ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کو ایرانی مذاکراتی ٹیم کا باضابطہ ترجمان مقرر کر دیا گیا ہے۔
العربیہ کے ذرائع نے جمعہ کے روز اس بات کی اطلاع دی ہے۔
تو آخر اسماعیل بقائی کون ہیں اور ان کا سفارتی پس منظر کیا ہے؟
ایرانی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ کے مطابق اسماعیل بقائی بین الاقوامی قانون کے ماہر ہیں۔ انہوں نے شہید بہشتی یونیورسٹی سے بین الاقوامی قانون میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔
اس کے علاوہ انہوں نے ایرانی وزارت خارجہ سے وابستہ بین الاقوامی تعلقات کے ادارے سے سفارت کاری اور بین الاقوامی تنظیموں میں بھی ماسٹرز کیا جبکہ وہ جامعہ تہران سے بین الاقوامی عوامی قانون میں ڈاکٹریٹ کے امیدوار بھی ہیں۔
مزید پڑھیں
سفارتی کیریئر کا آغاز
اسماعیل بقائی نے 2001 میں ایرانی وزارت خارجہ میں بین الاقوامی قانونی امور کے شعبے میں قانونی افسر کے طور پر اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا۔
2006 سے 2010 کے دوران وہ نیویارک میں اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مشن میں قانونی مشیر کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔
اسی عرصے میں وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قانونی کمیٹی میں ایران کے نمائندے بھی رہے۔
2010 سے 2015 تک انہوں نے ایرانی وزارت خارجہ میں معاہدات اور بین الاقوامی قانون کے شعبے کے سربراہ کے طور پر کام کیا۔
سال 2015 میں وہ ایران کے جوہری معاہدے کے مرکزی مذاکرات کار کے سینئر مشیر بھی رہے۔ یہ وہ معاہدہ تھا جو ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان طے پایا تھا۔
بعد ازاں 2018 سے 2022 تک انہوں نے جنیوا میں اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں میں ایران کے مستقل نمائندے اور سفیر کے طور پر ذمہ داریاں نبھائیں۔
2022 سے 2024 تک وہ ایرانی وزیر خارجہ کے پہلے معاون رہے۔
جبکہ 2024 سے اب تک وہ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہے ہیں، اور اب انہیں ایرانی مذاکراتی ٹیم کی ترجمانی کی اہم ذمہ داری بھی سونپ دی گئی ہے۔