موجودہ دور میں جب زندگی کی رفتار اور مشکلات کا بوجھ مسلسل بڑھ رہا ہے، بہت سے لوگ خود کو تھکا ہوا اور مغلوب محسوس کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں
ماہرین کا کہنا ہے کہ ذہنی مضبوطی کا مطلب مشکلات کا خاتمہ ہرگز نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب ان مشکلات کے سامنے اپنے ردعمل کو درست انداز میں سنبھالنا ہے۔
امریکن سائیکولوجیکل ایسوسی ایشن کے مطابق کسی بھی دباؤ والے واقعے کے بعد خود کو یہ یاد دلانا ضروری ہے کہ موجودہ صورتحال آپ کے مستقبل کا فیصلہ نہیں کر سکتی۔
آپ اس واقعے کو تو نہیں بدل سکتے، مگر اس کے بارے میں اپنی سوچ اور ردعمل کو ضرور بدل سکتے ہیں۔
میں یہ کر سکتا ہوں: خود اعتمادی کی طاقت
ماہرِ نفسیات ڈاکٹر گلوریا برام کے مطابق بچپن کی ایک مشہور کہانی ’دی لٹل انجن دیٹ کڈ‘ کا پیغام آج بھی کارآمد ہے۔
جب آپ دل سے یقین کر لیں کہ آپ کوئی کام کر سکتے ہیں اور وہ کسی کے لیے نقصان دہ نہیں، تو آپ کامیابی کی جانب قدم بڑھا سکتے ہیں۔
خود کو مسلسل یہ کہنا کہ ’میں یہ کر سکتا ہوں‘ انسان کے اندر ایک ایسی مثبت توانائی پیدا کرتا ہے جو اسے ناممکن نظر آنے والی رکاوٹوں کو عبور کرنے کا حوصلہ دیتی ہے۔
یہ محض الفاظ نہیں، بلکہ ایک ایسی ذہنی کیفیت ہے جو عزم کو پختہ بناتی ہے۔
تناؤ کو قبول کرنے کا آرٹ
لائف کوچ مشیل شپیگلمین تجویز کرتے ہیں کہ جب بھی آپ دباؤ محسوس کریں، گہرے سانس لیں اور مسکرا کر خود سے کہیں کہ ‘یہ صرف تناؤ ہے، اور تناؤ بس ایک کیفیت ہے‘۔
اسے بار بار دہرانے سے آپ خود کو حالات سے الگ کر کے موجودہ لمحے پر توجہ مرکوز کر سکتے ہیں۔
10 منٹ تک گہرے سانس لینے اور مثبت خیالات پر توجہ مرکوز کرنے کا عمل شروع میں عجیب لگ سکتا ہے، لیکن یہ طریقہ آپ کو جذباتی توازن فراہم کرتا ہے۔
اس مشق سے آپ ان حالات کو بھی آسانی سے سنبھال لیتے ہیں جو پہلے آپ کو پریشان کر دیتے تھے۔
ردعمل سے پہلے توقف اور گہرا سانس
معالجِ نفسیات رچرڈ جویلسن کا کہنا ہے کہ جذباتی ردعمل اکثر ایسے الفاظ نکلوا دیتے ہیں جن پر بعد میں پچھتاوا ہوتا ہے۔
اس لیے ہمیشہ ’رکیں، سانس لیں، سوچیں اور پھر جواب دیں‘ کے اصول پر عمل کرنا چاہیے تاکہ تعلقات کو نقصان نہ پہنچے۔ سوچ سمجھ کر دیا گیا جواب جذباتی پختگی کی علامت ہے۔
جو لوگ فوری ردعمل دینے کے بجائے کچھ لمحے توقف کرتے ہیں، وہ زندگی میں کم پچھتاوے کا سامنا کرتے ہیں اور دوسروں کے ساتھ اپنے تعلقات کو بھی زیادہ بہتر اور مستحکم انداز میں نبھا پاتے ہیں۔
ذہنی مضبوطی اور عملی نتائج
مجموعی طور پر انسانی زندگی میں روزمرہ کے تناؤ سے بچنا ممکن نہیں، مگر اس کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیدا کی جا سکتی ہے۔
شعور اور آگاہی ہی وہ ہتھیار ہیں جو آپ کو وقت پر رکنے، گہرے سانس لینے اور دوسروں کے نقطہ نظر کو سمجھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
اسی طرح یہ یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ آپ اپنی ذات میں ایک باصلاحیت انسان ہیں، جس نے زندگی کے بہت سے مراحل کامیابی سے طے کیے ہیں۔
مثبت جملوں کا روزانہ ورد اور خود پر یقین ہی آپ کو ذہنی سکون اور مشکلات پر قابو پانے کی اصل طاقت عطا کرتا ہے۔