ہم سب کے ساتھ رابطے میں ہیں تاہم اس معاملے میں ہماری بنیادی شراکت داری پاکستان کے ساتھ رہی ہے اور اب بھی برقرار ہے۔
ادھر اسلام آباد کے ایک سفارتی ذریعے نے بتایا کہ پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر، جن کا دورۂ ایران گزشتہ روز متوقع تھا، آج جمعہ کو تہران روانہ ہوئے ہیں۔
یہ اطلاع پاکستانی ذرائع کے علاوہ ایرانی خبر رساں ایجنسی ارنا نے بھی دی ہے۔
ذرائع کے مطابق عاصم منیر کے ساتھ پاکستانی خفیہ ادارے کے سربراہ عاصم ملک بھی تہران پہنچ رہے ہیں۔
گزشتہ روز ایک اعلیٰ ایرانی ذریعے نے رائٹرز کو بتایا تھا کہ امریکا کے ساتھ ابھی کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہوا تاہم دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات میں کچھ کمی آئی ہے۔
ذرائع کے مطابق ایران میں افزودہ یورینیم اور آبنائے ہرمز پر تہران کے کنٹرول کا معاملہ اب بھی اہم رکاوٹوں میں شامل ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ نے مذاکرات میں کچھ پیش رفت کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ کچھ مثبت علامات موجود ہیں لیکن میں ضرورت سے زیادہ پُرامید نہیں ہونا چاہتا، آنے والے دنوں میں صورتحال واضح ہوگی۔
واضح رہے کہ 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ میں جنگ بندی اب بھی نازک صورتحال سے دوچار ہے جبکہ امریکی دباؤ، ایرانی بندرگاہوں کے محاصرے اور آبنائے ہرمز کی بندش جیسے عوامل کے باعث مذاکراتی عمل پیچیدگی کا شکار ہے۔