اہم خبریں
3 June, 2026
--:--:--

2030ء تک ہندوستان اور امریکہ کا 500 ارب ڈالر کا تجارتی ہدف

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی مذاکرات اور کسٹم ڈیوٹیز کے مسائل
دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ کئی ماہ سے تجارتی تناؤ پایا جاتا تھا (فوٹو: انٹرنیٹ)

ہندوستان اور امریکہ اپنے دوطرفہ آزاد تجارتی معاہدے (FTA) کے پہلے مرحلے کو حتمی شکل دینے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

مزید پڑھیں

یہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کے ایک نئے دور کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے، جو کئی ماہ پر محیط مذاکرات، کسٹم ڈیوٹیز کے تنازعات اور تجارتی پابندیوں کے بعد سامنے آئی ہے۔

بھارتی وزیر تجارت پیوش گوئل نے اعلان کیا ہے کہ فریقین کے درمیان مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ 

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایک امریکی وفد 

3 روزہ مذاکرات کے اگلے مرحلے کے لیے نئی دہلی پہنچ چکا ہے۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پیوش گوئل نے کہا کہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ 99 فیصد معاملات حل ہو چکے ہیں اور مجھے پورا یقین ہے کہ ہم اس دوطرفہ معاہدے کے پہلے مرحلے کو کامیابی سے مکمل کر لیں گے۔

ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی مذاکرات اور کسٹم ڈیوٹیز کے مسائل
امریکہ اور ہندوستان کے درمیان تجارتی مذاکرات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے (فوٹو: رائٹرز)

انہوں نے باقی ماندہ اختلافات کو معمولی تکنیکی تفصیلات قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب صرف چند چھوٹی موٹی چیزیں باقی ہیں، جو کسی تحریر میں کوما اور فل اسٹاپ کی طرح ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ کئی ماہ سے تجارتی تناؤ پایا جاتا تھا، جس میں امریکی کسٹم ڈیوٹیز اور بھارت کی جانب سے روسی تیل کی خریداری کے معاملات سرِفہرست تھے۔

امریکی سفیر برائے بھارت سرجیو گور نے گزشتہ ہفتے توقع ظاہر کی تھی کہ معاہدے پر دستخط آنے والے چند ہفتوں میں ہو سکتے  ہیں، جو حتمی مفاہمت کے قریب پہنچنے کا اشارہ ہے۔ 

واضح رہے کہ گزشتہ فروری میں نئی دہلی اور واشنگٹن نے ایک پرعزم ہدف مقرر کیا تھا، جس کے تحت 2030 تک دونوں ممالک کے درمیان سالانہ تجارتی حجم کو 500 ارب ڈالر تک پہنچایا جائے گا۔

ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی مذاکرات اور کسٹم ڈیوٹیز کے مسائل
ہندوستانی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر (دائیں) اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو (فوٹو: رائٹرز)

کسٹم ڈیوٹیز اور پابندیوں کی رکاوٹیں

فریقین کے درمیان موجودہ پیش رفت کے باوجود گزشتہ مہینوں میں مذاکرات کو کئی رکاوٹوں کا سامنا رہا ہے۔

امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی طرف سے عائد کردہ کسٹم ڈیوٹیز میں اضافے کو کالعدم قرار دینے کے بعد واشنگٹن نے بھارت کو ہدف بناتے ہوئے یکطرفہ طور پر 10 فیصد مزید کسٹم ڈیوٹی عائد کر دی تھی۔

علاوہ ازیں گزشتہ برس ٹرمپ انتظامیہ نے بھارتی درآمدات پر 50 فیصد کسٹم ڈیوٹی عائد کر دی تھی۔ 

واشنگٹن کا مؤقف تھا کہ بھارت کی جانب سے مسلسل روسی خام تیل کی خریداری یوکرین جنگ میں بالواسطہ مالی معاونت کے مترادف ہے۔ 

تاہم مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کو محدود کرنے کے لیے امریکا نے گزشتہ مارچ میں ان پابندیوں کو معطل کر دیا تھا۔