اہم خبریں
22 May, 2026
--:--:--

اختلافات کم مگر مسائل برقرار، قطر کا وفد بھی تہران پہنچ گیا

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
امریکا ایران مذاکرات

امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران روانہ ہوئے وہاں امریکا کے تعاون سے قطر کا مذاکراتی وفد بھی تہران پہنچ گیا، جبکہ پاکستان بدستور مرکزی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔
اختلافات کم ہونے کے باوجود افزودہ یورینیم اور آبنائے ہرمز جیسے اہم نکات تاحال حل طلب ہیں۔

پاکستانی ثالثی میں جاری امریکا، ایران مذاکرات کے دوران ایک باخبر ذریعے نے جمعہ کے روز انکشاف کیا ہے کہ قطر کا ایک مذاکراتی وفد امریکا کے ساتھ رابطہ کاری کے تحت آج تہران پہنچ گیا، تاکہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے اور زیر التوا معاملات کے حل کے لیے کسی ممکنہ معاہدے تک پہنچنے میں مدد دی جا سکے۔

ذرائع کے مطابق قطری مذاکراتی ٹیم آج جمعہ کو تہران پہنچی، اور یہ وفد امریکا کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے ایران کے ساتھ حتمی معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے، جس سے جنگ کا خاتمہ اور باقی مسائل کا حل ممکن ہو سکے۔ 

یہ معلومات “رائٹرز” کے حوالے سے العربیہ میں شائع ہوئی ہیں۔

مزید پڑھیں

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعہ کے روز سویڈن میں نیٹو وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس مذاکراتی عمل میں بنیادی رابطہ چینل ہے، اور اس نے بہترین کام کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ  خلیجی ممالک کے بھی مفادات ہیں کیونکہ وہ ان واقعات کے مرکز میں واقع ہیں اور ہر ایک کی اپنی حیثیت ہے۔ 

ہم سب کے ساتھ رابطے میں ہیں تاہم اس معاملے میں ہماری بنیادی شراکت داری پاکستان کے ساتھ رہی ہے اور اب بھی برقرار ہے۔

ادھر اسلام آباد کے ایک سفارتی ذریعے نے بتایا کہ پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر، جن کا دورۂ ایران گزشتہ روز متوقع تھا، آج جمعہ کو تہران روانہ ہوئے ہیں۔ 

یہ اطلاع پاکستانی ذرائع کے علاوہ ایرانی خبر رساں ایجنسی ارنا نے بھی دی ہے۔

ایران امریکا مذاکرات
پاکستان امریکا-ایران مذاکرات میں مرکزی ثالث کے طور پر سرگرم ہے

ذرائع کے مطابق عاصم منیر کے ساتھ پاکستانی خفیہ ادارے کے سربراہ عاصم ملک بھی تہران پہنچ رہے ہیں۔

گزشتہ روز ایک اعلیٰ ایرانی ذریعے نے رائٹرز کو بتایا تھا کہ امریکا کے ساتھ ابھی کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہوا تاہم دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات میں کچھ کمی آئی ہے۔

ذرائع کے مطابق ایران میں افزودہ یورینیم اور آبنائے ہرمز پر تہران کے کنٹرول کا معاملہ اب بھی اہم رکاوٹوں میں شامل ہے۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ نے مذاکرات میں کچھ پیش رفت کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ کچھ مثبت علامات موجود ہیں لیکن میں ضرورت سے زیادہ پُرامید نہیں ہونا چاہتا، آنے والے دنوں میں صورتحال واضح ہوگی۔

واضح رہے کہ 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ میں جنگ بندی اب بھی نازک صورتحال سے دوچار ہے جبکہ امریکی دباؤ، ایرانی بندرگاہوں کے محاصرے اور آبنائے ہرمز کی بندش جیسے عوامل کے باعث مذاکراتی عمل پیچیدگی کا شکار ہے۔