اہم خبریں
3 June, 2026
--:--:--

ایل نینو سے خطرات: دنیا میں شدید گرمی، سیلاب و خشک سالی کا خدشہ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
بحر الکاہل میں ایل نینو کے اثرات اور دنیا بھر میں بدلتے ہوئے موسم کی صورتحال
موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں عالمی درجہ حرارت ریکارڈ سطح تک بڑھ سکتا ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے عالمی ادارہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ رواں برس ایل نینو کی شدت میں اضافے کا قوی امکان ہے۔

مزید پڑھیں

موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں عالمی درجہ حرارت ریکارڈ سطح تک بڑھ سکتا ہے.  دنیا کو غیر معمولی موسمی حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

جنیوا سے جاری رپورٹ کے مطابق ایل نینو وسطی اور مشرقی بحر الکاہل میں سطح سمندر کے درجہ حرارت میں ہونے والا ایک اضافہ ہے۔ 

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سلسلہ عام طور پر 9 سے 12 ماہ تک جاری رہتا ہے جس سے عالمی موسم متاثر ہوتا ہے۔

عالمی ادارہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں درجہ حرارت اوسط سے زیادہ رہے گا۔

ایل نینو کی یہ لہر نومبر تک برقرار رہ سکتی ہے جس سے گرمی کی شدت میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتے ہوئے عالمی درجہ حرارت کے زمینی اثرات
2050ء تک خشکی کے علاقے سمندروں کی نسبت زیادہ متاثر ہوں گے (فوٹو: انٹرنیٹ)

ادارے کی سیکرٹری جنرل سیلیسی ساولو نے کہا ہے کہ ہمیں ایل نینو کی ممکنہ شدت کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال خشک سالی، شدید بارشوں اور سمندروں سمیت زمین پر ہیٹ ویو کے خطرات کو مزید سنگین بنا سکتی ہے جو کہ تشویشناک ہے۔

سیلیسی ساولو نے مزید بتایا کہ سال 2023 اور 2024 کے دوران آنے والے ایل نینو نے 2024 کو تاریخ کا گرم ترین سال بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ 

حالیہ مشاہدات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بحر الکاہل میں درجہ حرارت اپریل کے آخر سے تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اپریل کے اختتام سے مئی کے وسط تک خط استوا کے قریب سمندری درجہ حرارت میں تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتے ہوئے عالمی درجہ حرارت کے زمینی اثرات
2050 تک عالمی سطح پر اوسط درجہ حرارت 1.6 سے 1.7 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ سکتا ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

یہ تبدیلیاں ایل نینو کے ارتقائی مراحل کی نشاندہی کررہی ہیں جو آنے والے مہینوں میں عالمی سطح پر بڑے اثرات مرتب کریں گی۔

ماہرین کے مطابق ایل نینو کے اثرات مختلف خطوں میں الگ ہوں گے۔ 

اس دوران جنوبی امریکہ، جنوبی ریاستہائے متحدہ، وسطی ایشیا اور ہارن آف افریقہ میں معمول سے زیادہ بارشیں ہو سکتی ہیں جس سے سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا شدید خطرہ ظاہر کیا گیا ہے۔

دوسری جانب ایل نینو کی وجہ سے آسٹریلیا، انڈونیشیا، وسطی امریکہ اور جنوبی ایشیا کے کچھ حصوں میں شدید خشک سالی کا خطرہ ہے۔ 

اس کے علاوہ وسطی اور مشرقی بحر الکاہل میں سمندری طوفانوں اور بگولوں کی شدت میں بھی غیر معمولی اضافہ دیکھا جا سکتا ہے۔

اقوام متحدہ نے تمام ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ موسمیاتی تبدیلیوں کے ان اثرات سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کریں۔ 

ایل نینو کے باعث زراعت، صحت اور توانائی کے شعبوں پر پڑنے والے منفی اثرات کو کم کرنے کے لیے عالمی تعاون کو ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔