اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--
براہ راست نشریات

مسجدِاقصیٰ میں یہود کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ، مسلمانوں پر پابندیاں

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
(فوٹو: انٹرنیٹ)

اسرائیلی سپریم کورٹ نے ایک متنازع فیصلے میں مسجد اقصیٰ کے احاطے میں واقع دیوارِ براق پر یہودیوں کی تعداد 50 سے بڑھا کر 100 کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

مزید پڑھیں

یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 28 فروری سے جاری جنگ کے باعث اسرائیل نے مسلمانوں کے لیے مسجد اقصیٰ کے دروازے عملی طور پر بند کررکھے ہیں۔

واضح رہے کہ اسرائیلی وزیر قومی سلامتی ایتمار بن گویر نے پیر کی شام مسجد اقصیٰ کا دورہ کیا تھا، جو مقدس مقام کی مذہبی اور جغرافیائی حیثیت تبدیل کرنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش ہے۔

اس دورے کے بعد یہودی آباد کاروں کی بڑی تعداد کو باب الخلیل پر دیکھا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق بن گویر نے اسرائیلی پولیس کے ساتھ مل کر یہ طے کیا ہے کہ مسجد اقصیٰ کو 150 افراد پر مشتمل چھوٹے گروپوں کے لیے کھولا جائے گا۔ 

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ حکمت عملی دراصل عید فسح کے موقع پر یہودی آباد کاروں کے داخلے کی راہ ہموار کرنے کے مترادف ہے۔

jews in masjid e aqsa
(فوٹو: انٹرنیٹ)

محقق ساہر غزاوی کے مطابق اسرائیل جنگی حالات اور ایمرجنسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مسجد اقصیٰ میں اپنی اجارہ داری مسلط کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکومتی سرپرستی میں ہونے والی یہ تبدیلیاں مذہب کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا ایک خطرناک سلسلہ ہے۔

یاد رہے کہ مسجد اقصیٰ (قبلہ اول) میں مسلمانوں کے داخلے پر بدستور سخت پابندیاں عائد ہیں، جبکہ دوسری جانب یہودی آباد کاروں کو کھلی چھوٹ دی جا رہی ہے۔ 

مسجد اقصیٰ میں اسلامی اوقاف کے کردار کو محدود کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں تاکہ مسجد کے انتظامی امور پر مکمل کنٹرول حاصل کیا جا سکے۔

فلسطینی محققین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات مسجد اقصیٰ کو مکمل طور پر یہودیانے کے سازشی منصوبے کا حصہ ہے۔ 

masjid e aqsa
(فوٹو: انٹرنیٹ)

اسی طرح بن گویر کو دی جانے والی خصوصی اختیاراتی حیثیت اُردن کے زیر انتظام اسلامی اوقاف کے کردار کو ختم کرنے کے مترادف ہے، جو کہ ایک سنگین پیش رفت ہے۔

دوسری جانب قدس انٹرنیشنل فاؤنڈیشن نے خبردار کیا ہے کہ 150 افراد کے داخلے کا فیصلہ ایک صاف دھوکہ ہے۔ 

یہ اقدام مسجد اقصیٰ کی تقسیم کو بڑھانے اور اسے ایک مشترکہ عبادت گاہ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش ہے، جس کا حتمی مقصد اس کی اسلامی شناخت کو مٹانا ہے۔

فاؤنڈیشن نے زور دیا ہے کہ مسجد اقصیٰ اب حملہ آوروں کے لیے کھلی اور مسلمانوں کے لیے بند ہو چکی ہے۔ 

western wall diwar e burraq masjid e aqsa 1
(فوٹو: الجزیرہ)

انہوں نے فلسطینی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مسجد کے دروازوں پر پہنچ کر عبادت کا حق حاصل کریں اور اس غیر منصفانہ پابندی کو مسترد کریں۔

اسی طرح عالم اسلام اور اُردن کی حکومت سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ کی حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ 

مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک مذہبی مقام کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری امت کی خود مختاری اور شناخت کا امتحان ہے۔