ہرمز میں کھڑے آئل ٹینکرز اور تجارتی جہازوں کا منظر
(فوٹو: رائٹرز)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی ایران کے خلاف مشترکہ جنگ نے پوری دنیا کو ایک شدید اور بے قابو بحران میں دھکیل دیا ہے۔

مزید پڑھیں

تجزیہ کاروں کے مطابق اس صورتحال نے عالمی طاقتوں کے ہاتھ سے تنازعات کو کنٹرول کرنے کا اختیار چھین لیا ہے۔

ایران کے جوہری پروگرام سے شروع ہونے والا یہ تنازع اب آبنائے ہرمز میں الجھ چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ بحران جلد ہی باب المندب تک پھیل سکتا ہے جس کے نتیجے میں عالمی نظام کے مکمل خاتمے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

آبنائے ہرمز کے اس بحران نے طاقت کا توازن یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ اس آبی گزرگاہ نے امریکی تسلط کو محدود کر کے ایران کو ایک علاقائی ملک سے عالمی معیشت پر اثر انداز ہونے والی بڑی بین الاقوامی قوت بنا دیا ہے۔

سوویت یونین کے زوال کے بعد دنیا میں پہلی بار ایسا بڑا معاشی اور سیاسی بگاڑ دیکھا جا رہا ہے۔  مبصرین کہتے ہیں کہ اہم سمندری راستوں پر جاری اس جنگ نے دنیا سے واحد سپر پاور  کا تصور ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا ہے۔

امریکی ناکابندی کامیابی اور ایران امریکہ بیانیہ جنگ تحلیل
آبنائے ہرمز کی امریکی ناکابندی (فوٹو: اے آئی جنریٹڈ)

موجودہ صورت حال کو دیکھتے ہوئے پیش گوئی کی جا سکتی ہے کہ مستقبل میں جنگ ختم ہو یا نہ ہو، اب امریکہ اور ایران کبھی پرانی پوزیشن پر واپس نہیں آ سکیں گے۔

حالات کے پیش نظر ہرمز اور باب المندب کا یہ محور اب ’غیر ملکی افواج سے پاک مشرق وسطیٰ‘ کا منظر پیش کررہا ہے۔

اس صورتحال میں ایران عالمی سطح پر مزید مضبوط اور سخت مؤقف کے ساتھ ابھرا ہے۔ 

دوسری جانب اپنے اتحادیوں کے بکھرنے کے بعد امریکہ اپنا عالمی اثر و رسوخ بچانے کے لیے اندھی طاقت کا بے جا استعمال کر رہا ہے۔

صدر ٹرمپ کا یہ خیال تھا کہ وہ عالمی اسٹاک مارکیٹ کو اپنی مرضی سے چلا سکتے ہیں مگر اب عالمی معیشت شدید اتار چڑھاؤ کا شکار ہے۔ اس دوران چین انہی تجارتی راستوں سے خطے میں داخل ہو رہا ہے۔

ٹرمپ جنگی اختیارات امریکی کانگریس ووٹنگ
ٹرمپ کے اختیارات کے خلاف رائے شماری میں 46 کے مقابلے میں 51 ووٹوں سے تجویز مسترد کی گئی (فوٹو: انٹرنیٹ)

اُدھر روس بھی اس موقع پر خطے میں اپنی پوزیشن کو دوبارہ ترتیب دینے میں مصروف ہے، جبکہ یورپی ممالک اب اس بات کو شدت سے محسوس کر رہے ہیں کہ انہیں امریکہ کی غلامی سے اب آزاد ہو جانا چاہیے۔

اسرائیل کے لیے یہ جنگ اسے 2023 کے حالات سے بھی پیچھے لے گئی ہے اور اس کا گریٹر اسرائیل کا خواب چکنا چور ہو گیا ہے۔ اب خطے میں ’ابراہیمی معاہدات‘ کی توسیع کے امکانات بھی مکمل ختم ہو چکے ہیں۔

اس جنگ نے لبنان کو اندرونی طور پر کمزور اور بیرونی عوامل پر زیادہ منحصر کر دیا ہے۔ دوسری جانب مزاحمتی تحریکیں اب سرکاری سرپرستی سے نکل کر دوبارہ عوامی تحفظ کے اپنے پرانے دائرے میں لوٹ آئی ہیں۔

واشنگٹن اس وقت اسرائیلی ہٹ دھرمی کے باعث آبنائے ہرمز کے دلدل میں پھنس چکا ہےاور اب فتح کے بجائے کسی بھی طرح اس جنگ سے باعزت نکلنے کا راستہ ڈھونڈنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

china us iran
(فوٹو: انٹرنیٹ)

اس جنگ نے ثابت کیا ہے کہ مضبوط جغرافیہ اور سستی ٹیکنالوجی مل کر امریکی توسیعی پسندی کو روک سکتے ہیں۔ ڈرونز اور چھوٹی کشتیاں اب امریکی بحریہ کے جدید اور مہنگے ترین دفاعی نظام پر بھاری پڑ رہی ہیں۔

یہ صورتحال ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر سیموئیل ہنٹنگٹن کی اس پیش گوئی کو سچ ثابت کر رہی ہے کہ مستقبل کی جنگیں نظریات کے بجائے تہذیبوں کے درمیان ہوں گی اور یہ عسکری جنون اسی کا حصہ ہے۔

مشرق وسطیٰ کے اس معرکے سے اب کوئی بھی ملک پہلے جیسی حالت میں نہیں نکلے گا۔ یہ جنگ دوسری عالمی جنگ کے بعد بننے والے نظام کو ختم کر کے نئے علاقائی بلاکس اور کثیر القطبتی دنیا کی بنیاد رکھ رہی ہے۔